سابقہ حکومتوں کے خلاف وہائٹ پیپر اور یوگی حکومت پر اچیومنٹ پیپر

اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے سرکار کے چھ مہینے مکمل ہونے پر 18 اور 19 ستمبر کو دو دن کا پروگرام رکھا۔ پہلے دن انھوں نے سابقہ سرکاروں کا مذمت نامہ جاری کیا، اسے انھوں نے وہائٹ پیپر کہا۔ دوسرے دن انھوں نے اپنی سرکار کا توصیف نامہ جاری کیا، جسے انھوں نے حصولیابی نامہ نام دیا۔ سابقہ سرکار کی مذمت سے شروع ہوا انعقاد یوگی سرکار کے چھ مہینے کی سرگرمیوں کی پیش کش سے قبل پیش بندی کے طور پر سامنے آیا۔
عجیب و غریب انداز
ریاست کے لوگوں کو وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے جس طرح کی صاف گوئی کی امید تھی، وہ پوری نہیں ہوئی۔ چھ ماہ قبل کی یوگی کی جو شبیہ رہی ہے، اس سے بالکل الگ انھوں نے عام چلتے پھرتے لیڈر کی طرح اپنا کام بتانے کے بجائے دوسروںکی بخیہ ادھیڑنے سے پروگرام کی شروعات کی۔ یوگی ٹھیک سے بخیہ بھی نہیں ادھیڑ پائے۔ گھوٹالے اور بدعنوانی کرنے والی سابقہ سرکاروں کے سربراہوں تک کا نام نہیں لیا۔ یہاںتک کہ پارٹی کا بھی نام نہیںلیا۔ یوگی کا وہائٹ پیپر سابقہ سرکاروںکی شفافیت کے ساتھ تنقید بھی نہیںکر پایا۔ وہ نوکر شاہوں کے سینسر بورڈ سے ناکارہ ہوکر باہر نکلا۔ وہائٹ پیپر کی جگہ وہ سنکوچ پیپر ہوکر رہ گیا۔
اس سے تو اچھا ہوتا کہ یوگی آدتیہ ناتھ سچائی اور صاف گوئی سے عوام کے سامنے پہلے اپنی سرکار کی حصولیابیاں اور پروگرام پیش کرتے،پھر وہ سابقہ سرکاروں کی مذمت کرنے کے بعد ان کی بدعنوانیوںکے خلاف کی گئی ٹھوس کارروائیوں کا بیورا رکھتے۔ یہ قابل قدر ہوتا۔ اقتدار کے گلیارے کی سرگرمیوںپر نظر رکھنے والے کہتے ہیں کہ سابقہ سرکاروں کی بدعنوانی کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی ہوئی ہی نہیں تو سرکار اس کا بیورا کیا رکھے؟ وزیر اعلیٰ جب چاپلوس نوکرشاہوں اور موقع پرست سپہ سالاروں کے چنگل میں پھنس جائے گاتو ایساہی ہوگا۔ نوکر شاہ اسے بھرمائے رکھے گا اور پانچ سال بعد عوام اس بھرماہٹ کو دور کردیںگے۔ ایسا ہی اکھلیش یادو کے ساتھ ہوا، ایسا ہی مایاوتی کے ساتھ ہوا اور ایسا ہی یوگی کے ساتھ ہونے کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔
بی جے پی سرکار کی چھ مہینے کی حصولیابیاں گنانے میںجس طرح اعداد وشمار کی بازیگری دکھائی گئی،ا س کا ہم جائزہ لیںگے۔ گنا کسانوں کی بقایا رقم کی ادائیگی کی جو سرکاری تصویر پیش کی گئی ، اس کے برعکس ہم آپ کو زمینی اصلیت دکھائیں گے۔ ایک لاکھ کنٹل آلو کی خرید کے یوگی سرکار کے اعلان پر کیا کارروائی ہوئی؟ہم اس کی بھی پرتیں کھولیں گے۔ انکاؤنٹرکے اعداد وشمار پیش کرکے لاء اینڈ آرڈر درست کرنے کے دعوے کتنے کھوکھلے ہیں، ا س کا بھی ہم جائزہ لیں گے اور یہ بھی دیکھیں گے کہ یوگی سرکار راجدھانی لکھنؤ سمیت ریاست کی تمام سڑکوں پر گڑھے تو نہیںبھرسکی لیکن سرکار خود کتنے گڑھوں سے بھر گئی۔ وزیر اعلیٰ جب اپنے ہی نائب وزیر اعلیٰ (جو سڑکوںکے گڑھے بھرنے کے لیے ذمہ دار تھے) کا گڑھا نہیں بھر پارہے تو سڑکوں کے گڑھے کیسے بھر پائیں گے۔ خیر پہلے ہم سابقہ سرکاروں کے سیاہ کارناموں پر جاری وہائٹ پیپر کا مشاہدہ کرتے چلیں۔

 

 

 

 

 

وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے 18 ستمبرکو ’’وہائٹ پیپر2017-‘‘ جاری کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے 15 سال کے دوران اقتدار میں رہی سرکاروں کی مدت کار میں یو پی پوری طرح بد انتظامی میںرہا۔ ان کا واضح اشارہ ملائم- مایا وتی- اکھیلش کے دور حکومت کی طرف تھا۔ صاف طور پر تینوں کی مدت کار کے سربراہ کا نام لینے سے جو سرکار جھجکتی ہے،وہ ان کے کارناموں پر کارروائی کیا کرے گی، یہ سمجھا جاسکتا ہے۔ یوگی سرکار نے وہائٹ پیپر کے ذریعہ اتنا ہی کہا کہ پچھلی سرکاروں نے عوام کے تئیں غیر معمولی بے حسی دکھاتے ہوئے غیر سماجی عناصر اور بدعنوانیوں کی سرپرستی کی اور ایک کے بعد ایک گھوٹالے کیے۔ ان گھوٹالوں پر یوگی سرکار نے کیا کارروائی کی، یہ یوگی نے وہائٹ پیپر میںنہیں بتایا۔
سی ایم یوگی کا سابقہ حکومتوں پر حملہ
وزیر اعلیٰ نے اتنا ہی کہا کہ پچھلے 15 سال میں اترپردیش کے پبلک سیکٹر کے انڈر ٹیکنگ (پی ایس یو) بدحال ہو گئے۔ پی ایس یو کا سال 2011-12 کانقصان 6489.58 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2015-16 میں17789.91 کروڑ روپے ہوگیا۔ ریاست کے پی ایس یو کامجموعی نقصان 29380.10 کروڑ روپے تھا، وہ 2015-16 میںبڑھ کر75950.27 کروڑ روپے ہوگیا۔ پبلک انڈر ٹیکنگ کے چلانے میںمالی بے ضابطگی اور گھوٹالوں کے سبب ایسا ہوا۔سابقہ سرکاروں کی ان غیر ذمہ دارانہ حرکتوں کے سبب ریاست کی مالی حالت ڈانوا ڈول ہوگئی۔ سرکاروں نے ٹیکس ریونیو بڑھانے کے کوئی اقدامات نہیںاٹھائے جبکہ اناپ شناپ ڈھنگ سے ریونیو خرچ بڑھا دیا۔
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب ریاست میںبی جے پی کی سرکار آئی تو اسے سرکاری خزانہ خالی ملا۔ سرکار پر قرض کا بوجھ بہت زیادہ تھا۔ 31 مارچ 2007 کو سرکار پر قرض کا بوجھ 1,34,915کروڑ روپے تھا جو 31 مارچ 2017 تک بڑھ کر 3,74,775 کروڑ روپے ہو گیا۔ وزیر اعلیٰ نے سابقہ مرکزی سرکاروں کے درمیان بدحال لاء اینڈ آرڈر سے لے کر کسانوں کی تباہی، چینی ملوں کی بربادی، تعمیراتی عامہ محکمہ (پی ڈبلیو ڈی) کے بیجا طریق کار ،سرکاری نوکریوں میںامتیاز سمیت تمام محکموں کے افراتفری کے کام کاج کا ذکر کیا اور کہا کہ 19 مارچ 2017 کو اقتدار سنبھالنے کے ساتھ ہی انھیںافراتفری، غنڈہ گردی، جرائم ، بدعنوانی اور مالی بدنظمی وراثت میںملی۔
خراب لاء اینڈ آرڈر کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے جون 2016 میںمتھرا کے جواہر باغ قتل کیس کا حوالہ دیالیکن متھرا کے جس ضلع افسر راجیش کمار کی غیر ذمہ داری کے سبب جواہر باغ قتل کیس رونما ہوا، اس افسر کو انھوں نے ایس پی لیڈر رام گوپال یادو کی سفارش پر وزیر اعظم نریندر مودی کی فلیگ شپ اسکیم ’کوشل وکاس مشن‘ کا ڈائریکٹر کیوںبنا دیا؟ اس پریوگی نے کچھ نہیںکہا۔
وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے سابقہ سرکاروں کی کسان مخالف پالیسیوں کے سبب کسانوں کو ان کی فصل کی صحیح قیمت نہ ملنے اور چینی ملوں کے ذریعہ کسانوں کے بقایا کی ادائیگی نہ کرنے کامدعا بھی اٹھایا۔ یوگی نے پرائیویٹائزیشن کے نام پر ریاست کی چینی ملوں کے کوڑیوںکے بھاؤ بیچے جانے کا ذکر کیا اور اس میںبے ضابطگی برتے جانے کی بھی بات کہی لیکن مایاوتی کا نام نہیںلیا۔ یوگی نے وہائٹ پیپر میںماضی کی حکومت میںگیہوں کی خریداری میںدلالی اور آلو کسانوںکی بدحالی کا مسئلہ بھی اٹھایا اور کہا کہ مجبوری کی وجہ سے کسانوں کو اپنی فصل سڑکوں پر پھینک دینی پڑی اور کسانوں نے آلو کی کھیتی چھوڑ دی۔ یوگی نے اتر پردیش لوک سیوا آیوگ سمیت دیگر اداروں میں تعیناتی سے لے کر بھرتی تک ذات پات اور بدعنوانی کا ذکر کیا، لیکن کہیںبھی اس کے لیے قصوروار سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کانام نہیںلیا۔ یوگی کو ماضی کی حکومت میںاسمبلی اسپیکر ماتا پرساد پانڈے کے ذریعہ اسمبلی سکریٹریٹ میںکی گئی ہزاروں غیر قانونی تقرریوں کا سنگین گھوٹالہ یاد نہیںرہا۔
یوگی کو اس دور حکومت کی سڑک سے لے کر آب پاشی تک کی بدحالی یاد رہی لیکن سابقہ سرکار کے وزیر شیو پال یادو کا نام یاد نہیںرہا۔ لکھنؤ میٹرو ریل سے لے کر آگرہ لکھنؤ ایکسپریس وے ، جے پرکاش نارائن انٹرنیشنل ریسرچ سینٹر،گومتی ریور فرنٹ، انٹر نیشنل کرکٹ اسٹیڈیم،کینسر انسٹی ٹیوٹ، ایس جی پی جی آئی ٹراما سینٹر جیسی آدھی ادھوری اسکیموں کا انھوں نے ذکر کیا لیکن اکھلیش یادو کا نام نہیںلیا۔ سابقہ حکومت میںعلاج و ہیلتھ سروس کے چرمرا جانے کی بات کہی لیکن اپنے زمانے میںہوئے گورکھپور جیسے حادثے کانام تک نہیںلیا۔ گورکھپور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج اسپتال میں 60 سے زیادہ بچوں اور فرخ آباد کے لوہیا اسپتال میں50 بچوںکی آکسیجن کی کمی کے سبب ہوئی موت، ہیلتھ کے شعبے میںیوگی سرکار کی پہلی ششماہی حصولیابی کے طور پر درج ہوچکی ہے۔ وہائٹ پیپر میںیوگی نے اکھلیش کا نام لیے بغیر کہا کہ ماضی کی حکومت میںاقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے کچھ نہیںکیا گیا۔ اقلیت کی بہبود کے لیے سال 2012-13 سے سال 2016-17 تک بجٹ میںمنظور 13,804 کروڑ روپے بھی خرچ نہیں کیے جاسکے۔ سرکار صرف اقلیتوں کی بہبود کا ڈھول بجاتی رہی۔

 

 

 

 

وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے وہائٹ پیپر میں سال 2007-08 سے سال 2009-10 کے درمیان لکھنؤ اور نوئیڈا میں بنائے گئے اسمارکوں کی تعمیر میں ہزاروں کروڑ روپے کے گھوٹالے کی بات تو کہی لیکن کہیںبھی مایا وتی کا نام نہیں لیا۔ یہاںتک کہ اسمارک گھوٹالے کا حوالہ دینے کے لیے یوگی کو آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کا سہارا لینا پڑا۔ انھوں نے کیگ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسمارک پروجیکٹ کی اصل مالی منظوری 944 کروڑ روپے تھی لیکن اس پر چار ہزار 558 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔ مایاوتی کی حکومت میں اسمارکوں کی تعمیر پر منظور رقم سے 483 فیصد زیادہ خرچ کیے جانے پر سابق اکھلیش سرکار نے کوئی کارروائی نہیں کی اور نہ یوگی نے اپنی حکومت میںکسی ٹھوس قانونی کارروائی کا امکان جتایا۔
یوگی سرکار کا اچیو منٹ پیپر
یوگی سرکار کے چھ مہینے کے دو وزہ انعقاد کے اگلے دن یعنی 19 ستمبر کو وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنی کابینہ کے ساتھیوں کے ساتھ سرکار کے چھ مہینے کے کیے دھرے کا حساب پیش کیا۔ اس حساب میںبھی یوگی نے کسانوں کی قرض معافی اور لاء اینڈ آرڈر کے مسائل پر نام لیے بغیر اکھلیش سرکار پر نشانہ سادھا۔ یوگی نے ریاست میں لاء اینڈ آرڈر میںسدھار کا دعویٰ کیا اور چھ مہینے میںہوئی 430 مڈ بھیڑوں میں17 خونخوار مجرموںکے مارے جانے کے ضمن میں اپنے دعوے میںدم بھرا۔ یوگی نے 868 انعام شدہ بدمعاشوں کو ملا کر کل 1106 مجرموں کی گرفتاری کا پولیسیا آنکڑہ بھی پیش کیا۔
سب جانتے ہیں کہ ریاست میںبی جے پی کی سرکار بننے کے فوراً بعد شروعاتی دنوںمیںپولیسیا سختی اور گشتی کے سرگرمی دکھائی دی۔ اینٹی رومیو اسکوائڈ بھی دکھائی دیا۔ لیکن یہ جتنی تیزی سے دکھائی دیا، اتنی ہی تیزی سے غائب بھی ہوگیا۔ سرکار کی چالاکی دیکھئے کہ جرم کے اعداد وشمار میںچوری کی وارداتوںکا ذکر نہیں کرتی۔ یوگی سرکار جب محض دو مہینے کی ہوئی تھی، تب ریاست کے پارلیمانی امور کے وزیر سریش کھنہ نے اسمبلی میںسرکاری اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ سال 2017 کے پہلے چار مہینوں میں یو پی میں 729 قتل، 803 عصمت دری، 60 ڈاکہ زنی،799 لوٹ اور 2682اغوا کے واقعات ہوئے۔
جرائم کے ان اعداد و شمار میں یوگی سرکار کی حصہ داری 60 دنوںکی تھی۔ لیکن یوگی حکومت کے شروعاتی سو دن کا حساب کتاب بھی ہم سامنے رکھیں تو جرائم کا گراف کہیں نیچے جاتا دکھائی نہیں دیتا۔ قتل، عصمت دری، فرقہ وارانہ تشدد اور جنسی تشدد کے واقعات خوب ہوئے۔ یہاںتک کہ نوکرشاہوںاور سپہ سالاروں نے یوگی کو ایک سیکورٹی ایڈوائزر رکھنے تک کی صلاح دے ڈالی۔ خیر یوگی سرکار کے پہلے سو دن میں جرائم کے کل 22,297 معاملے درج ہوئے۔ سابقہ اکھلیش سرکار کے شروعاتی سو دن میںجرائم کے 13062 معاملے درج ہوئے تھے۔ آپ یاد کریںکہ جرائم کا گراف بڑھتے دیکھ کر وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے داخلہ محکمے کے پرنسپل سکریٹری سے لے کر ڈی جی پی تک کو سخت ہدایات دی تھیں۔
یوگی سرکار کے پہلے 90 دن میںڈاکہ زنی کے معاملوں میں 13.85 فیصد اضافہ ہوا، لوٹ کے واقعات 20.46 فیصد بڑھے، پھروتی کے لیے اغوا کی وارداتوں میں44.44 فیصد کا اضافہ ہوا اور عصمت دری کے معاملوںمیں 40.83فیصدکا اضافہ ہوا۔ شروعاتی تین مہینوں میںاینٹی رومیو اسکوائڈ کی خوب شوشے بازے چلی۔ لیکن چھیڑ چھاڑ کے واقعات کوروکنے کے لیے بنایا گیا پولیس کا یہ دستہ تنازعو ں میں آگیا اور اس کے بعد یہ ڈھیلا پڑگیا۔ سرکار نے جرائم کے اعداد وشمار میںچوری اور رہزنی کی وارداتوں کو شمار نہیںکیا جبکہ چوری اور رہزنی کے واقعات راجدھانی لکھنؤ سمیت ریاست کے سبھی شہری علاقوں میں بہت تیزی سے بڑھے ہیں۔ چوری کا تو یہ عالم ہے کہ گھر کا تالہ دو دن کے لیے بند تو چوری یقینی۔ اس کی روک تھام میںپولیس فیل ہے کیونکہ چوروں کے ساتھ پولیس کا میل ہے۔

 

 

 

 

 

 

کسانوں کی ہی ز مینیںچھینی گئیں
یوگی سرکار نے اپنی کامیابیوںمیںزمین مافیا کے خلاف چلائی گئی مہم کو بھی شامل کیا اور دعویٰ کیا کہ اینٹی زمین مافیا ٹاسک فورس نے ریاست بھر کی 35 کروڑ کی املاک ضبط کی۔ سرکار نے کہا کہ زمین مافیاؤں کے قبضہ سے 8038.38 ہیکٹیئر زمین آزاد کرائی گئی۔ اس سرکاری دعوے کی متوازی حقیقت یہ ہے کہ زمین مافیاؤں کے قبضے سے زمین آزاد کرانے کا ٹارگیٹ انتظامیہ نے کسانوں اور گرام سماج کی زمینیں چھین کر اسے زمین مافیاؤں کے خلاف کی گئی کارروائی بتایا اورسرکار کو جھانسے میںرکھا۔ لکھنؤ کے نزدیک ہردوئی ضلع کے کسمنڈی (گوپا مئو) گاؤں کی نایاب مثال سامنے ہے۔ تحصیلدار او رقانون گو نے زمین مافیاؤں سے سانٹھ گانٹھ کرکے اس گاؤں کے درجنوں کسانوں کی کھیتی کی زمینوں کو جنگل کی زمین پر قبضہ بتادیا او کسانوںکو ان زمینوںسے بے دخل کردیا ۔ جنگل کی زمین پر قبضہ کرنے کا مقدمہ بھی کسانوںپر لکھوادیا گیا او رکسان بے دخل ہوکر ہردوئی ضلع انتظامیہ کے افسروں کے دروازے دروازے بھٹک رہے ہیں، ہردوئی کے کسمنڈی گاؤں کے وہ چھوٹے کسان کیا زمین مافیا ہیں؟ اراجک سرکار کا کو ئی بھی نمائندہ اس سوال کا جواب نہیںدے رہا۔ خبر ملنے پر ’چوتھی دنیا‘ نے ہردوئی کی ضلع افسر اور وہاںکے نائب ضلع افسر دونوںکو ماضی میںہی قانون گو کی حرکتوں کے بارے میں مطلع کیا تھالیکن ڈی ایم اور ایس ڈی ایم کسی پر کوئی فرقی نہیںپڑا اور کسانوںکو ان کی زمینوںسے بے دخل کردیا گیا۔ ایسے واقعات پوری ریاست میںہوئے اسی طرح زمین مافیاؤںکے قبضے سے ز مینیںآزاد کرائی گئیں۔
قابل ذکر ہے کہ پولیس میں درج شکایتوں اور ریونیو ریکارڈز کے مطابق یوپی میںایک لاکھ ہیکٹیئر سے زیادہ سرکاری زمین پر ناجائز قبضہ ہے۔ ریاست کے ہر تھانے میںکم سے کم 50 زمین مافیاؤں کے نام درج ہیں۔ ان مافیاؤں سے زمین بحال کرانے کی مہم فرضی سیاسی جملوں سے پوری نہیںہوسکتی۔متھرا کے جواہر باغ کی زمین اور سابقہ سرکار کے و زیر گایتری پرجا پتی اور شاردا پرتاپ شکلا کے قبضے سے کچھ زمینیں چھڑانے کے علاوہ یوگی سرکار نے زمین مافیاؤں کے قبضے سے زمین چھڑانے کا کوئی شناخت میںرکھنے لائق کام نہیں کیا ہے۔ ریونیو کی دستاویز بتاتی ہیںکہ صرف راجدھانی لکھنؤ میںہی قریب پانچ ہزار ہیکٹیئر سرکاری زمین پر زمین مافیاؤںکا قبضہ ہے۔ سرکار انھیںجانتی ہے لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیںکرتی۔
قرض معافی یا کسانوںکے ساتھ مذاق
وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کسانوں کی قرض معافی کو ریاستی سرکار کی بڑی حصولیابی کے طور پر پیش کیا ۔ یوگی نے کہا کہ سرکار نے 86 لاکھ کسانوں کا فصلی قرض معاف کیا۔ کسانوں کا قرض معاف ہوا اور انھیںقرض معافی کے سرٹیفکٹ بھی بانٹ دیے گئے۔ آپ یاد کریں کہ یوگی سرکار نے ایک لاکھ روپے تک کا قرض معاف کرنے کا اعلان کیا تھالیکن زمینی حقیقت کیا ہے؟ قرض معافی کے تحت کسانوںکے ایک پیسہ، 9 پیسہ، 18 پیسہ، ایک روپیہ، 20 روپے جیسی چھوٹی رقم کے قرض معاف ہوئے۔ اس طرح کی قرض معافی سے یوگی سرکار کی کافی کرکری ہوئی۔ اس تاریخی قرض معافی کے سرٹیفکٹ بھی کسانوں کو دے دیے گئے۔ سوشل میڈیا پر ایسے مضحکہ خیز سرٹیفکٹ بڑے پیمانے پر دکھائی دینے لگے تب آناً فاناً یوگی سرکار نے ایسے سرٹیفکٹ دیے جانے کو روکا اور حکم جاری کیا کہ دس ہزار سے کم کی قرض معافی کا سرٹیفکٹ جاری نہیںکیا جائے۔
اس نایاب قرض معافی پر طنز کرنے کا اپوزیشن کو موقع مل گیا۔ سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے فوراً ہی یوگی سرکار پر نشانہ سادھا۔ اکھلیش نے متھرا کی گوور دھن تحصیل کے ایک کسان کا قرض معافی سرٹیفکٹ ٹویٹر پر پوسٹ کردیا،جس میںقرض معافی کے تحت مذکورہ کسان کے کھاتے میںایک پیسہ کریڈٹ کیے جانے کی بات لکھی گئی تھی ۔ اکھلیش نے اپنے ٹویٹ میںلکھا، ’بھول چکے جو اپنا سنکلپ پتر، ’شویت پتر‘تو ان کا بہانہ ہے۔‘چھوٹے کسانوں کی قرض معافی کے لیے 36 ہزار کروڑ روپے کاانتظام کرنے کا دعویٰ کرنے والی یوگی سرکار نے اب تک کسانوں کا ایک پیسہ، ایک روپیہ اور دس روپے سے لے کر ہزار روپے تک کا قرض معاف کیا ہے۔ سرکار کے اس رویے سے غریب کسانوں میںغصہ ہے۔ قرض کے بوجھ سے دبے لاکھوں کسان خود کو ٹھگا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔
یوپی میں آلو کی سپورٹ پرائس کا اعلان
اترپردیش میں پہلی بار آلو کی سپورٹ پرائس کا اعلان ہوا۔ اس کا کریڈٹ یقینی طور پر یوگی سرکار کو جاتا ہے ۔ سرکار نے 487 روپے کنٹل کی شرح سے ایک لاکھ میٹرک ٹن آلو خریدنے کا ہدف طے کیا۔ یہ طے ہوا کہ آلو کی خریدمرکز کے ادارے نیفیڈ، یوپی کے ادارے پی سی ایف، یوپی ایگرو اور نیفیڈ کے ذریعہ ہوگی۔ کیبنٹ وزیر شری کانت شرما اور اور اس وقت کے چیف سکریٹری راہل بھٹناگر نے بڑے جوش سے کہا کہ ان ادارو ںکے ذریعہ کسانوں کا فیئر ایوریج کوالٹی (ایف اے کیو) آلو خریدا جائے گا، جسے ریاست کے 1708 کولڈ اسٹوریج میں رکھے جانے کا بندوبست کیا جائے گا، جن میں 120 لاکھ میٹرک ٹن آلو کا ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے۔
شرما نے کہا تھاکہ یوگی سرکار کا مقصد آلو پیدا کرنے والوں کو کافی قمیت دینا ہے۔ لیکن سرکار کا دعویٰ ہوا ہوائی ہی رہ گیا۔ کسانوں سے ایک لاکھ میٹرک ٹن آلو خریدنے کا منصوبہ پوری طرح سے فیل ہوگیا۔ سرکار اس کا ایک فیصد آلو بھی نہیںخرید سکی۔ سرکار بمشکل 12 ہزار کنٹل آلو خرید پائی۔ سرکار کے ذریعہ آلو کے سائز کا معیار 33 ایم ایم سے 55 ایم ایم کے بیچ طے کرنے کے سبب آلو کی خرید نہیںہوسکی۔ سو کنٹل آلو میںتقریباً 20 کنٹل آلو ہی اس معیار کے تحت پاس ہوا۔ آلو بیچنے آئے کسان کو سو میں سے 80 کنٹل آلو واپس لے جانا پڑاجو کسانوں کے لیے موت ثابت ہوا۔ لہٰذا کسانوں نے اسے کوڑیوں کے دام وہیںبیچ ڈالا یا سڑک پرپھینک کر واپس لوٹ گئے۔
گنا کسانوں کا بقایا بھی باقی
چھ مہینے کی کامیابیاں گناتے ہوئے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہہ دیا کہ کسانوں کے گنا بقایا کی 95 فیصد ادائیگی کرائی جاچکی ہے۔ یوگی نے وزیر اعلیٰ بنتے ہی گناکسانوں کے بقایا کی ادائیگی کے لیے چینی ملوںکو سخت احکام جاری کیے تھے اور ادائیگی کے لیے دو مہینے کا وقت مقرر کردیا تھا۔ سرکار کبھی کہتی ہے کہ 85 فیصد ادائیگی ہوگئی تو کبھی 90 فیصد ادائیگی کی بات کہنے لگتی ہے۔ حصولیابیاں گناتے ہوئے تو یوگی نے 95 فیصد تک کی ادائیگی کی بات کہہ دی لیکن اصلیت یہی ہے کہ ادائیگی کی بڑا حصہ ابھی بھی باقی ہے۔
وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا دعویٰ بی جے پی کے ہی رکن پارلیمنٹ حکم سنگھ کے خط سے جھوٹا ثابت ہو جاتا ہے۔ کیرانہ کے رکن پارلیمنٹ اور بی جے پی کے سینئر لیڈر حکم سنگھ نے پارلیمنٹ میںیہ حقیقت پیش کی ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ سرکار کے بننے کے پانچ مہینے بعد بھی چینی ملوں نے کسانوںکے لگ بھگ دو ہزار کروڑ روپے کے بقایا کی ادائیگی نہیںکی۔ گنا کمشنر کے دفتر کی دستاویز بھی بتاتی ہیںکہ 22 اگست تک یوپی کی گنا ملوں نے 25,386.77 کروڑ روپے کے بقایا میں سے 23,442.94 کروڑ روپے کی ادائیگی کی تھی۔ اس بقایا کا ایک بڑا حصہ تین بڑے صنعتی گروپوں پر ہے۔ ان میں بجاج ہندوستان پر 779.3 کروڑ روپے ، یوکے مودی پر 390.93 کروڑ روپے اور سنبھاؤلی شوگرس لمٹیڈ پر 140.30 کروڑ روپے کا بقایا ہے۔
سال 2016-17 کے کھاتے میں شادی لال انٹرپرائزیز لمٹیڈ پر 70.12 کروڑ روپے ،موانہ شوگر ز پر 58.07کروڑ روپے ،رانا شوگرز پر 33.44 کروڑ روپے، گووند شوگر ملز پر 29.13کروڑروپے، نواب گنج شوگر ملز رپ 21.71 کروڑ روپے ،کنوریا شوگر مل پر 10.95 کروڑ روپے اور یدو شوگر مل پر 10.16 کروڑ روپے بقایا ہیں۔ ان میں 19 چینی ملیں سرکاری کنٹرول کی ہیں۔ ان میں بڑلا گروپ،ڈی سی ایم شری رام لمٹیڈ، دواری کیش شوگر انڈسٹریز،ڈالمیا بھرت شوگرز ،اتم شوگر، انڈین پوٹاش لمٹیڈ،دورلال چینی ورکس اور ویو گروپ نے کسانوں کے بقایا جات کی ادائیگی کردی ہے۔
مغربی اترپردیش کے کیرانہ سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ حکم سنگھ نے خط لکھ کر پارلیمنٹ میں گنا بقایا کا مسئلہ اٹھایا اور کہا کہ ہر مل مالک نے اترپردیش میں اربوں روپے کا فائدہ کمایا لیکن وہی صنعت کارکسانوں کی ادائیگی دبائے بیٹھے ہیں۔ حکم سنگھ نے کہا کہ گنا کسانوں کے بقایا کی ادائیگی چینی ملوں کی ترجیح پر نہیں ہے۔ یوگی سرکار نے تشکیل کے پندرہ دنوں کے اندر ہی گنا کسانوں کے بقایا جات کی مکمل ادائیگی کا دعویٰ کیا تھا لیکن ایسا نہیںہوا۔ گنا کسان اپنی سال بھر کی کمائی گنا ملوں میں جھونک دیتے ہیں لیکن اس کی واجب ادائیگی سے بھی محروم رہ جاتے ہیں۔ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ مغربی اترپردیش میںشاملی سب سے چھوٹا ضلع ہے، جہاں کی چینی ملوں پر 200 کروڑ روپے سے بھی زیادہ کی گنے کی ادائیگی باقی ہے۔
ریاست کے گنا وزیر سریش رانا نے تقریباً دو ماہ قل اسمبلی کو یہ جانکاری دی تھی کہ پیرائی سیشن 2016-17 کے تحت 14جولائی تک کل بقایا 25386.46 کروڑ روپے کے مطابق 22807.53کروڑ روپے کی ادائیگی ہوچکی ہے۔ وزیر نے کہا کہ ادائیگی کی کل رقم بقایا کی 89.84 فیصدی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ گنا پیرائی سیزن ختم ہونے کے ساتھ ہی اترپردیش کی چینی ملیں بند ہوگئیں لیکن گنا کسانوںکے بقایا کی ادائیگی نہیںہوئی۔ چینی ملوں پر یوپی کے گنا کسانوںکے 2755 کروڑ روپے ابھی بھی باقی ہیں۔
پوروانچل بیماری اور بندیل کھنڈ بھوک سے بدحال
اتر پردیش کاپوروا نچل بیماری سے دوچار ہے۔ گورکھپور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج اسپتال میں 60 سے زیادہ بچوںکی موت تو محض ایک مثال ہے۔ اس حادثے کے بعد بھی سیکٹروں بچوںکی موت ہوچکی ہے۔ بچوںکی افسوسناک موت کا یہ سلسلہ پچھلے طویل عرصہ سے چل رہا ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ جب گورکھپور کے رکن پارلیمنٹ تھے، تب اس مسئلے پر ان کی تلخی سڑک سے لے کر پارلیمنٹ تک ظاہرہوتی تھی لیکن آج جب وہ خود ریاست کے وزیر اعلیٰ ہیں تو بچاؤ کی مدرا میں ہیں۔ پوروانچل کی بیماری پر وہ سیاست تو کرتے رہے لیکن آج اقتدار میں آئے تو سوالوںسے کنّی کاٹ رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ ہونے کے باوجود یوگی آدتیہ ناتھ گورکھپور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج جیسے اہم اسپتال کو پی جی آئی کا درجہ دے کر اسے معیاری بنانے کی پہل کیوں نہیںکررہے ہیں۔ ا س میںان کی کیامجبوری ہے۔ اس کا غیر سیاسی جواب تو انھیںہی دینا پڑے گا۔ پوروانچل میںہر سال موت کا قہر بن کر آنے والی بیماری کو روکنے میںسرکار پہلے بھی نااہل تھی اور اب بھی نااہل ثابت ہورہی ہے۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے چھ مہینے کے اپنے کام کاج میںپوروانچل کی بیماری کا ذکر نہیںکیا۔ پوروانچل کی بیماری اور بندیل کھنڈ کی بھوک کا ذکر کرنے کے بجائے یوگی یہاں کی بدحال سڑکوں کا ہی روناروتے رہے۔ یوگی نے اسٹرکچرل ڈیولپمنٹ پر زور دیا،نقل مکانی کا چرچا کیا لیکن بندیل کھنڈ سے نقل مکانی جس بھوک کی وجہ سے ہورہی ہے، اس کے لیے فوری اقدامات اٹھانے پر کچھ نہیں کہا۔
اس بار بھی آپ نے دیکھا کہ کس طرح پورا پوروانچل خوفناک سیلاب سے دوچار رہا اور بندیل کھنڈ خشک سالی میں سوکھتا رہا۔ بندیل کھنڈ کے لوگوں کی قسمت ہی بن چکی ہے سال در سال خشک سالی، قحط اور بھکمری کو جھیلنا۔ سیاست بھی ان ہی بدحال لوگوں کے دم پر پھل پھول رہی ہے۔ بندیل کھنڈ کا سب سے بھیانک عذاب یہاں سے پانی کا ناپید ہونا ہے۔ سرکار اس کے لیے کوئی ٹھوس اقدام نہیں اٹھارہی ہے۔ وہ سڑک پر الجھی پڑی ہے۔ گاؤں میں ہینڈ پمپوں سے پانی نکلنا بند ہوگیا ہے ۔ کنویں خشک پڑے ہیں۔ گراؤنڈ پانی کی سطح پاتال میں چلی گئی ہے۔ بندیل کھنڈ کے 80 فیصد کسان قرض میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ روزی روٹی کی تلاش میں مزدوری کے لیے بھاگ چکے ہیں۔ گاؤں کے گاؤں خالی پڑے ہیں۔
مرکزی سرکا کی پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ تک یہ بتاچکی ہے کہ بندیل کھنڈ میں لوگوں کی اندھا دھند نقل مکانی ہورہی ہے۔ مرکز کی رپورٹ کہتی ہے کہ باندہ سے سات لاکھ 37 ہزار 920، چترکوٹ سے تین لاکھ 44 ہزار 920 ، مہوبہ سے دو لاکھ 97 ہزار 547، ہمیر پور سے چار لاکھ 17 ہزار 489، ارئی سے پانچ لاکھ 38 ہزار 147، جھانسی سے پانچ لاکھ 58 ہزار 377 اور للت پور سے تین لاکھ 81 ہزار 316 لوگ نقل مکانی کرچکے ہیں۔ مرکزی سرکار کی یہ رپورٹ دو سال پہلے کی ہے۔ اب یہ اعدادو شمار اور اوپربڑھ گئے ہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی بندیل کھنڈ آکر یہ کہہ چکے ہیں کہ پانچ پانچ ندیاں ہوتے ہوئے بھی بندیل کھنڈ کا پیاسا ہونا بدقسمتی ہے۔ وزیر اعظم نے یہ مانا کہ اصل مسئلہ پانی کے انتظام کی بدنظمی ہے۔ لیکن مسئلہ جاننے کے باوجود اسے سدھارا نہیں گیا۔ جمنا، چنبل،دھسان،بیتوا اور کین جیسی ندیوںکے ہوتے ہوئے لاکھوں لوگوں کا پانی کے لیے کوچ کرنا بدقسمتی ہے۔ یہ انتہائی بدبختی اس لیے بھی ہے کہ بندیل کھنڈ کے سات اضلاع جھانسی، ہمیر پور، باندہ، مہوبہ، جالون اور چترکوٹ کی سبھی 19 اسمبلی سیٹیں بی جے پی کے پاس ہیں۔ جس علاقے کے 19 ایم ایل ایز برسراقتدار پارٹی سے ہوں، اس علاقے کی بدحالی بدقسمتی بھی ہے اور شرمناک بھی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *