ڈاکٹریحییٰ صبانے اردوکوگنگاجمنی تہذیب کا سرچشمہ بتایا

Dr-yahya-saba
ممتازدانشوراورکروڑی مل کالج ، دہلی یونیورسٹی میں شعبہ اردوکے پروفیسرڈاکٹریحییٰ صبانے کہاہے کہ ہندوستانی تہذیب و ثقافت کے فروغ میں اردو زبان کا اہم کردار ہے۔انہوں نے مذکورہ خیالات کا اظہار 8اکتوبرکو ’’ گڈوِل فار پیپل‘‘اور ’’قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان‘‘کے اشتراک سے منعقدہ ایک ورک شاپ عنوان’’ہندوستانی تہذیب کو مضبوط کر نے میں اردو کا کردار‘‘کے موقع پر صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے مزیدکہاکہ ہندوستان،ہندوستانی تہذیب اور اردویہ تینوں چیزیں کہنے کو الگ الگ ضرور ہیں مگر ان میں ایک خاص ملاپ اور مناسبت ہے جس نے ان کو اس طرح جوڑرکھا ہے کہ ایک دوسرے کے بغیر یہ ادھوری ہیں ۔ان میں بھی اردو کا نمبر سب سے پہلے ہے جس نے ہندوستان اور ہندوستانی تہذیب کے درمیان ایک خوشگوار رشتہ قائم کر رکھا ہے۔اردو جہاں گنگا جمنی تہذیب کا اصل سرچشمہ ہے وہیں بدقسمتی سے وہ اس ملک میں دوسری زبان کا درجہ رکھتی ہے۔قطع نظر اس کے کہ اردو کی اس ثانوی حیثیت کا ذمے دار کون ہے؟اہم بات یہ ہے کہ اردو زبان کی اہمیت اور مقام سے کسی طرح انکار ممکن نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ اردو نہ صرف ایک زبان ہے بلکہ دلوں کو جوڑنے والی اور ہماری ہندوستانی شناخت و پہچان کا بھی اہم ذریعہ ہے۔انھوں نے کہا کہ اردو جہاں ایک زبان،ایک بھاشا اور بولی ہے وہیں اس کا تعاون یہ ہے کہ اس نے ٹوٹے دلوں،خطوں اور علاقوں کو آپس میں جوڑا ہے ۔انھوں نے مزید کہا کہ اردو ہندوستانی زبانوں میں سب سے میٹھی اور دلوں کو موہ لینی والی زبان ہے۔
اس پروگرام کے دوسرے خطیب ستیہ وتی کالج ،دہلی یونیورسٹی کے استاذ ڈاکٹر اشتیاق عارف نے اپنے خطاب میں کہا کہ اردومحبتوں اور خلوص کی زبان ہے۔جہاں یہ سیکھنے کی زبان ہے وہیں زندگیوں میں اپلی منٹ کی زبان بھی ہے۔اپنے اندر اتارنے اور اپنی زندگیوں میں ڈھالنے کی زبان ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ یہ زبان تہذیب اور ادب سکھاتی ہے۔رہنے سہنے اور پہننے اوڑھنے تک کے آداب یہ سکھاتی ہے۔
مذکورہ پروگرام سے خطاب کر تے ہوئے جواہر لال نہرویونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر عمران عاکف خان نے کہا کہ اردو ہندوستان کی بنیادوں میں شامل زبان ہے۔جس نے ہندوستانی عمارت کو تھام رکھا ہے۔اس نے انگریزوں سے آزادی اور آزادی کے بعد ملک عزیز پر پڑنے والی ہر افتاد کا مقابلہ کرتے ہوئے ملک کو بچایاہے۔انھوں نے مزید کہا کہ اردو ہندوستان کا لباس زیبا اور خوش گوار پیرہن ہے ۔ اگر میں یہ کہوں تو مبالغہ نہ ہوگا کہ اردو کی حیثیت ہندوستان میں ایسی ہی ہے جس طرح ہمارے بدن میں رگوں اور رگوں میں دوڑتے ہوئے خون کی حیثیت ہے۔اردو کا فروغ اور اس کی بقا ہماری بقا اور فروغ کی ضمانت ہے۔ہماری تہذیب کے فروغ کی ضمانت ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ اردو کے بغیر ہم اس سماج و سوسائٹی کا تصور ہی نہیں کر سکتے جسے کلاسک اور معیاری کہا جاسکے۔چنانچہ ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم ہر سطح اور مقام پر خود کو اردوسے اور اردو کو خود سے جوڑیں۔
اس پروگرام سے خطاب کر تے ہوئے قاری محمدہارون صدر اقلیتی مورچہ بھارتیہ جنتا پارٹی،دہلی پردیش نے بھی خطاب کیا۔انھوں نے کہا کہ اردو کو مٹانے اور برباد کر نے کی جتنی بھی کوشش ماضی وحال میں کی گئی وہ کبھی بھی کامیاب نہ ہوسکی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اردو زبان ہماری سوچ اور فکر سے جڑی ہے ۔پھر جس طرح ہماری سوچ اور فکر کے خلاف ہر کوشش ناکام ہوتی ہے ،اسی طرح اردو کے خلاف اٹھنے والی ہر کوشش بھی۔اردو سینوں اور دلوں میں گھر کرنے والی زبان ہے۔آنکھوں کو نور اور دل کو سرور بخشنے والی زبان ہے ۔چنانچہ اسے کون اور کیوں کر مٹا سکتا ہے۔
ابواللیث قاسمی کی نظامت میں منعقدہ اس ورک شاپ سے مذکورہ مقررین کے علاوہ مقامی اورذمے دارلوگوں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا جن میں ڈاکٹر عبد الواحد صدیقی چیئر مینAHYS ،مقامی ایم ایل اے ریتو راج جھا(آپ)مقامی کونسلرجیندر ڈبال،فرمود اختر،خورشید عالم ،محمد داؤد عالم وغیرہ خصوصی طور پر قابل ذکر ہیں۔اس موقع پر مقامی اسکول کے طلبا و طالبات،اساتذہ کے علاوہ بڑی تعداد میں عوام موجود تھے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *