راج ناتھ سنگھ اور ڈاکٹرمنموہن سنگھ کے جموں و کشمیر کے دورے صرف باتوں سے کچھ نہیں ہوگا

مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ 9ستمبر سے 11ستمبر تک وادی کشمیر میں تھے۔ اس کے بعد انہوں نے ایک دن جموں میں بھی گزارا۔ یہ پہلا موقعہ ہے کہ جب ملک کا کوئی وزیر داخلہ مسلسل چار دن تک جموں کشمیر میں رہا ہو۔ نئی دہلی سے سری نگر روانہ ہونے سے پہلے راج ناتھ سنگھ نے ٹویٹر پر لکھا،’’ میں وہاں ( جموں وکشمیر ) ایک کھلے ذہن کے ساتھ جارہا ہوں ہوں اور ہر اُس شخص سے ملنے کے لئے تیار ہوں ، جو جموں وکشمیر کو درپیش مشکلات کا حل نکالنے میں ہماری مدد کرے گا۔‘‘ظاہر ہے کہ وزیر داخلہ کے اس مثبت رویے کے اظہار کے نتیجے میں کشمیر کے بہت سے حلقوں میں ان کے دورے کے حوالے سے کافی اُمیدیں وابستہ ہوگئی تھیں۔ ایسا اس لئے بھی کہچند ہفتہ قبل وزیر اعظم مودی نے نئی دہلی میں یوم آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’کشمیر کا مسئلہ گالی اور گولی سے نہیں بلکہ کشمیر یوں کو گلے لگانے سے حل ہوگا‘‘۔مودی کے اس خوش کن بیان کے ایک ماہ بعد ہی وزیر داخلہ کا ریاست کے چار روزہ دورے پر آنا ، اپنے آپ میں ایک اہم بات تھی۔بیشتر مبصرین نے اس اُمید کا اظہار کیا تھا کہ شاید راج ناتھ سنگھ جموں وکشمیر کے دورے کے دوران یہاں کے اُن مسائل کا حل پیش کریں گے ، جو فی الوقت کشمیر میں پریشانی کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ ان میں سے سب سے بڑا مسئلہ ہے آئین ہند کی دفعہ 35Aکو ختم کرنے کی مبینہ کوششیں اور دوسرا ریاست میں قومی تفتیشی ایجنسی این آئی اے کی غیر معمولی سرگرمیاں۔

 

 

 

 

 

35A کا مسئلہ
35A، جس کے تحت جموں وکشمیر میں باشندگی سے متعلق خصوصی قوانین کو تحفظ حاصل ہے کو ختم کرنے کی اپیل کے ساتھ سپریم کورٹ میں آر ایس ایس نے ایک عرضی داخل کروائی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ مودی سرکار نے سپریم کورٹ میں اس قانون کا دفاع کرنے کے بجائے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اس پر بحث ہونی چاہیے۔ ایک عام تاثر یہ ہے کہ مرکزی سرکار بھی آئین کی اس شق کو ختم کرانا چاہتی ہے تاکہ ریاست میں آبادی کے تناسب کو بدلا جاسکے ، یعنی بیرونی ریاستوں کے لوگوں کے لئے جموں وکشمیر کی باشندگی حاصل کرنے کا قانونی حق پیدا کرکے اس ریاست کے اصل باشندوں کو اقلیت میں تبدیل کیا جاسکے۔ اس خدشے کی وجہ سے کشمیر میں اضطراب کی ایک لہر پھیلی ہوئی ہے۔ دوسرا اہم مسئلہ یہ ہے کہ این آئی اے کشمیر میں غیر معمولی طور پرمتحرک ہوگئی ہے۔ لگ بھگ تین ماہ پہلے ’’ٹرر فنڈنگ‘‘ یعنی دہشت گردی کو فنڈنگ کی جانے کے الزام کے تحت ایک کیس درج کیا گیا اور اسکے بعد گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں اور پوچھ تاچھ کے نام پر جسے مرضی نئی دہلی بلایا جارہا ہے۔علاحدگی پسندوں اور سول سوسائٹی کے گروپس کا الزام ہے کہ ’’ٹرر فنڈنگ کیس ‘‘ کے نام پر کشمیر میں لوگوں کو دہشت زدہ کیا جارہا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ تین ماہ کی تحقیق ، متعدد گرفتاریوں اور درجنوں لوگوں سے پوچھ تاچھ کے باوجود این آئی اے کے ہاتھ ابھی تک ایسی کوئی شہادت نہیں لگی ہے جس سے کسی پر دہشت گردی کی فنڈنگ کرنے جیسا سنگین الزام ثابت کیا جاسکے۔ البتہ این آئی اے نے حریت کے بعض لیڈروں کی جائدادوں کی فہرست جاری کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ یہ جائدادیں ان کی عیاں آمدنی سے کہیں زیادہ ہیں۔ اگر یہ ثابت بھی ہوجاتا ہے کہ تو یہ کرپشن کا ایک کیس ہوسکتا ہے۔ بہرحال این آئی اے کی تحقیق ابھی جاری ہے، اسلئے کوئی بھی بات حتمی طورپر نہیں کہی جاسکتی ۔امید تھی کہ راج ناتھ سنگھ کے کشمیر دورے کے موقعے پر ان کی جانب سے ان دو مسائل یعنی 35Aاور این آئی اے کے معاملے پر کوئی ایسا فیصلہ سنایا جائے گا ، جس سے کشمیریوں کو لاحق خدشات دورہوں۔
لیکن کشمیر میں چار دن تک موجود گی کے دوران وزیر داخلہ نے صرف بیانات دیئے ۔ مثلاً انہوں نے کہا ،’’35Aپر کوئی فیصلہ کشمیری عوام کی بھاونائوں کے خلاف نہیں کیا جائے گا۔‘‘ یعنی انہوں نے یقین دلایا کہ 35Aکو ختم نہیں کیا جائے گا۔ لیکن جب کشمیر میں یہ آوازیں اٹھنے لگیں کہ اگر راج ناتھ سنگھ سچ کہہ رہے ہیں تو مرکزی حکومت کو فوراً سپریم کورٹ میں ایک حلف نامہ دائر کرکے کورٹ کو بتانا چاہیے کہ مرکزی سرکار آئین کی اس شق کا خاتمہ نہیں چاہتی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ مرکزی سرکار ایسا کرے گی تو سپریم کورٹ 35Aکے خلاف دائر عرضی کو خارج کرے گی۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ اس ضمن میں راج ناتھ سنگھ کا بیان تاحال محض بیان ہی ثابت ہوا ہے۔ مرکزی سرکار نے سپریم کورٹ کو اپنے موقف سے واقف نہیں کیا جس کا مطلب یہ ہے کہ 35Aکے بارے میں ابھی خطرے کی تلوار کشمیریوں پر لٹک رہی ہے۔

 

 

 

 

 

منموہن سنگھ کا دورہ
دلچسپ بات یہ ہے کہ جس دن وزیر داخلہ وادی کے دورے پر آئے ، اسی دن سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیادت میں کانگریس کا ’’پالیسی پلاننگ گروپ ‘‘ جموں کے دو روزہ دورے پر آیا تھا۔ اس گروپ میں ڈاکٹر سنگھ کے علاوہ سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم ، پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کے لیڈر غلام نبی آزاد، کانگریس جنرل سکریٹری امبیکا سونی اور ڈاکٹر کرن سنگھ شامل تھے۔ کانگریس کے مطابق اس گروپ کا مقصد ریاست کی موجودہ حالات کو جاننا اور مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کی راہیں تلاش کرنا ہے۔ کانگریس کے بڑے لیڈروں پر مشتمل یہ گروپ جموں کے دوروزہ دورے کے دوران مختلف سیاسی اور سماجی لیڈروں کے علاو ہ مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں لوگوں کے وفود سے ملا۔ اس کے کئی دن بعد یعنی 16ستمبر کو کانگریس لیڈروں کا یہ وفد وادی کے دورے پر بھی آیا۔ یہاں اپنے قیام کے دوران کانگریس لیڈران 1200افراد پر مشتمل 54عوامی وفود سے ملا۔یہ وفود زندگی کے ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں پر مشتمل تھے۔ ان میں وکیل بھی تھے ، صحافی بھی تھے، تاجر بھی تھے، ہائوس بوٹ اور ہوٹل مالکان بھی تھے، مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکنا بھی تھے اور سب سے اہم بات ہے کہ یہ لوگ نہ صرف سری نگر بلکہ وادی کے مختلف اضلاع سے آئے ہوئے تھے۔
اس طرح سے کہا جاسکتا ہے کہ دو دن تک وادی میں قیام کے دوران کانگریس کے ان بڑے لیڈروں نے کھل کر کشمیریوں کو سنا۔ ان کی آراء جانی۔اتنے لوگوں سے ملنے کے بعد کانگریس کی ٹیم نے کشمیر کے موجودہ حالات اور کشمیر کے حل کے بارے میں کیا رائے بنائی ہے، اس کا اندازہ یہاں دیئے گئے اُن کے بیانات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔غلام نبی آزاد نے یہاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بی جے پی کی مرکزی سرکار پر الزام عائد کیا کہ اس نے اپنی غلط پالیسیوں سے کشمیر میں ملی ٹینسی کو بڑھاوا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’بی جے پی کشمیر میں ملی ٹنسی کو پورے ملک کے خلاف کرکے اقتدار میں آگئی ہے۔‘‘ کشمیر دورے کے دوران کانگریس کے ان لیڈروں نے مرکزی سرکار پر زور دیا کہ وہ کشمیریوں کے ساتھ’’ بات چیت کا دروازہ کھول دے‘‘۔ حالانکہ کانگریس لیڈروںسے ملنے والے بعض وفود اور افراد نے انہیں کھری کھری بھی سنادی۔ کانگریس لیڈروں کو وہ وعدے یاد دلائے گئے جو انہوں نے اپنے دور حکومت میں کشمیر یوں کے ساتھ کئے۔ صحافی ماجد حیدری بھی کانگریس لیڈروں سے ملاقات کرنے والوں میں شامل تھے۔ انہوں نے ’’چوتھی دنیا‘‘ کو بتایا،’’ میں کانگریس پینل سے مخاطب ہوکر انہیں بتایا کہ کانگریس نے خود کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے لئے ورکنگ کمیٹیاں بنائیں، مذاکرات کاروں کو تعینات کیا اور پھر خود ہی ورکنگ گرپوں اور مذاکرات کاروں کی رپورٹوں کو ڈسٹ بن میں ڈال دیا۔ میں نے انہیں یاد دلایا کہ70سال میں کس طرح سے کانگریس نے کشمیر کے مسئلے کو الجھانے کا کردار نبھایا ہے۔میں نے انہیں بتایا کہ کانگریس کشمیر میں اپنی اعتباریت پہلے ہی کھو چکی ہے۔‘‘
بہر حال دونوں حزب اقتدار اور حزب اختلاف یعنی وزیر داخلہ اور کانگریس لیڈران نے اپنے کشمیر کے دورے کے دوران خوب اچھی اچھی باتیں کہیں۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ کشمیر کے حالات اور کشمیر کا مسئلہ اب اس دور سے کہیں آگے چلے گئے ہیں، جہاں محض باتوں سے صورتحال بدلی جاسکتی ہے۔وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ آئے اور چار دن یہاں رہنے کے بعد چلے گئے۔ کانگریس کی اعلیٰ قیادت یہاں آئی اور دو دنوں کے بعد چلی گئی ۔ لیکن کشمیر کے حالات میں نہ کوئی تبدیلی آئی ہے اور نہ ہی مستقبل قریب میں اسکی کوئی امید ہے۔
جس دن وزیر داخلہ نے سری نگر ائر پورٹ پر لینڈ کیا ، عین اُسی دن جموں وکشمیر کی سرحد ہندوستان اور پاکستان کی فوجیوں کی آپسی تصادم آرائی سے دہل اٹھی ۔ اسی دن شمالی کشمیر میں ملی ٹینٹوں اور فورسز کے درمیان شمالی کشمیر میں ایک خونریز جھڑپ ہوئی۔ اسکے بعد یہ سلسلے کئی دنوں تک چلا اور یقینا اس طرح کے حالات میں تبدیلی کے فی الحال کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ جب تک مرکزی سرکار کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات نہیں کرتی اور مذاکرات کا ایک موثر سلسلہ شروع نہیں کرتی ، یہاں کے حالات میں کسی تبدیلی کی اُمید نہیں کی جاسکتی ہے۔کشمیر کے حالات کو بدلنے کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا اور حقائق کو تسلیم کرنا ناگزیر ہے۔ مرکزی حکومت اس ضمن میں واقعی سنجیدہ ہو تو 35Aپر کشمیری عوام کو لاحق خدشات کو عملی اقدام سے دور کرکے ایک اچھی شروعات کی جاسکتی ہے۔ اب محض زبانی جمع خرچ اور وقت گزاری سے کام نہیں چلے گا۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *