چینی ملوں کے فروخت گھوٹالہ یوگی چست ، مرکز سست

مایاوتی کے مسئلے پر اترپردیش سرکار اور مرکزی سرکار دونوں الگ الگ اسٹینڈپر کھڑی ہو گئی ہیں۔ مایاوتی کو قانون کے شکنجے میں کسنے کی یوگی کوشش کر رہے ہیں توجیٹلی اس میںاڑنگا ڈال رہے ہیں۔ اسے سرکاری زبان میں ایسے کہیں کہ اتر پردیش سرکار بسپائی حکومت کے گھوٹالوں کی جانچ کرانے کا فیصلہ لیتی ہے تو مرکزی سرکار اسے قانونی طور پر بے اثر کردیتی ہے۔ مایاوتی اور ارون جیٹلی کے بیچ کوئی پراسرار سمجھداری ہے یا مرکز کی مودی سرکار مستقبل کے لیے مایاوتی کو ریزرو میںرکھنا چاہتی ہے؟ کہیں جیٹلی کو آگے رکھ کر مودی ہی مایا وتی کو بچانے کی کوشش تو نہیں کر رہے ہیں؟ بھاجپائیوں کو ہی یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی ہے۔ اس گتھی کے مضمرات یوگی کے بھی پلے نہیں پڑ رہے ہیں۔
یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنی سرکار کے چھ مہینے ہونے پر جاری وہائٹ پیپر میںبھی ریاست کے تقریباً دو درجن چینی ملوں کو فروخت کیے جانے میں ہوئے اربوںروپے کے گھوٹالے کا ذکرکیا ہے۔ اس سے قبل اپریل ماہ میںیوگی نے چینی ملوںکے فروخت گھوٹالے کی جانچ کرائے جانے کا اعلان کیا تھا لیکن ارون جیٹلی کی کارپوریٹ افیئر وزارت نے اس معاملے میں قانونی رائتا بکھیر دیا۔ آپ یہ جانتے ہی ہیںکہ جیٹلی وزارت خزانہ کے ساتھ ساتھ کار پو ریٹ افیئر محکمہ کے بھی وزیر ہیں۔ نارتھ بلاک گلیارے کے ایک اعلیٰ افسر کہتے ہیں کہ یوپی کی چینی ملوںکو کوڑیوں میںبیچ ڈالنے کے معاملے میں سپریم کورٹ سے آخری فیصلہ آناباقی ہے لیکن کارپوریٹ افیئر وزارت کے کمپٹیشن کمیشن آف انڈیا نے جو قانونی روڑے کھڑے کیے ہیں، اس سے گھوٹالہ ثابت ہونے میں مشکل ہوگی۔ چینی مل کے فروخت گھوٹالے سے مایاوتی کو بے داغ باہر نکالنے کی متوازی قلعہ بندی کردی گئی ہے۔ یوگی جی کو دھیان رکھنا ہوگا کہ یہ قلعہ بندی ان ہی کی پارٹی کی مرکز میں بیٹھی سرکا ر نے کی ہے۔
اختلاف کی وجہ
چینی ملوں کے فروخت کے معاملے کا پٹارہ کھلے گا تو بی جے پی کے بھی ملوث ہونے کی بات اجاگر ہوگی۔ ایس پی کے رول سے بھی پردہ ہٹے گا۔ بی جے پی اس وجہ سے بھی اس معاملے کوڈھکے رہنا چاہتی ہے اور یوگی اس وجہ سے بھی اسے اجاگر کرنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ چینی ملوں کو بیچنے کی شروعات بی جے پی کے ہی دور حکومت میں ہوئی تھی۔ بی جے پی سرکار نے ہی چینی ملوں پر گنا کسانوں اور کسان کمیٹیوں کی پکڑ کمزور کرنے اور بکھیرنے کا کام کیا تھا۔ چینی ملیں بیچنے کی شروعات اس دور کی بی جے پی سرکار نے کی تھی، اس پر ہم تفصیل کے ساتھ آگے بات کریں گے۔ ابھی یہ بتاتے چلیں کہ مایاوتی کے دور حکومت میں چینی ملوں کو اونے پونے دام میںکچھ خاص سرمایہ دار گھرانوں کو بیچے جانے کے معاملے کی جانچ کا اعلان یوگی سرکار نے اقتدار میں آنے کے مہینہ بھر بعد ہی اپریل میں کردیا تھا۔ اس اعلان سے مرکزی سرکار فوراً سرگرم ہوگئی اور کمپٹیشن کمیشن آف انڈیا (سی سی آئی )نے اگلے ہی مہینے یعنی مئی مہینے میں ہی اپنا فیصلہ سناکر یوگی سرکار کو جھٹکے میں لادیا۔ کمیشن نے صاف صاف کہا کہ مایا وتی سرکار نے اترپردیش کی کوآپریٹو چینی ملوںکی فرخت میں کوئی گڑبڑ نہیں کی۔ کمپٹیشن کمیشن آف انڈیا ہندوستان کا آئینی حق یافتہ ریگولیٹری ادارہ ہے۔ کمیشن نے 4 مئی 2017 کو دیے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ایسا کوئی بھی ثبوت نہیں ملا ہے جس میں کہیں کوئی گڑبڑی پائی گئی ہو۔ چینی ملوں کی فروخت میں اپنایا گیا عمل کمیشن کی نظر میں پوری طرح شفاف ہے۔ کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ نیلامی سے کسی بھی پارٹی کو روکا نہیں گیا اورنہ ہی کسی کو دھمکی دی گئی۔ اس فیصلے پر کمپٹیشن کمیشن آف انڈیا کے چیئر مین دیوندر کمار سیکری اور ممبر جسٹس جی پی متل ، یو سی ناہٹا او رآگسٹین پیٹر کے دستخط ہیں۔

 

 

 

 

 

دو اداروں کی سمت الگ کیوں؟
آپ مزہ دیکھئے ، سیاست جس جگہ ناک گھسیڑ دے، وہاں کیا حال کردیتی ہے۔ آئینی حق یافتہ مرکزی سرکار کے دو ادارے چینی مل بیچنے کے گھوٹالے میں مایاوتی کے ملوث ہونے کو لے کر دو الگ الگ سمت میںکھڑے ہیں۔ سی اے جی کی جانچ رپورٹ کہتی ہے کہ چینی ملوںکی فروخت میں شدید طور پر بے ضابطگی ہوئی لیکن کمپٹیشن کمیشن کہتا ہے کہ فروخت میںکوئی بے ضابطگی نہیں ہوئی۔ کیگ کی جانچ رپورٹ پہلے آگئی تھی، کمیشن کا فیصلہ ابھی حال میں آیا ہے۔ دو متضاد رپورٹیں دیکھ کر عام شہری کیا تاثر قائم کرے اور کس جگہ کھڑا ہو، یہ عجیب صورت حال ہے۔ کمپٹیشن کمیشن کا 103 صفحات کا فیصلہ ’چوتھی دنیا‘ کے پاس ہے۔ اس فیصلے کو پڑھیں تو یہ اپنے آپ میں ہی تمام تضادات سے بھرا پڑا ہے۔
کمپٹیشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نتن گپتا نے اترپردیش کی 10 چالو اور 11 بند چینی ملوں کو بیچے جانے کے معاملے کی گہرائی سے چھان بین کی تھی ۔اس چھان بین میںبھی چینی ملیں خریدنے والے سرمایہ دار پونٹی چڈھا کی کمپنی کے ساتھ نیلامی میںشامل دیگر کمپنیوں کی ساز باز سرکاری طور پر مضبوط ہوئی۔ یہ پایا گیا کہ نیلامی میں شامل کئی کمپنیاں پونٹی چڈھا کی ہی اصل کمپنی سے جڑی ہیں جبکہ نیلامی کی پہلی شرط ہی یہ تھی کہ ایک مل کے لیے ایک ہی کمپنی نیلامی کے عمل میں شامل ہوسکتی ہے۔
کمپٹیشن کمیشن کے ڈی جی نے اپنی چھان بین میں پایا کہ اترپردیش راجیہ چینی نگم لمٹیڈ کی 10 چالو حالت کی چینی ملوں کے فروخت کے عمل میں پہلے تو 10 کمپنیاںشریک ہوئیں لیکن آخرمیں صرف 3 کمپنیاں ویو انڈسٹریز پرائیویٹ لمٹیڈ ، پی بی ایس فوڈس پرائیویٹ لمٹیڈ اور انڈین پوٹاش لمٹیڈ ہی رہ گئیں۔ چالو حالت کی 10 چینی ملوںکو خریدنے کے لیے آخر میںبچیں تین کمپنیوں نے کم ریٹ کا ٹینڈر (بڈ پرائس) بھرا اور جن ملوں میںدوسری کمپنیوںکی دلچسپی تھی، وہاں ویو نے کافی کم ریٹ کا ٹینڈر داخل کیا۔ اس طرح بہرائچ کی جرول روڈ چینی مل، کشی نگر کی کھڈا چینی مل، مظفر نگر کی روہن کلاں چینی مل، میرٹھ کی سکوتی ٹانڈہ چینی مل اور مہراج گنج کی سسواں بازار چینی مل سمیت پانچ چینی ملیںانڈین پوٹاش لمٹیڈ نے خریدیں اور امروہہ چینی مل، بجنور چینی مل، بلندشہر چینی مل اور سہارنپور چینی مل سمیت چار چینی ملیں ویو انڈسٹریز پرائیویٹ لمٹیڈ کو ملیں۔ دسویں چینی مل کی خرید میں دلچسپ کھیل ہوا۔ بجنور کی چاند پور مل کی نیلامی کے لیے انڈین پوٹاش لمٹید نے 91.80 کروڑ روپے کا ٹینڈر ریٹ (بڈ پرائس) کوٹ کیا۔ پی بی ایس فوڈس نے 90 کروڑ کی پرائس کی جبکہ اس میں ویو کمپنی نے محض 8.40 کروڑ کی بڈ پرائس کوٹ کی تھی۔ بڈ پرائس کے مطابق چاند پور چینی مل خریدنے کا حق انڈین پوٹاش لمٹیڈ کو ملتا لیکن عین موقع پر پوٹاش لمٹیڈ نیلامی کے عمل سے خود ہی باہر ہوگئی۔ لہٰذا چاندپور چینی مل پی بی ایس فوڈس کو مل گئی۔ نیلامی کے عمل سے باہر ہوجانے کے سبب انڈین پوٹاش کی بڈرقم ضبط ہوگئی لیکن پی بی ایس فوڈس کے لیے اس نے پری اسپانسرڈ شہادت دے دی۔
کمپٹیشن کمیشن کی جانچ میںیہ بھی حقیقت کھلی کہ پونٹی چڈھا کی کمپنی ویو انڈسٹریز پرائیویٹ لمٹیڈ اور پی بی ایس فوڈس لمٹیڈ ، دونوں کے ڈائریکٹر ترلوچن سنگھ ہیں۔ ترلوچن سنگھ کی ویو کمپنی گروپ کا ڈائریکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ پی بی ایس کمپنی کا ڈائریکٹر اور شیئر ہولڈر ہونے کی بھی سرکاری طور پر تصدیق ہوئی۔ اسی طرح ویو کمپنی سے مختلف منسلک کمپنیوں کے ڈائریکٹر بھوپندر سنگھ، جنید احمد اور شیشر راوت پی بی ایس فوڈس کے بھی ڈائریکٹر منڈل میںشامل پائے گئے۔من میت سنگھ ویو کمپنی میںایڈیشنل ڈائریکٹر تھے تو پی بی ایس فوڈس میںبھی شیئر ہولڈر تھے۔ اس طرح ویو کمپنی اور پی بی ایس فوڈس کی ساز باز اور ایک ہی کمپنی کے حصہ ہونے کی دستاویزی حقیقت سامنے آئی۔ یہاںتک کہ ویو کمپنی اور پی بی ایس فوڈ س کے ذریعہ ٹینڈر فارم خریدنے سے لے کر بینک گارنٹی داخل کرنے اور اسٹامپ پیپر تک کے نمبر ایک ہی سیریز میںپائے گئے۔ کمیشن کے ڈی جی نے اپنی جانچ رپورٹ میںلکھا ہے کہ دونوںکمپنیاں ملی بھگت سے کام کررہی تھیں، جو کمپٹیشن ایکٹ کی دفعہ 3(3)اے اور 3(3)ڈی کی سیدھی سیدھی خلاف ورزی ہے۔ چالو حالت کی دس چینی ملوں کے فروخت کے عمل میں شامل ہوکر آخری وقت میںڈی سی ایم شری رام انڈسٹریز لمٹیڈ، دوارکیش شوگر انڈسٹریز لمٹیڈ، لکشمی پتی بالاجی شوگر اینڈ ڈسٹلریز پرائیویٹ لمٹیڈ، پٹیل انجینئرنگ لمٹیڈ، تروینی انجینئرنگ اینڈ انڈسٹریز لمٹیڈ ، ایس بی ای سی بایو انرجی لمٹیڈ اور تکولا شوگر ملز لمٹیڈ جیسی کمپنیوں ے بھاگ کھڑے ہونے کا معاملہ بھی اسرار کے گھیرے میںہی ہے۔ حالانکہ کمیشن نے اپنی جانچ میں اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
11 چینی ملوں میں وہی کھیل
اترپردیش راجیہ چینی ایوم گنا وکاس نگم لمٹیڈ کی ریاست میں پڑی 11 چینی ملوں کے فروخت کے عمل میںبھی ایسا ہی کچھ کھیل ہوا۔ نیلامی کی فارملٹیز میںکل 10 کمپنیاں شریک ہوئیں لیکن آخری وقت میں تین کمپنیاں میرٹھ کی آنند ٹرپلیکس بورڈ لمٹیڈ ، وارانسی کی گوتم ریلٹرس پرائیویٹ لمٹیڈ اور نوئیڈا کی شری سدھارتھ اسپات پرائیویٹ لمٹیڈ میدان چھوڑ گئیں۔ جو کمپنیاں رہ گئیں، ان میں پونٹی چڈھا کی کمپنی ویو انڈسٹریز کے ساتھ نیلگری فوڈس پرائیویٹ لمٹیڈ ، نمرتا، تریکال، گریاشو، ایس آر بلڈکون اور آئی بی ٹریڈنگ پرائیویٹ لمٹیڈ شامل تھیں اور ان میںبھی آپس میںخوب سمجھداری تھی۔ نیلگری فوڈس نے بیتال پور، دیوریا، بارہ بنکی اور ہردوئی چینی ملوں کے لیے ٹینڈر داخل کیا تھالیکن آخر میںبیتال پور چینی مل چھوڑ کر اس نے دیگر سے اپنا دعویٰ واپس کر لیا۔ اس کے لیے اسے ضمانت کی رقم گنوانی پڑی۔ بیتال پور چینی مل خریدنے کے بعد نیلگری نے اسے بھی کینین فائننشیل سروسیز لمٹیڈ کے ہاتھوںبیچ ڈالا۔ اسی طرح تریکال نے بھٹنی، چھتونی اور گھوگھلی چینی ملوں کے لیے ٹینڈر داخل کیا تھا لیکن آخری وقت میںضمانت کی رقم گنواتے ہوئے اس نے چھتونی اور گھوگھلی چینی ملوں سے اپنا دعویٰ ہٹالیا۔
ویو کمپنی نے بھی بریلی، رام کولا اور شاہ گنج کی بند پڑی چینی ملوں کو خریدنے کے لیے ٹینڈر داخل کیاتھا لیکن اس نے بعد میںبریلی اور رام کولا سے اپنا دعویٰ چھوڑ دیا اور شاہ گنج چینی مل خرید لی۔ بارہ بنکی، چھتونی او ررام کولا کی بند پڑی چینی ملیںخریدنے والی کمپنی گریاشو اور بریلی، ہردوئی، لکشمی گنج اور دیوریا کی چینی ملیںخریدنے والی کمپنی نمرتا میںوہی ساری مشکوک یکسانیت پائی گئی جو ویو انڈسٹریز اور پی بی ایس فوڈس لمٹیڈ میںپائی گئی تھیں۔ یہ پایا گیا کہ گریاشو، نمرتا اور کینین ، ان تینوں کمپنیوں کا دہلی کے سریتا وہار میں ایک ہی پتہ ہے۔ بند پڑی 11 چینی ملیںخریدنے والی سبھی کمپنیاںایک دوسرے سے جڑی ہوئی پائی گئیں، خاص طور پر وہ پونٹی چڈھا کی ویو انڈسٹریز پرائیویٹ لمٹیڈ سے منسلک پائی گئیں۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ کمپٹیشن کمیشن نے اپنے ہی ڈی جی کی چھان بین کو کنارے لگادیا اور فیصلہ سنا دیا کہ یوپی کی 21 چینی ملوں کی نیلامی کے عمل میںکسی طرح کی گڑبڑی اور سازباز ثابت نہیںپائی گئی۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے کمپٹیشن کمیشن کے اس فیصلے کو ابھی نہیںمانا ہے۔ قانون کے ماہرین کہتے ہیں کہ کمیشن کے ذریعہ مرکزی سرکار نے قانونی پچڑا پھنسانے کی کوشش تو کی ہے، لیکن کمیشن کے ڈی جی کی چھان بین رپورٹ بھی سپریم کورٹ کی نگاہ میںہے۔

 

 

 

 

 

نوکرشاہوں نے دلالوں کی طرح کام کیا
ایک طرف کمپٹیشن کمیشن کہتا ہے کہ چینی ملوں کے فروخت کے عمل میں کوئی بے ضابطگی نہیں ہوئی، دوسری طرف اگر دستاویز دیکھیںتو دھاندلی صاف دکھائی دیتی ہے۔ چینی ملوںکی اربوں روپے کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کو کوڑیوں کے دام میں بیچ دیا جانا شدید بدعنوانی کی سند دیتا ہے ۔ آڈیٹر جنرل کی چھان بین میںبھی یہ واضح ہوچکا ہے کہ چینی ملوں کے فروخت کے عمل میںشامل نوکر شاہوں نے کیپٹل اسٹبلشمنٹ کے دلالوںکی طرح کام کیا۔ سی اے جی کا ماننا ہے کہ ٹینڈر کا عمل شروع ہونے سے قبل ہی یہ طے کرلیا گیا تھا کہ چینی ملیں کسے بیچنی ہیں۔ ٹینڈر میںحصہ لینے والی کچھ خاص کمپنیوں کو سرکار کی بڈ پرائس پہلے ہی بتا دی گئی تھی اور عمل کے بیچ میںبھی اپنی مرضی سے ضابطے بدلے گئے۔ ملوں کی زمینیں، مشینیں اور آلات کی قیمت کا تعین کرنے میںمنمانی کی گئی۔ فروخت کے بعد رجسٹری کے لیے اسٹامپ ڈیوٹی بھی کم کردی گئی۔ کیگ کا کہنا ہے کہ چینی ملیںبیچنے میںسرکار کو 1179.84کروڑ روپے کا سیدھا نقصان ہوا۔ یعنی اتر پردیش راجیہ چینی نگم لمٹیڈ کی چالو حالت کی 10 چینی ملوںکو بیچنے پر سرکار کو 841.54 کروڑ روپے کا نقصان ہوا اور اترپردیش راجیہ چینی ایوم گنا وکاس نگم لمٹیڈ کی بند 11 چینی ملوں کو بیچنے کے عمل میں 338.30 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔
مایا وتی کی کرتوتوں کو اکھلیش نے لیپا پوتا
چینی مل فروخت گھوٹالہ کیا، اکھلیش سرکار نے مایاوتی کی مدت کار کے سارے گھپلے گھوٹالوں کو اپنی مدت کار میں خوب لیپا پوتا۔ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ اکھلیش کی مدت کار میں ہی اسمبلی کے ٹیبل پر رکھی گئی تھی لیکن وزیر اعلیٰ ہونے کی اکھلیش نے اپنی کوئی ذمہ داری نہیںنبھائی۔ معاملہ لوک آیکت کے پاس چلا گیا لیکن سرکار کی لاپرواہی یا دباؤ کے سبب لوک آیکت کی جانچ کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پائی۔ اکھلیش سرکار نے لوک آیکت کے ماتھے پر ٹھیکر ا پھوڑ دیا جبکہ اس دور کے لوک آیکت این کے مہروترہ نے کہا کہ چھان بین میں سرکار کوئی تعاون نہیںکر رہی ہے۔ منسلک نوکر شاہوں سے جواب مانگا تو سر چڑھے نوکرشاہوں نے لوک آیکت کو جواب تک نہیںبھیجا۔
سلسلہ بی جے پی کے دور سے شروع ہوا
کسانوںکو سیاسی پارٹیوںنے بڑے شاطرانہ طریقے سے مارا ہے۔ اس کے لیے سماجوادی پارٹی یا بہوجن سماج پارٹی اکیلی قصوروار نہیں ہیں۔ چینی ملوں کو برباد کرنے اور گنا کسانوںکو تباہ کرنے کا سلسلہ سب سے پہلے بی جے پی کی حکومت میںہی شروع ہوا تھا۔ تھوڑا پس منظر میںجھانکتے چلیں۔ کبھی اتر پردیش میںگنا کسان خوش حال تھے۔ گنے کی کھیتی اور چینی ملوں سے ریاست کی گنا بیلٹ میںکئی دیگر صنعتی دھندے بھی پھل پھول رہے تھے۔ چینی ملوں او رکسانوں کے بیچ گنا وکاس سمیتیاں (کین یونین) کسانوں کی ادائیگی سے لے کرکھاد، لون، آب پاشی کے وسائل، جراثیم کش کے ساتھ ساتھ سڑک، پل، پلیا، اسکول اور ڈسپنسری تک کا انتظام کرتی تھیں۔ گنے کی سیاست کرکے لیڈر تو کئی بن گئے لیکن ان ہی لیڈروں نے گنا کسانوں کو برباد بھی کردیا۔ نتیجتاً گنے کے علاقے سے لوگوں کی نقل مکانی شروع ہوئی اور انھیںمہاراشٹر اور پنجاب میںبے عزت ہوتے ہوئے بھی پیٹ بھرنے کے لیے مزدوری کے لیے رکنا پڑا۔
اترپردیش میں 125 چینی ملیں تھیں، جن میں63 ملیںمشرقی اترپردیش میںتھیں۔ ان میںسے زیادہ تر چینی ملیںبیچ ڈالی گئیں اور کچھ کو چھوڑ کر سبھی ملیںبند ہوگئیں۔ سرکار نے چینی ملیںبیچ کر سرمایہ داروںکو اور خود کو فائدہ پہنچایا۔ چینی ملوں کے احاطہ کی زمینیںپونجی گھرانوں کو کوڑیوںکے دام میںبیچ ڈالی گئیں، جس پر اب مہنگی کالونیاں بن رہی ہیں جبکہ چینی ملوںکو کسانوںنے گنا سمیتیوں کے ذریعہ اپنی ہی زمینیں لیز پر دی تھیں۔ لیکن ان کسانوںکے مالکانہ حق کی فکر کئے بغیر ناجائز طریقے سے ان زمینوں کو بھی ملوں کے ساتھ ہی بیچ ڈالا گیا۔
1989 کے بعد سے ریاست میں نقدی فصل کا کوئی متبادل نہیں کھڑا کیا گیا۔ گنے کی فصل ہی کسانوں کا وجود بچانے کی واحد نقدی فصل تھی۔ چینی ملوں کے کھیل میںصرف سماجوادی پارٹی ہی شامل نہیں، دیگر پارٹیاں بھی جب اقتدار میںآئیںتو خوب ہاتھ دھوئے۔ بی جے پی کی سرکار نے ہری شنکر تیواری کی کمپنی گنگوتری انٹرپرائزیز کو چار ملیںبیچی تھیں۔ اس وقت کلیان سنگھ یو پی کے وزیر اعلیٰ ہوا کرتے تھے۔ ان کی سرکار میںہری شنکر تیواری وزیر تھے۔گنگوتری انٹر پرائزیزنے چینی ملوںکی مشینیں اور سارے آلات بیچ ڈالے۔ پھر سماجوادی پارٹی کی سرکار آئی تو اس نے ریاست کی 23 چینی ملیں انل امبانی کو بیچنے کی تجویز رکھ دی۔ لیکن تب تک امبانی پر چینی ملیںچلانے کے لیے دباؤ تھا۔ ایس پی سرکار نے ان چینی ملوں کو 25-25 کروڑ روپے دے کر چلوایا بھی لیکن محض 15 دن چل کر وہ پھر سے بندہوگئیں۔ تب تک الیکشن آگیااور پھر بی ایس پی کی سرکار آگئی۔ وزیر اعلیٰ بنی مایاوتی نے ایس پی کی مدت کار کی اسی تجویز کو آگے بڑھایا اور چینی ملوںکو اونے پونے دام میںبیچنا شروع کردیا۔
مایاوتی کی کارگزاریاں
مایاوتی نے پونٹی چڈھا کی کمپنی اور اس کے گٹ کی کمپنیوں کو 21 چینی ملیں بیچ ڈالیں۔ دیوریا کی بھٹنی چینی مل محض پونے پانچ کروڑ میںبیچ دی گئی جبکہ وہ 172 کروڑ کی تھی۔ اس کے علاوہ دیوریا چینی مل 13 کروڑ میںاور بیتال پورچینی مل 13.16 کروڑ میںبیچ ڈالی گئی۔اب ان ہی ملوں کی بیش قیمت زمینوں کو پلاٹنگ کرکے مہنگی کالونیوں کے روپ میں تیار کیا جا رہا ہے۔ بریلی چینی مل 14 کروڑ میںبیچی گئی۔ بارہ بنکی چینی مل 12.51 کروڑ میں، شاہ گنج چینی مل 9.75 کروڑ میں، ہردوئی چینی مل 8.20 کروڑ میں،رام کولا چینی مل 4.55 کروڑ میں، گھوگھلی چینی مل 3.71 کروڑ میں چھتونی چینی مل 3.60 کروڑ میں اور لکشمی گنج چینی مل محض 3.40 کروڑ روپے میں بیچ ڈالی گئیں۔ یہ تو بند ملوں کا بیورا ہے۔ جو ملیں چالو حالت میںتھیں، انھیں بھی ایسے ہی کوڑیوں کے مول بیچا گیا۔ امروہہ چینی مل محض 17 کروڑ میںبیچ ڈالی گئی۔ سہارنپور چینی مل 35.85 کروڑ میںاور سسواں بازار چینی مل 34.38 کروڑ میں بک گئی۔ بلند شہر چینی مل 29 کروڑ میں، جرول روڈ چینی مل 26.95 کروڑ میں اور کھڈا چینی مل محض 22.65 کروڑ میںبیچ ڈالی گئی۔
پوروانچل کے جوجھارو کسان لیڈر شیواجی رائے کہتے ہیںکہ پہلے یہ نظم تھا کہ یوپی کے کسان گنے کی فصلیں گنا سمیتیوں کو بیچتے تھے او رگنا سمیتیاں اسے چینی ملوںکو بیچتی تھیں۔ کسانوں کو پیسے بھی سمیتیاں کے ْذریعہ ہی ملتے تھے۔ سار ا کچھ بہت ہی سیدھی لائن پر چل رہا تھا۔ لیکن بی جے پی سرکار نے اس عمل کو ایسا گھمایا کہ اسے ختم ہی کردیا۔ گنا کسانوںکے کھاتے میںسیدھے پیسے ڈالنے کا نظم لاگو کرکے اس وقت کے وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ نے کین یونینوںکو پنگو کرنے کی شروعات کی تھی۔ اس کے بعد نہ تو کسانوں کے کھاتے میںپیسے پہنچے اور نہ ہی کین یونینیں ہی پھر سے طاقتور ہوپائیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *