اللاہ -رودل کی تاریخی نشانی کو خطرہ محکمہ آثار قدیمہ خاموش کیوں؟

سنجیو گپتا ؍ اشیش شکلا
اترپردیش میںسیتا پور کے بیریہا گڑھ کی ڈیہہ اللاہ – اودل کی تاریخی نشانی ہے جو کہ سرکاری نظر اندازی کی وجہ سے خطرے میں ہے۔ حکومت یا محکمہ آثار قدیمہ اس پر کوئی دھیان ہی نہیں دے رہاہے۔ کھدائی کے دوران سونے و چاندی کے سکے ملنے سے لالچ میں آئے یہاں کے لوگ چوری چھپے ڈیہہ کو کھودنے میں لگے رہتے ہیں۔ بیریہاگڑھ میںکھدائی کے دوران ایک وشنو بھگوان کی مورتی ملی تھی جو کہ آثار قدیمہ کے نقطہ نظر سے بیش قیمتی بتائی جاتی ہے۔ مورتی کے سر پر شیش ناگ بناہوا ہے۔ کھدائی کے دوران وہ ٹوٹ گیا تھا۔ تاریخ داں اسے گاندھار اور متھرا اسٹائل کی موتی بتاتے ہیں۔
پائی گئیموتی میں مسکلس صاف طور پر جھلکتے ہیں اور سلوٹیں بھی ’’تھری ڈائمنشنل ‘‘ دکھائی دیتی ہیں۔لوگوں کو وہاں سے کچھ دیگر مورتیاں جیسے یکش اور یکشنی کی مورتیاں بھی ملی ہیں۔ مقامی گائوں کے لوگ بتاتے ہیں کہ تقریباً 20 سال پہلے تاکیہ گائوں کے ایک آدمی کو کھدائی میں ایک تلوار ملی تھی۔ لوہاروں کی لاکھ کوشش کے باوجود وہ تلوار کٹ نہیں پائی۔آخر کار اسے گڑھی کے خشک کنوئیں میں ڈال دیا گیا تھا۔ مقامی لوگوں کی مانگ ہے کہ اس تاریخی جگہ کو محکمہ آثار قدیمہ اپنے تحت لے اور نایاب مورتیوں کے میوزیم میں محفوظ کرانے کا پختہ بندوبست کرے۔
مہولی تحصیل ہیڈ آفس سے تقریباً 10 کلو میٹر شمال مغرب کی طرف سے سِلہا پور گائوں میں سلہٹ دیوی کا مندر ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ویر یودھا اللا ہ کی اپیل پر سلہٹ دیوی ظاہر ہوئی تھیں۔ہندو نظریہ کے مطابق سلہٹ دیوی میہر والی شاردہ مائی کی ہی دوسری شکل ہے۔شاردا مائی کا مندر میہر تحصیل علاقے میں مرزا پور گائوں میں ترکوٹ پہاڑی پر بنا ہوا ہے۔ یہ بات گانجر کی لڑائی کے وقت کی ہے۔ اللاہ ماڈوگڑھ کے راجا دیش راج کے بیٹے تھے۔ ان کی ماں کا نام دیول اور بھائی کا نام اودل تھا۔ دونوں بھائیوں کی بہادری کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ وقار کی وجہ سے جب اللاہ -اودل نے مہوبا چھوڑا تو قنوج کے راجا جے چندر نے انہیں اپنا فوجی سپہ سالار بنالیا۔
اس وقت قنوج کی ریاست نیپال سرحد تک پھیلی ہوئی تھی۔ یہ علاقہ گانجر کہلاتا تھا۔ اس علاقے میں تقریباً 90 گڑھ آتے تھے۔ پساواں تھانہ علاقے کا ریتو ہا گڑھ موجودہ وقت میں سیرواڈیہہ کے نام سے مشہور ہے، جبکہ بیرہاگڑھ موجودہ وقت میں مہولی کے بیریہا اور متولی کے ہندونگر اور صاحبا نگر کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ تاریخی تسلسل کی تشریح کرتے ہوئے دانشوران بتاتے ہیں کہ ریتو ہا گڑھ کے راجا اروند سین اور بیریہا گڑھ کے رجا ہیر سنگھ اور بیر سنگھ تھے۔ ان گڑھوں کے راجائوں نے تقریباً12 سال سے لگان نہیں دیا تھا۔ جے چندر نے اپنے گود لئے بیٹے لاکھن کے ساتھ اللاہ -اودل کو لگان وصول کرنے کے لئے بھیجا تھا۔ ریتو ہا گڑھ فتح کرنے کے بعد اللاہ کی فوج نے کٹھنا ندی کے کنارے ڈیرہ ڈالا دیا۔ ہیر سنگھ بیر سنگھ نے لگان نہ دے کر جنگ کا اعلان کیا۔ بیرہا گڑھ جیتنے کے لئے اللاہ کی فوج نے ہیرا سنگھ سے بھیانک جنگ کی۔ یہ گردھرپور اور جمونیا گائوں کے بیچ ہوئی تھی۔ جنگ 3 ماہ 13 دن چلی جس میں اللاہ کی فوج کا کافی نقصان ہوا۔ اللاہ نے وہاں سے 5 کلو میٹر مشرق ایک جنگل میں آکر ایک پیٹرنل ٹری (مقدس درخت )کے نیچے اپنی اپیل دیوی شاردا مائی سے کی۔ اللاہ کی پوجا پر شاردہ دیوی ظاہر ہوئیں اور اللاہ کو جیت کا وردان(وعدہ ) دیا۔ وہ وہیں براجمان ہوگئیں۔اللاہ نے انہیں سلہٹ دیوی کا نام دیا تھا۔ اسی شیلا میں نیچے پانچ من وزن سونے کی زنجیر بھی بندھی ہوئی ہے۔

 

 

 

 

 

مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ سلہٹ دیوی کے مندر میں آج بھی کرشمہ ہوتا رہتا ہے۔ یہاں ہر روز پہلی پوجا کوئی پُر اسرار دیوی جو نظر نہیں آتی، کرتی ہیں۔ سلہٹ دیوی کے نام پر سلہا پور گائوں بسا ہوا ہے۔ گانجر کی لڑائی میں بیریہاگڑھ جیتنے کے بعد اللاہ کی فوج آگے بڑھی، سیتا پور ضلع دفتر سے تقریباً 70کلو میٹر آگے کا علاقہ آج بھی گانجر کہلاتا ہے۔ یہاں کے ریوسا علاقے کے سیوتا گائوں میں جنگ کے دوران اللاہ کی بیوی مچھلا عرف سونوا نے شاردا دیوی کی پوجا کی تھی۔ ان کے حکم کے مطابق سونوا نے وہاں ایک شیلا یعنی پنڈی قائم کی تھی۔ اس پنڈی پر سونوا کی انگلیوں کے تین گہرے نشان آج بھی موجود ہیں۔ یہ مندرسونا سری دیوی کے نام سے مشہور ہے۔ امسیا(جس رات چاند نہیں نکلتا) کی رات کو یہاںبھاری بھیڑ امنڈتی ہے۔
گانجر جنگ کے دوران جس جگہ اللاہ کی فوج ٹھہری تھی۔ وہ گائوں آج مہولی کوتوالی علاقے میں اللاہنا کے نام سے مشہور ہے۔ گائوں کے مغربی ندی کے قریب 30 فٹ اونچاایک ٹیلہ ہے، جو آج بھی درگن کے نام سے مشہور ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اللاہ کی فوج اسی ٹیلے پر توپ رکھ کر بیریہا گڑھ پر گولی داغتی تھی۔
بتایا جاتا ہے کہ اس ٹیلے میں خزانہ گڑا ہوا ہے۔ یہ خزانہ پانے کے لالچ میں کھودنے کی کوششیں چلتی رہتی ہیں۔ اسی کوشش میں رحمت اللہ کو سرنگ دکھائی دی تھی لیکن ڈر کے سبب انہوں نے اسے نہیں کھودا۔وہ بیمارپڑ گئے۔ اس سے خوف اور پھیلا۔ اب لوگ اسے نہیں کھودتے نہیں۔بزرگ سدانند بتاتے ہیں کہ اسی ٹیلے کے پاس ایک کالا سانپ ہے۔ جب وہ باہر نکلتاہے تو آس پاس کی گھاس جل جاتی ہے۔ سبحان بتاتے ہیں کہ سدھن تالاب میں تقریباً 50 سال پہلے مگر مچھ آجاتے تھے ۔ اللاہنا گائوں سے تقریباً 4 کلو میٹر پہلے بیریہا گائوں ہے۔ ندی کے اس پار بیریہا کے راجا ہیر سنگھ اور بیر سنگھ کا گڑھ تھا۔ اس لئے اس کا نام بیریہا گڑھ پڑا۔ عوامی ذرائع اور اللاہنا علاقے کی توثیق کے لئے ’’چوتھی دنیا ‘‘ کی ٹیم ندی کے اس پار گئی اور کامتا داس گڑھی میں بنے بھگوتی مندر کے عمر رسیدہ پوجاری بابا کامتا داس سے ملاقات کی۔ انہوں نے کئی ایکڑ تک مٹی میں دھنسی اینٹ کے بقایا جات اور گہرائی میں بنی بنیاد کے آثار دکھائے جو وہاں زبردست عمارت ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔
محکمہ آثار قدیمہ اسے ایکوائر کر کے ریسرچ کو آگے بڑھا سکتا ہے۔ ندی کے خستہ حال پل کے سامنے اصطبل ہیں۔ندی کے کنارے ہی بیریہاگڑھ کے راجائوں کی کل دیوی نکٹی دیوی کی جگہ ہے۔ یہاں کھدائی کرنے پر جو اینٹیں ملی ہیں ،اس کی لمبائی ایک فٹ اور چوڑائی 9 انچ ہے۔ بزرگ بھی بتاتے ہیں کہ اس طرح کی اینٹیں بنتے ہوئے انہوں نے کبھی نہیں دیکھا۔ کھدائی میں ملے ڈھانچے بھی موجودہ انسانوں کے برعکس کافی بڑے اور وسیع ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ اس ٹیلے میں خزانہ گڑا ہوا ہے۔ یہ خزانہ پانے کے لالچ میں کھودنے کی کوششیں چلتی رہتی ہیں۔ اسی کوشش میں رحمت اللہ کو سرنگ دکھائی دی تھی لیکن ڈر کے سبب انہوں نے اسے نہیں کھودا۔وہ بیمارپڑ گئے۔ اس سے خوف اور پھیلا۔ اب لوگ اسے نہیں کھودتے نہیں۔بزرگ سدانند بتاتے ہیں کہ اسی ٹیلے کے پاس ایک کالا سانپ ہے۔ جب وہ باہر نکلتاہے تو آس پاس کی گھاس جل جاتی ہے۔ سبحان بتاتے ہیں کہ سدھن تالاب میں تقریباً 50 سال پہلے مگر مچھ آجاتے تھے ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *