بی جے پی کی مقبولیت گھٹی ہے

گجرات الیکشن کی خبروںکے علاوہ ملک میںکوئی بہت زیادہ سیاسی ہلچل نہیں ہے۔گجرات میںراہل گاندھی کا ایسا استقبال کیا جارہا ہے ،جس کی امید ان کے سب سے کٹر حامی کو بھی نہیںرہی ہوگی۔ایسا نہیںہے کہ ان کی مقبولیت اچانک بڑھ گئی ہے بلکہ ایسا اس لیے ہے کیونکہ بی جے پی کی مقبولیت گھٹی ہے۔اس کے کئی اسباب ہیں۔ یہ چیز گجرات کے لیڈروں کے بھاشن میںنظر آرہی ہے۔ خاص طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کے بھاشن میں۔ اسی لیے، انھوںنے کمان اپنے ہاتھ میں لے لی ہے۔ لیکن، ان کا یہ کہنا کہ میں وکاس ہوں، میں گجرات ہوں، ان کے اہنکار کے علاوہ کچھ نہیںدکھاتا اور نہ ہی اس سے کوئی مقصد پورا ہوتا ہے۔ لوگ یہ دیکھنا چاہتے ہیںکہ کتنی صنعتیںآئیں، کتنے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے، مستقبل کے کیا منصوبے ہیں؟ ان سوالوں کا کوئی جواب نہیںہے۔ میک انڈیا کے تحت کوئی بڑی انڈسٹری گجرات تو چھوڑ دیجئے، ملک کے کسی بھی کونے میںنہیںآئی ہے۔ ان ساری چیزوں نے ناامیدی کی شکل لے لی ہے اور حکومت مخالف لہر سامنے آرہی ہے اور اپوزیشن لیڈر کو اب اہمیت مل رہی ہے۔ آر ایس ایس نے اندرونی سروے کرایا ہے، جس کے مطابق بی جے پی کے لیے گجرات کا راستہ آسان نہیں ہوگا۔ نتیجتاً ، آر ایس ایس پرمکھ نے وجے دشمی کے اپنے بھاشن میںکہا کہ جب تک آپ جی ایس ٹی کی وجہ سے چھوٹے اور درمیانے کاروباریوں کو راحت نہیں دیں گے تب تک آپ کی مشکلیں کم نہیں ہوں گی۔ اس کے فوراً بعد ہی سرکار نے جی ایس ٹی میںچھوٹے کاروباریوں کو تھوڑی راحت دینے اعلان کیا۔ یہ ایک لگاتار چلنے ولا عمل ہے لیکن ایک چیز تو طے ہے کہ بی جے پی کے لیے خطرے کی گھنٹی بج چکی ہے۔ اسے بہت ہوشیاری سے قدم بڑھانا چاہیے۔

 

 

 

 

 

 

اگلے کچھ ہفتوںمیںہمیںپتہ چل جائے گا کہ گجرات میںکیا ہونے والا ہے کیونکہ ابھی جو آثار دکھائی دے رہے ہیں، وہ بی جے پی کے لیے بہت حوصلہ افزا نہیںہیں۔ حال ہی میں راجکوٹ کے چوٹیلا میںنریندر مودی کے بھاشن کے دوران لوگ جلسہ گاہ سے بیچ میںہی اٹھ کر جانے لگے تھے۔ یوگی آدتیہ ناتھ سوچتے ہیںکہ وہ بھی مودی بن گئے ہیں او رگجرات ، کیرل وغیرہ کا دورہ کر رہے ہیں۔شاید وہ امت شاہ کے کہنے پر ایسا کر رہے ہیں۔ لیکن یوگی آدتیہ ناتھ کو سننے یا دیکھنے کے لیے عوام نہیں آرہے ہیں۔ یہ جان لینا ان کے لیے اچھا ہوگا کہ آپ یوگی کا لباس پہن کر بار بار مذہبی جوش کو بھڑکا نہیں سکتے ہیں۔ ہندوتو کو بچانے کے لیے تاج محل گرانا، بغیر یہ جانے کہ مغل کون تھے، لودی کون تھے، خلجی کون تھے، ان کی تاریخ کو مٹانا، ہندوستان ان سب چیزوں سے بہت آگے نکل چکا ہے۔ پچھلے 70 سال میں ہندوستان اتنا طاقتور ہوچکا ہے کہ اسے یوگی جتنا پیچھے لانا چاہتے ہیں، نہیں آسکتا۔ مودی نے ایک الگ سر کے ساتھ شروعات کی تھی اور ملک کو تین سال قبل ان سے بہت امیدیں تھیں۔ یا تو وہ آر ایس ایس کی وچار دھارا کے دباؤ میں آگئے یا پھر ان ہی کے بہت زیادہ اعتمادنے ان کے لیے پریشانیاںکھڑی کردیں۔ کیونکہ جس طرح نوٹ بندی لاگو کی گئی اور جس طرح جی ایس ٹی جیسا بھاری بھرکم عمل لایا گیا ، جس کی وجہ سے ایک عام تاجر متاثر ہوا۔ ایک اندازے کے مطابق عام تاجر طبقے میںملک کے اندر پانچ کروڑ یونٹس ہیں۔ اگر ایک یونٹ سے چار یا پانچ شخص بھی جڑے ہیں تو یہ تعداد 20 کروڑ ہوجاتی ہے۔ لہٰذا صرف بھاشن بازی سے بی جے پی اگلا الیکشن نہیں جیت سکتی۔ آپ کو اس طبقہ کے تناؤ کو کم کرنا ہی پڑے گا۔ بھلے ہی یہ طبقہ زیادہ مؤثر نہیں ہے لیکن جب ووٹ کا سوال آئے گا تو ان کی تعداد ضرور مؤثر ثابت ہوگی۔ ہمیں امید کرنی چاہیے کہ سرکار کو اشارے مل رہے ہیں۔

 

 

 

 

 

دوسری خبر یہ ہے کہ ہم دنیا کے ہنگر انڈیکس میں55 ویں مقام سے لڑھک کر 100 نمبر پر پہنچ گئے ہیں۔ ہم اس معاملے میں خراب نظام حکومت والے ملک، جیسے پاکستان، بنگلہ دیش اور نیپال سے بھی پیچھے ہیں۔ ظاہر ہے، یہ سب ایک دن میںنہیں ہوا۔ لیکن فوڈ سیکورٹی قانون جو یو پی اے کی مدت کار میںبنا تھا، اس پر سرکار کو سنجیدگی سے کام کرنا چاہیے۔ آخر کار جی ڈی پی کے اعداد وشمار اپنی جگہ ہیں لیکن ملک اس سے زیادہ اہم ہے۔ ہندوستان جیسے ملک میںکچھ علاقے ایسے ہیں جہاںخوش حالی ہے اور کچھ ایسے ہیں جہاںبھیانک بھوک اورغربت ہے۔ اس سے نمٹنا پڑے گا۔ ہمیںنہیںمعلوم کہ سرکار کیا کررہی ہے اور اس سے بھی اہم یہ ہے کہ نیتی آیوگ کیا کر رہا ہے؟ آخر کار نیتی آیوگ ایک تھنک ٹینک کے طور پر قائم کیا گیا تھا تاکہ وہ اس طرح کے معاملوںپر غور کرکے حل نکالے، پالیسی تیار کرے لیکن، لوگوںکو یہ نہیںمعلوم کہ وہ کیا کر رہا ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *