ادبی ثقافتی سہ ماہی ’شبد ستہ ‘ کاسیمینارلکھنؤمیں منعقد

lucknow-seminar
آج کے وقت میں اخبار اور رسالہ نکالنا بے حد دشوار کام ہے ۔ اس سے بھی دشوار کام صحیح قارئین کی تلاش ہے ۔ ہمیں ناامید نہیں ہونا چاہئے ۔ اگر ہم رک گئے تو نئے مصنف کیسے پیدا ہوں گے ۔اس لئے ہمیں مسلسل اپنا کام کر تے رہنا چاہئے ۔ان خیالات کا اظہار رضا لائبریری رام پور کے ڈائرکٹر پروفیسر سید حسن عباس نے 10اکتوبرکولکھنؤمیں آل انڈیا کیفی اعظمی اکادمی کے اجلاس ہال میں شائع ہونے والے ادبی ثقافتی سہ ماہی ’شبد ستہ ‘ کے ذریعہ منعقد ہندی اردو ادبی صحافتی موضوع پر منعقد سیمینار میں مہمان خصوصی کے طور پر کیا۔ سیمینار میں کئی ریاستوں کے ہندی اردو کے ادیبوں اور صحافیوں و نمائندوں نے حصہ لیا ۔ سیمینار کی صدارت کر تے ہو ئے ساہتیہ کے ماہر ڈاکٹر پر دیپ جین نے کہا کہ ہر پرانی چیز کو پرانی مان کر چھوڑدینا عقلمندی نہیں ہے ۔ پرانی چیزوں میں جو بھی اچھا ہو اسے لیتے چلیں ۔ پروگرام میں مہمان اعزازی وصی احمد نے فلمی صحافت کے ذریعہ سے جمع کی گئی ادیبوں کی کار کر دگی کا ذکرکر تے ہوئے ’شمع ‘ اور ’سشمہ ‘ رسالوں پر تفصیل سے چرچہ کی ۔
لکھنؤ سے شائع ہونے والے ادبی سہ ماہی ’لمہی ‘ کے پر دھان ایڈیٹر وجے رائے نے کہا کہ ساہتیہ صحافت میں بھی جوخم اورخطرے بہت ہیں ۔اس موقع پر حید ر آباد سے آئے ڈاکٹر رؤف خیر ، ایف ایم سلیم ، پونہ سے آئے ڈاکٹر نذیر فتح پور ی ، ادھو مہا جن بسمل ، سری نگر سے آئے ڈاکٹر راشد عزیز ، اور کلکتہ سے آئے محمد زاہد نے اپنی اپنی ریاستوں میں ہندی اردو کی ساہتیہ صحافت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ لکھنؤ سے ظفر ہاشمی ، ونے داس ، اور انیتا سریواستو ، نے بھی ساہتیہ صحافت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔پروگرام کے نظامت کے فرائض فیصل خان نے انجام دیا ۔ ’شبد ستہ ‘ کے ایڈیٹر سشل سیتا پوری ، نے مہمانوں کا خیر مقدم اور شکر یہ جوائنٹ ایڈیٹر تلک دھاری پال نے کیا ۔ اس موقع پر کثیر تعداد میں لوگ مو جود تھے ۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *