آر ٹی ای اور مدارس کا مستقبل

Madrasa
جنوب دہلی سے بی جے پی ممبر پارلیمنٹ مہیش گری نے ایک خط وزیر اعظم نریندر مودی کو لکھا ہے اور اس میں انہوں نے کہا ہے کہ مدارس سمیت اقلیت کے جتنے بھی تعلیمی ادارے ہیں،انہیں آر ٹی ای کے دائرے میں لایا جائے ۔ان کا کہنا ہے کہ جب تک ان اداروں کو آر ٹی ای کے تحت نہیں لایاجاتا ہے ،اس وقت تک پسماندگی کے شکار طلباء ریسرچ کے مواقع سے محروم رہیں گے۔ان کا کہنا ہے کہ مینڈیٹ ایکٹ کے سیکشن 12(1)میں ذکر ہے کہ ریاستی حکومت پرائمری سطح کی کلاس میں کمزوراور پسماندہ طلباء کے لئے 25فیصد ریزرویشن شامل کرنے کا اختیار رکھتی ہے لیکن یہ سہولت اقلیت کے تعلیمی اداروں ، مدرسوں ،مذہبی پاٹھ شالہ،کو نہیں مل پاتی ہیں۔اگر مدارس کو آر ٹی ای کے تحت لے آیا جائے تو وہاں بھی 25فیصد ریزرویشن پسماندہ کے لئے لاگو ہوگا اور غریب بچے بھی ریسرچ میں حصہ لے پائیں گے۔
اب مدارس کے طلبا کو یونیورسٹی تک پہنچانے کی کوشش این ڈی اے حکومت میں زورو شور سے کی جارہی ہے۔خیال رہے کہ ان طلبا کو یونیورسٹیوں تک پہنچانے کے لئے ماضی میں کانگریس سرکار میں بھی تجویز آئی تھی ۔مگر یہ تجویز عملدرآمد ہونے سے پہلے دم توڑ گئی اور اب یہی لے کر موجودہ سرکار آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مدارس کے باصلاحیت بچوں کو انجینئرنگ اور میڈیکل داخلہ امتحانات کی تیاری کرنے کی راہ نکالی جائے گی۔مدرسہ ایجوکیشن کو اہم دھارے سے جوڑنے کے لئے مرکزی سرکار کی جانب سے تشکیل شدہ ایک خصوصی کمیٹی نے اقلیتی امور کی وزارت کے زیر اہتمام ادارہ مولانا آزاد ایجوکیشن فیڈریشن (ایم اے ای ایف ) کے سامنے تجویز پیش کی ہے۔ کمیٹی نے اپنی تجویز میں کہا ہے کہ مدارس کے بچوں کو انجینئرنگ و میڈیکل داخلہ امتحانات کی تیاری کے لئے الگ الگ ریاستوں میں مرکز بنائے جائیں۔
یہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور عوامی سطح پر بھی مطالبات ہورہے ہیں ۔لوگ چاہتے ہیں کہ دینی تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کو بھی ڈاکٹر ،انجینئر اور اسکولی بچوں کی طرح ہر شعبے میں جانے کا موقع ملے اور حکومت اس میں کچھ کرے۔یو پی ،حیدرآباد اور دیگر کئی ریاستوں میں باضابطہ مہم چلائی جارہی ہے۔
یو پی میں عالمی سطح کے کئی دینی مدارس موجود ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں چھوٹے بڑے تقریبا 19ہزار دمدارس ہیں جن میں تقریبا 600ملحق اور 1298 ایسے ہیں جو دارلعلوم اور ندوہ العلما ء کے طرز پر چلتے ہیں۔ لیکن یہاں سے فارغ طلبا کو اعلیٰ عصری تعلیمی اداروں میں داخلہ نہیں مل پاتا ہے۔ان بچوں کو یونیورسٹی تک پہنچانے کے لئے اسٹو ڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (ایس آئی او )نے مہم کا آغاز کیا ہے۔ ایس آئی او نے اقلیتی تعلیمی اداروں کا قیام ، تعلیم کی نجکاری، سر کاری اسکولوں کے گرتے معیار اور دینی مدارس کے طلبا کے یونیورسٹیوں میں داخلے کو اپنی مہم کا حصہ بنایا ہے۔ تنظیم کو اس بات کی امید ہے کہ ریاستی حکومت ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے گی اور مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کے امپاورمنٹ کے لئے کوئی موثر قدم اٹھائے گی۔ بہر کیف آر ٹی ای سے جوڑ کر یا کسی اور طریقے سے سہی، مگر ان طلباء کے روشن مستقبل کے لئے حکومت کو سنجیدگی سے کوئی فیصلہ لینا چاہئے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *