ریزرویشن کا جِن بوتل سے پھر باہر

ہندوستان میں عورتوں کو لوک سبھا اور ریاستوں کی اسمبلیوں میں 33فیصد ریزرویشن دیئے جانے کا معاملہ ایک بار پھر زیر بحث ہے۔ اس کے بحث میں آنے کی وجہ کانگریس صدر سونیا گاندھی کا وزیر اعظم کے نام خط ہے۔دراصل پچھلے کچھ ہفتوں سے دہلی کے سیاسی حلقوں میں یہ سرگوشی گشت کررہی تھی کہ مرکز میں بی جے پی سرکار پارلیمنٹ کے آئندہ وِنٹر سیشن میں ویمن ریزرویشن بل پیش کر سکتی ہے۔ قبل اس کے کہ بی جے پی اس ایشو کو پوری طرح سے ہتھیا لے، کانگریس صدر سونیا گاندھی نے وزیر اعظم کو خط لکھ کر پچھلے کئی سالوں سے چل رہے اس سیاسی کھیل میں اپنا دائو بھی چل دیا۔ سونیاگاندھی نے اپنے خط میں وزیر اعظم سے اس بل کو پیش کروانے کی گزارش کی ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ کی سرکار کے پاس لوک سبھا میں اکثریت ہے، اس لئے اس اکثریت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ویمن ریزرویشن بل کو پیش کروائیں۔ کانگریس پارٹی نے ہمیشہ اس بل کا ساتھ دیا ہے اور آئندہ بھی دیتی رہے گی۔ دراصل راشٹریہ جنتا دل اور سماج وادی پارٹی کو چھوڑ کر اس ایشو پر سبھی سیاسی پارٹیوں میں عام اتفاق رائے رہی ہے اور جب سے یہ بل پارلیمنٹ میں ہے ،کئی ایسے مواقع آئے کہ صرف کانگریس اور بی جے پی ہی اپنی تعداد پر بھروسہ کرتے ہوئے اسے پیش کروا سکتی تھیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان دونوں پارٹیوں کا اب تک کا رویہ واضح نہیں ہے۔

 

 

 

 

 

 

ہندوستان کی پارلیمنٹ میں عورتوں کی نمائندگی برائے نام ہے۔ اس معاملے میں یہ اپنے پڑوسی ملکوں پاکستان، نیپال، بنگلہ دیش اور افغانستان سے کافی پیچھے ہے۔یہ دیکھنا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ دنیا کے دوسرے ممالک عورتوں کی اقتدار میں حصہ داری کے معاملے میں کہاں کھڑے ہیں؟کون سے ایسے ملک ہیں جہاں عورتوں کو ریزرویشن ملا ہوا ہے؟دنیاکے ترقی یافتہ ممالک جو خود کو جنسی مساوات کا سپاہی مانتے ہیں ،وہ کہاں کھڑے ہیں؟ترقی یافتہ اور ترقی یذیر ملکوں میں کس طرح کی عورتوں کی حصہ داری ہے ؟ہندوستان میں مقامی اکائیوں میں عورتوں کو جو زیادہ سے زیادہ حصہ داری کی تجویز دی گئی ہے ،اس کا کیا نتیجہ نکلا ہے؟
دراصل اقتدار میں عورتوں کی حصہ داری کی لڑائی جنسی مساوات کی لڑائی ہے۔ اس لڑائی کی ایک لمبی تاریخ رہی ہے۔اس کی حمایت اور مخالفت میں دلائل دیئے جاتے رہے ہیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جب تک آدھی آبادی کو کسی بھی ملک کے اقتدار میں اور اہم فیصلوں میں واجب حصہ داری نہیں دی جائے گی تب تک جمہوریت نامکمل رہے گی۔دنیا کے کئی ملکوں نے عورتوں کو اقتدار میں حصہ داری دینے کے لئے ریزرویشن کی تجویز دی ہے ۔کئی ملک ایسے ہیں جہاں سیاسی پارٹیاں اپنے طور پر ہی عورتوں کو نمائندگی دیتی ہیں اور کئی ملک ایسے ہیں جہاں ان دونوں میں سے کوئی بھی طریقہ کار لاگو نہیں ہے۔ ہندوستان بھی ایسے ہی ملکوں میں سے ایک ہے ۔
جمہوریت میں عورتوں سے بھید بھائو کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ پتہ چلے گا کہ پچھلی صدی کے پہلے پچاس سالوں تک کچھ ہی ملک میں عورتوں کو ووٹ دینے کا حق حاصل تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ بھید بھائو نسلی اقتدار کی وجہ سے تھا۔لیکن دھیرے دھیرے وقت نے کروٹ لیا اور عورتوں نے اپنے حق کے لئے لڑنا شروع کیا۔ نتیجتاً انہیں ووٹ دینے کا حق تو مل گیا لیکن اقتدار میں حصہ داری ابھی بھی دور کی کوڑی بنی ہوئی ہے۔
عورتوں کے اختیارات کے معاملے میں ترقی یافتہ ملکوں کا ریکارڈ بہت برا ہے لیکن یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ مرد نوازی کی ذہنیت صرف ترقی پذیر ملکوں میں رہی ہے ۔اگر دنیا کے مختلف پارلیمنٹ میں عورتوں کی حصہ داری کو پیمانہ مان لیا جائے تو نتیجہ مایوس کن ہے ۔ اس میں سب سے حیران کرنے والی حالت دنیا بھر میں جمہوریت کے علمبردار اور سرپرست ہونے کا دعویٰ کرنے والے ملک امریکہ کی ہے۔یہاں کانگریس میں عورتوں کی حصہ داری صرف 19.4 فیصد ہے۔ اسی طرح دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہندوستان بھی اس معاملے میں دنیا کے سب سے پھسڈی ملکوں کی لائن میں کھڑا ہے۔ یہاں پارلیمنٹ کے نچلے ایوان میں عورتوں کی حصہ داری صرف 11.4فیصد ہے ۔ظاہر ہے جب دنیا کی دو عظیم جمہوریت اپنی آبادی کے آدھے حصے کو ملک کے فیصلوں سے دور رکھتی ہیں تو یہ کسی بھی طرح سے جمہوریت کے لئے اچھا نہیں ہو سکتا ہے ۔
64 فیصد نمائندگی کے ساتھ روانڈا سب سے آگے
ویمن امپاورمنٹ یا جنسی مساوات کے کسی بھی پیمانے پر اگر کوئی ترقی پذیر ملک سب سے آگے ہے تو یہ حیرانی کی بات ہے اور اگر وہ ملک برسوں تک خانہ جنگی کی آگ میں جلتا رہا ہو تو حیرانیمزید بڑھ جاتی ہے ۔جی ہاں، عورتوں کی اقتدار میں حصہ داری کے معاملے میں سب سے اگلی صف میں کوئی مغربی یوروپین ملک یا کوئی دیگر ترقی یافتہ ملک نہیں بلکہ مشرقی وسط افریقہ کا ملک روانڈا ہے ۔ روانڈا میں پچھلے پارلیمانی انتخابات میں 63 فیصد عورتوں نے جیت کا پرچم لہرایا ۔ فی الحال بولیبیا کے ساتھ یہ دنیا کا دوسرا ملک ہے جہاں پارلیمنٹ میں عورتوں کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے۔ روانڈا کی اس شاندار کامیابی کی اہمیت اس لئے اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ ملک 1990 کی دہائی میں بھیانک نسلی تشدد کی لپیٹ میں تھا۔ اس تشدد میں کم سے کم 8 لاکھ لوگ مارے گئے تھے۔ 2003 میں یہاں نیا آئین لاگو ہوا تھا جس میں ملک کی پارلیمنٹ میں عورتوں کے 30فیصد ریزرویشن کی تجویز رکھی گئی تھی۔ اسی سال ہوئے انتخابات میں وہاں 48.8 فیصد عورتیں منتخب ہوکر پارلیمنٹ پہنچی تھی۔ اس کے بعد 2013 کے انتخابات میں یہ اعدادو شمار 64فیصد تک پہنچ گئے۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ وہاں ایک دہائی تک چلی خانہ جنگی میں زیادہ تر مرد مارے گئے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یہاں عورتوں کی تعداد 70فیصد ہو گئی۔ اتنی بڑی تعداد کے باوجود پارلیمنٹ میں عورتوں کی حصہ داری صرف 10سے 15 فیصد تک محدود رہی۔ لہٰذا اس جنسی تفریق کو مٹانے کے لئے روانڈا سرکار نے 1990 کی دہائی کے آخر میں ایک قانون بنایا جس کے تحت عورتیں بھی جائیداد میں حصہ دار ہو سکتی تھیں۔ اس قانون نے وہاں عورتوں کو ایک دبائو گروپ ( پریشر گروپ ) کی طرح کھڑے ہونے میں مدد کے لئے حوصلہ افزائی کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج وہاں پارلیمنٹ میں مردوں کے مقابلے میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہے۔ یہی نہیں، جنسی مساوات نے ملک کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ آج روانڈا اپنی معیشت کی تعمیر نو میں لگا ہوا ہے۔ غریبی اور عدم مساوات کی کھائی کم کرنے میں روانڈا سرکار کی کامیابی کے لئے عالمی بینک نے بھی اس کی تعریف کی ہے۔ ظاہر ہے اس کامیابی میں اس ملک کی عورتوں کا بھی بہت بڑا حصہ ہے۔

 

 

 

 

 

 

سب سے آگے کون؟
عالمی امن کے لئے کام کرنے والے جینوا میں ایک ادارہ ’’ انٹر پارلیمنٹری یونین ‘‘(آئی پی یو ) کے تازہ اعدادو شمار اور تازہ رینکنگ کے لحاظ سے عورتوں کی نمائندگی کے معاملیمیں روانڈا پہلے نمبر پر ہے۔ ان اعدادو شمار کے مطابق پارلیمنٹ میں دنیابھر کے نچلے ایوان میں 40فیصد سے زیادہ حصہ داری والے ملکوں میں صرف 11ملک شامل ہیں۔ ان ملکوں میں صرف تین یوروپین ممالک ہیں اور ان تینوں ملکوں نے پارٹی کی سطح پر عورتوں کی امیدواری کو یقینی بنایا ہے۔ ظاہر ہے اس کا نتیجہ دکھائی بھی دے رہا ہے لیکن یہ فارمولہ دوسرے ترقی یافتہ ملکوں کے لئے اتنا کارگر ثابت نہیں ہوا ہے۔ خواتین کی نمائندگی کے معاملے میں روانڈا کے بعد دوسرے نمبر پر جنوبی امریکہ کا ملک بولیبیا ہے۔ بولیبیا اپنی اصل آبادی والی تحریکوں کی وجہ سے چرچا میں رہا۔ صدر ایوو موریلس کے اقتدار میں آنے کے بعد یہاں کے بنیادی باشندوں میں یہ امید بندھی تھی کہ موریلس، صدیوں سے اقتدار سے دور رہے ملک کے محروموں کو اقتدار میں حصہ داری دلوانے کے لئے کوئی تجویز لائیں گے لیکن انہوں نے پارلیمنٹ میں عورتوں کے لئے ریزرویشن کی تجویز کو ترجیح دی۔ اس تجویز کا مثبت نتیجہ بھی نکلا اور 53فیصد عورتیں پارلیمنٹ میں منتخب ہو کر آگئیں لیکن جو پرانا سوال تھا ،وہ جوں کا توں برقرار رہا۔یہاں کے بنیادی باشندوں کو اقتدار میں حصہ داری نہیں ملی۔
بولیبیا کے بعد کیوبا کا نمبر آتا ہے۔یہاں پارلیمنٹ میں عورتوں کی حصہ داری 48فیصد ہے۔ حالانکہ اس ملک میںایک پارٹی کا سسٹم ہے اور اسے تاناشاہ ملکوں کے درجے میںرکھا جاسکتا ہے لیکن پھر بھی یہاں اقتدار میں عورتوں کی حصہ داری مردوں کے بالمقابل قدرے بہتر ہے۔ ویسے بھی عورتوں کی سماجی حیثیت کے معاملے میں کیوبا ہمیشہ اگلی صفوں کے ملکوں میں رہا ہے۔ سماجی حیثیت کی رینکنگ کی لسٹ میں کیوبا 142ملکوں میں 18ویں نمبر پر ہے۔ یوروپین ملکوں میں آئس لینڈ ایسا ملک ہے جہاں عورتوں کی سب سے زیادہ حصہ داری ہے۔ آئس لینڈ کی پارلیمنٹ میں 47 فیصد عورتیں ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک بڑی کامیابی ہے، خاص طور پر جب اس ملک میں عورتوں کے لئے الگ سے ریزرویشن کا کوئی پروویژن نہیں ہے۔ اس لسٹ میں نیکارگوا، میکسیکو،جنوبی افریقہ اور نامیبیا جیسے ترقی پذیرممالک شامل ہیں جہاں عورتوں کی حصہ داری 40فیصد سے زیادہ ہے۔ پارلیمنٹ میں 40فیصد یا اس سے زیادہ فیصد عورتوں کی حصہ داری والے یوروپین ملکوں میں صرف تین ملک آئس لینڈ ، سویڈن اور فن لینڈ ہیں۔ ان 11ملکوں میں کسی نہ کسی شکل میں ریزرویشن ضرورنافذ ہے۔ جیسے میکسیکو ، فن لینڈ ،آئس لینڈ اور سویڈن میں سیاسی پارٹیاں اپنے طور پر عورتوں کو نمائندگی دیتی ہیں جبکہ باقی ملکوں میں براہ راست پارلیمنٹ میں ریزرویشن لاگو ہے۔
سب سے پھسڈی ملک
آئی پی یو کے اعدادو شمار کے لحاظ سے سب سے پھسڈی ملکوں کی تعداد بھی اچھی خاصی ہے۔ پوری دنیاکے پارلیمنٹ میں عورتوں کی 10فیصد سے کم حصہ داری والے ملکوں کی تعداد 31ہے ۔ایسا نہیں ہے کہ اس لسٹ میں صرف ترقی پذیر ملک، تانا شاہ یا راج شاہی نظام والے ہی ملک شامل ہیں۔ اس میں جہاں جاپان جیسا ترقی یافتہ ملک شامل ہے، وہیں قطر، یمن، کویت ، بحرین جیسے تانا شاہ اور راج شاہی نظام والے ملک بھی شامل ہیں۔ اس لسٹ میں ایران ، سری لنکا، نائجیریا، تھائی لینڈ جیسے ترقی پذیر جمہوری ملک بھی شامل ہیں۔ ظاہر ہے ان ملکوں میں عورتوں کے لئے پارلیمنٹ میں ریزرویشن کی تجویز نہیں ہے۔ لیکن آئی پی یو کی لسٹ میں سب سے زیادہ غور کرنے کے قابل بات یہ ہے کہ اس میں کوئی پیٹرن یا نمونہ تلاش نہیں کیا جاسکتا ہے۔ یہ نہیں کہا جاسکتاہے کہ ترقی پذیر ملکوں میں عورتیں پچھڑی ہوئی ہیں اس لئے انہیں اقتدار میں حصہ داری نہیں ملتی۔ جب جاپان جیسے ترقی یافتہ ممالک جہاں عورتوں کی سماجی حیثیت اونچی ہے، وہاں بھی پارلیمنٹ میں عورتوں کی حصہ داری برائے نام ہے تو فکر کی بات ہے اور جو ملک ریزرویشن کے خلاف دلیلیں دیتے ہیں انہیں اپنی دلیلوں پر ازسرنو غور کرنے کی ضرورت ہے۔
ہندوستان ،دنیا اور پڑوسی ملک
آئی پی یو کی رینکنگ کے مطابق ہندوستان عورتوں کی پارلیمنٹ میں حصہ داری کے معاملے میں 149 ویں نمبر پر ہے۔ ہندوستانی لوک سبھا کی کل 542 ارکان میں خاتون اراکین کی تعداد 64 ہے۔ ہندوستان جیسے ملک کے لئے جسے دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہونے کا فخر حاصل ہے، یہ عدد بہت حوصلہ افزا نہیں ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا جاچکا ہے کہ دنیا کا سب سے طاقتور جمہوری ملک امریکہ کی رینکنگ بھی 100کے نیچے ہے جوکہ ایک ساتھ چونکانے والی بات بھی ہے اور اپنی ساتھ کئی سوالات بھی کھڑا کرتا ہے۔ امریکہ خود کو حقوق انسانی ، جنسی مساوات اور سب سے بڑھ کر جمہوریت کا سپاہی مانتا ہے۔امریکہ نے دنیا میں خاص طور پر وسط ایشیا میں جمہوریت کی بحالی کا ذمہ خود اپنے کندھوں پر اٹھا رکھا ہے ۔اب ایسے ملک میں جب عورتوں کی کانگریس میں حصہ داری صرف 19 فیصد ہو تو اسے ستم ظریفی نہیں تو اور کیا کہا جائے ۔
جہاں تک ہندوستان کا اپنے پڑوسیوں سے مقابلے کا سوال ہے تو پارلیمنٹ میں عورتوں کی نمائندگی کے معاملے میں یہ سری لنکا، بھوٹان اور مالدیپ سے آگے ہے۔ دوسرے پڑوسی ممالک ہندوستان سے بہت آگے ہیں۔ اس معاملے میں ہندوستان ایشیائی ملکوں میں 13ویں نمبر پر ہے جبکہ سارک ممالک میں 5ویں نمبر پر۔ افغانستان ،پاکستان، نیپال ، بنگلہ دیش جیسے ملک ہندوستان سے کافی اوپر ہیں۔ اس کا ایک سبب یہ ہے کہ ان ملکوں کی پارلیمنٹ میں عورتوں کے لئے سیٹیں ریزروڈ ہیں۔غور طلب ہے کہ نیپال کی پارلیمنٹ میں 30فیصد عورتیں چنی گئی ہیں، افغانستان میں 27.7 فیصد، پاکستان میں 20.3 فیصد جبکہ بنگلہ دیش میں 20.3 فیصد عورتیں منتخب کی گئی ہیں۔ظاہر ہے اس پسماندگی کی بنیادی وجہ مردکے تسلط والا سماج ہے جس میں یہ مان لیا جاتا ہے کہ عورتیں مردوں کے مقابلے میں کمزور ہیں۔ بہر حال ہندوستان کے پڑوسی ملکوں کے اعدادو شمار بھلے ہی حوصلہ افزا ہوں لیکن وہاں بھی ریزرویشن کا فائدہ اس طبقہ کی عورتوں کو مل رہاہے، جو پہلے سے ہی حق حاصل کئے ہوئی ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

منطق کی دلیل
عورتوں کو ریزرویشن دیئے جانے کے خلاف جو دلیلیں دی جاتی ہیں، ان میں سب سے اہم دلیل یہ ہے کہ یہ مساوات کے حق کے خلاف ہے ۔ اگر پارلیمنٹ میں سیٹیں ریزرو کی گئیں تو عوام کی پسند محدود ہو جائے گی۔ یہ بھی کہا جاتاہے کہ عورتوںکو ریزرویشن دینے سے صرف اعلیٰ برادری کی عورتوں کوہی فائدہ ملے گا۔ سماج کے حاشئے پر پڑی عورتوں کو اس کا فائدہ نہیں ملے گا۔ ایسا ملک بھی دیکھا گیا ہے کہ عورتوںکے مرد رشتہ دار خاتون نمائندہ کا کام کرنا شروع کردیتے ہیں۔ ہندوستان کی پنچایت اور عراق میں عورتوں کو دیا گیا ریزرویشن اس کی مثالیں ہیں۔ بہر حال سب پہلی بات یہ ہے کہ اگر سماجی سابقہ گروہوں کی وجہ سے دنیا کینصف آبادی کو ان کے حقوق سے محروم رکھا گیا ہے اور جمہوری نظام کے متعارف ہو جانے کے بعد بھی ان کے حقوق نہیں مل رہے ہیں تو ریزرویشن ہی ایک راستہ بچتا ہے ۔ اسی طرح یہ مان لینا کہ عورتیں صرف مردوں کے زیر اثر کام کرنے کی پابند ہوں گی،درست نہیں ہے ۔کیونکہ روانڈا کی عورتوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ عورتیں بھی ملک کا نصیب بدل سکتی ہیں۔ ہندوستان میں کئی خاتون پنچایت پرمکھوں نے اچھا کام کر کے اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا ہے۔ ظاہر ہے شروع شروع میںخاتون نمائندے کے مرد رشتہ دار ان کے کاموں میں دخل دیں گے لیکن دھیرے دھیرے عورتیں خود ہی فیصلہ لینے لگیں گی۔
اب رہا سوال یہ کہ کیا ریزرویشن کا فائدہ عورتوں کو ملے گا؟تو اب تک کے جو نتائج ہیں ،ان سے یہ لگتا ہے کہ ضرور ملے گا اور ملک جنسی مساوات کی طرف بڑھے گا ۔جہاں تک ریزرویشن دینے کا سوال ہے تو زیادہ تر مغربی ملکوں نے پارٹی کی سطح پر ریزرویشن کا غیر سرکاری پروویژن کر رکھا ہے جبکہ زیادہ تر ترقی پذیر ملکوں نے پارلیمنٹمیں براہ راست سیٹیں ریزرو کر رکھی ہیں لیکن یہ سکے کا صرف ایک رخ ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں فرانس نے عورتوں کے لئے پارلیمنٹ میں سیٹیں ریزرو کر رکھی ہیں۔ وہیں میکسیکو جیسے ترقی پذیر ملک نے پارٹی کی سطح پر ریزرویشن کے نظام کو اپنایا ہے اور وہاں پارلیمنٹ میں عورتوں کی حصہ داری 42فیصد ہے ۔لہٰذا اس میں کوئی پیٹرن نہیں تلاش کیا جاسکتا ہے۔ ہاں، اب تک کے اعدادو شمار یہ ثابت کرتے ہیں کہ جن ملکوں نے عورتوںکے لئے ریزرویشن کا نظام بنایا ہے، وہاں خاتون کی نمائندگی میںاضافہ ہوا ہے اور کئی ملکوں خاص طور پر ترقی پذیر ملکوں میں عورتوںنے اپنے سماج اور ملک میں مثبت اثر ڈالاہے ۔
لہٰذا ہندوستان میں اس ایشو کا بحث میں آنے کا سبب بھلے ہی سیاست سے متاثر ہو لیکن ہندوستانی پارلیمنٹ میں خاتون نمائندگی کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ وقت کی ضرورت ہے۔اگر سرکار اس بل کو موسم سرما کے سیشن میں پیش کروانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس سے نہ صرف دنیا کے سب سے بڑی جمہوریت میں عورتوں کی حصہ داری یقینی ہوگی بلکہ موجودہ سرکار کو بھی انتخابات میں اس کا فائدہ ملے گا۔کیونکہ جس طرح روانڈا میںعورتیں ایک پریشر گروپ کی طرح ابھری ہیں، اسی طرح ہندوستان میں اس کی مثال موجود ہے۔ پنچایتوں اور سرکاری نوکریوں میں عورتوں کے لئے ریزرویشن کے پروویژن کی وجہ سے نتیش کمار بہار کے ہر طبقہ کی عورتوں میں کافی مقبول ہیں۔ پچھلے اسمبلی انتخابات کے نتائج میں یہ اثر مزید نکھر کر سامنے آیا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ سرکار اس بل کو پیش کرنے اور اسے لاگو کروانے کی ہمت جمع کرپاتی ہے یا نہیں؟
ہندوستان میں ویمن ریزرویشن کی مانگ کی تاریخ
خواتین کو اختیارات دینے کے لئے 1993 میں پنچایتی راج قانون پیش ہوا جس کے تحت پنچایت میںعورتوںکے لئے سیٹوں کے ریزرویشن کا پروویژن رکھا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جو عورتیں اپنے گھروں سے نہیں نکلتی تھیں ، وہ انتخابات میں اترنے لگیں اور پنچایت سربراہ کا رول ادا کرنے لگیں۔اس کے بعد ایچ ڈی دیوے گوڑا سرکار کے دور کار میں عورتوںکے لئے لوک سبھا اور اسمبلیوں میں ریزرویشن دینے کے لئے پہلی بار ستمبر 1996 میں ویمن ریزرویشن بل پیش کرنے کی کوشش کی گئی لیکن کچھ اپوزیشن پارٹیوں کے ہنگامے کی وجہ سے یہ بل پاس نہیں ہو سکا ۔ جون 1997 میں ایک بار پھر کوشش کی گئی لیکن نتیجہ ڈھاک کے تین پات رہا۔ 1998,1999اور 2003 میں اٹل بہاری باجپئی کی این ڈی اے کی سرکار نے اس بل کو پیش کروانے کی کوشش کی لیکن یہ بل بار بار ہنگامے کے نذر چڑھ گیا ۔یو پی اے سرکار نے 2010 میں اس بل کو راجیہ سبھا سے منظور کرالیا لیکن راشٹریہ جنتا دل اور سماج وادی پارٹی جیسے اتحادیوں کی مخالفت کی وجہ سے یہ بل لوک سبھا سے پاس نہیں ہو سکا۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ اس بل کو پاس کرنے سے یو پی اے سرکار بحران میں آجاتی ۔غور طلب ہے کہ امریکہ کے ساتھ نیو کلیئر ڈیل کو لے کر منموہن سنگھ نے اپنی سرکار کو دائوں پر لگا دیاتھا تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ منموہن سنگھ نے جو عزم نیو کلیئر ڈیل کے معاملے میںدکھایا تھا، وہی عزم اس بل پر انہوں نے اپنے 10 سال کے دور کار میں کیوں نہیں دکھایا ؟اور جب راجیہ سبھا سے یہ بل پاس ہوا تو کیا اس وقت سرکار پر بحران کے بادل نہیں منڈلائے تھے؟
عورتیں پنچایت سنبھال سکتی ہیں تو ملک کیوں نہیں
راجستھان میں چورو ضلع کے سوجان گڑھ کے گوپال پورا پنچایت میں 2005 میں ہوئے پنچایتی انتخاب میں لوگوں نے سویتا راٹھی کو سرپنچ منتخب کیا۔ وکالت کی پڑھائی کر چکی سویتا راٹھی نے لوگوں کے ساتھ مل کر گائوں کی ترقی کا نعرہ دیا تھا۔ سرپنچ بننے کے بعد سویتا نے سب سے پہلا کام گرام سبھا کی مقررہ میٹنگیں بلانے کا کیا ۔گرام سبھا کی میٹٹنگیں ہونے سے گائوں کے لوگوں میں اعتماد پیدا ہوا کہ ان کے گائو ں کی حالت بھی بہتر ہو سکتی ہے۔ گائوں میں ہر طرف صفائی رہنے لگی ۔ سرپنچ کے ساتھ گائوں والوں نے لگ کر پانی کی کمی پوری کی۔ گائوں میں آپس میں خوب جھگڑے ہوتے تھے، دھیرے دھیرے جب گرام سبھا کی میٹنگیں ہونے لگیں تو یہ ایشو بھی اٹھا اور حیرت انگیز طور سے لوگوں میں بھید بھائو کم ہوتے چلے گئے۔ گائوں میں راشن کی چوری بند ہو گئی۔ اسی طرح جب راجستھان کے ٹونک ضلع میںسوڑا گائوں کی سرپنچ چھوی راجاوت بنیں تب سے یہاں کئی بدلائو ہوئے ۔ چھوی راجاوت جو ایم بی اے کی پڑھائی کرنے کے بعد اپنے گائوں آئیں اور سرپنچ بنیں۔ سوڑا گائوں میں گرام سبھا کی میٹنگیں انہوں نے کروائیں۔ چھوی نے شروع میں ہی تین مہینے میںگرام سبھا کی تین میٹنگیں بلا کر اس کا توڑ نکال لیا ۔ اس کے بعد گائوں سے تجاوزات ہٹے۔تین مہینے میں ہی گائوں کے لوگوںنے باچ چیت کے ذریعہ تالاب کی زمین پر بنے باڑے ہٹوا دیئے۔ آج چھوی راجاوت کی کامیابی کی گونج اقوام متحدہ تک پہنچ چکی ہے۔
ابھی ملک کی کئی ریاستوں میں گرامن پنچایتوں میں عورتوں کے لئے 50فیصد ریزرویشن کا نظم ہے تو کئی جگہ 33 فیصد۔اس سے پنچایتی راج نظام میں بڑی تعداد میں عورتوں کو مقامی سیاست سے جڑنے کا موقع ملا ہے اور کئی خاتون عوامی نمائندوں نے اس طرح سے کام کیا کہ ان کے کام کے نشان غیر ملک تک پہنچ گئے ۔اترپردیش میں ہاتھرس کے گرام ساسنی کی پردھان انیتا اپادھیائے کو مرکزی سرکار کی سافٹ ویئر پلان پلس اسکیم کے تحت گائوں کا ڈاٹا لوڈ کرنے کے لئے’ رانی لکشمی بائی ویرتا ‘ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انیتا کو گائوں میں جنسی تناسب ، سوچھتا اور شفاف پانی کے شعبے میں کام کرنے کے تئیں بھی اعزاز سے نوازا جاچکا ہے ۔سلطان پور کے گائوں بھٹپا کی گرام پردھان بندو سنگھ نے اپنے گائوں کی ویب سائٹ ہی بنا ڈالی اور اس میں گائوں کے ہر آدمی سے متعلق جانکاری ڈال دی ۔راجستھان کے سیروہی ضلع کی سیلواڈا گرام پنچایت کی سرپنچ منجو میگھوال گائوں میں بچوں کی شادی ، صنف کی بنیاد پر اسقاط ،جہیز رسم جیسے رواج کی مخالفت کرتی رہتی ہیں۔ منجو نے اسکولوں میں لڑکیوں کے قیام کو یقینی کرنے کے لئے ٹوائلٹ کی مرمت کروائی۔ راجستھان کے بہروڑ تحصیل کی بڈھوال گرام پنچایت کا انتخاب جیتنے والی سرپنچ آشا دیوی گائوں والوںکے لئے ایک نئی امید کی کرن بن کر ابھری ہیں۔ سو فیصد تعلیم نسواں اور لڑکیوں کو جنین میں مارڈالنے کو روکنا ان کا ہدف ہے۔ آشا دیوی کی پہل کے بعد گائوں والوں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب گائوں میں کسی بھی تقریب میں ڈی جے نہیں بجے گا۔ بھوپال کے برکھیڑی کی خاتون سرپنچ بھکتی شرما کی پنچایت میں آج گائوں کے 100 فیصد لوگوں کے راشن کارڈ بنے ہوئے ہیں ، سبھی کے بینک اکائونٹس ہیں اور سبھی بچے اسکول جاتے ہیں۔

خواتین کے ریزرویشن کے تعلق سے اہم نکات
٭پوری دنیا کی پارلیمنٹ میں 22.8 عورتوں کی حصہ داری ہے
٭ہندوستانی پارلیمنٹ میں عورتوں کی حصہ داری صرف 11.3 فیصد ہے
٭ نیپال، افغانستان ، پاکستان اور بنگلہ دیش کہ پارلیمنٹ میں عورتوں کی حصہ داری 20 فیصد سے زیادہ ہے ۔
٭دنیا میں کل 10عورتیں سربراہ مملکت ہیں اور 9 عورتیں سرکار کی نمائندگی کررہی ہیں۔
٭دنیا کے 38ملک ایسے ہیں جہاں پارلیمنٹ میں عورتوں کی حصہ داری 10فیصد سے کم ہے ۔
٭دنیا میں 18فیصد وزارتیں عورتوں کے پاس ہیں۔
٭صرف راوانڈا اور بولیبیا ایسے ملک ہیں جہاں عورتوں کی پارلیمنٹ میں حصہ داری 50 فیصد سے زیادہ ہے۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *