یشونت سنہا نے ملکی معیشت کو مضبوط بحث بنا دیا

بی جے پی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر خزانہ یشونت سنہا نے انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس میں27ستمبر کو ایک مضمون بعنوان’’اب مجھے بولنے کی ضرورت ہے، کیا لکھا کہ سیاسی گلیاروں میں کھلبلی مچ گئی، ملک میں سنسنی پھیل گئی، میڈیا میں ملکی معیشت پر نئی بحث چھڑ گئی، سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہوگیا اور مودی سرکار صفائی پیش کرنے میں جٹ گئی۔ واقعی یشونت سنہا نے مودی حکومت کے جھوٹ کی پول کھول کر رکھ دی ہے اور ایک ماہر اقتصادیات کی حیثیت سے اپنے دل ودماغ میں بھٹک رہے تمام خدشات و امکانات کے ساتھ برننگ ایشوز اور ابھرتے سوالوں کو ملک کے سامنے رکھ دیا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ نوٹ بندی ایک مسلسل چلنے والی آفت ثابت ہوئی اور جی ایس ٹی کو بے حد خراب طریقے سے نافذ کیا گیا جس کی وجہ سے لوگوں کا کاروبار ٹھپ ہوگیا، بزنس ڈوب گیا، لاکھوں لوگوں کو نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا۔ عالمی سطح پر کچے تیل کی قیمت کافی کم ہے لیکن اس کا فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔ مودی حکومت نے تیل کے نام پر سب سے بڑا ظلم ڈھایا ہے۔ عالمی بازار میں خام تیل کی قیمت150ڈالر فی بیرل سے گھٹ کر 40ڈالر سے بھی نیچے آگئی اس کے باوجود حکومت بازار میں تیل کی قیمت کم کرنے میں ناکام رہی۔ یشونت سنہا نے وزیر خزانہ ارون جیٹلی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا ہے کہ’’ جیٹلی لبر لائزیشن کے بعد سے اب تک کے سب سے خوش نصیب وزیر خزانہ ہیں، عالمی سطح پر کچے تیل کی قیمت کا فی کم ہے لیکن پھر بھی اس موقع کا فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔
ہر محاذ پر شور
یہ سچ ہے کہ رکے ہوئے پروجیکٹس اور بینکوں کے این پی اے جیسے مسائل وراثت میں ملے ہیں لیکن اس سے کچے تیل کی قیمت کی طرح ہی بہتر ڈھنگ سے نپٹا جا سکتا ہے،نہ صرف کچے تیل کی قیمتوں سے ملنے والے فائدے کو ضائع کیا گیا بلکہ پہلے سے پیدا شدہ مسائل کی حالت اور زیادہ خراب ہو گئی ۔‘‘ بالکل واضح ہے کہ بی جے پی اور مودی حکومت نے اڈانی، امبانی اور بابا رام دیو جیسے کارپوریٹ کو براہ راست فائدہ پہنچایا، تیل عالمی بازار میں سستا ہے لیکن ملک کے بازار میں کئی گنا مہنگا، کوئی پوچھنے والا ہے اور نہ بتانے والا کہ آخر یہ پیسہ کہاں جا رہا ہے؟ ہر محاذ پر شور ہے اور ملک کے طول وعرض میں ڈھول بن رہا ہے کہ صنعتی انقلاب آرہا ہے،میک ان انڈیا کا نعرہ ہندوستان کو آسمان پر لے گیا ہے، مودی کے غیر ملکی دورے سے خزانہ بھر گیا ہے لیکن آدھی دنیا کا چکر کاٹنے کے باوجودآج تک کوئی سرمایہ کار آیا نہیں۔ اس سلسلے میں یشونت سنہا نے جوکہا اور لکھا ہے وہ بھی ہماری آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے کہ ’’ آج ہندوستانی معیشت کی تصویر کیا ہے؟ نجی سرمایہ کاری اتنی کم ہو چکی ہے جتنی گزشتہ 20سالوںمیں نہیں ہوئی، صنعتی پیداوار ختم ہوگئی ہے، زرعی بحران بھی ہے، صنعت کاری جو ایک بڑے طبقے کو ملازمت دیتی تھی، معاشی بحران سے متاثر ہے، بر آمد گھٹ گئی ہے، معیشت کے ایک شعبے کے بعد دوسرا شعبہ معاشی بحران کی گرفت میں ہے۔‘‘ دراصل ان دنوں مودی سرکار کی اسکیموں کی دھجیاں اڑ رہی ہیں پھر بھی اشتہار بازی کے ذریعہ کامیابی کا ڈھول پیٹاجا رہا ہے، طویل مدتی فائدے کا سبز باگ دکھا کر عوام کو تسلی دینے کی کوشش کی جا رہی ہے حالانکہ غلطیوں کا اعتراف اور اس سے سبق حاصل کر نا بھی بہادری ہے لیکن مودی سرکار تو اپنی نام نہاد کامیابیوں پر اپنی پیٹھ آپ تھپتھپاتی نظر آتی ہے ۔ اگر واقعی حکومت نے کوئی ٹھوس و پائیدار اور قابل قدر معاشی پالیسی بنائی تو ساڑھے تین سال میں اس کے مثبت اثرات ظاہر ہونے چاہئے لیکن یہاں تو منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور واجپئی سرکار کے شائننگ انڈیا کی طرح مودی سرکار کے نیو انڈیا میں وکاس پاگل ہوتا نظر آ رہا ہے۔ مودی سرکار کی معاشی پالیسیوں اوروزیر مالیات ارون جیٹلی پر یشونت سنیا کی تنقید بجلی بن کر گری ہے، ان کی یہ بات حکومت کیلئے اور بھی زیادہ پریشانی کا سبب بن رہی ہے کہ معیشت کا جو حال ہے اس میں خاموش رہنا ملک کے لئے خطرناک ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ مودی حکومت نے بد عنوانی، کرپشن اور مالی خسارہ کم کرنے، معیشت اور جی ڈی پی کو بہتر بنانے، غربت کم کرنے ، کسانوں کی خود کشی روکنے، روزگار کے مواقع بڑھانے اور کالا دھن واپس لانے کے لئے کون سے اقدامات کئے؟ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی پر سوالات تو پہلے ہی سے اٹھائے جا رہے تھے ، یشونت سنہا نے ان کی خرابیاں، کوتاہیاں اور کمیاں بتاکر حکومت کو اور زیادہ پریشانی میں ڈال دیا ہے۔ جس نوٹ بندی کا خمیازہ ملک اور عوام اب تک بھگت رہے ہیں، اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے مسٹر سنہا نے کہاکہ نوٹ بندی نے گرتی جی ڈی پی میں آگ میں گھی ڈالنے کا کام کیا اور اس طرح انہوںنے مودی سرکار کی پر فریب جی ڈی پی کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ راہل گاندھی نے بھی کہا ہے کہ وکاس سے متعلق بڑی بڑی باتیں کی گئیں، سب کھوکھلی ثابت ہوئیں، لہٰذا وکاس پاگل ہو گیا ہے۔ ملک کے ماہرین معاشیات منموہن سنگھ اور پی چدمبرم نے جب ملکی معیشت پر سوالات کھڑے کئے تو انہیں ہی پاگل قرار دینے کی کوشش کی گئی لیکن اب خود بی جے پی کے ہی سینئر لیڈر ایسا کہنے پرمجبور ہور ہے ہیں۔ شیو سینا نے اپنے ترجمان’’ سامنا‘‘ کے اداریہ میں حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کو جارحانہ انداز میں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ بی جے پی کے کئی لیڈر موجودہ نظام کے خلاف بولنے سے ڈرتے ہیں، انہیں خوف ہے کہ اگر انہوںنے ایسا کیا تو انہیں نامعلوم خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘ اسی طرح مہاراشٹرنو نرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے نے فیس بک پرلکھا ہے کہ ’’ جس سوشل میڈیا کی مدد سے وزیر اعظم نریندر مودی نے2014میں اقتدار حاصل کیا، اب وہی سوشل میڈیا مودی اور بی جے پی پر بھاری پڑ رہا ہے ۔ جیسا آپ بوتے ہیں ویسا ہی کاٹتے ہیں۔ بی جے پی کیلئے یہ کہاوت سچ ثابت ہوئی ہے۔

 

 

 

 

 

 

عام آدمی کے ساتھ دھوکہ
بی جے پی نے گمراہ کن میڈیا مہم چلا کر عام آدمی کے ساتھ دھوکہ کیا، اب سوشل میڈیا کا وہی ہتھیار بی جے پی پر الٹا پڑرہا ہے۔2014کے عام انتخابات جیتنے کے لئے اخلاقیات اور اصول کو نظر انداز کر دیا گیا تھا، لوگوں کے جذبات بھڑکا نے کے لئے ہر طرح کے ہتھکنڈے اپنائے گئے، وہ لوگ جنہوںنے ان کے خلاف آواز بلند کی اور احتجاج کیا، ان کی آواز کو دبا دیا گیا، اگر حکومت نے اچھا کام کیا ہوتا تو عوام اسے نظر انداز کر دیتے لیکن وعدے پورے کرنے کی بات تو چھوڑ دیجئے، سب سے زیادہ المناک بات یہ ہے کہ ان وعدوں کو انتخابی جملہ بنا دیا گیا جس سے مودی اور بی جے پی کو ذلالت کا سامنا کرنا پڑا۔ نوٹ بندی ایک بڑی غلطی تھی، لوگوں کی ملازمتیں ختم ہوگئیں اور افراط زر بڑھ گئی لیکن حکومت کے بارے میں کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا۔‘‘ یشونت سنہا نے ایک ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹر ویو کے دوران مودی حکومت اور ان کی پالیسیوں پرتنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ ملک کمزور ہو رہا ہے توکوئی بھی سوچنے والا شخص خاموش نہیں رہ سکتا۔‘‘ بی جے پی لیڈر اور مشہور فلمی اسٹار ایم پی شتروگھن سنہا نے بھی حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سابق وزیر مالیات سنہا کی بھر پور تائید کی ہے اور کہا ہے کہ’’ اگر کوئی ان کے رائے کو مسترد کرتا ہے تو اسے احمقانہ ہی سمجھا جائے گا۔ ‘‘ ان کے علاوہ حکمراں طبقہ میں کئی ایسے لوگ ہیںجو حکومت کی ناقص اور غلط پالیسیوں پر تنقید کر رہے ہیں اور اب تو بات وکاس کے پاگل ہونے کی ہونے لگی ہے۔ یہاں تک کہ عوامی شعبے میں ملک کے سب سے بڑے بھارتیہ اسٹیٹ بینک نے بھی تسلیم کیا ہے کہ یہ معاشی بحران عارضی یا تکنیکی نہیں ہے، یہ بنا رہنے والا ہے ، ساتھ ہی مانگ میں گراوٹ سے حالت اور خراب ہو گئی ہے۔ اس گراوٹ کی وجہ معلوم کرنا اتنا مشکل بھی نہیں ہے، نہ ہی یہ اچانک آئی ہے۔ موجودہ بحران کو ختم کرنے کے لئے اس کو ملبے عرصے تک اکٹھا ہونے دیا گیا، اس کا اندازہ لگاکر اس کا حل نکالنا مشکل کام نہیں تھا لیکن اس کے لئے وقت نکالنا ہوگا، ایشو کو سنجیدگی سے سمجھنا ہوگا اورپھر اس کے سلجھانے کے طریقے پر کام کرنا ہوگا۔‘‘ ایسے وقت میں وزیر اعظم مودی کو اقتصادی ماہرین سے جو ملک سے جڑے ہوئے ہوں، انہیں بٹھاکر ملک کی گرتی معیشت اور اقتصادی صورتحال کو سدھارنے کے بارے میں سنجیدگی سے غور و فکر کرنا چاہئے، ہمیں پورا یقین ہے کہ اگر وزیر اعظم سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس ذمہ داری کو نبھانے کا بیڑا اٹھا لیتے ہیں تو اس کا حل بھی نکلے گا اور ہم مندی کے دور میں جس تیز رفتاری سے پھسل رہے ہیں، ہمارا وہ پھسلائو رکے گا یا کم ہوگا۔
بھونچال جیسی کیفیت
یقینا یشونت سنہا نے جو گولے داغے ہیں ان کا اثر کم کرنے کے لئے بی جے پی کی سینا الگ الگ محاذ پر مورچے سنبھال چکی ہے لیکن یہ تو طے ہے کہ کسی بھی بات کا کوئی جواز نہیں دیا جائے گا ، بس قوم پرستی اور ہندتو کارڈ کھیلا جائے گا اور اس کو سیاست کا حصہ ثابت کیا جائے گا۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ یشونت سنہا کی پول کھول سچ نے ملک کے ساتھ ساتھ دوپر یوار، سنگھ پریوار اور یشونت پریوار میں بھونچال لا دیا ہے۔ اپنے بیٹے جینت سنہا سے انہوں نے دریافت کیا ہے کہ جب سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا تو آپ کو وزارت مالیات سے رخصت کیوں کیا گیا؟ یشونت سنہا نے سب کو بے لاگ جواب دینا شروع کر دیا ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے پرستاروں کا دائرہ وسیع ہوا ہے، پارٹی میں ان کے حق میں چھوٹی موٹی لہر پھیل گئی ہے اور ہمارے خیال میں پارٹی کے مارگ درشک لال کرشن اڈوانی اور مرلی منوہر جوشی بھی یشونت سنہا کے الزامات اور تنقید و تبصرے سے متفق ہیں اور ہو نہ ہو پارلیمنٹ کے سرمائی سیشن میں جب تمام ممبران پارلیمان دہلی میں ہوں گے تب یشونت سنہا کے ذریعہ اٹھائے گئے سوالوں کے اوپر سنجیدہ بات چیت ہوگی اور بی جے پی کے اندر سے خود کوئی نئی بات نکل کر سامنے آئے گی۔ اس کے باوجود اگر مودی حکومت کسی بھی سوال کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتی تو پھر یہ جمہوریت نہیں، اسے تانا شاہی ہی جیسی صورت حال کہا جا سکتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ملک ابھی تاناشاہی قبول کرنے کے لئے تیار ہے؟ اب عوام خواہ کچھ بولیں یا نہ بولیں، مگر سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا وعدہ تھا، کیا دعویٰ تھا اور کیا ہو رہا ہے؟
یشونت سنہا نے وزیر مالیات جیٹلی اور ملک کی گرتی معیشت پر جو بے لاگ تنقید و تبصرہ کیا ہے، اگر کوئی کانگریسی لیڈر کہتا تو سوشل میڈیا پر مودی کے بھکتوں کی گالیاں کھاتا مگر سنہا کی تنقید پر سناٹا چھاگیا ہے۔ کوئی کچھ بولنے ، کہنے یا چیخنے چلانے کے لئے تیار نہیںہے۔ آخر ایسا کیا ہے کہ حکومت اقتصادیات کے بارے میں کچھ صفائی دینے کے بجائے صرف جذباتی سیاست کو ہوا دے رہی ہے۔؟ کشمیر سے لے کر کنیا کماری تک ملک ’’ گئو ماتا‘‘ اور ’’ بھارت ماتا‘‘ کی جے کے نعروں سے باہر کیوں نہیں آرہا ہے؟ ایسے میں عام آدمی اگر مودی بھکتی چھوڑ کر غور و فکر کرے تو سچائی خود بخود سامنے آجائے گی۔
یشونت سنہا کے بعد بی جے پی کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر ارون شوری بھی اب پوری طرح سے مودی حکومت کے خلاف میدان میں کود پڑے ہیں۔ انہوںنے ہماچل پردیش میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ ’’ مودی کی حمایت کرنا میری سب سے بڑی بھول تھی۔‘‘ ان کے مطابق نوٹ بندی ایک بڑی منی لانڈرنگ اسکیم تھی جسے حکومت کی طرف سے کالے دھن کو سفید کرنے کے لئے نافذ کیا گیا ، بڑے کاروباریوں کو پورا موقع دیا گیا کہ وہ کالے دھن کو سفید بنا سکیں۔

 

 

 

 

 

 

 

گمراہ کن تاثر
وزیر اعظم اکثر یہ تاثر پیش کرتے ہیں کہ وہ بڑے گیانی ، گیان گُن ساگر اور بحر العلوم ہیں خواہ تاریخ ہو یا جغرافیہ، سائنس وٹیکنالوجی ہو یا معاشیات و اقتصادیات، فزکس ہویا کیمسٹری، علم نباتات ہو یا ارضیات ہر شعبے میں دخل اندازی ان کا شعار ہے ، وہ کتنا پڑھے لکھے ہیں، دنیا جانتی ہے کہ فاصلاتی نظام تعلیم کے تحت ان کی ڈگریوں پر شکوک و شبہات کے بادل چھائے ہوئے ہیں ۔ میرے کہنے کا دراصل مقصد یہ ہے کہ نریندرد مودی نے اس روشن حقیقت کو نظر انداز کردیا کہ گجرات اور ہندوستان میں بہت بڑا فرق ہے۔ ان کی ذہنیت اور ان کی سوچ ابھی بھی گجرات سے آگے نہیں نکل پائی ہے۔ آخر کیا وجہ تھی کہ نوٹ بندی لاگو کرنے کے لئے ایک گجراتی گورنر کو لایا گیا؟ ان کی تقرری کے ڈیڑھ ماہ کے اندر ہی اتنا بڑا احمقانہ فیصلہ کیوں لیا گیا؟ پارٹی کا صدر بھی ایک گجراتی ہی ہے گویا گھوم پھر کر بات گجرات پر ہی آکر ٹھہرتی ہے۔ اس سے تھوڑا آگے نکلتے ہیں تو آر ایس ایس کے ہیڈکوارٹر ناگپور یا بی جے پی کی آئیڈولوجی تک ان کا ذہن جاتا ہے لیکن انہیں کی پارٹی کے سینئر لیڈر یشونت سنہا اور ارون شوری ہیں جنہوںنے مودی جی کی اقتصادی پالیسی کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے، ارون جیٹلی کو سیدھے طورپر نشانہ بناتے ہوئے ان کی نا اہلی کو اجاگر کر دیا ہے گویا جیٹلی اس عہدے کے لائق ہی نہیں ہیں جب ہی تو انہوںنے معیشت کو زوال پزیر ہونے کی دہلیز پر پہنچا دیا ہے۔ اس کے باوجود حکومت کی طرف سے کہا جارہا ہے کہ طویل مدتی فائدہ پہنچانے کے مقصد سے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جیسے اقدامات کئے گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ مدت کتنی طویل ہوگی، یہ بتانے کی زحمت کیوں نہیں کی جاتی؟ آخر کیا وجہ ہے کہ یشونت سنہا کے سوالات کا جواب وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ اور ریلوے کے وزیر پیوش گوئل سے دلوایا جا رہا ہے، جن کا معیشت سے کوئی لینا دینا نہیںہے۔ انڈین ایکسپریس کے سہارے سنہا نے بالکل واضح کر دیا ہے کہ ملکی معیشت تقریباً تباہ ہوچکی ہے،ملک اندھی سمت کی طرف گامزن ہے اور بے روزگار ہو چکا ہے۔ وہ کہتے ہیں ناکہ’’ کھسیانی بلی کھمبا نوچے‘‘ تو جیٹلی کو کوئی جواب نہیں بن پڑا تو بیان دے ڈالا کہ’’80برس کی عمر میں یشونت سنہا نوکری کی تلاش میں ہیں۔‘‘ حالانکہ ملک کی گرتی معیشت اور معاشی بد حالیوں کے سبب گھٹتی ہوئی مقبولیت کے پیش نظر اب تو آر ایس ایس نے بھی اپنی خفیہ رپورٹ میں مودی جی کو آگاہ کر دیا ہے کہ 2019کے عام انتخابات میں کامیابی مشکل ہے۔ رپورٹ کے مطابق سنگھ کی مختلف ذیلی تنظیمیں مودی سرکار کی معاشی پالیسی سے خفا ہیں اور کہا جارہا ہے کہ مودی کی ذاتی مقبولیت انتخابی کامیابی کی ضمانت نہیں ہے۔ مندی، بیروزگاری، نوٹ بندی، جی ایس ٹی اور کسانوں کی بدحالی کی وجہ سے عام لوگوں میں حکومت کے تئیں مایوسی جنم لے رہی ہے۔ اس کے باوجود مودی حکومت56انچ کا سینہ چوڑا کر کے کہہ رہی ہے کہ ’’ واہ رہے ہم کے لئے کے تھم‘‘ خوش گمانی کی شکار واجپئی سرکار2004میں ا سی طرح انتخاب ہارگئی تھی۔
گجرات میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں
یہ تو واضح ہوچکا ہے کہ اتر پردیش کا ضمنی انتخاب ہو، گجرات اسمبلی انتخاب ہو یا 2019کے لوک سبھا انتخابات، بی جے پی، مودی اور آر ایس ایس کو شاید خطرہ محسوس ہونے لگا ہے ، گجرات میںامت شاہ کو صاف اشارہ مل چکا ہے کہ یہاں سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں ہے، ہاردک پٹیل جو پٹیل برادری کی زبردست آواز بن کر ابھرے ہیں، انہوںنے راہل گاندھی کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے، وکاس پاگل ہو گیا ہے کا نعرہ بھی سوشل ویب سائٹ پرخوب وائرل ہور ہا ہے اوریہ منظرنامہ پہلی بار سامنے آرہا ہے کہ بھکتوں کے مقابلے جبرو تشدد سے دبی کچلی آواز پورے جوش و خروش اور ہمت و حوصلہ کے ساتھ ابھر کر سامنے آئی ہے۔یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ حالات سے فرار اختیار کرتے ہوئے سنگھ پریوار کیا رُخ اپناتا ہے؟ ویسے عوام اچھے دنوں کا خواب دیکھ رہے تھے لیکن کون جانتا تھا کہ 2019انتخابات سے ٹھیک ڈیڑھ سال قبل خود سرکار کی نیند اڑ جائے گی۔ اب دیکھنا تو یہ ہے کہ ایسے میں کس کو بلی کا بکرا بنایا جاتا ہے؟ راجیو پرتاپ روڑی کی طرح اگر جیٹلی کی بھی چھٹی کر دی گئی تو سبرامنین سوامی کی قسمت کا ستارہ چمک سکتا ہے کیونکہ ڈاکٹر سوامی آکسفورڈ یونیورسٹی میں معاشیات کا درس دے چکے ہیں۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *