پارلیمانی انتخابات 2019 این ڈی اے کی پارٹیوںکی تیاریاںشروع

پارلیمانی انتخابات میںبھلے ہی کافی وقت ہے لیکن بہار میںاین ڈی اے کی اتحادی جماعتوں نے ریاست کی سبھی سیٹوں پر تیاریاںشروع کردی ہے۔ اس کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ این ڈی اے کی سبھی اتحادی جماعتیںایک ساتھ نہیں بلکہ الگ الگ ان سیٹوںپر کیل کانٹا درست کرنے میںلگی ہوئی ہیں۔ بی جے پی اور جے ڈی یو کی مہم تو چل ہی رہی ہے لیکن لوک جن شکتی پارٹی (ایل جے پی )، ہم اور راشٹریہ لوک سمتا پارٹی (آر ایل ایس پی) بھی پوری طاقت ان سیٹوں پر لگارہی ہیں۔ مانا جارہا ہے کہ درگا پوجا کے بعد سبھی اتحادی جماعتیں پارلیمانی حلقوں میں اپنی دوگنی طاقت جھونکیںگی۔
جے ڈی یو کے آنے سے بٹوارہ مشکل
رسمی طور پر سبھی اتحادی پارٹیوںکا کہنا ہے کہ ہمارا آپس میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ اگر چالیس سیٹوں پر سبھی اتحادی پارٹیاں تیاریوںمیںجٹی ہوئی ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس بار ہم لوگ سو فیصد نتیجہ چاہتے ہیں، تاکہ نریندر مودی بھاری اکثریت سے سرکار بنا سکیں۔ لیکن سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بات اتنی آسان نہیںہے۔ ایک تو اس بار پہلے ہی این ڈی اے اتحادی جماعتوں کے بیچ سیٹوں کا بٹوارہ مشکل تھا، اب جے ڈی یو کے آجانے کے بعد تو راستہ اور بھی مشکل ہوگیا ہے۔ جے ڈی یو کے آنے سے قبل ہی یہ خیال مضبوط ہورہا تھا کہ 2014 کے انتخابات میںایل جے پی اور آر ایل ایس پی کو کچھ زیادہ سیٹیں دے دی گئیں۔ اب جے ڈی یو کے آنے کے بعد تو نئے سرے سے سیٹوں کو بانٹنا ہوگا۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار یہ نہیںچاہیںگے کہ جے ڈی یو کسی بھی صورت میںایل جے پی یا آر ایل ایس پی کے آس پاس دکھائی دے، اس لیے ہر حال میںان کی چاہت دس سے زیادہ سیٹوںکی ہوگی۔ ایسے میں کوٹا ایل جے پی اور آر ایل ایس پی کا ہی کٹے گا۔ ابھی آر ایل ایس پی کے رکن پارلیمنٹ ارون سنگھ کے بارے میںیہ طے مانا جارہا ہے کہ وہ بی جے پی کے سمبل پر الیکشن لڑیں گے۔

 

 

 

 

 

25-15 سیٹوں پر ہوگا سمجھوتہ
معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ بی جے پی کم سے کم ریاست کی 25 سیٹوں پر الیکشن لڑے گی اور باقی 15 سیٹوں کا بٹوارہ اتحادی جماعتوں کے درمیان ہوگا۔ بی جے پی کے اعلیٰ سطحی ذرائع بتاتے ہیںکہ امت شاہ اینڈ کمپنی کی میٹنگ میںیہ رائے بن گئی ہے کہ 25 سے کم سیٹوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ 25 سیٹوںپر بی جے پی کے امیدوار اتریںگے، باقی 15 سیٹوںپر اتحادی جماعتوں کے بیچ تال میل کرانے کی کوشش پارٹی کرے گی۔ بی جے پی کی اسی اپروچ نے اتحادی پارٹیوں کی نیند اڑاد ی ہے۔ اتحادیوںکو لگتا ہے کہ اگر آخری وقت میںبات بگڑ گئی تو پھر لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں، اس لیے سنبھل کر رہنے میںبھلائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جے ڈی یو، آر ایل ایس پی اور ایل جے پی نے بھی ریاست کی سبھی چالیس سیٹوں پر اپنا دم لگانا شروع کردیا ہے۔
تنظیم کی مضبوطی میںجٹی اتحادی پارٹیاں
جے ڈی یو کے قومی جنرل سکریٹری آر ایس پی سنگھ نے کہا کہ ریاست کی سبھی چالیس پارلیمانی سیٹوں پر پارٹی تنظیم کو مضبوط کیا جائے گا۔ انھوںنے کہا کہ اسے 2019 کے پارلیمانی انتخابات سے جوڑ کر نہیںدیکھنا چاہیے لیکن تنظیم کی مضبوطی کا فائدہ ہمیں فطری طور پر الیکشن میں ملے گا۔ آر سی پی سنگھ نے کہا کہ جن ضلعوںمیںبی جے پی کے وزیر انچارج ہیں، وہاںتنظیم کی دیکھ بھال کے لیے الگ بندوبست کیا جائے گا۔ جے ڈی یو کے 14 وزیر ہیں، جنھیں تنظیم کی دیکھ بھال کے لیے دیگر 24 ضلعوں کا چارج سونپا جائے گا۔ 15-18 نومبر کے بیچ سبھی ضلعوں میں کارکنوں کا اجلاس منعقد ہوگا، جس میں وزیر، سینئر لیڈر اورا راکین پارلیمنٹ کی ٹیم شامل ہوگی۔ اگلے دو مہینے میں بوتھ سطح پر ایجنٹ مقرر کر دیے جائیں گے۔ پارٹی کے لیڈروںسے تعاون کے طور پر رقم لینے کا بھی فیصلہ لیا گیا ہے۔ اس کے لیے نومبر اور دسمبر میںمہم چلائی جائے گی۔ جے ڈی یو پورے بہار میں اپنی تنظیم کو مضبوط کرنے کے لیے کتنی سنجیدہ ہے، اس کا ثبوت ریاستی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں بھی ملا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

جہیز کے رواج پر چلے گی مہم
جے ڈی یو نے نتیش کمار کی موجودگی میںریاستی مجلس عاملہ کی میٹنگ میںکئی پروگرام بھی طے کیے۔ لوہیا کی برسی پر 12اکتوبر کو ہر ضلع میں بچپن میںشادی اور جہیز کے رواج کے خلاف پارٹی مہم چلائے گی۔ اس کے ساتھ ہی بلاک سطح پر مہا پروشوں کی جینتی منائی جائے گی۔ مقصد نئی نسل کو ان عظیم لوگوں کے بارے میں جانکاری دینا ہے۔ نتیش کمار نے پارٹی کے عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ عظیم لوگوں کی جینتی منانے کا کام صرف ریاستی ہیڈ کوارٹر تک محدود نہیں رکھیں، اسے نچلی سطح یعنی پنچایت تک منائیں۔ کہا جائے تو جے ڈی یو نے کمر کس لی ہے۔ اسی طرح کی تیاری اوپندر کشواہا بھی کررہے ہیں۔ اپنی طاقت دکھانے کے لیے 15 اکتوبر کو وہ گاندھی میدان میںایک بڑی ریلی کر رہے ہیں۔ اس میں کوشش ہے کہ ریاست کے ہر بوتھ سے لوگوں کو جٹایا جائے ۔ آر ایل ایس پی لیڈر رام بہار سنگھ کہتے ہیں کہ سبھی چالیس سیٹوں پر تنظیم مضبوط ہوگی تو آخرکار فائدہ تو این ڈی اے کو ہی ملے گا۔ ہم اپنا کام پوری ایمانداری سے کررہے ہیں اور پارلیمانی انتخابات میںاین ڈی اے کا مظاہرہ شاندار ہوگا۔ ایل جے پی بھی ضلعی سطح پر اپنے اجلاس کے ذریعہ کارکنوں میںجوش بھرنے میں لگی ہے۔
جہاں تک بی جے پی کا سوال ہے تو وہ سبھی چالیس سیٹوں پر شدید مہم چلا رہی ہے۔ جن سیٹوں پر پچھلے انتخابات میں این ڈی اے کی ہار ہوئی تھی، ان پر خاص فوکس کیا جارہا ہے۔ پارٹی کے صدر نتیا نند رائے سبھی اضلاع کے دورے پر نکل رہے ہیں تاکہ زمینی حقیقت سے واقف ہوسکیں۔ رائے کے دورے کے دوران موٹے طور پر امیدواروں کی مقبولیت اور ان کے جیتنے کے امکانات پرزمینی کارکنوں سے فیڈ بیک لیا جائے گا۔ بی جے پی چاہتی ہے کہ ابھی سے ایک مضبوط بنیاد تیار کر لی جائے تاکہ آنے والے دنوں میںکئی طرح کے پروگراموں کو انجام دے کر تنظیم کو دھاردار بنایا جاسکے۔ یہ طے ہوگیا ہے کہ بی جے پی اس بار 2014 سے زیادہ جارحانہ تیور سے انتخابی میدان میںاترے گی او ر کوشش ہوگی کہ اپنی اتحادی پارٹیوں کو ساتھ لے کر سبھی چالیس سیٹوں پر جیت کا پرچم لہرایا جائے۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *