سری لنکا سے سنتوش بھارتیہ کی خصوصی رپورٹ تڑپ رہا ہے جافنا

جافنا،بھولی بسری کہانی ہے، لیکن جافنا کا ہندوستان سے بہت گہرا رشتہ ہے، جافنا کی وجہ سے ہندوستان اور سری لنکا کے بیچ میں درار آئی تھی۔جافنا کی وجہ سے تمل’ مہا راشٹر‘ کا تصور بنا تھا۔ جافنا کی وجہ سے ہی ہمارے سابق وزیرااعظم راجیو گاندھی کا قتل ہوا تھا۔ جافنا کی ہی وجہ سے ہمارے پیس کیپنگ فورس کی یعنی ہمارے فوج کے بہترین کمانڈو مارے گئے تھے۔اس جافنا کا آج کیا حال ہے؟یہ سوال میرے ذہن میں گھوم رہا تھا اور اس کا جواب جاننے کے لئے میں دہلی سے سری لنکا گیا۔ جافنا سسک رہاہے۔ جافنا کی آواز دب گئی ہے اور اسے دبانے میں ہندوستانی سرکار اور سری لنکا سرکار یکساں ہے۔جافنا خود مختاری چاہتا ہے، اپنی پہچان چاہتا ہے ۔جافنا کے لوگ مسلح لڑائی کا انجام دیکھ چکے ہیں۔ اب وہاں کی بے اطمینانی کو کون سی زبان دی جائے، اس پر غورو فکر چل رہا ہے۔جافنا سری لنکا کا حصہ ہے، لیکن جافنا نے سری لنکا اور ہندوستان دونوں کو ڈرا رکھا ہے اور اگر جافنا کو ذرا بھی حمایت ملی تو جافنا تمل اسمیتا کی علامت بنا کر ، تمل بر اعظم کی شکل لے سکتا ہے، جس میں ہندوستان کا تمل ناڈو اور جافنا شامل ہو جائے گا۔ آئیے دیکھتے ہیں، جافنا کی پوری لڑائی کی کہانی۔
سری لنکا میں، خاص طور پر شمالی و مشرقی سری لنکا میں، تملوں نے لگ بھگ اسی وقت ڈیرا ڈالا تھا جب سنہلی یہاں آکر آباد ہوئے۔ لگ بھگ 200سال پہلے نوآبادیاتی دور میں تملوں کی آمد کا دوسرا دور شروع ہوا۔ انہیں ربر، چائے اور کافی کے باغیچوں میں کام کرنے کے لئے تمل ناڈو کے تیروچی، مدورئی، تنجور وغیرہ مقامات سے یہاں لا کر بسایا گیا تھا۔ یہ لوگ ملک کے وسط میں قائم پہاڑی علاقوں میں اور ادھر ادھر متفرق بسے ہوئے ہیں۔ وسط سری لنکا میں رہنے والے تمل، سری لنکا کے اس تمل ایشو سے سیدھے طور پر نہیں جڑے ہوئے ہیں۔ یہ الگ ریاست یا سیاسی آزادی کی بات نہیں کرتے۔ انہیں یہاں ہند نژاد لوگوں کے نام سے مخاطب کیا جاتا ہے۔یہ آج بھی کینڈی علاقے میں رہتے ہیں۔ سری لنکا کا مشرقی خطہ تمل اکثریتی علاقہ ہے۔یہاں کے بڑے شہروں میں بٹّی کلووا، تریکومالی وغیرہ شہروں کے نام شامل ہیں۔
سنہلی زبان تھوپنے اور روزگار چھیننے سے شروع ہوئی تمل لڑائی
شمالی سری لنکا کے تمل یہاں اسی وقت سے آباد ہیں جب سے سنہلی لوگ آکر بسے تھے۔ دراصل سری لنکا کے ابتدائی بودھ کے پیروکاروں میں تمل بودھ بھی شامل تھے۔ غور طلب ہے کہ تیروچی اور مدورئی میں بودھ مت بحال ہوا تھا۔لہٰذا بودھوں میں تمل بھی شامل تھے۔یہی وجہ ہے کہ سنہلی ادبیات پر تمل کے سنگم ادبیات کا اثر ہے۔دراصل سنگم ادبیات دنیا کے قدیم ترین ادبیاب میں سے ایک ہے۔ اس میں جافنا کے ایک شاعر کا ذکر ملتا ہے۔ اس علاقے پر سب سے پہلے پرتگالیوں نے اپنا قبضہ جمایا ۔ اس کے بعد ڈچ آئے اور پھر انگریزوں کا قبضہ ہوا۔ انگریزوں کے دور حکومت میں بھی جافنا کے لوگوں کو بہت حد تک آزادی تھی۔ جافنا کے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ بھی یہاں کے بنیادی باشندے ہیں اور انہیں اپنی اس شناخت پر فخر ہے۔ اس لحاظ سے انہیں مساوات کا حق حاصل ہے۔نوآبادیاتی کے دور میں انگریزوں نے تملکارکنوں کے لئے تعلیم کا انتظام تو کیا لیکن بہت تھوڑا۔ انہوں نے تعلیم کی طرف اورزیادہ دھیان نہیں دیا۔ یہی حال جنوبی افریقہ کے تملوںکے ساتھ بھی ہوا۔ یہاں بہت سارے عیسائی مشینری اسکول کھلے اور تملوں سے بہت سارے بیرسٹر اور پڑھے لکھے لوگ نکلے۔یہاں کے لوگ عام طور پر غریب تھے۔

 

 

 

 

اس کے بعد سری لنکا کو فروری 1948 میں آزادی مل گئی۔ برطانوی دور میں زیادہ تر سرکاری نوکریاں شمالی سری لنکا کے تملوں کے پاس تھیں۔کیونکہ وہ انگریزی جانتے تھے۔ چاہے پوسٹ آفس کی نوکریاں ہوں، ریلوے کی نوکریاں ہوں ،وکیل ہوں، سرکاری ایجنٹس ہوں،ہر جگہ تملوں کی اکثریت تھی، ان میں سنہلی کم تھے۔ آزادی کے بعد سے تمل مسائل کی شروعات ہوئی۔ 1948 میں آزادی ملنے کے 48 گھنٹے بعد یہ فیصلہ لیا گیا کہ سبھی سرکاری کام سنہلی زبان میں ہوں گے۔ یعنی سرکاری نوکری حاصل کرنے کے لئے آپ کو سنہلی زبان جاننا لازمی ہو گیا۔ جافنا کے لوگ سنہلی زبان کا ایک لفظ بھی نہیں جانتے تھے۔ بعد میں بھی اس طرف کے طلباء امتحان میں ناکام ہونے لگے۔ نتیجتاً سرکاری نوکریوں کے تعلق سے ان کی تعداد کم سے کم ہونے لگی۔ سنہلی زبان نوکری کی ضمانت بن گئی ،تمل مسئلے کی سب سے بنیادی وجہ یہی ہے۔
اس کے بعد تملوں نے مساوات کے حقوق اور تعلیم کے حقوق کے لئے لڑائی کرنی شروع کی۔ 1970 کی دہائی میں سرکار نے یونیورسٹیوں میں داخلے کے لئے طلباء کو منتخب کرنے کا معیار تیار کیا۔ اس کا مقصد تعلیم کے نقطہ نظر سے پسماندہ دیہی علاقوں کے سنہلیوں کو اعلیٰ تعلیم کا موقع دینا تھا۔ اعلیٰ تعلیم میںتملوں کی تعداد ٹھیک تھی۔ اس معیار کے تحت کٹ اف مارکس لاگو کیا گیا تاکہ دیہی علاقے کے سنہلیوں کو بھی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع مل سکے۔ اس میں زبان اور نمبر فیصد کو بنیاد بنایا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یونیورسٹیوں میں تمل تعداد کم سے کم ہوتی گئی اور یہیں سے تملوں کا مسلح آندولن شروع ہوا۔
تملوں کا پہلے پُرامن آندولن
شروع میں شمالی سری لنکا کے کئی تمل لیڈروں نے پُرامن طریقے سے اپنی لڑائی شروع کی۔ اس میں بھوک ہڑتال، دھرنا وغیرہ کے طریقے اپنائے گئے۔ ان ہڑتالوں کی قیادت فیڈرل پارٹی کے لیڈر ایس جے وی چیلوا نائیکم کر رہے تھے۔ چیلوانائیکم ملک میں فیڈرل سسٹم کی مانگ کررہے تھے۔ اس وقت ایس ڈبلیو آر ڈی بھنڈارنائیکے سری لنکا کے وزیراعظم، جنہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے بیرسٹری کی تعلیم حاصل کی تھی اور وہ خود سنہلی تھے، وہ اس چیز کو سمجھتے تھے۔ انہوں نے چیلوانائیکم سے بات چیت کی اور سمجھوتہ کیا۔ اس سمجھوتے کو بھنڈارنائیکے-چیلوانائیکم سمجھوتے کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اگر اس سمجھوتے کو لاگو رہنے دیا جاتا تو تمل مسئلے پیدا ہی نہیں ہوتے۔ لیکن اپوزیشن نے اسے تہس نہس کردیا ۔ جیسے ہندوستان میں ہوتا ہے کہ کانگریس اقتدار میں ہوتی ہے تو بی جے پی اس کے ہر کام کی مخالفت کرتی ہے اور بی جے پی اقتدار میں ہوتی ہے تو کانگریس اس کے ہر کام کی مخالفت کرتی ہے۔ تملوں کا مسئلہ بھی اقتدار اور اپوزیشن کے باہمی کھینچا تانی کا نتیجہ ہے ۔ پہلے یو این پی ( یونائٹیڈ نیشنل پارٹی ) نے بودھ لیڈروں کو اپنے حق میں لے کر اس سمجھوتے کی مخالفت کی تھی اور یہ سمجھوتہ لاگو نہیں ہو سکا۔ اسی طرح یو این پی کے ڈڈلی سینا نائیک جب وزیر اعظم ہوئے تو انہوں نے بھی چیلوانائیکم کے ساتھ ایک سمجھوتہ کیا ،جسے ڈڈلی – چیلوانائیکم سمجھوتہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔یہ سمجھوتہ بھی ایک اچھا سمجھوتہ تھا جسے لاگو نہیں کیا جاسکا کیونکہ دوسرا فریق اس کی مخالفت کررہا تھا۔ اس سمجھوتے کو لاگو ہونے سے روکنے کے لئے انہوں نے بھی بودھ بھِکشوئوں کا سہارا لیا۔
جب یہ دونوں سمجھوتے لاگو نہیں ہوئے تو مایوسی کا دور شروع ہوا۔ 1970 تک سری لنکا ایک ڈومینین اسٹیٹ تھا۔ 1972 میں سریماوو بھنڈارنائیکے نے سری لنکا کو اس کا اپنا آئین دیا اور ہندوستان کی طرح سری لنکا بھی ایک جمہوریہ بن گیا۔ اس میں بھی تملوں کو بہت اختیار نہیں دیا گیا۔ اس کے بعد پُرامن احتجاج، دھرنا، بھوک ہڑتال وغیرہ شروع ہوئے۔ سیریماوو بھنڈارنائیکے کی پارٹی کو پارلیمنٹ میں بھاری اکثریت حاصل تھی۔ اپوزیشن کے صرف 8-9 ارکان پارلیمنٹ تھے۔وہ کچھ بھی کر سکتے تھے۔لہٰذا دو سمجھوتوں پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔نیا آئین بھی تملوں کے مسئلے کے حل کی سمت میں آگے نہیں جا سکا۔
پربھاکرن کا عروج اور مسلح لڑائی
جب آئین لاگو ہو گیا اور اس کا بھی کوئی اثر نہیں پڑاتو پربھاکرن اور نوجوانوں نے سوچا کہ ان پُرامن احتجاجوں ،ہڑتالوں وغیرہ سے کچھ نہیں ہوگااور اس طرح پھر مسلح آندولن شروع ہوا۔ یہاں یہ صاف کرنا ضروری ہے کہ پربھاکرن پہلا شخص نہیں تھا جس نے مسلح آندولن کی شروعات کی تھی۔یہ سہریٰ اوما مہیشورن کو جاتا ہے۔ اپنے ابتدائی دنوں میں پربھاکرن نے بھی اس کے ما تحت کام کیا تھا ۔اوما مہیشورن نے پلوٹے (پیپلس لبریشن آف تمل ایلم ) قائم کیا تھا۔ بہر حال پربھاکرن وہ شخص تھا جس نے جافنا کے میئر الفرڈ دوریپا کا قتل کیاتھا اور قبول کیا تھا کہ اسی نے قتل کیا ہے۔یہ لٹے کے ذریعہ کیا گیا پہلا سیاسی قتل تھا۔ دوریپا کسی مندر کے پروگرام میں حصہ لینے جافنا آئے تھے۔ان کا تعلق سیریماوو بھنڈارنائیکے کی پارٹی سے تھا جو کہ اس وقت اقتدار میں تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب لٹے کی بنیاد قائم ہوئی تھی۔ پربھاکرن ، مہامیشورن ،کُٹی منی ، دگ اور دوسرے لیڈر تھے جنہوں نے مل کر لٹے کی بنیاد ڈالی تھی۔ بعد میں وہ الگ الگ ہو گئے اور اپنی اپنی الگ تنظیم بنا لی۔ ایک وقت تھا جب تمل کاز کے لئے تقریباً 16-17 گروپ سری لنکا میں سرگرم تھے۔ ان گروپوں کو اندرا گاندھی کی طرف سے مدد ملی تھی۔ ٹیلو، ای پی آر ایل جیسے مسلح گروہوں کی ٹریننگ ہندوستان میں ہوئی تھی۔ ابتدا میں چھوٹے ہتھیاروں کا کچھ حصہ ہندوستان سے بھی آیا تھا۔ بعد میں انہوں نے سمندری راستے کا استعمال کر کے بہت سارے ہتھیار دوسرے ملکوں سے منگوایا۔ ان ملکوں میں یوروپ کے ملک بھی شامل تھے۔ ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ان کی ٹریننگ میں فلسطین کی ایک تنظیم بھی شامل تھی۔ ڈی ایف ایل پی ( ڈیموکریٹک فرنٹ فار لبریشن آف فلسٹائن ) کے جارج ہباش نے تمل لڑکوں کے لئے بہت سارے ٹریننگ کیمپوں کا بندوبست کیا تھا۔ لٹے کی ٹریننگ عام طور پر ہندوستان کے مدورئی ،تینجاوُر وغیرہ جگہوں پر ہوئی تھی۔ اس وقت جے آر جے وردھنے اقتدار میں نہیں تھے بلکہ سیریماوو اقتدار میں تھے۔ 1977 کے انتخابات میں جے وردھنے بھاری اکثریت کے ساتھ اقتدار پر قابض ہوئے تھے۔اس وقت تک ہندوستان اس مسئلے کے حل کے حق میں تھا۔ اندرا گاندھی اس لڑائی میںشامل ہونا نہیں چاہتی تھیں۔اس وقت تمل باغیوں نے لڑائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ تمل باغیوں کے خلاف سری لنکا کی حمایت میں امریکن آرمس گروپ بھی آگیا۔

 

 

 

 

 

 

جے وردھنے نے اس لڑائی کو ہلکے میں لیا
ہندوستان نے تملوں کی مدد کی۔ تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم جی رام چندرن نے کھلے عام تملوں کی مدد کی۔ جے وردھنے کو اندرا گاندھی پسند نہیں کرتی تھیں۔ مسز بی (سریماوو بھنڈارنائیکے ) کے ساتھ ان کے بہت اچھے تعلقات تھے ۔وہ گھریلوں دوستوں کی طرح تھے۔ نہرو کی طرح بھنڈارنائیکے نے بھی اپنی پڑھائی غیر ملکوں میں کی تھی۔ بہر حال جے وردھنے ،جو کہ ایک تجربہ کار سفارتی شخص تھے،مسز گاندھی سے اچھے تعلقات بنائے رکھنے میں ناکام رہے، سفارتکاری میں ذاتی تعلق بہت اہمیت رکھتا ہے۔ حالانکہ سریماوو کا اندرا گاندھی کے ساتھ اچھا رشتہ تھا۔ ہندوستان -پاکستان جنگ کے دوران سری لنکا نے پاکستان جہاز کی ری فیولنگ کی اجازت دی تھی، جسے اندرا گاندھی نے پسند نہیں کیا تھا۔ اس طرح کی چیزیں باربار نہ ہوں،اس کے لئے انہوں نے سیریماوو سے اچھے تعلقات بنائے رکھے اور تنائو کو کم کرنے کی کوشش کی۔ اس سے پہلے سری لنکا، ہندوستان کے لئے پہاڑی جزیرہ تھا جس کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔اسی بیچ بنگلہ دیش وجود میں آگیا ۔ اس کے بعد سری لنکا میںتملوں کی لڑائی شروع ہوئی۔ جے وردھنے نے ان چیزوں کو ہلکے میں لیا۔ انہوں نے انتخاب سے پہلے کہا تھا کہ جب وہ اقتدار میں آئیں گے تو ایک آل پارٹی کانفرنس بلائیں گے۔اس وقت تک مسلح باغیوں کی تعداد 100 سے زیادہ نہیں تھی۔ ان کی پالیسی ہٹ اینڈ رن کی تھی۔ ان کے پاس کوئی جدید ترین ہتھیار بھی نہیں تھے۔آل پارٹی کانفرنس کے ذریعہ انہیں آسانی سے مطمئن کیا جاسکتا تھا۔ سری لنکا کے تمل لیڈر اے امرتالنگم کے ساتھ بات چیت کر کے انہیں کچھ اختیار دے کر اس مسئلے کو وہیں ختم کیا جاسکتا تھا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ جے وردھنے نے سوچا کہ چیزوں کو توڑ مروڑ کر وہ صورت حال کو سنبھال لیں گے۔ یہ وہ وقت تھا جب تمل باغی منظم اور طاقتور ہو رہے تھے۔دراصل حقیقی شکل میں مسلح لڑائی کی شروعات یہیں سے ہوئی اور لٹے اس لڑائی کا اہم ہیرو بن گیا ۔اس دور کے بعد لٹے کے لئے تمل مسئلے کے حل کا اکلوتا طریقہ مسلح لڑائی رہ گئی۔ دوسرے تمل لیڈر بھی تھے جو اس بات میں یقین کرتے تھے کہ مسئلے کے حل کے لئے سیاسی طریقے اہم ہیں اور اس سے بہت کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے لیکن وہ بھی خاموش ہو گئے۔
بہر حال لٹے نے ایک دوسری پالیسی اپنائی اور انہوں نے دوسری تمل تنظیموں کے لیڈروں کا قتل کرنا شروع کردیا۔ وہ چاہتے تھے کہ تمل ایشو کے صرف وہی ایک پیروکار رہیں۔ اس لئے انہوں نے دوسرے تمل علاحدگی پسند تنظیموں کے لوگوں کو مارنا شروع کردیا۔ پربھاکرن یہ بھول گیا کہ ان تنظیموں کے لوگ بھی اسی مقصد کے لئے لڑائی کررہے ہیں جس کے لئے اس نے ہتھیار اٹھایا تھا۔ اس نے کولمبو میں اوما مہیشور ن کا قتل کروا دیا۔ یہ وہی اوما مہیشورن تھا جس کے تحت کبھی اس نے کام کیا تھا۔ لٹے نے عالمی شہرت یافتہ لبرل تمل لیڈر امرتا لنگم کا قتل کروایا۔امرتالنگم سری لنکا کے اپوزیشن کے لیڈر بھی تھے۔دراصل وہ نہیں چاہتے تھے کہ کوئی بھی،چاہے وہ تمل ہی کیوں نہ ہو، ان کے فیصلوں پر سوال کھڑا کرے۔ ان کے زوال کی یہ ایک بہت بڑی وجہ تھی۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا جافنا اور مشرقی خطہ میں جو تمل اکثریتی علاقے ہیں،لٹے کوان کی حمایت حاصل تھی؟دراصل یہ علاقے لٹے کے قبضہ میںتھے۔ یہاں سے انہوں نے دوسری تمام تنظیموں کو بھگا دیا تھا۔ انہوں نے گوریلا جنگ سے شروعات کی تھی جس نے بعد میں روایتی جنگی طریقہ کار کی شکل اختیار کرلی تھی۔انہوں نے حملے شروع کردیئے۔ ان کے پاس ہتھیاروں کا اچھا خاصہ ذخیرہ تھا۔ ان کا یونیورسل نیٹ ورک بن گیا۔ انہوں نے اپنے جہازوں کا بیڑا بنا لیا۔ یہاںتک کہ انہوں نے بحریہ فورس بھی تیار کر لیا تھا اور اپنے آخری دنوں میںانہوں نے ایک فضائیہ بھی تیار کرلیا تھا۔
اندرا گاندھی نے سری لنکا میں تملوں کی حمایت کی تھی
یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ان کا سب سے بھیانک ،سب سے غلط اور سب سے بے ترتیب کارروائی راجیو گاندھی کا قتل تھا۔ دراصل راجیو گاندھی کے قتل نے ان کے زوال کو یقینی کر دیا۔ بہر حال ایک بار اور تھوڑا پیچھے چلتے ہیں۔یہ تو صاف ہو گیا کہ اندرا گاندھی نے سری لنکا میںتملوں کی حمایت کی تھی۔ 1984 میں ان کے قتل کے بعد ان کے بیٹے راجیو گاندھی وزیر اعظم بنے ۔راجیو گاندھی نے بھی تملوں کی مدد کی۔ انہوں نے نہ صرف پرانی پالیسی کو جاری رکھا بلکہ انہوں نے سری لنکا کے ساتھ ایک سمجھوتہ بھی کیا تھاجس کے تحت انہوں نے انڈین پیس کیپنگ فورسز ( آئی پی کے ایف ) کو سری لنکا بھیجا تھا۔ دراصل آئی پی کے ایف کی حیثیت ایک امن فوج کی تھی۔لیکن اس نے بھی لٹے کو مشتعل کردیا۔اس کے بعد ان پر بم پھینکے گئے۔گولیاں چلائی گئیں۔ کئی طرح کے فریب سے ان کو مارا گیا۔ اسی دوران سری لنکا کی بحریہ نے سمندرسے لٹے کے 12 جنگجوئوں کو گرفتار کر لیا۔ انہیں جافنا میں رکھا گیا۔ لٹے ان کی رہائی کی مانگ کررہے تھے لیکن سری لنکا سرکار انہیں کولمبو لا کر جانچ کرنا چاہتی تھی۔اس بیچ کسی نے ان قیدیوں تک سائناڈ پہنچا دیا جسے کھا کر ان سبھی نے خود کشی کر لی۔ اس سانحہ کے بعد لٹے نے آئی پی کے ایف پر براہ راست حملے شروع کردیئے۔
پربھاکرن کو چھوڑنے کے لئے ہندوستانی فوجی افسروں کو نئی دہلی کا فرمان
بہر حال یہ ایک محدود لڑائی تھی۔لٹے کو توقع تھی کہ ہندوستان انہیں پوری طرح حمایت دے گا لیکن انہیں وہ حمایت نہیں ملی۔ آئی پی کے ایف کی سری لنکا میں آمد کے بعد سبھی مسلح تنظیموں نے آئی پی کے ایف کو اپنے ہتھیار سونپ دیئے لیکن لٹے نے صرف پرانے ہتھیار سونپے اور جو جدید ہتھیار تھے انہیں اپنے پاس ہی رکھا۔ پھر انہوں نے آئی پی کے ایف کے خلاف مورچہ کھول لیا اور آئی پی کے ایف کے خلاف لٹے کی جنگ شروع ہو گئی۔ حالانکہ یہ ایک بھیانک لڑائی تھی لیکن ہندوستان کے لئے یہ محدود لڑائی تھی ۔جس طرح ہندوستان نے پاکستان کے خلاف آل آئوٹ وار کیا تھا ، ویسی لڑائی یہاں ہوتی تو آئی پی کے ایف نے لٹے کا کام تمام کردیا ہوتا۔ لہٰذا یہ لڑائی آئی پی کے ایف نہیں جیت سکی۔ اس دوران ایک واقعہ اس وقت ہوا جب آئی پی کے ایف نے پربھاکرن کو گھیر لیا تھا۔ اس کارروائی میں یا تو وہ مارا جاتا یا پھر گرفتار کرلیا جاتا لیکن ہندستانی فوج کے افسروں کو نئی دہلی سے فرمان آیا کہ پربھاکرن کے گرد بنایا گیا گھیرا توڑ دیں۔ اس طرح پربھاکرن گرفتار نہیں ہوسکا۔ یہ حکم دہلی سے آیا تھا۔ اس وقت ظاہر ہے کہ راجیو گاندھی وزیراعظم تھے۔ ہندوستانی فوج نے بھاری ہتھیاروں کا استعمال نہیں کیا۔ اگر بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا ہوتا تو آئی پی کے ایف نے وہ جنگ جیت لی ہوتی۔
بہر حال اس دوران پربھاکرن نہ صرف شمالی اور مشرقی سری لنکا میں مشہور ہو گیا تھا بلکہ وہ وسط سری لنکا کے کینڈی علاقے میں رہنے والی ہندنژاد کے لوگوں کا بھی ہیرو بن گیا تھا۔ یہاں کے تملوں نے لٹے کو حمایت دی۔ تملوں کے اوپر اس کا اثر اتنا گہرا تھا کہ آج بھی بہت سارے تمل ہیں جو یہ مانتے ہیں کہ وہ زندہ ہے لیکن یہ سچ نہیں ہے ۔اگر ایسا ہوتا تو سرکار اپنی فوجوں کے بیرک نہیں ہٹائی ہوتی۔ جافنا سے فوج نے سب کچھ ہٹا لیا ہے۔ آج کوئی بھی شمالی سری لنکا میں بغیر کسی خوف کے آجاسکتا ہے۔ اگر پربھاکرن زندہ ہوتا تو یہ ممکن نہیں تھا۔
چین، پاکستان اور ہندوستان نے کی تھی سری لنکا کی مدد
پربھاکرن 2009 میں صدر مہندا راج پکشے کے دور حکومت میں مارا گیا تھا۔ اس کی شکست میں مہندا راج پکشے کے بھائی گوتابیا راج پکشے کا بڑا کردار تھا۔ گوتابیا راج پکشے ایک سخت گیر ڈیفنس سکریٹری تھے۔ انہوں نے بڑی ہوشیاری سے اس جنگ کی پالیسی بنائی اور اسے آپریٹ کیا۔ انہیں اس کام کے لئے چین ، پاکستان اور ہندوستان کی حمایت ملی۔ اس وقت ہندوستان میں کانگریس کی قیادت میں یو پی اے کی سرکار تھی۔ سونیا گاندھی اس سرکار کی چیئرپرسن تھیں۔ انہوں نے کھلے دل سے راج پکشے کی حمایت کی۔ ظاہر ہے لٹے نے ان کے شوہر راجیو گاندھی کا قتل کیا تھا۔ لہٰذا لٹے کے لئے ان کے دل میں کوئی ہمدردی نہیں تھی۔ لٹے کے خلاف آخری لڑائی میںہندوستان نے سمندری راستے کو پوری طرح سے گھیر لیا تھا۔ ہندوستان نے خفیہ جانکاریوں کے معاملہ میں بھی سری لنکا کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے لٹے کے جہازوں کو پہچاننے میں سری لنکا کی مدد کی ،جسے بعد میں سری لنکا نے نشانہ بنایا۔ہندوستان نے لٹے کو ہتھیار سپلائی کے سارے راستے بند کر دیئے تھے۔غور طلب ہے کہ سری لنکائی بحریہ بہت طاقتور نہیں تھی۔ ہندوستان کی حمایت کے بغیر سری لنکا کو جنگ جیتنا آسان نہیں ہوتا۔ جانکاروں کا ماننا ہے کہ لٹے کی بحریہ صلاحیت سری لنکا سے کافی بہتر تھی۔ لٹے نے سمندر میں بھی ڈبل انجن کے گن بوٹوں کے ذریعہ بھی گوریلا حملے کئے تھے۔ جہاں تک ہتھیاروں کا سوال ہے تو وہ بڑے جہازوں سے آتے تھے۔ ان کا مقابلہ کرنے کے لئے سری لنکا سرکار نے اسپین سے تیز رفتار گن بوٹ منگوائے۔ چین نے بھی اس معاملے میں سری لنکا سرکار کی مدد کی، پاکستان نے بھی مدد کی، ہندوستان نے سری لنکا کو راڈار سسٹم سے حمایت کی۔ آخری لڑائی کے دوران ہندوستان تذبذب کی حالت میں تھا۔ یہاں پاکستان اپنا کردار نبھا رہا تھا ،چین اپنا کردار نبھا رہا تھا۔ہندوستان کے لئے دشواری یہ تھی کہ اگر اس نے سری لنکا سرکار کو حمایت نہیں دی تو علاقائی پاور بیلنس بگڑ جاتا ۔ آخر میں انہوں نے سری لنکا سرکار کو حمایت دینے کا فیصلہ کیا۔ راجیو گاندھی کے قتل نے بھی اس فیصلے کو آسان بنا دیا تھا۔
سرکار تملوں کو کچھ بھی دینے کے لئے تیار نہیں 
پربھاکرن کے خاتمے کے بعد مسلح لڑائی تو ختم ہو گئی لیکن جو مسائل ہیں،وہ جوں کے توں برقرار ہیں۔جن مسائل کو لے کر چیلانائیکے اور دوسرے لوگوں نے لڑائی کی تھی، ان مسائل کا حل نہیں ہوا ہے۔ جو بے روزگاری پہلے تھی، وہ اب بھی ہے۔تعلیم کی کمی ہے، جو پہلے تھی وہ اب بھی ہے۔ سیاسی آزادی کا فقدان جو پہلے تھا وہ اب بھی ہے۔ سری لنکا کے فیڈرل اسٹرکچر میں خود مختاری کی مانگ اب بھی ہے ،یہ خود مختاری علاحدگی پسندی نہیں ہے بلکہ اقتدار میں حصہ داری کی خود مختاری ہے۔ جس طرح ہندوستان کے فیڈرل اسٹرکچر میں ریاستوں کو اقتدار میں حصہ داری ملی ہے ،ویسی حصہ داری کی مانگ ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب اقتدار میں حصہ داری کی بات ہوتی ہے تو سنہلی اور سری لنکا سرکار اسے علاحدگی پسند ی کی مانگ سمجھنے لگتے ہیں۔ سرکار تملوں کو کچھ بھی دینے کے لئے تیار نہیں ہے
سری لنکا میں کل 9 پروونشیل کونسل ہیں۔ ان کونسلوں کا پولیس پر کنٹرول نہیں ہے،زمین پر ان کا کنٹرول نہیں ہے، عدالتیں ان کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔ سرکار انہیں اس طرح کے اختیار دینے سے ڈرتی ہے۔ سرکا رسوچتی ہے کہ ایسا کرنے سے یہ ہندوستانی ریاستی تمل ناڈو کے قریب ہو جائیں گے اور ایک بار پھر گریٹر تمل لینڈ کی بات شروع ہو جائے گی۔ اس نظریہ سے دہلی کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔ جافنا کے لوگوں کے پاس عوامی اختیار (پیپلس رائٹس ) نہیں ہے۔بقیہ کے 8 صوبوں میں اس طرح کی سیاسی خود مختاری کے لئے کوئی مانگ نہیں ہے۔ صرف شمالی خطہ یعنی جافنا کے لوگ اقتدار میں حصہ داری کی مانگ کرتے ہیں۔ بقیہ 8 صوبوں میں دو اہم سنہلی پارٹیاں ہیں، وہی انتخابات لڑتی ہیں اور علاقائی کونسل پر انہی کا قبضہ رہتا ہے۔ انہیں سارا اختیار نہیں چاہئے ۔سبھی اعلیٰ سرکاری عہدوں پر سنہلی ہی براجمان ہیں۔ دراصل یہ مسائل نادرن ایسٹ کے مسائل ہیں۔ اسی مسئلے کے حل کے لئے راجیو گاندھی کے وقت میں ہندو سری لنکا معاہدہ ہوا تھا۔ جس کے نتیجے میں علاقائی کونسل وجود میں آئی تھی۔ یہاں یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ ہندوستان نے دو صوبے بنائے جانے پر زور دیا تھا۔ جے وردھنے نے 9صوبے اس لئے بنائے تاکہ مشرقی علاقے کو شمالی علاقے سے الگ رکھا جائے۔ سری لنکا کے 9صوبے ہیں ،جافنا (ناردن )، کورونیگالا ( نارتھ ویسٹرن )، کولمبو (ویسٹرن )، انورادھا پورا ( نارتھ سینٹرل ) ، کینڈی ( سینٹرل )، رتن پورا ( سبراگامووا )، ٹرینکوملی ( ایسٹرن )، بدولا (اووا ) اور گالے (سدرن )۔
مشرقی خطہ کا ٹرینکوملی ایک نیچرل ہاربر ہے۔ یہ اسٹریٹجک نقطہ نظر سے بہت اہم ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے وقت برطانیہ نے اس جگہ کا استعمال تیل کو اسٹور کرنے کے لئے کیا تھا۔ انہوں نے یہاں 99 بڑے تیل کے ٹینک بنوائے تھے۔اسے ٹینک فارم کہتے ہیں۔ ہندوستان اس ٹینک فارم میں دلچسپی رکھتا ہے۔ چین کو یہ پسند نہیں ہے۔ہندوستان ٹرینکوملی ہاربر اور ٹینک فارم کو آپریٹ کرنے کی مانگ کرتا رہا ہے۔ راجیو گاندھی کے وقت میں ہوئے ہند- سری لنکا سمجھوتے میں بھی اس کا ذکر تھا۔
تمل نیشنلزم ایک بار پھر چرچا میں
ناردرن میں اہم سیاسی پارٹی ٹی این اے (تمل نیشنل الائنس ) ہے۔یہ چار پارٹیوں کا الائنس ہے۔ ان کی نمائندگی پارلیمنٹ میں بھی ہے۔ موجودہ پارلیمنٹ میں ان کے 17 ارکان ہیں۔ جافنا کے سی ایم سی وی ودھنیشورم ہے۔ وہ ماضی میں سری لنکا کے اپیل کورٹ کے چیف جسٹس رہ چکے ہیں۔جب جافنا میں انتخابات کی بات آئی تو مہندا راج پکشے چاہتے تھے کہ یہاں کوئی اعتدال پسند شخص سی ایم بنے، کیونکہ اسے سنبھالنا کافی مشکل کام تھا۔ لہٰذا انہیں ودھنیشورم اس کام کے لئے صحیح لگے۔ وہ کوئی لیڈر نہیں تھے۔ وقت گزارنے کے لئے وہ تمل ادب پر لیکچر دیا کرتے تھے۔ انہیں سی ایم کے لئے چنا گیا اور لوگوں نے ان کی حمایت کی ۔اب وہ تمل نیشنلزم کی بات کرنے لگے ہیں۔ اب وہ بھی وفاقی نظام کی مانگ کرنے لگے ہیں۔ سری لنکا کے سب سے بڑے بدھسٹ مونک کو مہانائک کہتے ہیں۔حالیہ دنوں میں ان کی سیاسی طاقت بہت بڑھی ہے۔ اس کے مد نظر سی وی مدھنیشورم نے موجودہ مہا نائکے تباتووائے شری سومنگلا تیرا سے ملاقات کر کے وفاقی نظام پر بات چیت کی اور انہیں بتایا کہ وفاقی نظام کوئی غلط لفظ نہیں ہے۔ ہندوستان میں سے اپنایا گیا ہے۔
سری لنکائی تملوں کو ہندوستان سے امید
سری لنکا کی معیشت خستہ حال ہے۔ موجودہ سرکار کا کہنا ہے کہ پچھلی راج پکشے سرکار نے پیسے کی بہت ہیرا پھیری کی۔ بد عنوانی اپنے زوروں پر تھی۔ وہیں غیر ملکوں سے لئے گئے قرض کو واپس کرنا تھا، اس لئے سری لنکا اقتصادی ترقی پر دھیان مرکوز نہیں کرسکا۔ جب نئی سرکار آئی تو اس نے سری لنکا میں بہت ساری غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کیا۔لیکن مغربی طاقتوں نے انسانی حقوق کے سوال کھڑے کر دیئے ہیں۔ وہ لاپتہ لوگوں کے بارے میں سرکار سے جانکاری چاہتے ہیں۔ لہٰذا غیر ملکی سرمایہ کاری میں یہ شرط لاگو ہو گئی ہے۔ یہاں امریکی سرمایہ کاری بہت کم ہے۔ سری لنکا نے امریکہ سے بڑی سرمایہ کاری کی امید باندھ رکھی تھی۔ سری لنکا میں سب سے بڑاسرمایہ کار چین ہے اور ایسا ہندوستان کی وجہ سے ہے۔ چین ماڈرن سلک روٹ بنا رہا ہے۔اس میں’ ون کنٹری ون روڈ‘ کا خاکہ تیار کیا گیا ہے۔ اسٹریٹجک نقطہ نظر سے انتہائی اہم سری لنکا کے ہمبن ٹوٹا پورٹ کو ڈیولپ کرنے کا کنٹریکٹ چین کو مل گیا ہے۔ حالانکہ چین کا انٹریسٹ ریٹ زیادہ ہے۔ حال ہی میں امریکی سفیر نے کہا کہ ہم سافٹ لون دیتے ہیں جبکہ چین نارمل لون دیتا ہے جسے ادا کرنا ہوتا ہے۔ اب سری لنکا میں اقتصادی لڑائی ہندوستان اور چین کے بیچ میں ہے۔
کپڑا ،سیاحت اور چائے آج بھی سری لنکا کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ یہاں لوگ سمندر کنارے جیسے ہمبن ٹوٹا وغیرہ جگہوں پر، وقت گزارنے آتے ہیں ۔یہاں لوگ کینڈی جاتے ہیں۔یہاں کے سمندری بیچ سب سے زیادہ مقبول ہیں۔یہی سب آمدنی سری لنکا کے بنیادی ذرائع ہیں۔یہاں بے روزگاری کا اوسط کافی اونچا ہے۔ سرکار دو تین برس میں ایک ملین نوکریاں پیدا کرنا چاہتی ہے لیکن کئی مسائل ہیں۔ حقوق انسانی سے متعلق مسائل ہیں۔ یہ سرکار سابقہ سرکار کے مقابلے میں کافی بہتر ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہاں سنہلی اکثریت کو مطمئن کرنا پڑتا ہے۔ جب بھی سرکار اقلیتوں کو کچھ اختیار دینے کی بات کرتی ہے ،اسے اکثریت کی مخالفت کا سامناکرنا پڑتا ہے۔یہاں تمل اور مسلم اقلیت میں ہیں جبکہ سنہلی بدھسٹ اکثریت میں ہیں جن کی تعداد تقریبا 73فیصد ہے ۔تمل اور مسلم سیاسی طور سے متحد ہیں۔ موجودہ سرکار اقلیتوں کے ووٹ کی وجہ سے اقتدار میں آئی ہے۔ اقلیتوں نے ایک مشت صدر شری سینا کو ووٹ دیا ۔
جہاں تک سسٹم میں بدعنوانی کی بات ہے تو ہندوستان کی طرح سری لنکا میں بھی بدعنوانی کافی ہے۔ یہاں کی سنہلی آبادی بھی تملوں کی طرح سے ہندوستان سے آئی ہے۔ اگر تاریخی طور سے دیکھیں تو سنہلی موجودہ بنگلہ دیش سے آئے ہیں۔ سماجی طور پر اقلیت اور اکثریت کے درمیان کوئی تشدد یا ٹکرائو نہیں ہے۔جہاں تک سیاسی ٹکرائو کا سوال ہے تو وہ الگ بات ہے۔ شمالی سری لنکا کے تمل آج بھی ہندوستان سے یہ امید لگائے بیٹھے ہیںکہ وہ اس مسئلے کے حل میں ان کی مدد کرے گا ۔یہاں کے لوگوں نے نریندر مودی کا زبردست استقبال کیا تھا۔ لیکن جہاں تک تملوں کا سوال ہے وہ کسی فرد نہیں، بلکہ ہندوستان کی مدد چاہتے ہیں۔ کرکٹ کی ایک مثال اس بات کو سمجھنے کے لئے کافی ہوگی کہ جب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کوئی کرکٹ میچ ہوتا ہے تو سری لنکا کے تمام تمل ہندوستان کی حمایت کرتے ہیں۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *