شاملی :’قومی یکجہتی کانفرنس‘ کے سلسلے میں علماء کرام کی میٹنگ

ulam-e-karam-meeting
26اکتوبر کی مجوزہ قومی یکجہتی کانفرنس کو لیکر آج شاملی کی مسجد قریشیان میں ضلع کے اہم علماء اور تنظیم سے جڑے اہل علم اور ارباب مدار س کی بڑی میٹنگ ہوئی جس کی صدارت اشاعت الاسلام کے مہتمم مولانا برکت اللہ امینی نے کی۔
قومی یکجہتی کانفرنس میں مولانا سید ارشد مدنی اور آچاریہ پرمود کرشنن بطورمہمان خصوصی شرکت کریں گے۔ جمعیۃ کی اس کانفرنس میں 26اکتوبرکو بعدنماز مغرب قومی صدر مولانا سید ارشد مدنی خطاب کریں گے ،جبکہ اترپردیش کے دوسرے علماء کے خطابات بعد عصر ہی شروع ہوجائیں گے۔ابتدائی پاس کردہ تجویزمیں کہاگیا کہ ضلع میں بلاک سطح پر کمیٹیاں فوری طور پر تشکیل دیدی جائیں تاکہ اسی جمعہ سے کانفرنس کی تیاریاں ہنگامی سطح پر شروع ہوجائیں ۔ایک دوسری تجویز میں کہاگیا کہ کانفرنس کی تیاری کے لیے دیہی اماموں اور خطیبوں کو جوڑا جائے اور اس مدت میں ضلع کی ہر بڑی مسجد اور مدرسہ میں میٹنگیں کی جائیں تاکہ اُس دن قومی یکجہتی کانفرنس میں زیادہ سے زیادہ افراد کی شرکت کو یقینی بنایا جاسکے۔ تجویز میں پاس کیاگیا کہ کسی کو کوئی تعاون دینا ہو تو یہ تعاون بغیر کسی کوپن اور رسید کے ہی ہوگا ۔جمعیۃ کے ذمہ داران صدر وسکریٹری اور دوسرے عہدیداران از خود عوام تک رسائی کریں گے۔
اس موقع پر جمعیۃ کے ضلع جنرل سکریٹری مولانا محمد ایوب اور مصطفی ایڈووکیٹ نے کانفرنس کے اغراص و مقاصد پر روشنی ڈالی ۔مولانا برکت اللہ امینی نے کہا کانفرنس قومی یکجہتی کے عنوان سے ہورہی ہے جو دور حاضر کا سب سے اہم اور سب سے ترجیحی مسئلہ ہے۔انھوں نے کہا فتنہ جو لوگ بقائے باہمی کے تانے بانے کو بکھیرنے کے درپہ ہیں اور اس بُرے کام کو انجام دینے کے لیے کوشاں ہیں۔جمعیۃ علمائے ہند کا یہ پروگرام ایسی چیزوں پر قدغن لگانے کے لیے ہے۔مولانا سید بدر الہدیٰ قاسمی نے فون کے ذریعہ کہاکہ قومی یکجہتی غیر معمولی اہمیت کا حامل پروگرام ہوگا جس کی تیاری بڑے پیمانے پر ہونی چاہیے ،کیونکہ قومی یکجہتی کا جذبہ جس قوم میں ایک بار پیدا ہوجائے ،اس کو کوئی شکست سے دوچار کرنے والا نہیں ہے ۔مولانا سیدمظہر الہدی قاسمی نے جمعیۃ کی سابقہ قربانیوں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ جمعیۃ ہر آڑے وقت میں ملک وقوم اور ملت کے کام آتی رہی ہے۔مفتی محمد ناصر مفتاحی نے کہا آج ضرورت صبر وتحمل اور قناعت کی ہے ۔
مولانا رفاقت نے کہا بقائے باہمی ایک ایسا فلسفہ کہ دل کے اندر اترتے ہی انسان کی دنیا بدل جاتی ہے اور پھر انسان خود کی کم اور دوسری کی تکالیف کے ازالہ کی زیادہ سوچنے لگتا ہے۔ انھوں نے کہا یہ جذبہ آج قوم میں کم ہی پایاجارہا ہے ،حالانکہ ہادی عالم حضرت محمد ؐ نے اس جذبہ کی واضح ہدایات دی ہیں۔شہر کیرانہ صدر ماسٹر سمیع اللہ خان نے کہا آج قوم نامعلوم منزل کی طرف بڑھی جارہی ہے ،جمعیۃ کا بنیادی مقصد مختلف اقوام کے درمیان پیدا شدہ فاصلوں کو کم اور ختم کرنا ہے۔ اسی جذبہ کے ساتھ یہ کانفرنس کی جارہی ہے۔یہ میٹنگ مولانا محمد ہاشم کی دعاء پر اختتام پذیر ہوئی ۔
شرکاء میں مولانا مقبول،مولانا حامد،حافظ قمر الزماں ،قاری عبد الواجد،مرزا غالب،حافظ ساجد،جاوید احمد صدیقی،مفتی مہتاب ،مولانا جنید ندوی،حاجی قطب الدین،مولانا سلطان ،واصف امین،مولانا نزاکت،قاری بلال ،حافظ نور محمد،حافظ ہارون،مفتی اکرم،قاری وکیل،قاری محمد اکبر،ماسٹر عمران ،راشد صدیقی ،احتشام وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *