اداکاری سے لے کر اداکاری سکھانے تک مصروف ہیں انوپم کھیر

پونے کے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ (ایف ٹی آئی آئی) کے چیئرمین انوپم کھیر کا کہنا ہے کہ وہ ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے ایجنڈا سیٹ کرنے کے بجائے اپنے تجربات کو طلبہ کے ساتھ شیئر کرنے پر زیادہ توجہ دیں گے۔انھوںنے آئی اے این ایس سے انٹرویو میں کہا، ’میںہندوستانی اور بین الاقوامی سنیما کا اپنا سفر، اداکاری اور سبھی چیزوں کے ساتھ چالیس سالوںکے تجربے کو طلبہ کے ساتھ شیئر کرنے کا موقع ملنے پر بے حد خوش ہوں اور شکرگزار ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ تجربہ شیئر کرنا آپ کے نظریے کو وسعت دیتا ہے اور میںیہی کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
دراصل انوپم کھیر کو ایف ٹی آئی آئی کا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔ انھوںنے یہ عہدہ گجیندر چوہان کی جگہ پایا ہے۔ گجیندر سنگھ کو 2014 میں مقرر کیا گیا تھا لیکن ان کی تقرری کے بعدایف ٹی آئی ائی کے طلبہ نے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا تھا لیکن مخالفت انوپم کھیر کی بھی شروع ہو گئی ہے کیونکہ وہ ایسا ہی ایک نجی ادارہ چلا رہے ہیں۔
انوپم کھیر بی جے پی کے حامی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں ایڈ منسٹریٹر کی طرح ایجنڈے سیٹ کرنے کے بجائے طلبہ کی سہولتوں کو بہتر بنانے پر غور کروں گا۔ میں اسٹوڈینٹ اور فیکلٹی کے ساتھ ان کی ضرورتوں کو سمجھنے کے لیے بات چیت کرنا چاہتا ہوں۔ میںاسٹوڈینٹ کی بہتری کے لیے ان کی مدد کروں گا۔
چوہان کی مدت کار مارچ میں مکمل ہوئی ہے۔ انوپم کھیر نے چوہان کی تقرری پر کہا تھا کہ ایف ٹی آئی آئی کو ایک ایسے شخص کی ضرورت ہے جس میںچوہان کے مقابلے پروڈکشن، ڈائریکشن اور ایکٹر کے طور پر زیادہ قابلیت ہو۔لہٰذا اب چوہان نے انوپم کی تقرری پر ردعمل دیتے ہوئے آئی اے این ایس کو بتایا کہ ایف ٹی آئی آئی کو ایک اچھے اداکار کے بجائے ایک اچھے ایڈمنسٹریٹر کی ضرورت ہے۔
اس بارے میںپوچھنے پر انوپم کھیر نے کہا، کسی شخص کی ذریعہ ایک واضح حوالہ میںکہے گئے الفاظ پر تبصرہ کرنا پروقار نہیں ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک بڑا اعزاز اور ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ انھوںنے کہا کہ میں ایک سرکاری کلرک کا بیٹا ہوںجو جیب میں40 روپے رکھ کر ممبئی آیا تھا۔ آج جو کچھ بھی میںنے عزت پائی ہے ، وہ بڑی سخت محنت اور ایشور کے آشیرواد کے ذریعہ پائی ہے۔ میں اس سے زیادہ کچھ اور نہیں مانگ سکتا تھا۔ میں مطمئن ہوں۔
انوپم کھیر نے 1984 میں فلم ’سارانش‘ کے ساتھ اپنی اداکاری کا کریئر شروع کیا تھا۔ انھوںنے 500 سے زیادہ فلموں میں کام کیا ہے، جس میں کرما، ڈیڈی، لمحے، دل والے دلہنیا لے جائیں گے، کچھ کچھ ہوتا ہے، بیٹا، میںنے گاندھی کو نہیں مارا، اے ویڈنسڈے اور بے بی جیسی فلمیںشامل ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

وہ بینڈ اٹ لائف بیہکم، برائڈ اینڈ پریجوڈس، اسپیڈی سنہس،دی مسٹریس آف اسپائسیس، لسٹ، کاشن اور اکادمی ایوارڈ یافتہ سلور لائننگ پلے بک جیسی بین الاقوامی فلموںمیںبھی کام کرچکے ہیں۔
انھوں نے کئی ڈراموںمیں بھی اداکاری کی ہے اور وہ ایک کتاب ’دی بیسٹ تھنگ اباؤٹ یو از یو‘ کے مصنف بھی ہیں۔ اس سے پہلے انوپم کھیر نے کیندریہ فلم پرمانن بورڈ)سی بی ایف سی)چیئرمین کے طور پر کام کیا تھا اور 2001 سے 2004 تک وہ نیشنل اسکول آف ڈرامہ کے ڈائریکٹر بھی رہے تھے۔ انوپم یہیںسے 1978 میںایک اسٹوڈینٹ کے طور پر پاس ہوئے تھے۔
انوپم اپنا خود کا ایکٹنگ انسٹی ٹیوٹ چلاتے ہیں جس کا نام ہے ایکٹر پریپئرس۔ آرٹ کے میدان میں اہم کردار ادا کرنے کے لیے وہ 2004 میں پدم شری اور 2016 میںپدم بھوشن سے سرفراز ہوچکے ہیں۔ انوپم کھیر نے بتایا کہ وہ 14 سال سے ایک ایکٹنگ اسکول چلا رہے ہیں اور انھیںلگتا ہے کہ وہ اینٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں 40 سال سے اس لیے ٹکے ہوئے ہیں کیونکہ وہ نیشنل اسکول آف ڈرامہ (دہلی) کے اسٹوڈینٹ ہیں۔ گزشتہ کچھ دنوںسے انوپم اپنے بینر کی فلم ’رانچی ڈائری‘ کی تشہیر میںمصروف رہے ہیں اور ان کے پاس اور بھی کئی پروجیکٹ ہیں۔
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا ایف ٹی آئی آئی چیئرمین کے طور پر نئی ذمہ داری ان کے فلم کے کام پر اثر انداز ہوگی؟ تو انھوں نے کہ نہیںنہیں،میںایک کلاکار ہوں اور اس مورچہ پر کچھ بھی بدلنے والا نہیںہے۔ یہ پہلی بار نہیںہے جب میںایک ایڈ منسٹریٹو عہدہ سنبھال رہا ہوں۔ میںنیشنل اسکول آف ڈرامہ کا چیئرمین بھی تھا۔
انھوں نے کہا کہ میرا کام آفس میںبیٹھنا نہیںہے بلکہ خیالات پر کام کرنا ہے اور میںاسے آسانی سے سنبھال سکتا ہوں۔ میری فلم ، میرا تھیٹر، شو سب کچھ ایک ساتھ چلتا رہے گا۔ میرے دادا اکثر کہا کرتے تھے ، ’ایک مصروف شخص کے پاس سبھی چیزوں کے لیے وقت ہوتا ہے۔‘

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *