اندرونی تضادات کا نام ہے گجرات الیکشن

گجرات الیکشن کے کئی پیچ ہیں اور گجرات الیکشن بالکل سرکے اوپر ہے۔ پہلے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ہر طرح سے گجرات کا الیکشن جیتنا چاہتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ یہ الیکشن وجے روپانی ، جو ابھی وزیر اعلیٰ ہیں،ان کے نام پر جیتے گی یا وزیر اعظم نریندر مودی کے نام پر جیتے گی؟ اب تک تو یہ دکھائی دیا کہ جب تک نریندر مودی جی گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے، تب تک صرف اور صرف ان کا نام آتا تھا۔ اس الیکشن میںکیا ہوگا؟ مجھے لگتا ہے کہ اس الیکشن میںبھی وزیر اعظم کے نام کا ہی استعمال ہوگا۔ ابھی جاپان کے وزیر اعظم آئے تھے، ان کے استقبال میںاحمدآباد میں سڑکو ں کے کنارے جھنڈے لگے تھے۔ ان میںایک بڑی ہی مزے دار چیز دیکھنے کو ملی۔ ہندوستان کا قومی جھنڈا نیچے تھا اور بھارتیہ جنتا پارٹی کا جھنڈا اونچا تھا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہندوستان کا جھنڈا اونچا ہوتا لیکن شاید جان بوجھ کر بھارتیہ جنتا پارٹی کے آرگنائزروں نے ہندوستان کا جھنڈا نیچے رکھا اور بھارتیہ جنتا پارٹی کا جھنڈا اونچا رکھا۔ ا س کا مطلب یہ ہے کہ اس پروجیکٹ کا استعمال بھی گجرات الیکشن کے لیے ہو سکتا ہے یا ہورہا ہے۔اگر ہندوستان کا جھنڈا اونچا ہوتا تو ہم یہ بات نہیںکہتے۔
گجرات میںبھارتیہ جنتا پارٹی نے دھیرے دھیرے سبھی اپوزیشن جماعتوں کو اکیلا کردیا ہے اور اس کا ساتھ کانگریس نے دیا ہے۔ کانگریس نے ابھی تک گجرات الیکشن کے لیے اپنے لیڈر کا اعلان نہیںکیا ہے۔ اسی وجہ سے شنگر سنگھ واگھیلا، حالانکہ وہ بی جے پی سے آئے اور ان کا رشتہ سنگھ سے رہا ہے ،لیکن جب وہ کانگریس میں آئے تو وہ سب سے مقبول لیڈر تھے۔ ان کو لیڈر نہ ڈکلیئر کرکے اور انھیںایک طرح سے بے عزت کرکے کانگریس سے باہر جانے کے لیے مجبور کیا گیا۔ کانگریس کا یہ اندرونی انتشار بتاتا ہے کہ کانگریس کسی لیڈر کو ڈکلیئر کیے بغیر الیکشن لڑے گی،وہی پرانا طریقہ راہل گاندھی کو سامنے لاکر۔ اس کا کانگریس کو کتنا فائدہ ملے گا،ہم نہیں جانتے۔ کانگریس کی تنظیمی صورت حال بہت خراب ہے۔ اگر عوام ہی کانگریس کو ووٹ دے دیں تو یہ الگ بات ہے۔ لیکن ہونا یہ چاہیے تھا کہ کانگریس گجرات کی ان سبھی پارٹیوں سے، جو بی جے پی کے ساتھ نہیں ہیں، ان کے ساتھ بات کرتی، ان کو راضی کرتی، کم یا زیادہ سیٹوں پر سمجھوتہ کرتی اور بہار کی طرح گجرات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف ایک مضبوط اپوزیشن کا امیدوار کھڑا کرتی۔ لیکن اب تک کانگریس نے ایسا نہیںکیا ہے۔ گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ سریش مہتا سمیت سبھی لوگ کانگریس سے یہ درخواست کررہے تھے کہ وہ سب کو بلائے اور ان کی قیادت کرے۔ لیکن ان کی بات کانگریس نے نہیںمانی۔

 

 

 

 

 

دراصل کانگریس میں بھی ایک تضاد ہے۔ گجرات کانگریس کے سب سے قدآور لیڈر احمد پٹیل ہیں۔ احمد پٹیل کے اوپر یہ الزام ہے کہ وہ گجرات میں کانگریس کو کھڑا ہی نہیں ہونے دینا چاہتے۔ احمد پٹیل اس الزام کو جھوٹا بھی ثابت نہیںکررہے ہیں۔ گجرات میں احمد پٹیل کے بعد جو لیڈر ہیں، ان میںشکتی سنگھ گوہل ہوں، بھرت سنگھ سولنکی ہوں یا جو بھی ہوں، یہ سارے بنیادی طور پر بزنس مین ہیں۔ یہ سڑک کے یا دیگر چیزوںکے ٹھیکے لیتے ہیں۔ ان کا رشتہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار سے ہے کیونکہ ان ہی سے پیسہ کماتے ہیں، ٹھیکہ لیتے ہیں۔ اس لیے ان کے اوپر لوگوں کا بھروسہ نہیںہے۔ لوگوںکا بھروسہ صرف شنکر سنگھ واگھیلا پر تھا۔ شنکر سنگھ واگھیلا کانگریس سے نکل چکے ہیں۔ شنکر سنگھ اس الیکشن میں ایک اہم نکتہ بن گئے ہیں۔ ان کے حامیوں نے’جن وکلپ‘ پارٹی بنائی ہے۔ وہ اس میںشامل ہوگئے ہیں۔ انھوںنے کہا ہے کہ وہ الیکشن نہیںلڑیںگے لیکن وہ کوشش کریں گے کہ کانگریس کے خلاف ایک امیدوار آئے۔ لیکن آئے گا کیسے؟ اگر ان کی بات کانگریس مانتی تو انھیں کانگریس سے نکلنا ہی کیوںپڑتا؟ لیکن پھر بھی وہ کوشش کررہے ہیں کہ کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے علاوہ جتنی پارٹیاں ہیں، وہ ایک ساتھ آجائیں۔ شنکر سنگھ واگھیلا کی یہ کوشش کتنی کامیاب ہوگی،ہم نہیںکہہ سکتے۔
اس کے علاوہ ایک فیکٹرہے، وہ فیکٹر ہے ہاردک پٹیل۔ ہاردک پٹیل کی وجہ سے بھاریہ جنتا پارٹی کو ضلع پنچایت کے الیکشن میںاور اب گرام پنچایت کے الیکشن میںکافی نقصان اٹھانا پڑا۔ ہاردک پٹیل کا حامی طبقہ وہاںکا پاٹیدار ہے، پٹیل کمیونٹی۔اس نے ہاردک پٹیل کو اپنا لیڈر مان رکھا ہے۔ ہاردک پٹیل کی دقت یہ ہے کہ انھوںنے گزشتہ کئی مہینوں میںنتیش کمار کے ساتھ خود کو جوڑا۔ نتیش کمار کو ملک کے پٹیلوں کا بہترین لیڈر بتایا، خاص طور سے پچھڑی ذاتوں کا۔ نتیش کمار اچانک بی جے پی کے ساتھ چلے گئے۔ بی کے پی کے ساتھ ہاردک پٹیل جانا نہیںچاہتے ہیں۔ وہ بی جے پی کو ہرانا چاہتے ہیں کیونکہ ان کا بی جے پی اور نریندرمودی کے ساتھ بہت تلخ تجربہ ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ خود ہاردک پٹیل کیا کرتے ہیں؟ کیا وہ شنکر سنگھ واگھیلا کے ساتھ جاتے ہیں؟
جگنیش ایک اور بڑا نام ہے جو دلتوں کے لیڈر ہیں۔ جگنیش اور ہاردک اگر شنکر سنگھ واگھیلا کے ساتھ رہتے ہیں یا کانگریس کے ساتھ جاتے ہیں،وہ جس کے ساتھ جائیںگے،اس فریق کو فائدہ ہوگا۔ ابھی بھی گجرات میںانھیںنہ ملنے دینے کے لیے ایک طرف بی جے پی، دوسری طرف کانگریس جی جان لگائے ہوئیہے۔ ہاردک پٹیل کے والد کو بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنی طرف توڑ لیا ہے۔ ہاردک پٹیل کویہ کہنا پڑا کہ اگر میرے باپ بھی بھارتیہ جنتا پارٹی کے سمبل سے الیکشن لڑتے ہیں تو آپ انھیں بھی ووٹ نہ دیں۔ لیکن ان بیانوں سے کچھ ہوتا نہیں ہے کیونکہ باپ ، باپ ہی ہوتا ہے۔ اس لیے ہر ایک کے سامنے دھرم سنکٹ ہے۔ بی جے پی کے سامنے کوئی دھرم سنکٹ نہیںہے۔ اس کے سامنے بس ایک ہی سنکٹ ہے وجے روپانی۔ جن کو گجرات میںلگاتار اداروں سے پیسہ لینے کے لیے جانا جاتا تھا، وہ وزیر اعلیٰ بننے سے قبل راجکوٹ کے میئر تھے۔ جب وہ پارلیمنٹ گئے تو انھوںنے راجکوٹ کارپوریشن اور پارٹی سے لگاتار پیسہ لیا،یہ کہہ کر کہ اسے اوپر تک بھیجنا ہے۔اب وہ پیسہ پارٹی کے دفتر میںگیا یا وجے روپانی کے پاس ، یہ کوئی نہیںجانتا۔ گجرات میںاسے لے کر بہت شک ہے۔
گجرات میں مسائل ہیں۔ہم جس گجرات ماڈل کوجانتے ہیں، وہ وہاں کسی کو نہیںدکھائی دیتا۔ لیکن گجرات میںووٹر مینجمنٹ کا کام بہت اچھا ہوا ہے۔ اب گجرات کے عوام بھارتیہ جنتا پارٹی کو الیکشن جتانا چاہتے ہیں، کانگریس کو حمایت دیتے ہیں یا شنکر سنگھ واگھیلا کو دوبارہ طاقت دے کر کسی گٹھ جوڑ کے ساتھ سرکار بنانے کے لیے حمایت دیتے ہیں، ابھی نہیںکہا جاسکتا۔ لیکن آخر میںاس الیکشن میںبھی سب سے بڑا فیکٹر آج کے وزیر اعظم نریندر مودی ہونے والے ہیں، اس میںکوئی دو رائے نہیںہے۔ اسی لیے وزیر اعظم نریندر مودی بار بار گجرات جا رہے ہیں۔ اسی لیے وہ گجرات میںایسے کسی بھی افتتاح کو نہیںچھوڑنا چاہتے، جس کا رشتہ الیکشن سے ہو یا جس کا اثر عوام پر پڑتا ہو۔ اسی لیے وہ سردار پٹیل کی سب سے اونچی مورتی استھل کو بھی دیکھنے گئے۔ حالانکہ یہ تضاد ہی ہے کہ سردار پٹیل کی مورتی چین میںبن رہی ہے اور بھارتیہ جنتا پارٹی لوگوںسے کہتی ہے کہ چین کی راکھی مت خریدو، مت باندھو۔ لیکن چین میںبنی مورتی کو روز نمن کرنے کے لیے بی جے پی تیار ہے۔ یہ تضاد ، مزے کے تضاد ہیں۔ اگر آپ کو لگے کہ ان کے اوپر کوئی چٹکی لینی ہے تو ضرور لے سکتے ہیں۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *