2019 انتخابات کی سرگرمیاں سیتا مڑھی میں ذات برادری کا کھیل پھر شروع

آئندہ ہونے والے لوک سبھا انتخابات کو لے کر مختلف سیاسی جماعتوں نے تیاریاںشروع کردی ہیں۔ ضلع کنونشنوں کے علاوہ دیگر پروگراموں کے ذریعہ ووٹوںکی ذات برادری کی گول بندی کی قواعد بھی شروع ہوگئی ہے۔ کوئی پارٹی کے مفاد میںکارکنوں سے کام کرنے کی اپیل میںلگا ہے تو کوئی عظیم شخصیتوں کو نسلی بندھن میںجکڑ کر اپنی انتخابی راہ آسان کرنے کی فراق میںہے۔ وہیںدوسری طرف کچھ پارٹیوں کی نظر نوجوانوںاور عورتوں پر ٹکی ہیں،جو نوجوانوں کے مفاد کی بات کرکے اپنے سیاسی مستقبل کو مضبوط کرنے میںلگی ہیں۔
جمہوری نظام کے تحت انتخابی سال کی دوبارہ آمد ہونے والی ہے۔ برسراقتدار پارٹی سے لے کر اپوزیشن پارٹی تک انتخابی مہم کو اپنے اپنے طریقے سے آگے بڑھانے کی ترکیب سوچنے میں لگی ہیں۔ سیاسی بے اطمینانی کا عالم یہ ہے کہ برسر اقتدار پارٹی جہاں اپنی مکمل اکثریت کی امید میں کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتی ہے، وہیںاپوزیشن اقتدار پانے کے لیے بیتاب ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کی اس سیاسی چھینا جھپٹی کے بیچ عوامی جذبات محض ایک بھروسہ کے بھاشنوں تک الجھے ہیں۔ حکومت سے لے کر اپوزیشن تک کے کارکنان پارٹی لیڈروں کی انتخابی تیاری کے فرمان کو پورا کرنے کے لیے کمر کس رہے ہیں۔ ان میںکچھ ایسے بھی ہیںجو خود کی دعویداری کے لیے کوئی کسر نہیںچھوڑنا چاہتے ہیں تو کچھ گمنام چہرے بھی موقع آتے ہی انتخابی راگ چھیڑنے کی تیاری میںہیں۔ ہندوستان نیپال سرحد پر واقع بہار کے سیتا مڑھی ضلع کا کم و بیش یہی حال ہے۔
اب جاری سیاسی قواعد پر ایک نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ مقامی شری رادھا کرشن گوئنکا کالج کے کریڈا میدان میںایک خوبصورت پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ مرد آہن سردار بلبھ بھائی پٹیل کی 142 ویںجینتی کے موقع پر منعقد پروگرام میں خاص طور سے پٹیل برادری کے لوگوں نے پوری حصہ داری کی جس میںسیتا مڑھی کے علاوہ دیگر ضلعوں سے پٹیل سماج کے لیڈر اور کارکنوںنے شرکت کی۔ پروگرام میںبطور مہمان خصوصی راجیہ سبھا کے رکن آر سی پی سنگھ مدعو تھے جبکہ مقامی سطح پر رکن اسمبلی ڈاکٹر رنجو گیتا، امیش کشواہا، سابق رکن پارلیمنٹ نول کشور رائے، رانا رندھیر سنگھ چوہان، دیویندر ساہ، ناگیندر پرساد سنگھ،رام آشیش پٹیل،پپو پٹیل، راج کمار پٹیل، رامجی منڈل، ببلو منڈل اور کرن گپتا سمیت دیگر لیڈروں نے اسٹیج سنبھالا تھا۔

 

 

 

 

پروگرام کے دوران پٹیل سیو ا سنگھ نام کی تنظیم سے جڑے کارکنوں نے سیاست میںمناسب حصہ داری نہیں ملنے کو لے کر غصے کا اظہار کیا۔ ضلع کی سیاست میںکم سے کم ایک سیٹ کے لیے سماج کی طرف سے مانگ کی گئی۔ اسپیکروں نے ریاستی سرکار پر بے اعتنائی کا الزام لگاتے ہوئے سماجی، اقتصادی اور سیاسی آزادی کے لیے ایک انقلاب کی ضرورت بتائی۔ کہا کہ سردار پٹیل کی طرح آج بھی اس سماج کو سیاست میںانٹری کرنے سے روکنے کی سازش کی جارہی ہے۔ بیلسنڈ رکن اسمبلی رانا رندھیر سنگھ چوہان نے تین بلاک بیلسنڈ،تریانی ااور پرسونی میںمرد آہن کے نام پر چوک کا نام رکھنے کے ساتھ ہی پٹیل ہوسٹل کی تعمیر کے لیے ایم ایل اے کے فنڈ سے رقم دلانے کا اعلان کیا،تو سابق رکن پارلیمنٹ نول کشور رائے نے بھی پارلیمنٹ سے ملنے والی ایک ماہ کی پینشن مرد آہن کے قد آدم مجسمہ کی تعمیر کے لیے دینے کا اعلان کیا۔
اس سے پہلے 28 اکتوبر کو شہر کے راجندر بھون میںراشٹریہ لوک سمتا پارٹی ارون گروپ کے کارکنوںکی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا تھا، جس میںجہان آباد کے رکن پارلیمنٹ ارون کمار سنگھ نے کارکنوںسے پارٹی کے حق میںبہتر کام کرنے کی اپیل کی۔ چناری رکن اسمبلی للن پاسوان، ونود کمار نشاد،رام پکار سنہا، دنکر نارائن سنگھ اور پروین کمار شاہی سمیت دیگر لوگوںکی موجودگی میںکارکنوں نے پارٹی کی مضبوطی کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کاعہد کیا تھا جبکہ 12 نومبر کو راجندر بھون میںمنعقد ایل جے پی کارکن کانفرنس میں پارٹی کے مرکزی پارلیمانی بورڈ کے صدر ، جموئی کے رکن پارلیمنٹ چراغ پاسوان نے کہا کہ ترقی یافتہ بہار کے خواب کو پورا کرنے کی ذمہ داری نوجوانوںکی ہے۔ نوجوانوں کو سوچنا ہوگا کہ بہار پچھڑا ہوا کیوںہے؟ اس کے ذمہ دار کون کون ہیں؟ ریاست کو پسماندہ بنانے والے سیاستدانوں کی پہچان کرنا ضروری ہے ۔
بے روزگاری کے مسئلے پر کہا کہ وزیر خزانہ ارون جیٹلی سے ’راشٹریہ یوا کمیشن تشکیل کرنے کی مانگ کی ہے۔ انھوں نے کارکنوں کو 2019 کے لوک سبھا انتخابات کی تیاری میںجٹ جانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ دوبارہ نریندر مودی کی قیادت میںاین ڈی اے کی سرکار بنانا ایل جے پی کا ہدف ہے۔ نریندر مودی ملک کے پہلے وزیر اعظم ہیں جنھوںنے عورتوںکی صحت کی فکر کی اور اس کے لیے اجولا یوجنا کو لاگو کیا۔ آر جے ڈی سپریمو لالو پرساد پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ بہار کے عوام سیلاب سے کراہ رہی تھے اور وہ پٹنہ میںمہاریلی کرنے میںمشغول تھے۔

 

 

 

کل ملاکر اگر دیکھا جائے تو سیتامڑھی ضلع میںآئندہ انتخابات کو لے کر سیاسی سطح پر جھنڈا بلند ہونے لگا ہے۔ ریاستی سرکار کی شراب بندی،بال ویواہ پر روک اور جہیز کے خاتمے کی قواعد اور مرکزی سرکار کی نوٹ بندی سے لے کر جی ایس ٹی قانون سے ہلکان ہوئے لوگوں نے پھر سے انتخابی راگ چھیڑنا شروع کردیا ہے۔ چوک چوراہوں سے لے کر گاؤںکی گلیوںتک سیاست کی چرچا ؤں کے ساتھ ہی ووٹوںکی نسلی گول بندی کی قواعد بھی زور پکڑنے لگی ہے۔ ویسے الیکشن میںابھی بھی کافی وقت باقی ہے لیکن ممکنہ امیدواروں کی بے چینی اب شروع ہوگئی ہے۔ کوئی لوک سبھا کا خواب دیکھ رہا ہے تو کسی کو اسمبلی کی راہ آسان نظر آنے لگی ہے۔ گٹھ بندھن کی بیساکھی کی بدولت رینگ رہی ریاست کی سیاست کے چشمے میںاگلی بار کس کی تصویر صاف نظر آتی ہے، فی الحال یہ کہنا مشکل ہے۔ سیاسی پارٹیوںکی اعلیٰ قیادت ممکنہ امیدواروں کو کس ترازو پر تولنے کی تیاری میںہے، اس پر عام جنتا کی نظر ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *