منگنیار مسلم خاندانوں کی نقل مکانی دراصل انتظامیہ کی ناکامی ہے

یہ یقیناً افسوس کی بات ہے کہ مجبور ہوکر یا دھمکی کی صورت میں نقل مکانی کا رجحان بڑھتا ہی جارہا ہے۔ ایسا عموماً تب ہورہا ہے جب فرقہ وارانہ واقعات رونما ہوتے ہیں اور لاء اینڈ آرڈر کے ذمہ داران انھیںتحفظ فراہم کرکے روکنے میںناکام رہتے ہیں۔ ماضی میںگجرات اور آسام میں بڑی تعداد میں نقل مکانی کے واقعات سے کون واقف نہیںہے؟ حال میں چار برس قبل اتر پردیش کے مظفرنگر اور شاملی میںنقل مکانی بھی بدترین مثال ہے۔ گجرات اورآسام کے بے گھر لوگوں میںبیشتر اب اپنے آبائی مقامات پر واپس لوٹ چکے ہیں یا کچھ دوسرے مقامات پر والنٹری تنظیموںکے ذریعہ تعمیر کردہ مکانوںمیںسیٹل ہوچکے ہیں۔ مگر مظفر نگر اور شاملی کے تقریباً 50 ہزار بے گھر افراد چار برس بعد اب بھی اِدھر اُدھر عارضی کیمپوںیا پلاسٹک اور پھوس کے میک شفٹ مکانوں میںپناہ لیے ہوئے ہیں۔ سردی کے موسم کی آمد آمد ہے، جس کا تصور کرکے ملک کے یہ مہاجرین اندرسے کانپ اٹھتے ہیں۔ دادری کے نزدیک بسارا میںدو برس قبل مبینہ طور پر گائے کے گوشت رکھنے کے الزام میں50 سالہ اخلاق کی دردناک ہلاکت کے بعد تمام مسلم خاندانوںکی اس علاقے سے نقل مکانی بھی کسی سے پوشیدہ نہیںہے۔ اسی طرح ابھی حال میں ریاست راجستھان میں جیسلمیر کے دنتل گاؤں سے تمام 40 منگنیار مسلم خاندانوںکا وہاں سے اپنے اپنے گھر کو چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں چلاجانا بھی افسوس ناک رجحان کی کڑی ہے۔
ظاہر سی بات ہے کہ نقل مکانی کوئی تبھی کرتا ہے جب اس کے پاس اس کے سوائے کوئی اور چارہ نہیںدکھائی پڑتا ہے۔ اگر کسی بھی واقعہ کے رونما ہونے پر اس پر فوراً قابو پالیا جاتا ہے تو نقل مکانی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ کبھی جان بچانے کے لیے تو کبھی دھمکی ملنے پر ہی کوئی شخص یا خاندان ایسا قدم اٹھاتا ہے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنا آبائی علاقہ چھوڑ دیتا ہے۔ تقسیم وطن کے وقت سے لے کر متعدد فسادات ہوئے۔ وقتی یا عارضی طور پر افراد یا خاندان ادھر سے ادھر ہوگئے مگر چنددنوں کے بعد پھر اپنی اصل جگہ پر واپس آگئے اور مل جل کر ایک ساتھ رہنے لگے۔ اس میںلاء اینڈ آرڈر کے ذمہ داران نے اپنا فرض نبھایا۔ سماجی تنظیموں یا سول سوسائٹی نے بھی اس میںاپنا کردار ادا کیا۔ مگر ان دنوں خاص طور سے 2013 میںمظفر نگر – شاملی کے فرقہ وارانہ فسادات کے بعد سے صورت حال الگ ہی ہے۔ معروف سماجی کارکن ہرش مندر،جنہوںنے اس علاقے کی صورت حال کا زمینی مطالعہ کیا، کا کہنا ہے کہ سب سے افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ لاء اینڈ آرڈر کے ذمہ داران سمیت سبھی اس بڑی نقل مکانی اور پھر عارضی کیمپوں یا دیگر مقامات پر رہ رہے لوگوں کی بد حالی سے منہ موڑ رہے ہیں۔
اب آئیے، ذرا دیکھتے ہیں کہ جیسلمیر کے دنتل گاؤں کا واقعہ کیا ہے، جس نے 40 مسلم خاندانوں کو وہاںسے ہجرت کرنے پر مجبور کیا ہے۔ عیاں رہے کہ ان مسلم خاندانوں کا تعلق فولک میوزیشنوں (Folk Musicians) کی منگنیار کمیونٹی سے ہے۔ ان خاندانوں نے اپنے آبائی مقام چھوڑنے کا قدم ایک مقامی مندر میں ایک جھگڑے میں اس کمیونٹی کے فولک گویے (Folk Singer)کی مبینہ طورپر ہلاکت کے بعد اٹھایا۔ فولک گویے پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ وہ مندر میں فیتھ ہیلنگ کی ایک رسم کا گانے کے دوران لحاظ رکھنے میں ناکام رہا۔

 

 

 

 

 

دراصل ہوا یہ کہ ’بھوپا‘ قبیلے سے تعلق رکھنے والے اوجھا رمیش سوتھرنے 27 ستمبر کو دنتل نامی گاؤں میں فیلتھ ہیلنگ کی رسم کے دوران منگنیار مسلم کمیونٹی کے فولک گویے 45 سالہ احمد خاں پر الزام لگایا کہ وہ نوراتر تیوہار کے موقع پر مندر میں ’راگ پارچہ‘ دھن کو ٹھیک سے گا نہیں پائے جس کے سبب مندر کی دیوی ان کے جسم میں داخل نہیں ہوپائی۔ بعد ازاں رمیش سوتھر نے اسے دھمکا یا اور اس کے میوزیکل انسٹرومنٹ کو اسی جگہ توڑ دیا۔ اتنا ہی نہیں، اس کے بعد اسی روز رات کو سوتھر ، احمد خاں کے گھر پر کچھ لوگوں کے ساتھ حملہ آور ہوا اور ان پر پھر سے وار کیا، جس کی تاب نہ لاکر احمدخاں دم توڑگئے۔ اس واقعہ کے ایک ہفتہ کے بعد پولیس نے سوتھر کو 5 اکتوبر کو گرفتار کیا اور انڈین پینل کوڈ کے سیکشن 302 کے تحت اس کے خلاف مرڈر کیس درج کیا۔ دریںاثناء متاثرہ احمد خاں کی لاش ایکزہیوم (Exhume) کی گئی اور بقیہ دونوں ملزمین کی تلاش شروع ہوئی۔
واضح رہے کہ منگنیار مسلمان نسلاً پیشہ وارانہ گویے ہیں اور ہندوپاک سرحد کے دونوںجانب تھار صحرا میںنسل در نسل رہ رہے ہیں۔ مختلف ادوار میںحکمرانوںاور زمینداروں نے ان کی پذیرائی کی ہے اور انہیں نوازا ہے۔
یہاںتک تو معاملہ ایک جھگڑا جیسا تھا لیکن جیسے ہی مذکورہ اوجھا کے حامیوں نے علاقے کی سوتھر اور راجپوت کمیونٹیوں کی حمایت سے مبینہ طور پر منگنیار مسلم کمیونٹی کو دھمکایا، اس کے تمام 40 خاندان دنتل گاؤں چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے اور 22 کلومیٹر دور بلاد نامی گاؤں میںجاکر پناہ لی۔ ان بے گھر خاندانوںمیں سے 180 افراد پر مشتمل 22 خاندان اب تک جیسلمیر شہر میںنقل مکانی کرچکے ہیں اور وہاں مقامی ریلوے اسٹیشن کے نزدیک ایک نائٹ شیلٹر میںرہ رہے ہیں۔یہ تمام لوگ واپسی کے نام پر بہت خائف ہیں۔ حالانکہ پولیس نے انھیںتحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے تاکہ یہ اپنے آبائی مقام پر واپس لوٹ سکیں۔ منگنیار مسلم خاندانوںکا دعویٰ ہے کہ یہ ہنوز دنتل میںحاوی برادریوں کے ذریعہ دھمکائے جارہے ہیں۔ گونسار لوک سنگیت سنستھان کے صدر بخشش خان جو کہ ایک وفد لے کر مقامی کلکٹر سے ملنے گئے تھے، کا کہنا ہے کہ منگنیار خاندان سوشل بائیکاٹ اور اپنی جان پر خطرے کے سبب خوف سے اپنے آبائی گاؤں واپس جانے کو بالکل تیار نہیںہیں۔
یہ منگنیار مسلم خاندان دنتل گاؤںمیںاپنے گھر اور جانوروں کو چھوڑ کر آئے ہیں، جن میںگائے اور بچھڑے سبھی شامل ہیں اور ان کی نقل مکانی کے بعد ان کے بچے اسکولوں سے محروم ہوگئے ہیں اور ان کی تعلیم حرج ہورہی ہے۔ ابھی حال میںپولیس ان کے ایک گھوڑے کو جیسلمیر جہاں وہ ابھی مقیم ہیں،لے کر آئی ہے جو کہ کسی ایک خاندان کا ہے۔

 

 

 

 

 

ان 40 منگنیار مسلم خاندانوںکی نقل مکانی کو لے کر راجستھان ہی نہیںپورے ملک میںتشویش پائی جارہی ہے۔ ریاستی پیپلز یونین فار سول لبرٹیز (پی سی یو ایل)کویتا سریواستو کہتی ہیں کہ’’ اس واقعہ نے ایک بار اور یہ ثابت کردیا ہے کہ راجستھان میںذات برادریوں اور مذہبی بنیادوںپر کمزوروں کے قتل کا سلسلہ جاری ہے۔‘‘ انھوںنے مطالبہ کیا ہے کہ جو لوگ منگنیاروں کو دھمکیاں دے رہے ہیں، انھیںروکا جائے اور منگنیار باشندوںکو واپس ان کے آبائی مقام پر پوری حفاظت کے ساتھ بھیجا جائے۔ ایک بیان میںپی یو سی ایل نے یہ بھی کہا کہ منگنیار صرف اس لیے بھگائے گئے کہ ان لوگوں نے قاتلوںکے خلاف یکم اکتوبر کو ایف آئی آر درج کرانے کی ہمت کرلی تھی۔ پی یو سی ایل نے مقتول احمد خاں کے خاندان جو کہ ان کی بیوہ، دو بیٹوں اور دو بیٹیوںپر مشتمل ہے، کو 25 لاکھ روپے کا فوری ہرجانہ دیے جانے کا حکومت سے مطالبہ کیا ہے۔
پی یو سی ایل کا یہ سوال بہت اہم ہے کہ آخر انتظامیہ کیا کررہا تھا کہ مذکورہ منگنیار مسلم خاندانوںکو اپنے آبائی گاؤں سے نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہ لاء اینڈ آرڈر کے ذمہ داروںکی ناکامی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *