ایل او سی کے دونوں طرف کشمیر میں آبادی کا پیٹرن یکساں

پاکستان کے زیر انتظام کشمیراور گلگت-بالٹستان کی مردم شماری کے پروویژنل اعداد وشمار بتاتے ہیںکہ ان کی آبادی بھی جموں اور کشمیر (ہندوستان کے حصہ والی) کی آبادی کے پیٹرن کے مطابق ہی ہے۔ حالانکہ یہ نوٹ کرنا اہم ہے کہ ان دونوں علاقوں کی مردم شماری کے اعداد وشمار الگ الگ وقت کے ہوتے ہیں اور اس لحاظ سے ان کا موازنہ کرتے وقت بھی اس حقیقت کو دھیان میں رکھا جانا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی دیگر اہم فرق کے باوجود ، یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ آبادی کی گروتھ اسی سمت میںجارہی ہے۔2001اور 2011 کے بیچ جموں و کشمیر میںچھ فیصد کی گراو ٹ میںیہ عنصر موجود ہے۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی مردم شماری تنظیم کے ذریعہ جاری اعداد وشمار کے مطابق، پاک کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت-بالتستان کی کل آبادی تقریباً دو دہائیوں میں44 فیصد بڑھ گئی ہے۔ پچھلی مردم شماری 1998 میں ہوئی تھی ، 1998 میں آبادی 3.8 ملین تھی جو اب 5.5 ملین (حالانکہ اعداد وشمار عارضی ہیں اور بدل سکتے ہیں) تک پہنچ گئی ہے۔
پاکستان میں 36 فیصد کا اضافہ ہوا ہے جبکہ گلگت – بالتستان میں71 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔1998 میںپاک کے زیر انتظام کشمیرکی آبادی 29722501تھی اور اب یہ4045366 ہے۔ گلگت – بالتستان کی آبادی ابھی 14 لاکھ 92 ہزار ہے اور یہ 1998 میں 8 لاکھ 73 ہزار تھی۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں سب سے زیادہ آبادی والا ضلع مظفر آباد ، چھ لاکھ پچاس ہزار 370 لوگوں کے ساتھ ہے اور سب سے کم آبادی والا ضلع نیلم ہے جو ہندوستان کے حصے والے کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے کیرن کے ٹھیک اپوزیشن ہے۔ یہ آبادی ایک لاکھ 91ہزار ہے۔ گلگت میں 3 لاکھ30 ہزار کی سب سے زیادہ آبادی ہے اور ہنجا میں سب سے کم پچاس ہزار ہے۔
جموں وکشمیر کی طرح ہی یہاں آبادی کی گروتھ بہت زیادہ رہی ہے۔ یہاں مردم شماری کو کہیںزیادہ سائنٹیفک بنیاد پر منظم کیا گیا ہے۔ حساب مختلف ڈھنگ سے کیا جاتا ہے تاکہ کراس چیک ہو۔ یہاںہم مذہبی پہچان اور زبانوںکو بھی دیکھتے ہیں۔
پاکستان میں مردم شماری کا کام خطروں سے بھرا ہوا ہے اور اگر رپورٹوں کی مانیں تو گلگت – بالتستان کے کچھ حصوں میںان کے خلاف مزاحمت بھی ہوئی۔ افسروں کو شک تھا کہ اعداد و شمار اوپر یا نیچے جا سکتے ہیں، خاص طو ر سے ڈائمر میں، جہاں سڑک کا کافی مسئلہ تھا اور دیگر موسم سے متعلق مسائل تھے۔ حالانکہ اعداد وشمار بھی ترقی کی ایک اچھی سمجھ عطا کرتے ہیں۔ آبادی کی بنیاد پر یہ یک طرفہ ہے اور پورے پاک کے زیر انتظا م کشمیر اور گلگت – بالتستان کی آبادی مسلم ہے۔

 

 

 

 

 

2011 میں جب جموں اور کشمیر میںمردم شماری ہوئی تھی اور آخری اعدادو شمار کچھ سال بعد جاری کیے گئے تھے تو کئی دلچسپ رجحان ابھر کرسامنے آئے تھے۔ اس مردم شماری کے مطابق جموں و کشمیر میں12.5 ملین لوگ ہیں۔ 2001 میں10.1 ملین تھے۔ اس میں6.6 ملین مرد اور 5.9 ملین خواتین ہیں۔ 2001 میں5.3 ملین مرد اور 4.7 ملین خواتین تھیں۔ اس دہائی میں اضافہ 23 فیصد تھا اور اس کی پچھلی دہائی میں 29 فیصد تھی۔ اس لیے ترقی کی شرح میں6 فیصد کی کمی آئی تھی۔
آبادی کے اعتبار سے جموں و کشمیر ہندوستان کی مسلم اکثریتی ریاست رہی ہے ، جس میں تقریباً 68 فیصد آبادی اسلام مذہب کو ماننے والی ہے۔ ہندو دھرم دوسری سب سے مقبول مذہب 28 فیصد) ہے۔ یہاں بہت کم عیسائی (0.28 فیصد)، جین (0.02 فیصد)، بودھ (0.9 فیصد) اور سکھ (1.87 فیصد) ہیں۔ تقریباً 0.01 فیصد لوگ دیگر مذہب ‘باکس‘ پر ٹک لگاتے ہیں اور لگ بھگ 0.16 فیصد کوئی خاص مذہب نہیں چنتے ہیں۔
2001-2011 میںمسلم آبادی 1.7 ملین بڑھی جبکہ ہندوؤں کی تعداد 561000 سے بڑھ گئی۔ مردم شماری 2011 کی مذہبی آبادی کے اعداد وشمار کے مطابق 2001 کے بعد سے 2.3 ملین لوگوں کا اضافہ اس ہمالیائی ریاست میں ہوا اور کل آبادی 12.5 ملین ہوگئی۔
2011 کی مردم شماری میں سب سے دلچسپ جانکاری یہ آئی کہ جس لداخ علاقے کو بودھ غلبے والا علاقہ مانا جاتا تھا، وہ متھک ٹوٹ گیا۔ مردم شماری کے مطابق اس ٹھنڈے ریگستان علاقے کی آبادی دو لاکھ 74 ہزار289 ہے۔ اس میں ایک لاکھ 27 ہزار 296 آبادی مسلمانوں کی ہے ۔یعنی 46فیصد آبادی مسلمانوںکی ہے۔ بودھوں کی آبادی ایک لاکھ 8ہزار761 ہے یعنی 39 فیصد۔ 12 فیصد لوگ 33 ہزار 223 ہندو ہیں۔ لیہ میںسب سے زیادہ بودھ ہیں جبکہ کارگل میں زیادہ مسلمان ہیں۔ لیہ میں ایک لاکھ 33 ہزار487 آبادی ہے۔ اس میں 88ہزار 635 بودھ ( 66 فیصد) ہیں جبکہ 19077 مسلم ہیں یعنی 14 فیصد اور 22882 ہندو ہیں یعنی 17 فیصد۔ حالانکہ کارگل کی آبادی ایک لاکھ 40ہزار 802 ہے۔ اس میںمسلم آبادی ایک لاکھ آٹھ ہزار 239 ہے۔ یعنی 76 فیصد مسلم آبادی ہے، 14 فیصد بودھ اور 7 فیصد ہندو آبادی ہے۔

 

 

 

 

اسی طرح جموںکے دس ضلعوں (جسے عام طور پر ہندو اکثریت علاقہ کہا جاتا ہے) میں سے چھ مسلم اکثریت والے ضلعے ہیں۔ جموں کٹھوعہ، اودھم پور اور سانبا میں زیادہ ہندو ہیں لیکن یہاں تک کہ ریاسی ، جسے ایک ہندو پردھان ضلع ماناجاتا ہے،میں کل تین لاکھ 14 ہزار 667لوگ رہتے ہیں۔ اس میںسے 48 فیصد حصہ ہندوؤں کا ہے جن کی تعداد ایک لاکھ 53 ہزار 896 ہے اور 49 فیصد حصہ مسلمانوںکا ہے۔ اسی طرح پیر پنجال علاقہ (راجوری- پونچھ) اور چناب وادی (ڈوڈا-رام بن – کشتواڑ) علاقہ بھی مسلم اکثریتی علاقہ ہے۔ پیر پنجال علاقہ کے 11 لاکھ 19 ہزار 251 لوگوں میںسے آٹھ لاکھ 34 ہزار 158 مسلمان (74 فیصد) ہیں جبکہ دو لاکھ 54 ہزار 484 ہندو (22 فیصد) ہیں۔ چناب وادی میں بھی مسلمان 59 فیصد ہیں جبکہ ہندو 39 فیصد ہیں۔
کشمیر کے علاقے میںجہاں کل آبادی 68 لاکھ 88 ہزار 475 ہے، اس میں مسلم آبادی 96 فیصد 66 لاکھ 40 ہزار 957 جبکہ 2.45 فیصد ہندو ایک لاکھ 68 ہزار 813ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ 1947 میں جموں اور کشمیر کی آبادی 4 ملین سے تھوڑی زیادہ تھی اور 70 سال میں یہ کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ 1947 میںمسلمانوںکی آبادی 77 فیصد تھی اور یہ اعداد و شمار مستحکم رہے ہیں۔ پاک کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت – بالتستان کے آخری اعدادوشمار تبدیلیوں کو سمجھنے میںمدد کریں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *