دہلی اردو اکادمی کا تعلیمی و ثقافتی مقابلہ شروع

group-pic
دہلی اردو اکادمی کے قمررئیس سلور جوبلی آڈیٹوریم میں مقابلہ اردو ڈراما برائے سیکنڈری و سینئر سیکنڈری زمرہ(نویں جماعت سے بارہویں جماعت تک) 17اکتوبرکومنعقد کیا گیا جس میں ڈاکٹر عشرت جمیل ، جناب محمد یاسین پنڈت اور ڈاکٹر ہادی سرمدی نے جج کی حیثیت سے شرکت کی۔
اردو اکادمی، دہلی دہلی کے اسکولوں کے طلباء و طالبات میں تعلیم کا ذوق و شوق پیدا کرنے اور ان میں مسابقت کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے ہر سال تعلیمی مقابلے منعقد کرتی ہے۔ ان مقابلوں میں اول، دوم اور سوم آنے والے طلباء و طالبات کو انعام دیتی ہے اور طلبا و طالبات کی حوصلہ افزائی کے لیے کنسولیشن انعام بھی دیتی ہے۔ ان مقابلوں میں تقریری ، فی البدیہہ تقریری، بیت بازی ، اردو ڈراما، غزل سرائی، کوئز( سوال و جواب) ، مضمون نویسی و خطوط نویسی مقابلے اور امنگ پینٹنگ مقابلہ شامل ہیں۔ یہ تعلیمی مقابلے دہلی کے پرائمری تا سینئر سیکنڈری اردو اسکولوں کے طلباء و طالبات کے درمیان منعقد ہوتے ہیں۔ یہ مقابلے 26؍اکتوبر 2017ء تک جاری رہیں گے جن کی تفصیل اکادمی کی ویب سائٹ پر دیکھی جاسکتی ہے۔
اس مقابلے میں16اسکولوں کے112طلبا و طالبات نے مختلف موضوعات پر ڈراما پیش کیا ۔جج صاحبان کے فیصلے کے مطابق ہمدرد پبلک اسکول، سنگم وہار کی ٹیم کو اول انعام کے لیے منتخب کیا گیا جب کہ دوسرے انعام کے لیے اینگلو عربک سینئر سیکنڈری اسکول اور کریسنٹ اسکول، موجپور کی ٹیموں کو منتخب کیا گیا اور تیسرے انعام کے لیے ڈاکٹر ذاکر حسین میموریل اسکول، جعفرآباد اور راجکیہ سروودیہ کنیا ودیالیہ نمبر2، جامع مسجد کی ٹیموں کو منتخب کیا گیا۔حوصلہ افزائی کے لیے گورنمنٹ گرلز سیکنڈری اسکول، لمبی گلی، حوض قاضی کی ٹیم کو منتخب کیا گیا۔ ان انعامات کے لیے طلبا و طالبات کی انفرادی کارکردگی کی بنیاد پر انھیں انفرادی انعام کے لئے 13طلبا و طالبات کو منتخب کیا جن میں اقصیٰ بند محمد اکرام خاں (کریسنٹ اسکول، موجپور)، بشریٰ بنت محمد قاسم، ذکریٰ خاں بنت محمد بابر خاں ،، زینب ایس قاضی بنت ایم۔ سلیم۔ ایس۔ قاضی (ہمدرد پبلک اسکول، سنگم وہار)،اریبہ ناز بنت محمد نزاکت و اقرا ملک بنت محمد شاہد ( حکیم اجمل خاں گرلز سینئر سیکنڈری اسکول، دریا گنج)، طوبیہ بنت محمد کمال الدین (گورنمنٹ سروودیہ کنیا ودیالیہ نور نگر، اوکھلا) رمشا بنت محمد عاقل و اقرا بنت محمد ذاکر( راجکیہ سروودیہ کنیا ودیالیہ نمبر2، جامع مسجد)، نورش بنت گلفام حسین و کشش بنت محمد علی (زینت محل گورنمنٹ سروودیہ کنیا ودیالیہ جعفرآباد) اور مدیحہ بنت محمد مظہر (گورنمنٹ گرلز سیکنڈری اسکول، لمبی گلی حوض قاضی) کے نام شامل ہیں۔
ڈراموں کے اختتام پرجج صاحبان نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے انھوں نے بچوں کے ذریعے پیش کیے گئے ڈراموں کی تعریف کی اور ڈراموں میں پوشیدہ باریک باریک نکات کو سامنے رکھ کر بچوں کو ان کی اہمیت سے واقف کرایا ساتھ ہی اپنے تجربات اور محسوسات کو بھی نہایت مدلل طریقے سے پیش کرکے بچوں کے اندر مسابقت کے میدان میں آگے بڑھنے کی خواہش کو بیدار کرنے کی سعی کو سراہا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *