خصوصی رپورٹ ملائم کو کیسے بے دخل کیا گیا؟

اکھلیش یادو نے ملائم سنگھ یادو کے ساتھ کلیگی بیٹے کی طرح سلوک کیا اور رام گوپال یادو نے کلیگی بھائی کا۔ لکشمن جیسا بھائی ہونے کادعویٰ کرنے والے شیو پال یادو سے دھوکا کھاکر ملائم نے اکھلیش کو جانشینی سونپنے کے لیے جس طرح کی بے معنی تکڑم کی، اس کا صحیح تحفہ اکھلیش اور رام گوپال نے انھیں سماجوادی پارٹی کے شامیانے سے باہر کا راستہ دکھا کردے دیا۔ نریندر مودی میں تو پھر بھی آنکھ کی لاج بچی تھی کہ انھوں نے لال کرشن اڈوانی اور مرلی منوہر جوشی جیسے لیڈروں کو بی جے پی کا سرپرست ڈکلیئر کرکے ان کا احترام کیا، لیکن اکھلیش نے تو اتنی بھی مریادہ پر عمل نہیںکیا۔ اکھلیش کی صدارت والی سماجوادی پارٹی میں شیو پال کو کوئی جگہ نہیں دی جائے گی، یہ شیو پال کو چھوڑ کر سب کو پتہ تھا لیکن ملائم کو بھی دودھ کی مکھی بنا دیا جائے گا، سیاست میں اتنی گراوٹ ہونے کے بارے میں لوگوں نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔
پارٹی رام گوپال کی مٹھی میں
اب پارٹی پوری طرح رام گوپال یادو کی مٹھی میں ہے۔ اکھلیش قومی صدر ہونے کا مغالطہ پالے رہیں۔ آگرہ اجلاس کے بعد لوگوں کو دیوالی کاانتظار تھا۔ ایسے اشارے ملے تھے کہ ملائم کچھ بولیں گے لیکن چالاک رام گوپال نے اس سے قبل ہی مجلس عاملہ کی فہرست جاری کردی۔ اپنے ہی دستخط سے جاری فہرست میں رام گوپال نے اپنی ترقی بھی کرلی اور خود کو پارٹی کا چیف سکریٹری ڈکلیئر کردیا۔ رام گوپال نے قومی مجلس عاملہ میںاپنے چٹے بٹے سارے اکٹھے کرلیے۔ اپنے نو سکھئے بیٹے اکشے یادو کو قومی مجلس عاملہ میں خصوصی مدعو رکن کی حیثیت دے دی لیکن بدایوں سے لگاتار رکن پارلیمنٹ رہے دھرمیندر یادو کو مجلس عاملہ کا رکن بھی نہیںبنایا۔ رام گوپال نے اپنے خاص لوگوں کو مجلس عاملہ میںعہدیدار بنایا اور اکھلیش کے خاص لوگوں کو ممبرگیلری میںرکھ دیا۔ اکھلیش -رام گوپال نے سماجی اخلاق کو بھی طاق پر رکھ کر جاوید عابدی جیسے لوگوںکو قومی سکریٹری مقرر کردیا۔ عابدی کچھ ہی عرصہ قبل دہلی میںعصمت فروشی کے انٹرنیشنل ریکٹ سے جڑے سرغنہ سے نزدیکی تعلقات کے سبب سرخیوں میںآئے تھے۔
قومی مجلس عاملہ کی فہرست دیکھیں تو آپ کو رام گوپال کے ارادے سمجھ میں آئیں گے۔ جیا بچن، احمد حسن، رام گووند چودھری، ابو عاصم اعظمی، چندر پال سنگھ یادو، جاوید علی خاں،نیرج شیکھر، ایس آر ایس یادو، اروند کمار سنگھ، رام آسرے وشو کرما، اوشا ورما، جوہی سنگھ، رام ہری چوہان، رام دلار راج بھر، ونود سویتا، ڈاکٹر لاکھن سنگھ، ڈاکٹر رنجن سین، ارون دوبے، راجیو رائے، سنتوش دویدی، جگدیپ سنگھ یادو، اویناش کشواہا، اجول رمن سنگھ، سنجے لاٹھر اور راجپال کشیپ ایس پی کی قومی مجلس عاملہ کے ممبر بنائے گئے ہیں۔جبکہ جوئے انٹونی،رام پوجن پٹیل، ڈاکٹر مدھو گپتا،کمال ختر، ابھشیک مشر، راجندر چودھری، رمیش پرجا پتی،پی این چوہان، ارونا کوری اور جاوید عابدی کو پارٹی کا قومی سکریٹری بنایا گیا ہے۔ قومی جنرل سکریٹری کے عہدے پر اعظم خاں، نریش اگروال، روی پرکاش ورما، سریندر ناگر، بلرام یادو، وشمبھر پرساد نشاد، اودھیش پرساد، بی ایس پی سے آئے اندرجیت سروج، رام جی لال سمن اور رما شنکر ودیارتھی راج بھر کو نامزد کیا گیا ہے۔ کرنمے نندا کو پھر سے نائب صدر او ر دھنا سیٹھ سنجے سیٹھ کو خزانچی بنایا گیا ہے۔ مجلس عاملہ میںمئو کے الطاف انصاری،دیوریا کے کسان سنگھ سینتھوار،سون بھدر کے ویاس گونڈ، فیروز آباد کے اکشے یادو (رام گوپال کے بیٹے)، لکھنؤ کے محمد اقبال قادری اور آگرہ کے شیو کمار راٹھور کو خصوصی مدعو رکن بنایا گیا ہے۔ اس طرح پارٹی میںاب ایک نائب صدر، ایک چیف سکریٹری، ایک خزانچی، 10جنرل سکریٹری،10 سکریٹری، 25مجلس عاملہ کے رکن اور چھ خصوصی مدعو رکن ہوں گے۔

 

 

 

 

 

 

افراتفری مچی ہوئی ہے
اسمبلی میںاپوزیشن کے لیڈر رام گووند چودھری اور قانون ساز کونسل میںاپوزیشن کے لیڈر احمد حسن کی حیثیت قومی مجلس عاملہ میںممبر ہونے کی ہے۔ قومی سکریٹریوںکی فہرست دیکھیں تو سینئرٹی اور تجربہ کس ترجیح پر آتے ہیں، پتہ چل جائے گا۔ ایس پی سرکار کے پورے دور میںاکھلیش اور ملائم کا جاپ کرتے رہے اروند سنگھ گوپ کو اکھلیش نے محض اس لیے ڈھکن کردیا کہ گوپ نے ملائم کا نام کیوںلیا! اکھلیش کے وزیر اعلیٰ کے دور میں اروند سنگھ گوپ کافی طاقتور رہے لیکن اچانک انھیں کاٹ کر چھوٹا کردیا گیا۔ آگرہ قومی اجلاس کے پہلے جو ریاستی تنظیم تشکیل ہوئی، اس میںبھی گوپ کا نام ندارد تھا۔ پارٹی لیڈروں کو لگا کہ گوپ کا نام قومی مجلس عاملہ میںآسکتا ہے لیکن وہاںسے بھی گوپ کا نام گول کردیا گیا۔ ریاستی صدر بنے نریش اتم پٹیل نے جو 70 رکنی ریاستی مجلس عاملہ کا اعلان کیا تھا، اس میں23 سکریٹری، ایک خزانچی اور 46 ممبر شامل کئے گئے لیکن گوپ کو کہیںجگہ نہیں ملی۔ غازی پور کے اروند کمار سنگھ کو ریاست میںبھی سکریٹری بنایا گیا اور انھیں قومی مجلس عاملہ کا بھی ممبر بنایا گیا۔ اسی طرح اجول رمن سنگھ ، رام ہری چوہان، رام دلار راج بھر، لاکھن سنگھ پال، ڈاکٹر راجپال کشیپ ریاستی مجلس عاملہ میںبھی ہیں اور قومی مجلس عاملہ میںبھی انھیںجگہ دی گئی ہے، لیکن اروند سنگھ گوپ کے لیے کوئی جگہ نہیں بنائی گئی۔
قومی مجلس عاملہ میںایس پی سرپرست ملائم سنگھ یادو کا نام نہیں ہونے کے بارے میںپوچھنے پر پارٹی کے نئے قومی سکریٹری راجندر چودھری نے کہا کہ وہ اس بارے میںکچھ نہیں کہہ سکتے۔ انھوںنے کہا کہ ایس پی کے آئین میں سرپرست کے عہدے کا کوئی پروویژن نہیںرکھا گیا ہے۔ اکھلیش وادی سماجوادی پارٹی کی قومی مجلس عاملہ نے یہ صاف کردیا کہ شیو پال یادو کو اپنا الگ راستہ چننا ہی ہوگا۔ شیو پال امید لگائے بیٹھے تھے کہ اکھلیش آخری وقت میںبھی چاچا کا خیال رکھیں گے۔ اسی امید سے انھوںنے اکھلیش کو پیشگی بدھائی بھی دی تھی لیکن شیو پال کی ساری امیدیں دم توڑ گئیں۔ ریاست کی مجلس عاملہ پہلے ہی تشکیل ہوچکی ہے اور نریش اتم پانچ سال کے لیے ریاستی صدر چنے جا چکے ہیں۔ شیو پال قومی جنرل سکریٹری یا ریاستی صدر ہونے کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن اب اس کا بھی کوئی امکان نہیںرہا۔ اب شیو پال کے پاس نئی پارٹی تشکیل کرنے یا کسی دیگر پارٹی میںشریک ہونے کے علاوہ کوئی متبادل نہیںبچا۔ سیاسی ماہرین مانتے ہیںکہ شیو پال نے فیصلہ لینے میںتاخیر کردی۔ سیاست کے میدان میںاکھلیش اور رام گوپال نے مل کر انھیںچت کردیا۔ ملائم نے بھی اس میںاپنا رول ادا کیا۔ شیو پال کے نزدیکی کہتے ہیںکہ شیو پال جلدہی نیا دھماکہ کریںگے لیکن انھیں کوئی کیسے سمجھائے کہ دھماکے کا بھی وقت ہاتھ سے چھوٹتا جارہا ہے۔

 

 

 

 

 

 

سینئروںکو نظرانداز کرنے سے کیا ملا؟
اکھلیش کا مغالطہ دور نہیںہورہا۔ اکھلیش کو گھیرے بیٹھے چاپلوس انھیںزمینی اصلیت بتاتے بھی نہیں ۔ والد ملائم ، چاچا شیو پال اور پارٹی کے دیگر سینئروں کو نظرانداز کرکے اکھلیش کیاحاصل کر لیں گے، اس کا انھیں2017 کے اسمبلی انتخابات کے نتائج سے احساس ہوجانا چاہیے تھالیکن اکھلیش کی نظر ابھی بھی حقائق کی طرف نہیںجاپارہی ہے۔ والد ملائم سنگھ کونظرانداز کرنے کی حرکت سے نہ صرف اتر پردیش بلکہ پورے ملک کا روایتی مڈل کلاس شہری گروپ دکھی اور ناراض ہوا۔ اس کا نتیجہ اکھلیش کو اسمبلی انتخابات میںبھگتنا پڑا لیکن ان میں پھر بھی کوئی سمجھ نہیںآرہی۔ سماجوادی خاندان سے جڑے ایک نزدیکی نے کہا کہ اکھلیش سیاسی فائدے کے لیے ملائم کو نظرانداز کر رہے ہیں یا ملائم کے کسی اندرونی سلوک سے دکھی ہوکر اکھلیش نے ایسا سخت قدم اٹھایا، اسے گہرائی سے سمجھنا پڑے گا۔ سماجوادی خاندان کے اس خاص شخص کے اس بیان میںکافی دم ہے۔ لیکن جہاں تک سیاسی مستقبل کا تعلق ہے، ماہرین کا ماننا ہے کہ اکھلیش کو پارٹی کے سینئروںکا احترام قائم رکھنے کی سمت میں آگے بڑھ کر کام کرنا چاہیے تاکہ پوری ریاست میں ایک اچھا پیغام جائے۔ ان ہی ماہرین کا کہنا ہے کہ اکھلیش یادو اس بارے میںبغیر سوچے لگاتار نقصان کیے چلے جارہے ہیں۔ تازہ سرگرمیوں کے سبب تو عام لوگوں کی نظرمیںپارٹی اور بھی نیچے چلی گئی ہے۔ باپ -بیٹا تنازع کے علاوہ اکھلیش نے کئی ایسے سیاسی فیصلے بھی لیے، جس نے پارٹی کا بیڑا غرق کردیا۔ سیاسی ماہرین یہ مانتے ہیںکہ اتر پردیش میںایس پی – کانگریس کا اتحاد نہیںہوا ہوتا تو ایس پی نسبتاً زیادہ سیٹیںجیتتی۔ عام شہری کہتے ہیںکہ اکھلیش کے ترقی کے سیاسی نعرے کو عوام نے اس لیے خارج کردیا کیونکہ اکھلیش نے خاندانی مریادہ کے تقاضے کو خارج کرنے کا کام کیا۔ اکھلیش کو یہ غلط فہمی تھی کہ ان کے نام اور چہرے پر وہ الیکشن میںبازی مار لیںگے،اسی ارادے سے انھوںنے اپنے والد ملائم کا چہرہ سائڈ لائن کردیا، اس پر اترپردیش کے ووٹروں نے انھیںہی سائڈ لائن کردیا۔ اکھلیش یادو نے نہ خود کو عام لوگوںسے جوڑا اور نہ ہی پارٹی کی ایسی شبیہ بنائی۔الٹے انھوںنے عوام میںیہ پیغام دیا کہ پارٹی قائم کرنے والے ملائم سنگھ یادو اور شیو پال یادو جیسے سینئر لیڈروںکی بھی ایسی تیسی کی جاسکتی ہے۔ دوسری طرف اکھلیش اور راہل نے مل کر عوام کے سامنے راجا اور پرجا کی صاف صاف الگ الگ لائن کھینچ کر دکھانے کی عوامی طور پر کوشش کی۔ اکھلیش جتنا ہی راجا بننے کی کوشش کرتے رہے،عوام انھیںاتنا ہی زمین کی دھول مٹی چٹانے میںجٹے رہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *