پرنب مکھرجی اور جسٹس ایم ایس اے صدیقی کی اے ایم یو کے بارے میں فکر انگیز باتیں

گزشتہ ہفتہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو )اور اس کے بانی سرسید احمد خاں موضوع بحث بنے رہے۔ موقع تھا علی گڑھ سمیت اندرون و بیرون ملک مختلف شہروں میں سرسید کی 200سالہ یوم پیدائش کے موقع پر تقریبات کا ۔جہاں اے ایم یو میں یونیورسٹی اور اس کے ہاسٹلوں میں طلباء کی طرف سے اس سلسلے میں خصوصی پروگرام منعقد کئے گئے، وہیں دیگر مقامات پر اے ایم یو المنائیوں یعنی فارغین نے بھی اپنی مادر علمی اور اس کے بانی کو یاد کرکے خراج تحسین پیش کیا۔ ان میں 17 اکتوبر کو اے ایم یو میں سابق صدر پرنب مکھرجی اور سابق چیئر مین قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارہ جات جسٹس محمد سہیل اعجاز صدیقی سب سے زیادہ قابل ذکر اور قابل توجہ ہیں۔
پرنب مکھرجی جوکہ اے ایم یو میں رائڈنگ کلب کے شہہ سواروں کے ذریعے بگھی میں بیٹھاکر بڑے دھوم دھام سے جائے تقریب تک لے جائے گئے، نے اپنے کلیدی خطبہ میں اعلانیہ کہا کہ علی گڑھ مسلم یورنیورسٹی آفاقی اور تکثیری نیشنلزم کی سب سے بڑی مثال ہے جہاں مختلف مذاہب،ذاتوں، زبانوں اور علاقوں کے طلباء و طالبات ایک ساتھ مل جل کر رہتے ہوئے تعاون اور ہمدردی کی اعلیٰ روایات کے تحت ملک کو آگے بڑھانے میں مصروف عمل ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس کے بانی سرسید نے کالجوں کے قیام اور جرائد کی اشاعت کے توسط سے مغربی تعلیم کے اہم عناصر کو سائنسی تعلیم کے تناظر میں فروغ دینے کے لئے کوشش کی اور تعلیم کے فروغ کو ہی اپنا مشن بنایا۔ انہوں نے تلقین کی کہ دور حاضر میں ہمیں سرسید کے مشن کے بنیادی عناصر پر گہرائی و گیرائی کے ساتھ اعلیٰ معیاری تحقیق،تخلیقی قوتوں اور علم پر مبنی سماج کے قیام کے لئے کام کرنا ہوگا کیونکہ یہی اس ملک کو عظیم ملکوں کی صف میں شامل کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سر سید ایک عظیم مفکر اور جدید سائنسی تعلیم کے مبلغ تھے اور انہوں نے اپنی دور رس نظر سے ہندوستان کی سامراجیت سے دو چار معاشرتی منظر نامہ کو جدید جمہوری اقدار سے مزین کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

 

 

 

 

 

ظاہر سی بات ہے کہ پرنب مکھرجی کا سرسید کے قائم کردہ اے ایم یو کے تناظر میں نیشنلزم کا خاص طور پر ذکر کرنا اور پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں پائے جانے والے نیشنلزم کو آفاقی اور تکثیری بتانا یونہی نہیں بلکہ بروقت تھا۔ ان کا خاص طور پر یہ کہنا کہ یہاں مختلف مذاہب، ذاتوں، زبانوں اور علاقوں کے طلباء و طالبات ایک ساتھ رہ کر ملک کی ترقی کے لئے کوشاں ہیں، شاید ملک کی موجودہ عدم رواداری اور عدم تحمل کی فضا کے تناظر میں ایک اہم اشارہ ہے۔ یہ وہ بات ہے جو وہ صدر جمہوریہ ہند رہتے ہوئے بھی کہہ چکے ہیں۔ نیز انہی کے دور کے نائب صدر جمہوریہ محمد حامد انصاری نے بھی دوران نائب صدارت اور بعد میں بار بار کہی ہے۔
اے ایم یو کے تعلق سے ان کی آفاقی اور تکثیری نیشنلزم کی بات صحیح ہے۔ اس کے فارغین کی فہرست میں ملکی و غیر ملکی اہم شخصیات بھی شامل ہیں۔اس سلسلے میں راقم الحروف کو جموں و کشمیر نیشنل پتھنرس پارٹی کے چیئر مین 76سالہ بھیم سنگھ اور دہلی میں بی جے پی کے سابق وزیر اعلیٰ آنجہانی ڈاکٹر صاحب سنگھ ورما یاد آتے ہیں۔ یہ دونوں کبھی بھی اپنی مادرعلمی کا نام لینے میں نہیں تھکے اور بہت ہی فخر سے وہاں کے تکثیری معاشرہ و ماحول کا ذکر کیا۔ آنجہانی ڈاکٹر ورما کا ان کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد دہلی اے ایم یو اولڈ بوائز ایسوسی ایشن نے انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے صحن میں بڑا ہی پُرجوش خیر مقدم کیا تھا جسے میڈیا نے تکثیری سیکولرزم اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی بہترین مثال بتایا تھا۔ ظاہر سی بات ہے کہ یہ مثالیں سبق آموز ہیں ان عناصر کے لئے جو کہ ان دنوں اسے بگاڑنا چاہتے ہیں۔
پرنب مکھرجی نے اس موقع پر اے ایم یو میں جسٹس ایم ایس اے صدیقی کو جو سرسید ایکسیلنس ایوارڈ ان کی گوناگوں تعلیمی، سماجی اور قانونی خدمات کے اعتراف میں دیا ہے، وہ بھی دراصل اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ کیونکہ یہ وہی جج صاحب ہیں جنہوں نے بحیثیت چیئرمین این سی ایم ای آئی آئین کے تحت مذہبی اقلیتوں کو حاصل تعلیمی اداروں کو قائم کرنے اور اسے چلانے کے حقوق و اختیارات کی پاسداری کرتے ہوئے ملک کی مختلف اقلیتوںبشمول عیسائی، سکھ ، جینی، بدھسٹ اور مسلم کے قائم کردہ دس ہزار سے زائد تعلیمی اداروں کے اقلیتی درجہ کو پھر سے بحال کیا یا انہیں عطا کیا۔ جسٹس صدیقی کا یہ وہی کارنامہ تھا جس کے تحت 2011 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کو اقلیتی درجہ دوبارہ ملا جو کہ 1988 میں جامعہ سینٹرل یونیورسٹی ایکٹ کے پارلیمنٹ کے ذریعے بنتے ہی چھین لیا گیا ۔ قابل ذکر ہے کہ جامعہ 1920 سے لے کر 1988 تک ایک اقلیتی تعلیمی ادارہ تھا اور اس کے ثبوت مختلف ڈاکیومنٹس ہیں۔

 

 

 

 

 

جسٹس ایم ایس اے صدیقی نے سرسید ایکسیلنس ایوارڈ لینے کے موقع پر جو کلمات کہے ،وہ بھی تاریخی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرسید اسٹڈیز کا سب سے اہم حصہ ان کی فکر کا مطالعہ ہے جس کے تحت انہوں نے تعلیم کے توسط سے ملک کے سیکولر اور تکثیری کردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ جس طرح متعدد دریائیں سمندر میں جاکر ملتی ہیں، ٹھیک اسی طرح سرسید کے قائم کردہ اس علمی سمندر یعنی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میںعلم کی تمام دریائیں آکر شامل ہوتی ہیں جو مختلف علاقے، مذاہب، مکاتب فکر اور زبانوں سے وابستہ ہوتی ہیں۔
سابق صدر پرنب مکھرجی اور جسٹس ایم ایس اے صدیقی کی اے ایم یو کے تعلق سے کہی گئی باتیں یقینا بروقت بصیرت افروز اور سبق آموز ہیں ملک کے موجودہ تناظر میں۔ توقع ہے کہ اس سے ملک و ملت سبق حاصل کریں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *