روہنگیا کے بارے میںسوچی کااڑیل رویہ برقرار

میانمار میں روہنگیائی مسلمانوں کے خلاف جاری تشدد کی وجہ سے زبردست تنقید کا سامنا کر رہی اسٹیٹ کونسلرآنگ سان سوچی نے نیویارک میں منعقد اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔انہیں ڈر تھا کہ اس اجلاس میں انہیں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ میانمار پر روہنگیائیوںپر ہونے والے مظالم کو روکنے میں وہ بالکل ناکام رہی ہیں۔گزشتہ سال میانمار میں اسٹیٹ کونسلر بننے کے بعد سوچی کیلئے روہنگیا مسلم کمیونٹی کا معاملہ سب سے بڑے چیلنج کے طور پرسامنے آیا ہے۔ میانمار میں روہنگیا باغیوں کی جانب سے حملے کے بعد ملکی فوج نے روہنگیا کمیونٹی کے خلاف بڑے پیمانے پر پرتشددکارروائی کی ۔ میانمار میں اس تشدد کی وجہ سے اب تک تقریبا 3 لاکھ 70,000 روہنگیا تارکین وطن بنگلہ دیش میں پناہ گزین ہیں۔ناقدین نے سوچی پر اس بحران کو دور کرنے میں ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے امن کا نوبل انعام واپس لئے جانے کی وکالت کی ہے۔
سوچی کا قوم سے خطاب
آنگ سان سوچی نے ممکنہ تنقید سے بچنے کے لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھااورانہوں نے روہنگیا بحران سے اقوام عالم کو آگاہ کرنے کے لیے قوم سے خطاب کا سہارا لیا۔انہوں نے ریاست رخائن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور غیر قانونی تشدد کی مذمت کی لیکن روہنگیا مسلمانوں پر فوجی مظالم کے خلاف بات تک نہ کی۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ 5 ستمبر کے بعد سے رخائن میں کوئی مسلح تصادم نہیں ہوا۔ رخائن میں تمام گروپوں کی تکلیفیں میانمار بھی محسوس کرتا ہے اور حکومت امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کرکے قانون کی بالادستی قائم کرنے کے لئے پرعزم ہے۔سوچی نے کہا کہ ہمیں بنگلادیش نقل مکانی کرنے والوں پر تحفظات ہیں مسلمانوں کی بڑی تعداد میانمار چھوڑ کرنہیں گئی اور اب بھی لاکھوں روہنگیا یہاں موجود ہیں۔ وہ روہنگیا بحران کی تفتیش کے عالمی دباؤ پر کسی قسم سے خوفزدہ نہیں ہیں اور غیرملکی سفرا ء میانمار آکر صورتحال کا جائزلے سکتے ہیں
قابل ذکر ہے کہ سوچی نے گزشتہ برس اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی میں میانمار کے اسٹیٹ کونسلر کے طور پر پہلاخطاب کیا تھا۔ اپنے خطاب میں، سو چی نے اقلیتی روہنگیا مسلم کمیونٹی کے لوگوں کیلئے میانمار کی حکومت کی طرف سے کئے گئے کاموں کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے حکومت کی اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوششوں کی بھی حمایت کی ۔
خیر وہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں شریک تو نہیں ہوئیں لیکن یہ توقع کی جارہی تھی کہ وہ قوم کے نام اپنے خطاب میں ان مظلوم روہنگیائیوں کے درد کو کم کرنے کے لئے کوئی ٹھوس قدم ضرور اٹھائیں گی۔لیکن اس خطاب میں انہوں نے جو کچھ بھی کہا ،اس سے مایوسی ملی ۔انہوں نے کوئی ایسی بات نہیں کی جس سے اندازہ ہوکہ وہاں بڑے پیمانے پر کچھ ہوا ہے۔
خیال رہے کہ شمالی رخائن صوبے میں جاری بحران پر اپنے پہلے قومی خطاب میں انھوں نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ بین الاقوامی برادری یہ جان لے کہ ان کی حکومت حالات سے نمٹنے کے لیے کیا کر رہی ہے۔انہوں نے انسانی حقوق کی تمام پامالیوں کی مذمت کی اور کہا کہ جو کوئی بھی اس کا مرتکب ہے اس کو سزا دی جائے گی۔

 

 

 

 

 

سوچی کے خطاب کے کچھ اہم نکات:
٭جو لوگ رخائن میں تشدد کے ذمہ دار ہیں ان کا قانون کے تحت محاکمہ کیا جائے گا۔
٭رخائن میں زیادہ تر مسلم گاؤں موجود ہیں۔ ہر شخص نے راہ فرار اختیار نہیں کیا ہے۔ ہم بین الاقوامی برادری کو یہاں آنے کی دعوت دیتے ہیں۔
٭رخائن میں امن و امان بحال کرنے کے لیے حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ یہ کیوں ہوا اور اس کے متعلق ہم نقل مکانی کرنے والوں سے گفتگو کے لیے تیار ہیں۔
٭رخائن میں جو کچھ ہوا اس کا میانمار کو شدید احساس ہے۔ ہم بنگلہ دیش جانے والے مسلمانوں کے بارے میں فکر مند ہیں۔
٭امن اور سلامتی ایسی چیزیں ہیں جس کے حصول کے لیے ہم نے 70 سال جدوجہد کی ہے۔ ہم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہیں۔ ہم قانون کی حکمرانی اور امن کی بحالی کے لیے پر عزم ہیں۔
٭میانمار ایک پیچیدہ ملک ہے۔ لوگ امید کرتے ہیں کہ ہم سب سے کم ممکنہ وقت میں تمام چیلنجز سے نمٹ لیں گے۔ ہم نے بحران کو حل کرنے اور قانون کی حکمرانی کو بحال کرنے کے لیے ایک مرکزی کمیٹی تشکیل دی ہے۔
٭ہم نے اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان کو زیر التوا مسائل کو حل کرنے کے لیے مجوزہ کمیشن کی قیادت کے لیے مدعو کیا ہے۔
٭جو میانمار واپس آنا چاہتے ہیں ان کے لیے ہم پناہ گزین شناختی عمل شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ہم مذہب اور نسل کے نام پر میانمار کو منقسم دیکھنا نہیں چاہتے۔
سوچی کے بیان کے نکات پر غور کیاجائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ روہنگیائی مسلمانوںکو اذیت پہنچانے کے لئے جتنی شدید آگ لگائی گئی ہے اس کی تپش پوری دنیا میں محسوس کی جارہی ہے مگر ایک سوچی ہیں جن کو اس کی تپش محسوس نہیں ہورہی ہے ۔یہی وجہ تو ہے کہ وہ اپنے ان بیانات میں اتنے بڑے حادثے کو کوئی خاص اہمیت نہیں دے رہی ہیں۔
ہندوستان روہنگیائیوں کی مددکرے
روہنگیائی مہاجروں کے تعلق سے گزشتہ دنوں ایشیا کی مشہور یونیورسٹی دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا ابو القاسم نعمانی کی طرف سے ایک بیان جاری ہوا۔ ادارہ نے مرکزی حکومت کے ذریعہ سپریم کورٹ میں داخل کئے گئے روہنگیا مسلمانوں کے سلسلہ میں حلف نامہ پر اعتراض درج کرایاہے۔ مولانا نعمانی کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت برباد حال روہنگیا مسلمانوں کو ملک بدر کرنے کے سلسلہ م میںجو اقدامات کررہی ہے وہ باعث افسوس ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کو اپنی دیرینہ روایات کے پیش نظر وسیع القلبی کا معاملہ کرنا چاہئے تھا اور روہنگیا کے لوگوں کی ہر اعتبار سے مدد کرنی چاہئے تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ برما میں جوانسانیت سوز حالات پیش آرہے ہیں ،وہ کسی سے چھپے ہوئے نہیںہیں۔ وہاں کے برباد لوگ اپنی جان بچا کر دوسرے ملکوں میں پناہ لے رہے ہیں۔ اسی طرح ہندوستان میں بھی بہت سے روہنگیامسلمان پناہ گزیں ہیں جن کے بارے میں یہ امید کی جاتی رہی ہے کہ ہماری حکومت ہرسطح پر ان کا تعاون کرے گی۔ لیکن معاملہ ہندوستان کے مزاج کے برخلاف نظر آرہا ہے۔حقوق انسانی کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کوہندوستانی حکومت پر دبائو بنانا چاہئے کہ وہ نہ صرف یہ کہ جو روہنگیا یہاں پناہ گزیں ہیں ،ان کے علاوہ بھی اگر میانمار سے تباہ حال انسان یہاں آنا چاہیں تو ان کے لئے دروازے فراخ دلی کے ساتھ کھول دیئے جائیں۔
روہنگیائیوں کے لئے دعا
دوسری طرف دارالعلوم کے صدر مفتی مولانا حبیب الرحمن خیر آبادی نے تمام مدارس و مکاتب بالخصوص مساجد کے ائمہ کرام سے اپیل کی کہ روہنگیا مسلمانوں کے حق میں خصوصی دعائوں اور نماز فجر میں ظالموں کی ہدایت کے لئے دعا کریں۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ میانمار میں مسلمانوں کے خلاف جس ظلم و بربریت اور سفاکیت کا مظاہرہ ہورہا ہے و حد درجہ اذیت ناک ہے۔ اس مسئلہ پر ہمارا ملک کوئی موثر اقدام روہنگیا مسلمانوں کے حق میں کرنے کے بجائے ان کو اپنے ملک سے نکالنے کی تدبیریں اختیار کررہاہے۔ ایسی تشویش ناک صورت حال میں ہم صدائے احتجاج بلند کرنے اور دعائوں کے سوا کیا کرسکتے ہیں اس لئے تمام مسااجد کے ائمہ سے اپیل ہے کہ فجر کے وقت روہنگیا مسلمانوں کے حق میں خاص طور پر دعا کا اہتمام ضرور کریں۔بہر کیف حالات تو انتہائی ناگفتہ بہ ہیں ۔روہنگیائی مسلمان کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں پھر بھی سوچی کا ان بدترین حالات کو محسوس نہ کرنا بہت افسوسناک ہے خاص طور پر جبکہ انہیں امن کا نوبل ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *