سوچھ بھارت مشن سے مسلم علاقے الگ کیوں؟

20 برس قبل کی بات ہے۔ وسط اکتوبر 1997 میںملکہ برطانیہ الیزابیتھ دورہ ہند کے دوران نئی دہلی میںعلی الصبح اپنے ہائی کمشنر ڈیوڈ گورے بوتھ کے ہمراہ بابائے قوم گاندھی جی کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے راج گھاٹ کی جانب ایک کھلی گاڑی میںرواںدواں تھیں۔ رنگ روڈ پر ایک طرف اچانک متعدد خواتین کو اپنے کپڑے کو سنبھالتے ہوئے کھڑی ہوتی دیکھ کر چونکتے ہوئے انھوں نے اپنے ہائی کمشنر سے پوچھا کہ یہ خواتین کیا کررہی ہیں؟ کیا یہ کھڑے ہوکر ہمارا خیرمقدم کر رہی ہیں؟ اس پر انھیںجواب ملا کہ ’’دے آر ایزنگ آؤٹ‘‘۔ یعنی وہ حاجت سے فراغت حاصل کررہی ہیں اور ہماری گاڑی کو دیکھ کر اپنے جسم کا پردہ کرتے ہوئے کھڑی ہوگئی ہیں۔اس پر ملکہ برطانیہ متحیر رہ گئیں اور پھر انھوںنے اسی روز اس وقت کے وزیر اعظم اندر کمار گجرال سے ملاقات کے دوران کھلے آسمان کے نیچے خواتین کے ذریعہ حاجت سے فراغت کا ذکر کرتے ہوئے مذاقا ً کہا کہ آپ تو کبھی یہاںکے سٹی فادر ( نئی دہلی میونسپل کمیٹی کے کبھی( 1959تا 1964) نائب صدر) رہ چکے ہیں اور اب وزیر اعظم ہند (1997 تا 1998) ہیں اور کیا خواتین کھلے آسمان کے نیچے یہاں اسی طرح حاجت سے فراغت کرتی ہیں؟
ان دنوں ملکہ برطانیہ کا وزیر اعظم ہند سے طنزاً یہ سوال میڈیا میںموضوع بحث بنتا تھا ۔ مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک میںبیت الخلاء کی تعداد بھلے ہی بڑھ گئی ہو لیکن مجموعی صورت حال میںبہت زیادہ تبدیلی اب بھی واقع نہیںہوئی ہے۔ تبھی تو تین برس قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے کھلے آسمان کے نیچے رفع حاجت کے خلاف تحریک شروع کی اور تب پورے ملک میںبیت الخلاء بنانے کا سلسلہ شروع ہوگیا یہ تحریک سوچھ بھارت مشن کا جز تھی۔ گزشتہ 18 ستمبر کو نئی دہلی کے انڈیا ہیبی ٹیٹ سینٹر میںیونیسیف اور حکومت ہند کی پینے کے پانی اور سینی ٹیشن کے مشن کے تحت 15 ستمبر تا 2 اکتوبر 2017 ’سوچھتا ہی سیوا‘ مہم پر منعقد نیشنل میڈیا کنسلٹیشن میںشرکت کے دوران یہ احساس ہوا کہ پورے مقصد کو حاصل کرنے میںابھی مزید وقت لگے گا اور منزل ابھی دور ہے۔ یہ بات میڈیا سے اس کنسلٹیشن کے پروگرام میںکھل کر سامنے آئی کہ مسئلہ صرف بیت الخلاء کی فراہمی کا ہی نہیں بلکہ رویہ میںتبدیلی اور لوگوںکو اس تحریک اور مشن سے جوڑنے کا بھی ہے۔
واش یونیسیف کے چیف نکولاس اوسبرٹ نے یونیسیف کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ سوچھ بھارت مشن کے ابتدائی دنوں میں2015 میں واش یونیسیف نے تحقیق کی تھی کہ ان دنوںآدھے بلین افراد رفع حاجت کھلے آسمان کے نیچے کر رہے تھے جس کی وجہ کر ہائیجین اور سنینی ٹیشن کی کمی ہوتی ہے اور انفیکشن ہوتا ہے جس سے صرف دست ہی نہیں ہوتا ہے بلکہ یہ کیڑوں اور دوسرے پاراسائٹس کو بھی جنم دیتا ہے۔ ان سب کا شکار غربت میںرہ رہی آبادی خصوصاً بچے ہوتے ہیں۔
یونیسیف کے ابھی حال میں 12 ریاستوں میں دس ہزار گھروں میں کرائے گئے سروے کی مانیں تو اس کے مطابق 85 فیصد افراد رفع حاجت کے لیے بیت الخلاء کا استعمال کرتے ہیں جبکہ سوچھ بھارت مشن کے سکریٹری پرمیشورم ایّر اور متعلقہ وزارت میںپروجیکٹ ڈائریکٹر اکشے راوت کے مطابق سرکاری اعداد وشمار کی روشنی میںبیت الخلاء میں رفع حاجت کرنے والے فی الوقت 91 فیصد افراد ہیں۔ حکومت کے یہ اعداد وشمار بھی سیمپل سروے پر مبنی ہیں۔ ڈاٹا میں اس فرق کو لے کر سوال و جواب سیشن میںیہ ایشو چھایا رہا اور سوال کھڑا ہوگیا کہ بیت الخلاء کی بڑھوتری اور ان میںرفع حاجت کرنے کے معاملے میںیونیسیف کے سروے کو مانا جائے یا حکومت ہند کے سروے کو ؟
اس وقت بھی ایک دوسرا سوال موضوع بحث بن گیاجب سوچھ بھارت مشن کے سکریٹری پرمیشورم ایّر سے ’چوتھی دنیا‘ نے یہ جاننا چاہا کہ کیا اقلیتی آبادی والے علاقوں ، جہاں گندگی کا عموماً انبار ہوتا ہے، میں سوچھ بھات مشن پہنچا ہے؟ جواب ملا کہ مشن ہر علاقے کے لیے ہے اور اسے تمام جگہوں پر بلا تفریق پہنچنا ہے۔ متعلقہ ذمہ دار نے اس سوال پر خموشی اختیار کر لی کہ آخر قومی راجدھانی کے معروف اقلیتی آبادی والے اوکھلا جامعہ نگر میں سوچھ بھارت مشن کی توجہ کیوںنہیں گئی؟ عیاںرہے کہ یہ علاقہ سرکار کی اقلیتی آبادی والے علاقوںمیں عدم توجہی کی واضح مثال ہے۔ اوکھلا کے ابوالفضل انکلیو میںالشفاء ملٹی اسپیشلٹی ہاسپٹل کے سامنے کوڑااور گندگی کے انبار کو کوئی بھی کبھی جاکر دیکھ سکتا ہے۔ مقامی ایم ایل اے اور میونسپل کونسلر کی توجہ اس جانب مبذول کرائی گئی تب بھی کچھ حاصل نہیںہوا۔الشفاء کے سامنے سڑک سے گزرنا کسی بھی شخص کے لیے محال ہوجاتا ہے جب وہاں پر موجود گندگی کی بدبو اسے ناک پر رومال رکھنے پر مجبور کرتی ہے۔
سوچھ بھارت مشن کے تحت ’سوچھتا ہی سیوا‘ مہم یقینا ایک بروقت قدم ہے۔ حکومت کی جہاںیہ ذمہ داری ہے کہ وہ بلاتفریق مذہب و ملت اور کمیونٹی سوچھتا یاصفائی کی تحریک کوملک کے تمام علاقوں میںلے جائے،وہیںمتعلقہ علاقوں کے باشندوں کا بھی یہ فریضہ ہے کہ وہ اپنے علاقوںکو صاف و شفاف رکھنے میںآگے آگے رہیں۔ صفائی ستھرائی کا مشن تبھی کامیاب ہوسکتا ہے جب عوام کی اس میںبھرپور شرکت ہو۔ مذکورہ مہم کا نام ’سوچھتا ہی سیوا‘ بہت ہی موزوں ہے اور اس سے خدمت کا جو جذبہ منسلک ہے، وہ بڑا اہم ہے۔ جہاں تک جامعہ نگر یا دوسرے اقلیتی آبادی والے علاقوںمیںگندگی کا معاملہ ہے،یہاں بیشتر مسلمان ہی ہیں۔ اسلام میںصفائی کو آدھا ایمان بھی کہا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے بھی صفائی ستھرائی کے لیے صرف حکومت پر انحصار سے کچھ نہیں ہوگا،متعلقہ علاقوں کے باشندوںکو بھی آگے آنا پڑے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *