گاندھی جی اور مسلمان لازم و ملزوم ؟ مونیا سے مہاتما

15اگست 1997 کو آزادی ہند کی گولڈن جوبلی کے موقع پر جب پورا ملک خوشی منانے میں مصروف تھا تب اسی دن دادر(ممبئی ) میں گاندھی جی کے قتل کیس کے عمر قید سزا یافتہ گوپال گوڈسے جو ناتھو رام گوڈسے کے برادر خرد تھے ، کی موجودگی میں ایک خصوصی تقریب کے دوران ایک کتاب ’’گاندھی کا قاتل گاندھی ‘‘ (Gandhi Murderer of Gandhi ) ازسیتار میا کا اجراء کیا گیا۔اس کتاب میں گاندھی جی کو اپنے بعد کے دور میں بعض مسلم نواز پالیسی خصوصاً تحریک خلافت میں شرکت کے سبب خود اپنی شخصیت کا قاتل بتایا گیا تھا۔ اس کے برعکس کچھ ایسے حقائق ہیں جن سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ گاندھی جی نے اپنے اصول و اقدار میں کوئی تبدیلی کبھی نہیں کی۔ بلکہ ماں کی گود سے لے کر اپنے قتل سے قبل تک ان کی اور مسلمانوں کی حیثیت لازم و ملزوم کی رہی ۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر گاندھی جی کی 78سالہ زندگی سے مسلم فیکٹر کو ہٹا دیا جائے تو ان کی شخصیت ادھوری سی محسوس ہوتی ہے۔
گاندھی جی کی 78 سال سے زائد طویل زندگی اور اس کے پس منظر کا مطالعہ کرتے وقت جو حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے، وہ یہ ہے کہ گاندھی جی کی شخصیت اور مسلمان دونوں لازم و ملزوم ہیں۔ دونوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جاسکتا ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ جب گاندھی جی کی شخصیت کو کسی مسلم رول کے بغیر دیکھا جاتاہے تو وہ نامکمل نظر آتی ہے۔ ماں کی گود ہو یا تعلیم و تربیت کا مرکز ، راجکوٹ میں بچپن کی دوستی ہو یا انگلینڈ و جنوبی افریقہ میں بزرگانہ رفاقتیں ، بیرون ملک نسلی بھید بھائو کے خلاف قانونی و معاشرتی جنگ ہو یا اندرون ملک چمپارن ، کھیدا اور احمد آباد کے کسانوں و مزدوروں کے حقوق کی لڑائی ، رولیٹ مخالف تحریک و سانحہ جلیا نوالہ باغ ہو یا تحریکات خلافت و عدم تعاون بشمول موپلا بغاوت اور تحریک سول نافرمانی مع نمک آندولن، چورا چوری و کاکوری واقعات ہوں یا ہندوستان چھوڑو موومنٹ ،ہر جگہ گاندھی جی کی سرگرمیوں میں یہ فیکٹر کسی نہ کسی طرح دکھائی پڑتا ہے۔

 

 

 

 

 

ابتدائی زندگی
موہن داس کرم چند گاندھی جنہیں بچپن میں مونیا کہہ کر پکارا جاتا تھا کی والدہ کا نام پتلی بائی تھا۔ پتلی بائی کرم چند کی چوتھی بیوی تھیں۔ کرم چند نے اپنی پہلی اور دوسری دونوں بیویوں کے یکے بعد دیگرے انتقال کے بعد تیسری شادی کی لیکن خرابی صحت کی بنا پر ان سے اجازت لے کر چوتھی بار رشتہ ازدواج میں بندھے۔ پتلی بائی ایک نیک و شریف خاتون تھیں اور فکری طور پرپر نامی فرقے سے تعلق رکھتی تھیں۔ اس فرقے والے اسلام اور ہندو دھرم دونوں کی تعلیمات سے یکساں طور پر استفادہ کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک قرآن اور ہندو صحیفے دونوں مقدس و محترم ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مونیا کو ماں کی گود ہی میں اسلام ،قرآن و مسلم الفاظ بھی سننے کو ملنے شروع ہوگئے تھے۔
پوریندر میں مونیا کا پرائمری اسکول میں داخلہ ہوا تھا لیکن والد کی راجکوٹ منتقلی اور پھر وہاں کے وزیر اعلیٰ کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد پوری فیملی بھی وہیں آگئی۔ تب مونیا کا داخلہ مقامی ہائی اسکول جو بعد میں الفریڈہائی اسکول کے نام سے معروف ہوا، میں کرایا گیا۔ واضح رہے کہ یہ اسکول نواب جونا گڑھ سرمحبت خاں بابی نے اس وقت ایک لاکھ روپے کے خرچ پر بنوایا تھا ۔نواب کی دلچسپی کے سبب اس اسکول پر مسلم کلچر کا خاص اثر تھا۔ آج بھی یہ اسکول جس میں تقریباً پانچ ہزار کے قریب بچے زیر تعلیم ہیں ،راجکوٹ آنے والے سیاحوں کے لئے تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ کیونکہ ان کی نظر میں یہ وہی تعلیم و تربیت کا مرکز ہے جس نے گاندھی جی کی شخصیت سازی میں ماں کی گود کے بعد دوسرا اہم رول ادا کیا تھا۔
اسی اسکول میں ان کی گہری دوستی شیخ مہتاب نام کے ایک لڑکے سے ہوگئی۔ مہتاب جو کہ ان کے پڑوس میں رہتا تھا ،مقامی پولیس چیف کا بیٹا تھا۔ ان سے تین سال سینئر تھا اور بہت ہی ذہین ،بے باک اور صحت مند تھا۔مہتاب کی بے باکی اور ذہانت سے اس کے تمام ساتھی بہت ڈرتے تھے۔ مونیا ذہین تو تھے لیکن مزاج و فطرت کے اعتبار سے مہتاب سے قطعی مختلف تھے۔ مہتاب سے مونیا کی دوستی ایک جان دو قالب کی حیثیت اختیار کر چکی تھی۔ والدین و بیوی کستوربا کے لاکھ منع کرنے کے باوجود وہ مہتاب سے رفاقت ختم کرنے کو تیار نہیں ہوتے تھے۔ مہتاب کی چند بری عادتیں انہوں نے ضرور اختیارکرلی تھیں لیکن مجموعی طور پر ان کے اندر قوت ارادی، ہمت اور مخالف ماحول کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت اسی مہتاب کی رفاقت نے دی تھی۔ جب والد کے انتقال کے بعد بیرسٹری کی تعلیم کے لئے والد کے ایک دوست مائوجی جوشی نے لندن جانے کا مشورہ دیا تب یہ وہاں اکیلے جانے سے بہت گھبرارہے تھے لیکن ان دنوں اسی مہتاب نے ان میں ہر طرح سے ہمت پیدا کرنے کی کوشش کی اور انہیں وہاں جانے کے لئے رضامند کرلیا۔قابل ذکر ہے کہ مہتاب انہیں لندن جانے کے لئے بمبئی تک رخصت کرنے گئے اور ان کے بذریعہ سمندری جہاز لندن روانہ ہونے سے قبل کئی دنوں تک وہاں قیام کیا۔ سچ تو یہ ہے کہ لندن جانے کی تجویز کو عملی شکل دلانے کا سہرا بھی شیخ مہتاب ہی کے سرتھا۔
یہ بات بھی کم اہم نہیں ہے کہ بعد میں 1894 میں گاندھی جی نے مہتاب کو اپنی معاونت کے لئے جنوبی افریقہ بلا لیا تھا ۔چند دنوں بعد کچھ اختلافات بھی ہوئے لیکن مہتاب کی زندگی میں بھی انقلاب آگیا اور وہ ان کے مشن میں پوری طرح شریک ہوگئے ۔حتی کہ 14اکتوبر 1913 کو ڈربن میں ستیہ گرہ کرنے کے لئے اپنے پورے خاندان کے ساتھ تین ماہ کی قید بامشقت کی سزا کاٹی۔ اس حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کرسکتاہے کہ بچپن میں چند بری عادتوں کا شکار ہونے کے باجود مونیا مستقبل میں ایک دبو سے باہمت ،جری و مضبوط قوت ارادی کے بنے تو اس میں بھی شیخ مہتاب کا مکمل ہاتھ تھا۔
اسے بھی حسن اتفاق ہی کہئے کہ سفر لندن کے دوران پانی کے جہاز میں گاندھی کا جن سے مستقل واسطہ رہا ،وہ بھی ایک مسلمان ہی تھے۔ ان کا نام عبد الماجد تھا۔ عبد الماجد نے بھی مونیا کی جو اب اپنے آپ کو جہاز مین موہن کہلانا پسند کرتے تھے ،کافی ہمت بڑھائی اور ان کے گھر سے الگ ہونے کے غم کو دور کرنے کی ہرممکن کوشش کی۔
لندن میں زیر تعلیم
گاندھی جی لندن میں تین سال رہے۔ وہاں ان کا تعارف انجمن اسلامیہ نام کی ایک مقامی تنظیم سے ہوا۔یہ تھی تو بہت ہی چھوٹی سی تنظیم لیکن وہاں مقیم ہندوستانیوں کے لئے آپس میں روابط اور علمی و سیاسی بحث و مباحثہ اور تبادلہ خیال کا بہترین پلیٹ فارم مہیا کرتی تھی۔ کہا جاتاہے کہ جن ہندوستانیوں نے اس سے ربط رکھا، ان کی ایک بڑی تعداد نے بعد میں اپنے ملک میں مختلف میدانوں میں بڑا اہم رول ادا کیا۔ گاندھی جی اس میں پابندی سے شرکت کرتے تھے۔ یہیں ان کی ملاقات ضلع چھپرا (بہار ) کے مولانا مظہر الحق سے ہوئی۔ وہ بھی بیرسٹری کی تعلیم کے لئے یہاں موجود تھے۔ گاندھی جی اور مظہر الحق اس ادارہ میں شرکت کے سبب بہت اچھے دوست ہوگئے تھے۔ واضح رہے کہ یہ وہی تھے جنہوں نے بعد میں پٹنہ میں اپنا صداقت آشرم کانگریس کو پیش کردیا تھا۔ لیکن ان کی دلچسپی عام طور سے اپنے وطن سے متعلق مسائل میں زیادہ رہا کرتی تھی۔ اس طرح یہ کہا جاسکتاہے کہ لندن میں قیام کے دوران اس ادارہ انجمن اسلامیہ نے ان میں اپنے ملک کے مسائل سے متعلق امور میں دلچسپی پیدا کرنے میں کلیدی رول ادا کیا۔

 

 

 

 

جنوبی افریقہ میں قیام
12جون 1891 کو بیرسٹری کی تعلیم ختم کرکے گاندھی جی وطن کے لئے بذریعہ سمندی جہاز روانہ ہوئے۔ جب یہ ممبئی بندرگاہ پہنچے تو وہاں ان کے بڑے بھائی نے چند دنوں قبل والدہ کے انتقال کی خبر سنائی۔اس سے ان کو بے حد صدمہ ہوا۔ راجکوٹ میں چند دنوں قیام کے بعد یہ بمبئی میں وکالت کی غرض سے آگئے۔ اپنا ایک دفتر بھی قائم کیا لیکن مایوسی ہی ہاتھ آئی۔ تب یہ راجکوٹ واپس آگئے اور اپنے مستقبل کے تئیں مایوس رہنے لگے۔
مایوسی کی اس مستقل کیفیت میں اچانک ان کے بڑے بھائی کے پاس پور بندر سے عبدا لکریم جھاویری نام کے ایک شخص کا خط آیا کہ وہ جنوبی فریقہ میں عبد اللہ اینڈکمپنی نام کی ایک فرم میں پارٹنر ہے اور اس کمپنی کو ایک اچھے وکیل کی ضرورت ہے۔ جو وہاں ایک مقدمہ میں اس کی قانونی چارہ جوئی کرسکے۔ عبد الکریم نے یہ لکھتے ہوئے خواہش کی کہ اس کام کے لئے موہن داس بہت ہی موزوں ہوں گے بشرطیکہ وہ جنوبی افریقہ جانے کے لئے تیار ہوجائیں۔گاندھی جی کے لئے غیر ملک میں عارضی نوکری کا یہ آفر نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں تھا۔انہوں نے اسے فوراً قبول کرلیا۔
اس طرح لندن سے لوٹنے کے دو سال بعد اپریل 1893 میں یہ جنوبی افریقہ کے لئے روانہ ہوگئے اور 23مئی کو ڈربن پورٹ پہنچے۔وہاں عبد اللہ اینڈ کمپنی کے مالک دادا سیٹھ عبد اللہ انہیں لینے آئے۔ دادا عبد اللہ نے ان کو جیسے ہی دیکھاتو بڑی مایوسی ہوئی ،سوچا کہ ان کے پارٹنر عبد الکریم جھاویری نے کس ’’ سفید ہاتھی ‘‘ کو ان کے پاس بھیج دیا ہے لیکن بعد میں موہن داس کے ساتھ رہنے پر انہیں احساس ہوا کہ ان کا خیال غلط تھا۔ دادا عبد اللہ ایک مذہبی شخص تھے ۔ انہوں نے موہن داس کو قرآن کی تعلیمات سے متعارف کرانا چاہا۔ موہن داس ان کے درس و تدریس کو دلچسپی سے سنتے اور پھر اس پر اظہارخیال کرتے۔ اس طرح چند دنوں ڈربن میں قیام کے دوران یہ دادا عبد اللہ سے بہت قریب ہوگئے۔ اس کے بعد جس مقدمہ میں کام کے لئے یہ جنوبی افریقہ آئے تھے ،اس کے لئے انہیں پریٹوریا جانا پڑا۔ اس کے علا یہ چند دیگر شہروں میں بھی گئے۔ہر جگہ نسلی بھید بھائو اپنے عروج پر پایا۔ دادا عبد اللہ ہر جگہ ان کے ہمسفر تھے۔ گاندھی جی نے دادا عبداللہ اور طیب سیٹھ کے درمیان مقدمہ میں مصالحت کروا کے مقدمہ کو ختم کروایا۔ اس طرح جس کام کے لئے وہ جنوبی افریقہ آئے تھے وہ ختم ہوگیا۔ دادا عبد اللہ ان سے بے حد خوش ہوئے لیکن پھرانہیں اس وقت کے حالات نے وہاں مزید قیام کے لئے مجبور کیا۔ جنوبی افریقہ میں بنے نئے قوانین کے تحت ہندوستانی نژاد کے افراد کے لئے ووٹ کے حقوق سلب ہوجاتے تھے۔ اس کے لئے گاندھی جی کو وہاں مزید قیام کرنا پڑا۔دوران قیام نڈال انڈین کانگریس بنی۔عبدا للہ حاجی آدم نے چیئرمین اور گاندھی جی نے اعزازی سکریٹری کے عہدے سنبھالے ۔
یہ اہم بات ہے کہ دوران قیام افریقہ (1893-1914)جو افراد ان کے ربط میں آئے اور انہوں نے نسلی امتیاز کے لئے جو جنگ لڑی ،ان میں مسلمانوں کی اکثریت زیادہ تھی۔ قابل ذکر لوگوں میں دادا عبد اللہ، سیٹھ حاجی محمد خاں طیب، عبد اللہ حاجی آدم، آدم جی میاں خاں، محمد احمد، حاجی عزیر علی، سید امیر علی، حاجی حبیب، سید اسمٰعیل،دادا عثمان کچالیا اورڈاکٹر عبد اللہ عبد الرحمن تھے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ صرف اہم ہندوستانی مسلمان ہی ان کے ربط میں نہیں تھے بلکہ وہ عام مسلمان جنہیں گاندھی جی نے قانونی لڑائی کے ذریعہ ان کے حقوق دلوائے، وہ بھی ان کے ساتھ تھے۔ اس طرح کے ناموں کی فہرست تو بہت لمبی ہے۔گاندھی جی تو وطن واپس لوٹ آئے لیکن بقول صد اور بابائے قوم جنوبی افریقہ نیلسن منڈیلا ،جنوبی افریقہ کی آزادی میں گاندھی جی کا بڑا ہاتھ تھا۔ منڈیلا تو جنوبی افریقہ کے عظیم مجاہد آزادی ڈاکٹر یوسف دادو کو گاندھی جی کا بہترین تحفہ مانتے تھے۔
گاندھی جی کی زندگی میں جنوبی افریقہ کے دور کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔کیونکہ یہاں گزارے گئے لمحات وہی تھے جن کے دوران حاصل کئے گئے تجربات وطن واپسی کے بعد ان کے لئے مشعل راہ بن گئے ۔جن اصولوں و اقدار کی بنا پر انہوں نے جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کے خلاف قانونی و معاشرتی جنگ لڑی، اسے انہوں نے ہندوستان لوٹ کر آزمایا اور کامیاب ہوئے ۔ ایسی بات نہیں تھی کہ جب گاندھی جی وطن واپس لوٹے تو اکابرین کی سطح پر افراد موجود نہیں تھے۔ دادا بھائی نوروجی ،گوپال کرشن گوکھلے، محمد علی جناح، بدرا لدین طیب جی ، رحمت اللہ سیانی، بال گنگا دھرتلک، اینسی بیسنٹ، سریندر انتھ بنرجی، موتی لال نہرو، سی آر داس، مدن موہن مالویہ،لالہ لاجپت رائے، حکیم اجمل خاں، ڈاکٹر مختار احمد انصاری ، مولانا ابولکلام آزاد اور علی برادران جیسی شخصیتیں جنگ آزادی میں مصروف تھیں۔لیکن گاندھی جی نے اپنے جنوبی افریقہ میں کئے گئے تجربات کے بنا پر کام کا آغاز کیا اور پھر چھاگئے۔
وطن واپسی
جب گاندھی جی 9 جون 1915 کو بمبئی پورٹ پہنچے تو جس استقبالیہ کمیٹی نے انہیں خوش آمدید کہا اس کے صدر دادا بھائی نوروجی اور سکریٹری محمد علی جناح تھے۔ ان دنوں کے اخبارات آج بھی یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ 22 سال بعد ہندوستان میں باضابطہ واپسی پر گلے میں سب سے پہلے پھولوں کا ہار ڈالنے والے شخص ایک مسلمان محمد علی جناح ہی تھے۔
چمپارن ستیہ گرہ
وطن واپسی کے بعد گاندھی جی نے 1915 میں بمبئی اور پھر 1916 میں کانگریس کے لکھنو اسٹیشنوں میں شرکت کی۔ لکھنو کے اجلاس کے موقع پر ان کی توجہ چمپارن میں نیل کی کھیتی کرنے والے کسانوں پر انگریزوں کے ذریعے کئے جارہے مظالم کی جانب مبذول کرائی گئی۔ واضح رہے کہ اس مسئلے کو کانگریس کے اجلاس میں پیش کیا گیا تھا لیکن اس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا تھا۔ گاندھی جی 7اپریل 1917 کو کلکتہ سے چمپارن کے لئے وہاں کے مقامی لیڈر راجکمار شکلا کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ پہلے 10اپریل کو پٹنہ پہنچے ۔وہاں یہ لندن میں تعلیم کے زمانے کے دوست مولانا مظہر الحق کے یہاں ٹھہرے۔ مولانا مظہر الحق وہاں مشہور وکیل تھے۔ جب گاندھی جی نے ان کو بہار آنے کا مقصد بتایا تو انہوں نے ان کی ہر طرح سے رہنمائی اور ہمت افزائی کی۔ یہ مولانا مظہر الحق ہی تھے جنہوں نے انہیں پہلے مظفر پور جانے کا مشورہ دیا اور مظفر پور کا لج جو کہ اب لنگٹ سنگھ کالج ہے، میں ان دنوں انگریزی کے پروفیسر جے بی کرپلانی اور ایک اور دوسرے پروفیسر این آر ملکانی جو کہ بعد میں سنگھ پریوار سے وابستہ ہفتہ وار ’’ آرگنائزر کے مدیر بنے ،کے آر ملکانی کے بڑے بھائی تھے، کو ان کی آمد کی اطلاع دے دی۔ اس طرح کرپلانی اور ملکانی نے طلبہ کے ایک گروپ کے ساتھ انہیں مظفرپور ریلوے اسٹیشن پر خوش آمدید کہا ۔ان طلبہ و نوجوانوں میں شفیع دائودی و حسن مجتبیٰ عرف بٹو بابو جن کا 1996 انتقال ہوا ہے شامل تھے۔
گاندھی جی نے چمپارن جاکر نیل (Indigo)کی کھیتی کرنے والے کسانوں کی حمایت میں تحریک چلائی اور بالآخر کامیاب ہوئے۔واضح رہے کہ چمپارن ستیہ گرھ کے سلسلہ میں پٹنہ میں گاندھی جی کے ساتھ پلاننگ بنانے والے مولانا مظہر الحق ہی تھے۔یہ آخر وقت تک اس تحریک کے روح رواں رہے۔ نیز دیگرغیر مسلم لیڈروں جے بی کرپلانی ،این آر ملکانی، برج کیشور پرساد اور راج کمار شکلا کے ساتھ مسلم رضاکاروں کی لمبی لائن تھی۔اس ضمن میںبتیا کے نزدیک برنداون سے تعلق رکھنے والے مشہور عالم دین مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پورا مسئلہ مجموعی طور پر مسلم رئیستوں اور کسانوں کا تھا۔ یہ مسئلہ سب سے پہلے بتیا سب ڈویژن میں ساتھی نام کے گائوں میں 1907 میں اٹھایا گیا تھا تب مسلم رئیستوں و کسانوں کی متعدد میٹنگیں مقامی لیڈر شیخ گلاب کے مکان پر ہوئی تھیں۔ چمپارن کے سلسلے میں یہ بتانا ضروری ہے کہ اس میں اس وقت دو مشہور شہر موتہاری اور بتیا کے علاوہ 2841 گائوں تھے۔ نیل کی کھیتی یہاں کی خاص کاشت تھی جو کہ مجموعی طور پر مسلمانوں کے ہاتھ میں تھی۔
چمپارن ستیہ گرہ کو گاندھی جی کی زندگی میں اہم مقام حاصل ہے کیونکہ ہندوستان واپسی کے بعد انہوں نے جنوبی افریقہ کے طرز پر یہاں اپنا پہلا تجربہ کیا تھا اور کامیاب ہوئے تھے۔ چمپارن کے مسلمان آج بھی اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ انہوں نے گاندھی جی کے ساتھ ان کی ہند واپسی کے بعد پہلے مشن میںہر طرح سے معاونت کی۔ چمپارن کے بعد گاندھی جی کی توجہ کا مرکز احمد آباد و کھیدا کے مزدوروں و کسانوں کے مسائل بنے ۔ ان میں بھی مسلمانوں کی تعداد قابل ذکر تھی۔
رولیٹ ایکٹ مخالف تحریک
مارچ 1919 میں امپریل لجسلچر کونسل کے ذریعہ ہندوستانیوں کی جنگ آزادی کے سلسلے میںچلائی جارہی قومی تحریک کو دبانے یا کچلنے کے لئے ایک خصوصی قانون پاس کرایا گیا تھا جو کہ رولیٹ ایکٹ کے نام سے معروف ہوا۔ گاندھی جی نے اس کی سخت مخالفت کی۔ واضح رہے کہ اس سلسلے میں مذکورہ کونسل سے استعفیٰ دینے والا شخص بھی ایک مسلمان ہی تھا اور ان کا نام محمد علی جناح تھا۔ اس سے متعلق تحریک میں مسلمان ہر طرح سے شریک تھے۔یہی وجہ ہے کہ 13اپریل 1919 کو جلیا نوالا باغ والی احتجاجی میٹنگ ایک معروف مسلم لیڈر ڈاکٹر سیف الدین کچلو کی ایک دن قبل گرفتاری اور پنجاب بدر کے حکومت کے احکامات کے خلاف ہی منعقد کی جارہی تھی۔اس میٹنگ پر جو اندھا دھند گولیاں بارش کی طرح چلائی گئیں ،اس میں 379 ہلاک شدگان میں 66 مسلمان تھے۔
تحریکات خلافت و عدم تعاون
1919 کے اواخر میں تحریک خلافت اور اس کے فوراً بعد تحریک عدم تعاون شروع ہوئی۔ گاندھی جی کی حیثیت ان تحریکات میں روح رواں کی تھی۔ واضح رہے کہ مسلمانوں کی دلچسپی صرف تحریک خلافت ہی کی حد تک نہیں رہی بلکہ وہ تحریک عدم تعاون میں برابر کے شریک رہے۔یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ تحریکات خلافت و عدم تعاون کی قیادت علی برادران و گاندھی جی کررہے تھے۔ چورا چوری اور کاکوری کے واقعات اسی زمانے میں ہوئے تھے۔یہ الگ بات ہے کہ یہ دونوں واقعات پرتشدد تھے۔لہٰذا اسے گاندھی جی کی حمایت و سرپرستی ہرگز حاصل نہیں تھی لیکن اس سے متعلق جو لوگ تھے، وہ گاندھی جی سے بے حد متاثر تھے۔ چورا چوری واقعہ کے ہیرو عبداللہ نے گاندھی جی کا تحریک عدم تعاون کے سلسلے میں گورکھپور آمد کے موقع پر بے حد تعاون کیا تھا اور اس تحریک میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو شامل کرایا تھا۔ ان کا ہی جذبہ بعد میں چواچوری واقعہ کا سبب بنا۔ ان کے دوسرے رفقاء کار لعل محمد، نذر علی اور مولوی نذر علی سب کے سب گاندھی وادی مانے جاتے تھے۔ واضح رہے کہ عبد اللہ اور ان کے تمام ساتھی چورا چوری واقعہ میں شہید ہوئے۔ کاکوری میل ڈکیتی میں ملوث افراد میں پھانسی پانے والے ایک اشفاق اللہ خاں پر بھی گاندھی جی کا اثر تھا۔ تحریک آزادی کے ایک بزرگ مجاہد کے مطابق مخصوص حالات میں ان دنوں مجاہدین آزادی تشدد کا راستہ مجبورا اختیار کر لیتے تھے لیکن مزاجاً سب کے سب محب وطن اور شریف و نیک تھے۔
موپلا بغاوت بھی تحریک خلافت و عدم تعاون کے نتیجے میں بپا ہوئی تھی۔ علی برادران کے ہمراہ گاندھی جی کیرالہ بھی گئے تھے۔ایک سرکاری اعدادو شمار کے مطابق اس بغاوت میں 2288 افراد ہلاک،1630 مجروح ہوئے اور 5712 گرفتار کئے گئے جن میں 1704 کے خلاف مقدمات چلے اور جنہیں مختلف نوعیت کی سزائے قید بھگتنی پڑیں۔ مال گاڑی کے ڈبے میں د م گھٹنے سے 100 میں سے 41افراد نے دم توڑ دیا تھا ۔یہ سب کے سب مسلمان تھے۔
تحریک سول نافرمانی
جب مارچ 1930 میں گاندھی جی کی قیادت میں تحریک سول نافرمانی کاآغاز ہوا اور انہوں نے سابرمتی سے ڈانڈی میں سمندر تک نمک بنانے کے لئے سفر کاآغاز کیا تو 79 رفقاء کار میں مسلمان بھی ایک درجن سے زیادہ تھے۔ اس کاررواں میں مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی و مفتیعتیق الرحمن عثمانی بھی راہ میں شامل ہوگئے تھے۔ جب گاندھی جی کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے اور جلسے و جلوس نکالے گئے اور اس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک و گرفتار ہوئے تو اس میں بھی مسلمان پیش پیش تھے۔ واضح رہے کہ نمک آندولن کے سلسلے میں بشیر احمد بھٹا بھی جیل گئے۔ پشاور میں پولیس فائرنگ میں ہلاک شدگان میں خاں عبد الغفار خاں کی قیادت میں چل رہی خدائی خدمت گار تحریک کے کئی درجن افراد شامل تھے۔ پورے ملک میں اس دوران 3000 افرد ہلاک اور 90000 گرفتار ہوئے۔ گاندھی جی کی حمایت میں احتجاجی مظاہروں کے دوران گرفتار شدگان کی تقریبا ًآدھی تعدادیعنی 44,500)مسلمان تھی۔مختلف صوبوں میں گرفتار شدگان کی تعداد درج ذیل ہے: پنجاب 5000، اترپردیش 10000، بہار 3000 ، بنگال 4000 ، آسام 3000، بمبئی 3000 ، سینٹرل پروونس 1500 ، سندھ 3000 ، مدراس 1000 ، اور صوبہ سرحد 10000۔
ہندوستان چھوڑو تحریک
گاندھی جی نے جب 9اگست 1942 کو ہندوستان چھوڑو تحریک کا بگل بجایا تو مسلمانوں نے اس میں ملک کے مختلف حصوں میں کھل کر حصہ لیا۔ ہزاروں آہنی سلاخوں کے پیچھے بھیجے گئے۔ کئی لاکھ زخمی اور متعدد شہید ہوئے۔ مسلم شہدا ء کی 30 افراد پر مشتمل فہرست میں صرف بہار سے 17افراد شامل تھے۔
مسلم شخصیات
جنگ آزادی سے متعلق وہ واقعات جو گاندھی جی کی1915 میں وطن واپسی کے بعد ہوئے، سے بڑی بڑی مسلم ہستیاں منسلک رہی ہیں۔ ان سب سے ان کے گہرے ذاتی تعلقات رہے۔ مولانا ابو لکلام آزاد پر انہیں بڑا بھروسہ تھا اور وہ اہم معاملات میں ان سے مشورہ کیا کرتے تھے۔ مولانا آزاد کی کتاب ’’انڈیا ونس فریڈم ‘‘ سے بھی اس کا احساس ہوتا ہے۔ ڈاکٹر مختار احمد انصاری و حکیم اجمل خاں ان کے خاص رفقاء و مشیر کار میں سے تھے۔ گاندھی جی اپنے دہلی قیام کے دوران ہمیشہ ڈاکٹرانصاری کے دریا گنج دہلی کے مکان پر ٹھہرا کرتے تھے اور تحریک آزادی کے سلسلے میں بعض پلاننگ اسی جگہ سے کیا کرتے تھے۔ لیکن آج کسی کو نہیں پتہ کہ وہ مکان کہاں اور کس حالت میں ہے۔؟
خان عبد الغفار خاں سے ان کے تعلق کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ سرحدی گاندھی کے نام سے بھی معروف تھے اور اپنی 94سالہ زندگی میں گاندھی کے نعرہ عدم تشدد کو سینے سے لگائے رہے۔صوبہ سرحد پر گاندھی جی کی 1930 میں تحریک سول نافرمانی کا سب سے زیادہ اثر پڑا تھا اور اس کے واحد ذمہ دار یہی بادشاہ خاں تھے۔
گاندھی جی سے قربت رکھنے والی معروف مسلم شخصیتوں کی فہرست بہت لمبی ہے۔ ان میں اسیر مالٹا شیخ الہند مولانا محمود حسن ، مولانا حسین احمد مدنی، مفتی کفایت اللہ ، مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی،مولانا عبید اللہ سندھی ، مولانا حفط الرحمن سیوہاروی، مولانا سعید احمد دہلوی، مولانا محمد میاں، مولانا محمد مظہر الدین ،مفتی عتقی الرحمن عثمانی، مولانا وحید الدین قاسمی، مولانا حسرت موہانی ، ملا جان محمد، سید بدرالدجیٰ، شفیع دائودی، آصف علی، ڈاکٹر سید محمود اور رفیع احمد قدوائی قابل ذکر ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *