محب ملک و ملت بدر الدین طیب جی بھی فراموش کردیئے گئے

اس ہفتہ یعنی 10اکتوبر کو 173 برس قبل ایک ایسی شخصیت پید اہوئی تھی جس کے احسانات کا ملک و ملت مرہون ہے ۔مگر آج انہیں فراموش کردیا گیا ہے۔ کسی کو معلوم بھی نہیں ہے کہ وہ کون تھے؟ان کا نام تھا بدرالدین طیب جی۔ گاندھی جی انہیں کانگریس کی تاسیس میں محرک مانتے تھے۔یہ کانگریس کے تیسرے صدر( 1887 )رہے۔انہوں نے بمبئی ہائی کورٹ کے اولین قائم مقام ہندوستانی چیف جسٹس رہتے ہوئے مشہور قومی رہنما بال گنگا دھر تلک کو برطانوی حکمرانوں سے اختلاف کرتے ہوئے ضمانت پر رہا کردیا تھا۔1873 میں ان کی قیادت میں اس وقت کے مسلمانوں کا بمبئی میں نمائندہ ادارہ انجمن اسلام بنا تھا جس کا مقصد مسلم تعلیم ،معیشت و معاشرت کو بہتر بنانا تھا۔ 144 برس قبل اس کے پاس صرف ایک اسکول تھا جبکہ اب اس کے تحت پری پرائمری اسکول سے لے کر پوسٹ گریجویٹ سطح نیز انجینئرنگ و دیگر تکنیکی و میڈیکل اور مینجمنٹ کے 80 سے زائد تعلیم گاہیں ہیں جن میں 110 لاکھ سے زیادہ طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں۔اس کے تحت 15 ٹرسٹ بھی چلتے ہیں۔ یہ خدمات انہی کی ذات تک محدود نہیں ہے۔ان کے پوتے بدرالدین فیض طیب جی آئی سی ایس نے آزادی کے وقت قومی ترنگے جھنڈے کی ڈیزائن کو بنایا تھا اور اس میں شہنشاہ اشوک کے دھرم چکر کو بیچ میں رکھا تھا۔ بعد ازاں ان کی بیگم ثریہ طیب جی، آئی سی ایس نے اس کی پہلی کاپی تیار کی جسے ہندوستان کی آزادی کی تاریخی رات کو اولین وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کی کار پر لہرایا گیا۔ پدم شری انعام یافتہ لیلا طیب جی ترنگا جھنڈا کے خالق کی صاحبزادی ہیں۔

 

 

 

 

یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ایک ایسا شخص جس نے بیش بہا سماجی، تعلیمی، معیشتی ،سیاسی اور قانونی خدمات انجام دی، آج اسے کوئی جانتا بھی نہیں ہے۔قابل ذکر ہے کہ ان کا سرسید سے حب الوطنی اور برطانوی سامراج کو لے کر زبردست اختلاف تھا۔ یہ تحریک آزادی اور انڈین نیشنل کانگریس سے گہرا تعلق رکھتے ہوئے قومی جذبہ کے ساتھ مسلمانوں کی سماجی، تعلیمی، معیشتی اور سیاسی صورت حال کو بہتر بناناچاہتے تھے جبکہ سرسید انگریزوں سے تعلق رکھتے ہوئے اور آزادی کی تحریک سے بے نیاز رہتے ہوئے مسلمانوں کی تعلیم کو بہتر بنانے کے حق میں تھے جس کی زندہ جاوید مثال علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہے جو کہ 1875 میں ان کے قائم کردہ مسلم علی گڑھ اورینٹیڈ اسکول (ایم اے او اسکول ) سے 1877 میںایم اے او کالج بن کر 1920 میںیونیورسٹی کی شکل میں نمودا ہوا اور اس وقت سینٹرل یونیورسٹی ہے۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ ایم اے او کالج کا سنگ بنیاد وائسرائے لارڈ منٹو نے رکھا تھا نیز 1920 میں یورنیورسٹی کا درجہ ملتے وقت بھی انگریز ہی سرسید کے اس ادارے میں حاوی تھے۔لہٰذا یہی وجہ تھی کہ علی برادران نے گاندھی جی و دیگر کے ساتھ اس کی مخالفت کرتے ہوئے الگ آزاد تعلیمی ادارہ بنانے کا فیصلہ کیا جو کہ آج جامعہ ملیہ اسلامیہ کی شکل میں موجود ہے۔
اس کے برعکس بدرا لدین طیب جی کے تعلیمی اداوں کا سلسلہ جو کہ انجمن اسلام کے تحت ایک اسکول سے 80 سے زائد تعلیمی اداروں تک 144 برسوں میں پہنچ چکا ہے، میں کہیں انگریزوں اور برطانوی حکومت کا ہاتھ نہیں تھا۔ بدرا لدین طیب جی خالصتاً قومی و ملی جذبہ سے سرشار تھے اور یہی وجہ تھی کہ انہوں نے جہاں ان تعلیمی اداروں کا مسلمانوں کے امپاورمنٹ کے لئے جال بچھایا ،وہیں انڈین نیشنل کانگریس کی تاسیس میں اے او ہیوم، ڈبلیو سی بنرجی اور دادا بھائی نوروجی کے ساتھ پیش پیش رہے۔
بدرالدین طیب جی نے بمبئی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر بال گنگا دھر تلک کو ضمانت یہ کہہ کر دی تھی کہ وہ قومی تحریک کے رہنما کے خلاف فیصلہ قطعی نہیںدے سکتے ہیں کیونکہ یہ ملک کے مفاد کے خلاف ہوگا۔اس لحاظ سے ملک ان کا احسان مند ہے کہ انہوں نے برطانوی حکومت کے دور میں ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہتے بھی اپنے اصول سے سمجھوتہ نہیں کیا۔یہ یقینا تحریک آزادی کی راہ میں ان کا عظیم کردار ہے جسے کبھی بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔

 

 

 

 

 

بدرا لدین طیب جی کے بارے میں ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ ان دنوں سرسید مسلمانوں کو تحریک آزادی اور انڈین نیشنل کانگریس میں جوائن کرنے سے سختی سے منع کررہے تھے۔ اس کے برعکس پورے ملک میں مسلمانوں میں صرف اور صرف بدرا لدین طیب جی کی بھاری بھرکم شخصیت تھی جس نے سر سید کی لائن سے الگ لائن اختیار کیا اور ہندو -مسلم اتحاد کی زبردست حمایت کی۔ اس سلسلے میں انہوں نے پہلے مسلمانوں کو متحد کیا اور انجمن اسلام کے ذریعے ان کے امپاورمنٹ کی کوشش کی۔ انہون نے ایسا کرنے کے لئے اپنے اور اپنے خاندان کی سطح پر گجراتی زبان کو مادری زبان کے طور پر خیر آباد کہہ کر اردو کو اس کے بدلے اختیار کرلیا۔اردو کو مادری زبان کے طور پر اختیار کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اردو داں طبقات سے قربت بڑھے اور انہیں متحد کیا جائے۔یہ کہا جاسکتا ہے کہ انڈین نیشنل کانگریس اور تحریک آزادی میںمغربی تعلیم یافتہ طبقہ کو شامل کرنے میںتنہا بدالدین طیب جی کا ہی رول ہے۔ مدراس میں 1887 میں منعقد کانگریس کے تیسرے قومی اجلاس میں بدرالدین طیب جی کا خطبہ اس کی واضح دلیل ہے(بحوالہ’آزادی سے قبل کی 100 اہم تقریریں‘،1858تا 1947 ،از ایچ ڈی شرما )۔
اس تاریخی خطبہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلم کمیونٹی کو قومی تحریک سے جوڑتے ہوئے وہ کس طرح اس کا امپاورمنٹ چاہتے تھے اور ہندو – مسلم اتحاد کے لئے انہوں نے کیا کیا کوششیں کیں۔سوال یہ ہے کہ 19اگست 1906 کو ان کے لندن میں سفر کے دوران حرکت قبل بند ہوجانے سے انتقال کے 111برسوں بعد آج انہیں ملک کیسے بھول گیا؟جو قومیں اپنے محبین و محسنین کو بھول جاتی ہیں، ان کاانجام اچھا نہیں ہوتا۔ ’’چوتھی دنیا ‘‘اردو انہیں اس موقع پر ان کے کارناموں کو یاد کرکے خراج تحسین پیش کرتا ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *