منشیات کی سونامی کا شکار افغانستان

افغانستان دنیا بھر میں افیون کی 90فیصد پیدا وار مہیا کرتا ہے۔حالانکہ 2012 میں منشیات کا کارو بار سست پڑا تھا۔خاص طور پر پوست کی کاشت پر روک لگنے کے بعد اس میں بھاری کمی آئی تھی۔لیکن گزشتہ کچھ مہینوں میں افغانی کاشتکاروں کا رجحان ایک مرتبہ پھر اس طرف بڑھنے لگا ہے۔پوست کی کاشت میں اضافہ سے منشیات کا خطرہ صرف افغانستان تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ تاجکستان اور وسطی ایشیا کے راستے روس اور یورپ میں منشیات کی منتقلی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔طالبان کے زیر کنٹرول افغانستان کے حصوں میں افیون کی پیداوار ہمیشہ سے ایک بہت سنگین مسئلہ رہا ہے۔اقوام متحدہ نے باربار اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ افغانستان میں بڑے پیمانے پر کاشت کی جانے والی پوست کی فصل سے منشیات کو فروغ ملتا ہے۔ لہٰذا اس پر روک لگائی جائے۔2012میں روک لگنے کے بعد کاشت میں کمی آئی تھی لیکن 2013کے بعد پھر اس میں تیزی نوٹ کی گئی ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ اب اس پر روک لگانے کے عمل کو درکنار کردیا گیاہے۔ کیونکہ پوست کی کاشت حکومت کے زیر کنٹرول حصوں میں بھی کھلے عام ہو رہی ہے۔
امسال افغانستان میں منشیات کی پیداوار 64 فیصد اضافے کے ساتھ ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔ 3 لاکھ 40 ہزار ہیکٹرز پر پوست کی فصل کاشت ہورہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق افغانستان میں پوست کی کاشت میں یک دم بے پناہ اضافہ ہوگیا، رواں برس گزشتہ سال کے مقابلے میں دگنی پوست کاشت کی گئی ہے۔ افغان وزیر برائے انسداد منشیات سلامت عظیمی کے مطابق ، بدامنی کے سبب حکومت پوست (پوپی سیڈ) کی پیدوار کو روکنے کے پروگرام پر عمل درآمد نہیں کرسکی جس کے سبب پوست کے پودے کی کاشت یک دم 64 فیصد اضافے کے ساتھ 3 لاکھ 40 ہزار ہیکٹرزیعنی 8 لاکھ 40 ہزار ایکڑ تک پہنچ گئی ہے۔
ایک تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ بدعنوانی اور حکومتی کمزوریوں کے سبب ریاست کو منشیات کے سونامی کی تباہی کا سامنا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس پوست کی کاشت میں 2015 کے مقابلے میں بے حد اضافہ ہوا، یہ کاشت دولاکھ ایک ہزار ہیکٹر رقبے پر تھی جس سے چار ہزار 700 ٹن افیم حاصل کی گئی۔

 

 

 

 

 

 

دنیا میں سب سے زیادہ افیون افغانستان میں پیدا ہوتا ہے؛ جب کہ گذشتہ سال کے مقابلے میں اس سال پوست کی ریکارڈ فصل کاٹی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ بات دہشت گردی اور منظم جرائم سے لڑائی کے سلسلے میں ایک بری خبر ہے۔جنرل خدائے داد ہزارہ جیسے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی بدعنوانی اور کمزوریاں اس سلسلے میں معاون عناصر بنے، جسے اْنھوں نے’ملک میں منشیات کی سونامی کا بحران قرار دیا۔
باغیوں کی دھڑا بندی کے نتیجے میں افغان حکومت نے اس سال اپنی سوچ بدل کر دھیان کثیر آبادی والے علاقوں کو محفوظ بنانے پر مرتکز کررہی ہے۔ طالبان اور دیگر شدت پسند گروہوں کی جانب سے انتظامیہ کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوششوں کے نتیجے میںانھوں نے مزید زمین ہتھیا لی ہے اور اپنے عزائم کے فروغ کے لیے پوست کی کاشت میں اضافہ کر دیا ہے۔اسی کا نتیجہ ہے کہ گذشتہ برس پوست کی پیداوار 201000 ہیکٹر پر کی گئی، جس سے 4700 ٹن افیون پیدا ہوا، جس میں 2015 کے مقابلے میں 46 فی صد تک کا اضافہ آیا۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات اور جرائم کے اندازے کے مطابق، گذشتہ سال ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں 16 فی صد کا اضافہ ہوا، جس میں مکمل زرعی شعبے کا دو تہائی سے زیادہ حصہ شامل تھا۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات اور جرائم کے مطابق، عدم استحکام، شدت پسندی اور کشیدگی میں اضافہ آنے کے علاوہ منشیات کی پیداوار نجی اور پبلک سرمایہ کاری کے لیے مایوس کْن معاملہ ہوگا۔
قابل ذکر ہے کہ سال 2001 میں پوست کی پیداوار میں خاصی کمی دیکھی گئیتھی جب افغان قیادت والی حکومت نے اس پر پابندی لگائی تھی۔ لیکن بعد میں یہ اس سطح سے بڑھ گئی جب امریکہ نے ملک کو فتح کیا، جب کہ گذشتہ برس یہ بہت زیادہ بڑھ گئی۔ امریکہ نے متبادل فصل اپنانے کے لیے کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی کی، تاکہ اس مسئلے کا تدارک کیا جاسکے، جس مقصد کی خاطر اربوں ڈالر خرچ کیے گئے۔

 

 

 

 

 

منشیات کے انسداد سے متعلق امریکی اہل کاروں کا کہنا ہے کہ ہتھیاروں، رقوم اور دیگر اعانت کے عوض طالبان اسمگلروں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ جب ایک کلوگرام ہیروئن استعمال کرنے والوں تک پہنچتی ہے تو اس کی قیمت 15 لاکھ ڈالر کے قریب ہوجاتی ہے ۔ امریکہ نے منشیات کی عادت چھڑانے کی کوششیں تیز کردی ہیں؛ جن میں امراض کی شفایابی کی قانونی طور پر تجویز کردہ ادویات اور ہیروئن جیسی غیر قانونی منشیات شامل ہیں۔افغانستان کے جس علاقے پر طالبانیوںکا قبضہ ہے، وہاں اس کی کاشت 80فیصد زمینوں پر ہوتی ہے اور اس کے ٹیکس سے طالبان اپنی تنظیم کو مضبوط کرتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *