دہلی میں بھی سرسیدکویادکیاگیا

sir-syed
1857کی اُتھل پُتھل مسلمانان ہند کے لیے قیامت سے کم نہیں تھی۔جس نے ان کی پوری بساط ہی الٹ کر رکھ دی ۔مگر اس کا مثبت فائدہ یہ بھی ہوا کہ اسی طوفان نے انھیں بیدارکیا اور جھنجھوڑکر رکھ دیا۔پھر جب وہ ہوش میں آئے تو خدا نے انھیں سرسید احمد خاں جیسا سالارکارواں اور مدبرو مفکر بخش دیا۔چنانچہ انقلاب 1857میں جن فکر مندوں مستقل پلاننگ کے ساتھ نے اس قوم کی رہنمائی کا بیڑا اٹھایا ان میں سرسید احمد خاں کا نام نامی سرفہرست ہے۔سرسید احمد خاں ،کو اللہ تعالیٰ نے بچپن سے ہی قومی بیداری اور کچھ کر گزرنے کے جذبات سے سرشار کیا تھا جنھیں اس انقلاب نے اور ہوا دیدی جس کے بعد ان کے اندر چھپے ان جذبات کو جیسے آگ لگ گئی اور ہندوستانی قوم کی بیداری کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ان کی آواز حق پر اس زمانے میں لبیک کہنے والے بھی مل گئے جنھوں نے ان کے مشن اور فکر کو سمجھا اور اسے ہندوستانی بیمار قوم کے لیے ایک زندگی بخش دوا اور وسیلہ سمجھ کر مشن سرسید کے لیے کمربستہ ہوگئے ۔مگر اسی دور میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو سرسید اور ان کے رفقا کے متعلق متعدد قسم کی لاف گزاف کرتے تھے لیکن ہمت و کوشش کے متوالوں نے اس کی کوئی پروا نہیں کی اور اپنے مشن میں مصروف رہے۔کچھ عرصے بعد وہ مخالف آوازیں تھم گئیں اور یہ کاروان حیات ہندوستانی قوم میں بیداری دائمی نیند سے ہوشیاری کے چراغ جلاتے چلے گئے جن کی روشنی آج تک ہے۔
مذکورہ خیالات کااظہار آج بدھ کویہاں پنجابی بستی میں پیس انڈیا فاؤنڈیشن کی جانب سے منعقدہ یوم سرسید پر خصوصی تقریب سے خطاب کر تے ہوئے شعبۂ اردو کروڑی مل کالج،دہلی یونیورسٹی کے سینئر استاذ ڈاکٹر محمد یحییٰ صبا نے کیا۔انھوں نے مزید کہا کہ سرسید احمد خاں صرف ایک نام ہی نہیں بلکہ زندہ و جاوید رہنے والی تحریک ہے جس سے ہر دور کی نسلیں فیضیاب ہوئی ہیں اور ہوتی رہیں گی۔ان کی تعلیمی و تہذیبی کوششوں کے بعد یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ وہ علم و دانش اور تہذیب و تمدن کا استعارہ ہیں ۔انھوں نے مزید کہا کہ ایک علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہی نہیں بلکہ سینکڑوں کارنامے ایسے ہیں جو سرسید احمد خاں کو ہمارے دلوں میں باقی رکھیں گے۔سرسید احمد خاں نے ایک ایسے وقت میں ان کارناموں کی داغ بیل ڈالی جب ان کے لیے نہ تو حالات ساز گار تھے اور نہ ماحول ہی اجازت دیتا تھا۔مگر انھوں نے ہمت اور عزم سے کام لے کر ان عظیم الشان اور یادگار کارناموں کو انجام دیا۔ان کی یہ خدمات جلیلہ اور بے لوث کوششیں لائق صدمبارکباد ہیں ۔ہمیں فخر ہے کہ خزانۂ قدرت سے ہمیں ایک ایسا جوہر نایاب ملا۔
مذکورہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ستیہ وتی کالج ،دہلی یونیورسٹی کے استاذ ڈاکٹر عارف اشتیاق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سرسید احمد خاں جہاں ایک باوقار اور قابل فخر نام ہے وہیں ہماری تاریخ ہند کا ایک ایسا جلی اور نمایاں عنوان ہے جس کی چمک دور سے ہی محسوس ہوتی ہے۔جو ہر ہندوستانی کے دل میں قابل احترام احساس سے موجود ہے۔ملک و بیرون ملک کے علمی و ادبی حلقوں میں یہ نام سلام اور اعتبار کا درجہ رکھتا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ سرسید احمد خاں کی ہمہ جہتی تحریک نے ہندوستان میں خوشگوار انقلابات بر پا کیے۔انھوں نے کہا کہ ہمارے علمی و ادبی سرمائے کا بیشتر سرمایہ سرسید احمد خاں اور ان کی تحریک علی گڑھ کا ہی مر ہون منت ہے۔اب یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ اگر سرسید نہ ہوتے تو شاید ہندوستانی مسلمانوں کی تعلیمی صورت حال اور زبان و ادب اردو کا یہ عالم نہ ہوتا۔اس طرح سے ہندوستان،ہندوستان مسلمانوں اور زبان اردوپر ان کا ناقابل ادا احسان ہے۔
اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جواہر لال نہرویونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر عمران عاکف خان نے کہا کہ سرسید احمد خاں کا نام زبان و ذہن میں آتے ہی وہ تمام طرح کی جدو جہد ،کوششیں اور محنتیں یاد آجاتی ہیں جن کا سہرا سرسید احمد خاں اور ان کے بلند عزائم کے سر ہے۔انھوں نے ایک ایسے وقت میں شمع علم و دانش اور فکروجہد جلائی جب اندھیرے بہت گہرے اور تاریکیاں پورے ہندوستان پر چھائی ہوئی تھیں۔حالاں کہ وہ ننھا منا چراغ تھا مگر اس کی لو پرجوش تھی جس نے اس ماحول کو تابنا ک بنا دیا۔انھوں نے سرسید احمد خاں کی تعلیمی تحریکات پر مزید گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں حکومت ہند اور تحریکی اداروں سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ یوم سرسید کو ’’ انٹرنیشنل ایجو کیشنل ڈے‘‘کے طور پر بھی منایا جائے۔چوں کہ تعلیم اور سرسید احمد خاں کا جداجد ا تصور ایسا ہی ہے جیسے روشنی اور سورج یا چاندنی اور چاند۔ظاہر ہے یہ دونوں چیزیں الگ الگ نہیں ہیں ۔اس سے جہاں نئی نسلوں میں تعلیم کے تئیں فکر مندی بیدار ہوگی،وہیں سرسید احمد خاں اور ان کے رفقا کی خدمات و کوششوں سے بھی واقفیت ہوگی جسے بڑی افسوسناک حد تک اب فراموش کیا جارہا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ اگر یہی صورت حال رہی تو ہم اپنے محسنوں کو فراموش ہی کردیں گے اور جب آنے والی نسلیں ہم سے پوچھیں گی تو کیا جواب دیں گے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم علی گڑھ تحریک اور سرسید احمد خاں کی جیسی تعلیمات کو عالمی سطح پرفروغ دینے کے آگے آئیں ۔
اس باوقار تقریب سے دیگر افراد نے بھی خطاب کیا اور مشترکہ طور پر سرسید احمد خاں کی مجموعی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں ملک وقوم اور قدیم و جدید نسلوں کے لیے قابل فخر سرمایہ بتایا۔اس موقع پر مہمان خصوصی اور دیگر اہم ترین شخصیات کے علاوہ شائقین علم و دانش کثیر تعداد میں موجود تھے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *