ٹورسٹ کتابچہ سے تاج محل غائب بھول یا سازش؟

رام بھروسے داس
اترپردیش کے نوکر شاہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا کباڑہ نکالنے پر تلے ہوئے ہیں۔پہلے سے کئی تنازعات میں بے وجہ الجھا دیئے جانے کے بعد اب نیا معاملہ سیاحتی محکمہ کے بک لیٹ تنازع کا ہے۔ سیاحتی محکمہ کے بک لیٹ میں ریاست کے اہم سیاحتی مقامات میں آگرہ کا نام شامل نہیں ہے۔ اس وجہ سے تنازع بھڑکا اور کانگریس لیڈر راہل گاندھی سے لے کر سماج وادی پارٹی کے لیڈر اکھلیش یادو اور اعظم خاں تک کو بولنے کا موقع مل گیا۔ راہل نے ٹویٹ کیا ’’اندھیر نگری ،چوپٹ راج‘‘۔ اکھلیش نے کہا کہ تاج محل ملک کی پہچان ہے اور بڑی تعداد میں لوگوں کے لئے روزی روٹی کا ذریعہ بھی ہے۔ اعظم خاں نے کہا کہ تاج محل ،لال قلعہ ، راشٹریہ پتی بھون، پارلیمنٹ، قطب مینار سب غلامی کی نشانی ہیں۔پھر کہا تاج محل کو منہدم ہی کر دینا چاہئے۔ اس میں وہ سرکار کا تعاون کریں گے۔ راشٹریہ لوک دل (رالود )کے قومی نائب صدر جینت چودھری نے کہا کہ تاج محل تاریخی وراثت ہے لیکن یوگی سرکار تاج محل کو بھی فرقہ واریت کے چشمے سے دیکھ رہی ہے۔ راشٹریہ لوک دل کے قومی میڈیا انچارج انیل دوبے نے بھی سیاحتی محکمہ کے بک لیٹ سے تاج محل غائب کئے جانے کو قابل مذمت عمل بتایا۔ سیاحتی محکمہ کی وزیر ریتا بہو گنا جوشی ہیں۔ لیکن اس بھول کا ٹھیکرا یوگی کے متھے ہی پھوٹا۔ سکریٹریٹ میں براجمان ایک اعلیٰ آفیسر نے سوال اٹھایا کہ سیاحتی محکمہ کے بک لیٹ میں آگرہ کو شامل نہیں کیاجاناتکنیکی بھول ہے یا نوکر شاہوں کی تکڑم، اس کی جانچ ہونی چاہئے۔ محکمہ جاتی وزیر نے اسے ٹالنے کی بھی کوشش کی، لہٰذا تکڑم والا فریق حفاظتی سائے میں چلا گیا۔ اس کا خمیازہ آخر کار وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو ہی بھگتنا ہوگا۔ ورنہ لیڈر اور نوکر شاہ بھی یہی چاہتے ہیں۔
اس معاملے نے تب طول پکڑا جب اترپردیش سیاحتی محکمہ کی طرف سے عالمی یوم سیاحت پر جاری کی گئی بک لیٹ ’’اتر پردیش سیاحت ،بے پناہ امکانات ‘‘ میں تاج محل کو جگہ نہیں دی گئی۔ بک لیٹ میں ریاست کے تقریباً سبھی سیاحتی مقامات کو شامل کیا گیا،لیکن اس میں تاج محل کہیں نہیں ہے۔ بک لیٹ میں وارانسی کی گنگا آرتی، گورکھپور کی گئورکشا دھام پیٹھ، متھرا ورداون، ایودھیا سمیت کئی اہم مذہبی مقامات کو جگہ دی گئی لیکن تاج محل کا ذکر نہیں کیا گیا۔ یہ پہلی نظر میں ہی نوکر شاہوں کی کرتوت کی طرف اشارہ کرتا ہے ،کیونکہ سیاحتی محکمہ کی ویب سائٹ پر تاج محل اور آگرہ کا ذکر ترجیحی بنیاد پر ہے۔
بک لیٹ کے کُوَر پر گنگا آرتی کی تصویر ہے۔کور پر بائیں طرف مودی اور دائیں طرف یوگی کا فوٹو لگا ہوا ہے۔ اندر سیاحتی محکمہ کی وزیر ریتا بہو گنا جوشی کی بھی تصویر لگی ہوئی ہے۔ بک لیٹ کے پہلے صفحہ پر تعارف ہے اور سیاحتی فروغ کو لے کر اترپردیش سرکار کی اسکیموں کا ذکر ہے۔ وارانسی کی گنگا آرتی کی توضیح کافی اہمیت دے کر کی گئی ہے۔ متھرا کے لئے بھی بک لیٹ کے دو صفحات دیئے گئے ہیں۔ ایک طرف رامائن پری تھم اور بودھ پری تھم کا ذکر ہے۔ اس کے بعد ایودھیا کی جانکاری دی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ذریعہ سورج کی آرتی کی تصویر بھی اندر لگی ہوئی ہے۔بک لیٹ میں گئو رکشا پیٹھ اور دیوی پاٹن شکتی پیٹھ کے ساتھ ساتھ شاکمبری ماتا مندی اور چنار کے تاریخی قلعے کی بھی چرچا ہے۔ ایک آفیسر نے بک لیٹ سے تاج محل کو غائب کئے جانے کے پیچھے کسی تکڑم کے امکانات کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ کچھ دنوں پہلے بھی اترپردیش سرکار نے تاج محل کو یو پی کی ثقافتی وراثت کی لسٹ میں شامل نہیں کیا تھا۔ کئی بی جے پی کے لوگ کہتے ہیں کہ تاج محل کو لے کر یوگی آدتیہ ناتھ کی الگ رائے رہی ہے۔

 

 

 

 

بہار کے دربھنگہ میں ہوئی ریلی میں یوگی نے کہا بھی تھا کہ ان کی نظر میں تاج محل ایک عمارت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ یوگی یہ بھی بول چکے ہیں کہ یو پی کی پہچان تاج محل سے نہیں، بلکہ رام کرشن سے ہے۔ یوگی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ سیاحتی بک لیٹ کی اشاعت میں وزیر اعلیٰ سے کوئی صلاح مشورہ نہیں کیا گیا اور نہ یوگی نے تاج محل کا ذکر ہٹانے کی کوئی ہدایت دی تھی۔ اس کی ذمہ داری محکمہ کی وزیر اور افسروں کی تھی۔
بہر حال اس معاملے کے طول پکڑنے پر ریاستی سرکار نے اس کے پیچھے کسی غلط منشا سے انکار کیااور کہا کہ سیاحتی فروغ کو لے کر آگرہ میں تمام اسکیمیں چل رہی ہیں۔ تاج محل اور اس سے جڑے علاقے میں 156 کروڑ روپے کا ڈیولپمنٹ پروجیکٹ پر کام چل رہاہے۔ اس کے علاوہ تاج محل کے مغربی گیٹ پر 107.49 کروڑ روپے کی لاگت سے ریسپشن سینٹر کی تعمیر ہورہی ہے۔ اس کے علاوہ تاج محل اور آگرہ قلعہ کے درمیان شاہ جہاں پارک اور واک وے کی مرمت کے لئے 22 کروڑ 66 لاکھ روپے کی اسکیمیں بھی شامل کی گئی ہیں۔
وزیر سیاحت ریتا بہو گنا جوشی نے کہا کہ تاج محل اور آگرہ کی ترقی مرکزی اور ریاستی سرکار دونوں کی ترجیحات میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاحتی محکمہ کے بک لیٹ میں اگلے ایک سال میں جو کام ہونے ہیں، ان کے بارے میں دکھایا گیا ہے۔ بک لیٹ میں تصویر نہ ہونے سے یہ نہیں کہا جاسکتاہے کہ تاج محل سرکار کی ترجیحات میں نہیں ہے۔ قابل ذکر ہے کہ 28ستمبر کو محکمہ کی 6ماہ کی حصولیابیاں بتانے کے لئے بلائی گئی پریس کانفرنس میں بانٹے گئے بک لیٹ ’’ اترپردیش سیاحت ،بے پناہ امکانات ‘‘ میں تاج محل کا کوئی ذکر نہیں پایا گیا،جبکہ بک لیٹ میں آگرہ کے ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کے کام کا ذکر ضرور تھا۔ اس کے بعد ہی تنازع نے طول پکڑا۔
انہیں یہ بھی نہیں پتہ کہ کبیر کی جائے پیدائش کہاں
سیاحتی مقامات کو لے کر اس سے پہلے بھی تنازع ہوتے رہے ہیں۔ سبکدوش سماج وادی پارٹی کی سرکار کے دور کار میں بھی ایساہی تنازع کبیر جائے پیدائش کو لے کر ہوا تھا۔ اس پر پورے ملک کے کبیر پیروکاروں میں زبردست ناراضگی پیدا ہوئی تھی لیکن میڈیا نے اس پر کوئی دھیان نہیںدیا۔ میڈیا کا انگل بھی فرقہ وارانہ ہی رہتا ہے۔ اکھلیش یادو کے دور کار میں کبیر کی جائے پیدائش کو لے کر شائع لٹریچر میں گڈمڈ حقائق چھپ گئے تھے۔ اس وقت سرکار کو یہی نہیں پتہ تھا کہ سنت کبیر کی جائے پیدائش کہا ںہے اور فروغ پانے کی جگہ کہاں ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *