لندن میں بڑھتے ہٹ کرائم سے مسلمان پریشان

اطہر کاظمی
حالانکہ دنیا کے اہم ترین شہروں میں سے ایک لندن ہے جہاں کے منتخب میئر ان دنوں ایک مسلمان ہیں،میں رواں برس مسلمان شدت پسندوں کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کے بعد شہر میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں۔مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی حالیہ حملوں کا آغاز اس وقت ہوا جب رمضان کے دوران لندن کے علاقے فنزبری میں واقع مسجد سے نکلنے والے نمازیوں پر ایک سفید فام شخص کی جانب سے وین چڑھا دی گئی۔دیگر پیش آنے والے واقعات میں مشرقی لندن میں ایک مسلمان خاتون، ریشم خان اور ان کے کزن جمیل مختار پر تیزاب پھینکنے کا واقع بھی نمایاں ہے۔
مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی مختلف افواہیں گردش کر رہی ہیں، جو شہر کی مسلم کمیو نٹی میں پائے جانے والی تشویش میں اضافہ کر رہی ہیں۔لندن کی رہائشی مہر خان کا کہنا تھا کہ’’سوشل میڈیا پر مسلمانوں پر حملوں کی بہت سی اطلاعات گردش کر رہی ہیں، مختلف واقعات میں مسلمانوں کو نشانہ بھی بنایا گیا ہے۔ میں اپنی گاڑی کا شیشہ بھی نیچے نہیں کرتی، ڈرلگتا ہے کہ کوئی تیزاب ہی نہ پھینک دے‘۔
شہر کی مسلم آبادی میں پائے جانے والے ڈر اور تشویش سے مقامی منتخب نمائندے بھی بخوبی واقف ہیں۔لندن کے علاقے نیوہم سے کونسلر عبید خان کہتے ہیں کہ’لندن میں مسلمان خوفزدہ ہیں، لوگ کسی کے لیے دروازہ کھولتے ہوئے بھی ڈرتے، انھیں ڈر ہے کہ کوئی تیزاب ہی نہ ان پر پھینک دے‘۔عبید خان کا مزید کہنا تھا کہ’خوف کا یہ عالم ہے کہ کچھ لوگ اپنے ساتھ گاڑیوں میں پانی رکھتے ہیں، اگر خدانخواستہ تیزاب پھینکا جائے تو اسے فوراً دھویا جا سکے‘۔
البتہ لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کے سنیئر افسر سپرنٹینڈینٹ وحید خاں کا کہنا ہے کہ ’ یہ تاثر درست نہیں ہے کہ صرف مسلمانوں کو شہر میں نشانہ بنایا جا رہا ہے، بلکہ ہر رنگ ونسل کے لوگ حالیہ حملوں سے متاثر ہوئے ہیں۔سپرنٹینڈینٹ وحید خان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں لوگوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ پولیس مسلمانوں کے خلاف ہونے والے جرائم کی تحقیقات میں کسی قسم کی تفریق نہیں کرتی اور جیسے پولیس دوسروں کے لیے کام کرتی ہے، ویسے ہی مسلمانوں کے لیے بھی کام کرتی ہے۔اگرچہ پولیس مسلمانوں کے خلاف ہونے والے نفرت پر مبنی جرائم کی روک تھام کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ حالیہ واقعات کے بعد شہر کی مسلمان آبادی میں ایک خوف کی فضا پائی جاتی ہے
لباس نوکری ملنے میں حائل ہے
برطانوی حکومت کی جانب سے حال ہی میں جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق برطانوی مسلمانوں کو معاشرے کے دیگر تمام لوگوں کے مقابلے میں سب سے کم اقتصادی مواقع حاصل ہیں۔رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں مسلمان نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود اچھے روزگار کے مناسب مواقع میسر نہیں ہیں۔برطانیہ میں معاشی ناہمواری کو ختم کرنے کے لیے کام کرنے والے ادارے سوشل موبلٹی کمیشن کی جانب سے حال ہی میں جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانوی معاشرے میں مسلمان نوجوانوں کو اسکول سے لے کر ملازمت تک ہر جگہ ناموافق حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کمیشن کی رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کو اچھی نوکری ڈھونڈنے میں دشواری پیش آتی ہے۔اس رپورٹ کے سلسلے میں مسلمان نوجوانوں سے کیے جانے والے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ انھیں چھوٹی عمر سے ہی اسلام مخالف، نسل پرستانہ اور متعصبانہ رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کمیشن کی رپورٹ کے مطابق مسلمان نوجوان یہ محسوس کرتے ہیں کہ انھیں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اساتذہ مسلمان طالبعلموں سے بہتر کارکردگی کی امید نہیں رکھتے۔
برطانوی مسلمانوں کے مسائل کو اجاگر کرنے اور ان کا حل ڈھونڈنے کے لیے ملک میں متعدد مسلمان تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ ایک ایسے ہی مسلم تھینک ٹینک ’انیشیٹیو فار مسلم کمیو نٹی ڈیویلپمنٹ‘ کے ڈائریکٹر محسن عباس کہنا تھا کہ مسلمان نوجوانوں کو جن مسائل کا سامنا ہے، اس کی متعدد وجوہات ہیں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ مسلم کمیونٹی اپنے مسائل کو صحیح طرح اجاگر کرنے میں ناکام رہی ہے۔ مسلمان کمیونٹی کی ترقی کے لیے کوئی طویل مدتی ورژن نہیں رکھتے۔ اس کی بنیادی وجہ ہماری پہلی نسل کی ناخواندگی ہے۔ کمیونٹی ڈیویلپمنٹ میں مساجد کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جس چیز میں فوری مالی فائدہ نظر نہ آ رہا ہو، مذہبی لیڈرشپ اس میں کم ہی دلچسپی لیتی ہے‘۔
ان کے بقول ایسی صورت میں وہ حکومتی ادارے جو عوام کے ٹیکس پر چلتے ہیں، ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مسلم کمیونٹی کو درپیش مسائل کا حل نکالیں۔لیکن اگر آپ دیکھیں تو تقریباً دو دہائیوں سے حکومت کی توجہ صرف مسلمانوں میں انتہا پسندی کے خاتمے پر ہے۔ مسلمانوں کے تحفظات اور ان کو درپیش مسائل کی جانب توجہ نہیں دی گئی۔

 

 

 

 

 

سوشل موبلٹی کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلمان نوجوانوں میں خواتین کو برطانیہ میں سب سے زیادہ نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجوہات میں مذہب کے ساتھ ان کے لباس کو بھی بتایا گیا ہے۔ حجاب کرنے والی خواتین کی فوراً بحیثیت مسلمان پہچان ہوجاتی ہے اور ان کو ملازمت ڈھونڈنے میں دشواری اور ملازمت مل جانے کی صورت میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’ نوکری کی بیشتر درخواستوں کا کوئی جواب ہی نہیں دیا جاتا اور کچھ جگہوں پر انہیں انٹرویو کے لیے تو بلایا گیا لیکن بات اس سے آگے نہیں بڑھ سکی‘۔ برطانیہ میں بھی مسلمانوں کی کچھ ذرائع ابلاغ میں جس طرح تصویر کشی کی جاتی ہے وہ سب کے سامنے ہے‘۔ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ عائشہ کے بقول’کئی یورپی ممالک میں حجاب پر پابندی لگائی گئی ہے، مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میرے نام اور لباس کے باعث مجھے نوکری ملنے میں مشکل ہو رہی ہے‘۔
مسلمانوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے اس رپورٹ میں سوشل موبلٹی کمیشن کی جانب سے 12 سفارشات بھی پیش کی گئی ہیں جن میں اساتذہ کو متنوع معاشرے میں پڑھانے کی تربیت اور انسانی حقوق اور برابری کے حکومتی کمیشن سے مسلمانوں کو ملازمت کے یکساں مواقعوں کے بارے میں گاہے بگاہے صورتحال کا جائزہ لینے کی سفارشات بھی شامل ہیں۔بہر کیف اس وقت جہاں پوری دنیا میں مسلمانوں کے تئیں منفی سوچ کی ہوا چلی ہوئی ہے ،اس کی تپش سے برطانیہ بھی محفوظ نہیں ہے اور یہاں کے مسلمان شدید تشویش میں گزر بسر کررہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *