ورون گاندھی کی بے باک تحریر ہندوستان کو ایک نیشنل رفیوجی پالیسی بنانے کی ضرورت

آزادی کے بعد سے تقریباً چار کروڑ پناہ گزیں ہندوستان کی سرحد پار کرچکے ہیں اور ابھی روہنگیائیوں کے بنگلہ دیش پہنچنے کے ساتھ ہی ہماری سرحد پر ایک اور پناہ گزیں بحران آ کھڑا ہوا ہے۔ دنیا کے کل 6.56 کروڑ لوگوں کو جبراً ان کے ملک سے نکال دیا گیا ہے، جس میں 2.25 کروڑ لوگوں کو پناہ گزیں مانا گیاہے۔ اس کے علاوہ ایک کروڑ لوگ اور ہیں، جنہیں نی شہریت سے محروم مانا جاتاہے۔ انہیں کوئی بھی شہریت حاصل نہیں ہے اور یہ لوگ صاف صفائی، تعلیم، صحت اور معمولی روزگار کے بنیادی حقوق سے بھی محروم ہیں۔ یونائٹیڈ نیشنز ہائی کمیشنز فار رفیوجیز ( یو این ایچ سی آر) کی رپورٹ کے مطابق لڑائی اور مظالم کے سبب ہر منٹ اوسطاً 20لوگ اپنے گھروں سے بے گھر کئے جارہے ہیں۔ بہت سے پناہ گزیں غیر ملکی پالیسی کے قاعدے و قانون میں الجھ کر رہ جاتے ہیں اور تنگ نظر گھریلوں پالیسی کی وجہ سے کئی بار ان پر دھیان نہیں دیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ سے ہندوستان، نیپال اور سری لنکا نے بھاری تعداد میں پناہ گزینوں کو پناہ دینے کا ذمہ اٹھایا ۔ یو این ایچ سی آرکی رپورٹ کے مطابق ابھی تقریباً 2 لاکھ پناہ گزیں جن میں صرف 30 ہزار رجسٹرڈ ہیں، ہندوستان میں رہتے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

قانونی الجھنیں
ہندوستان نے پناہ گزینوں کو لے کر بہت سے انسانی حقوق کے معاہدوں ( آئی سی سی پی آر، آئی سی ای ایس سی آر، سی آر سی، آئی سی ای آر ڈی، سی ای ڈی اے ڈبلیو ) پر دستخط کیا ہے۔ سبھی معاہدوں میں انہیں واپس نہ بھیجنے کا عہد دوہرایا گیا ہے لیکن ایسے معاہدوں پر تعمیل کرنے کے لئے مقامی سطح پر کوئی قانون نہیں بنایا گیاہے۔ یو این ایچ سی آر کو لے کر ہندوستان تذبذب میں دکھائی دیتا ہے۔ پناہ گزینوں کی پہچان اور رجسٹریشن کیحمایت تو کی جارہی ہے لیکن 1951 کے معاہدے پر دستخط سے انکار کیا جا رہا ہے ۔ہندوستانی پناہ گزیں قانون ،سرکار کو وطن واپس کرنے کا محدود حق دیتا ہے۔ پناہ گزینوں کی افسوسناک صورت حال کے باوجود ایسے قانون کو ’’غیر قانی دخل اندازوں ‘‘ سے سختی سے نمٹنے، (غیر ملکی ترمیم 1946) کے لئے سخت بنایا گیا۔ غیر ملکی قوانین کے تحت کسی بھی غیر رجسٹرڈ پناہ گزینوں کو قوم کی سیکورٹی کے لئے خطرہ مانتے ہوئے اس پر مقدمہ چلایا جاسکتاہے۔ لیکن ہندوستان سارک ایڈیشنل ٹیرارزم پروٹوکول (آرٹیکل 17) پر متفق ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی ممبر ملک کسی ایسے پناہ گزیں کو وطن واپسی نہیں کرے گا جس پر اس کی ذات ، طبقے ، مذہب یا قومیت کی بنیاد پر مقدمہ چلایاجارہاہے یا سزا دی جارہی ہے۔
پناہ گزینوں کے مسئلے کو لے کر سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کی چوکھٹ پر ایک پناہ گزیں کی قانون کی مانگ اٹھی۔ سپریم کورٹ نے (کھودی رام چکمہ بنام اروناچل پردیش ریاست، نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن بنام اروناچل پردیش ریاست ) پناہ گزیں کی سیکورٹی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے فیصلہ دیا کہ چکمہ پناہ گزینوں کو مار دیئے جانے یا بھید بھائو کے امکانات کو دیکھتے ہوئے وطن واپسی نہیں کی جاسکتی ہے۔ ہمارا آئین زندگی اور ذاتی آزادی کا حق دیتے ہوئے حکم دیتا ہے کہ ’’ ریاست بغیر شہریتکی تفریق کئے سبھی انسانوں کی زندگی کا تحفظ کرے گی‘‘(نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن 2014) ۔ویسے پناہ گزینوں کے مسئلے میں کسی حتمی فیصلے کے فقدان کی وجہ سے یہ مسئلہ اب بھی الگ الگ معاملے کے مطابق ہی طے ہوتا ہے۔(رفیو جی لاء اینی شییٹیو،ورکنگ پیپر ، 11، 2014)۔ حال کے دنوں میں نیشنل سیکورٹی کے حق میں عوام اور تنظیمی سطح پر ہمدردی کو بھی محدود کر دیا گیا ہے۔
ہندوستان کو ایک نیشنل رفیوجی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے جو مظالم سے بھاگنے والے اور غریبی سے بھاگنے والے پناہ گزینوں کے درمیان فرق کر سکے۔ ایسا قانون پناہ گزیں کا درجہ دینے کے لئے قانون سے ہم آہنگ سرکاری عمل طے کرے گا۔ (پناہ گزینوں پر جنوبی ایشیا ڈیکلیئریشن ای پی جی 2004) ، اور کسی (جنگی مجرم، ،سنگین جرائم کے مجرم ) کے پناہ گزیں درجہ کوختم کرنے کی بھی توضیح کرے گا۔سرکاری اداروں کو مشکل حالات میں ڈالنے والی بڑی نقل مکانی (بنگلہ دیش 1971) جیسے حالات میں جب تک وطن واپسی سماجی طور سے ممکن نہ ہو، افراد کی صورت حال یقینی کئے بغیر بھی رہنے کی منطوری دی جاسکتی ہے۔
پناہ گزینوں کے لئے رہائش کا بندوبست سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ دہلی میں رہنے والے زیادہ تر افغانیوں اور میانماریوں کو مکان مالکوں کے بھید بھائو کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ صومالیائی پناہ گزیں مقامی لوگوں کے بھید بھائو کے شکار ہوتے ہیں۔ سرکاری اسکولوں میں پناہ گزیں بچوں کے ساتھ زیادتی اور بھید بھائو عام بات ہے۔ زیادہ تر میانماری پناہ گزیں کچھ گنے چنے پیشوں میں لگے ہوئے ہیں، جہاں وہ کام کی مشکل صورت حال کا سامنا کرتے ہیں۔کئی پناہ گزیں اچھی تعلیمی صلاحیت کے باوجود منظوری اور ورکنگ ویزہ کے نہ ہونے کی وجہ سے اچھی نوکری نہیں کرسکتے ۔
پناہ دینا جاری رکھیں
جن علاقوں میں بڑی تعداد میں پناہ گزیں ہوں، وہاں تنائو اور بھید بھائو کم کرنے کے لئے مقامی اکائیوں کو آگے بڑھ کر مکان مالکوں اور مقامی تنظیموں کو ان کے تئیں حساس بنانے کے لئے قدم اٹھانا چاہئے۔ پناہ گزیں طبقوں کے تئیں حمایت، نوجوانوں کے بیچ ورک شاپ میں ان کی حصہ داری اور خواتین کے امپاورمنٹ کے لئے اٹھائے گئے قدموں سے ان کو قبول کئے جانے کی راہ آسان ہوگی۔ ہمیں میانماری روہنگیا پناہ گزینوں کو پناہ ضرور دینی چاہئے، لیکن ان سے پہلے قانونی سیکورٹی کی تشویشات کا اندازہ بھی کرنا چاہئے۔ فطری طور سے زیادہ تر پناہ گزیں اپنے گھر لوٹنا چاہیں گے۔ ہمیں پُرامن بندوبست سے اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں اچھی طرح سے گھر واپسی میں مدد کرنی چاہے۔ مہمان نوازی اور پناہ دینے کی اپنی روایت کی تعمیل کرتے ہوئے ہمیں پناہ دینا لازمی طور سے جاری رکھنا چاہئے۔ (مضمون نگار بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ہیں)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *