پاکستان کا ضمنی انتخاب نئے سیاسی رجحان کا اشارہ

پاکستان کی قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 120 میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی کے بعد خالی ہونے والی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں پولنگ اور ووٹوں کی گنتی کے بعد آنے والے نتائج نے دنیا بھر کو بہت سے اشارے دیئے ہیں۔ایک طرف جہاں یہ اشارہ ملا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی جیسی تنظیم کا اثرو رسوخ کم ہورہا ہے وہیں شدت پسند خیالات رکھنے والی دائیں بازو کی دو تنظیموں نے نئے ناموں سے ضمنی انتخاب میں شرکت کی جسے سیاسی مبصرین مستقبل کی سیاست کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں اور ساتھ ہی اِن جماعتوں کے آئندہ عام انتخابات میں ایک اتحاد کی شکل اختیار کرنے کی پیشن گوئی کر رہے ہیں۔اِن میں پہلی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان اور دوسری ملی مسلم لیگ ہے۔
حالیہ ضمنی انتخاب میں تمام 220 پولنگ سینٹرز کے نتائج کے مطابق مسلم لیگ (نواز) کی کلثوم نواز جو کہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی بیگم ہیں، مجموعی طور پر 61745 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہیںجبکہ ڈاکٹر یاسمین راشد 47099 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبرپر رہی ہیں ۔لبیک پارٹی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار شیخ اظہر نے 7130 ووٹ حاصل کیے جبکہ ملی مسلم لیگ کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار یعقوب شیخ نے 5822 ووٹ حاصل کئے ۔پاکستان پیپلز پارٹی کے فیصل میر صرف 1414 ووٹ لے سکے جبکہ جماعت اسلامی کے ضیاالدین انصاری کے حصے میں 592 ووٹ آئے۔اس ضمنی انتخاب میں ووٹ ڈالنے کی شرح 39.42 فیصد رہی۔ حلقہ این اے 120 میں ووٹرز کی کل تعداد 321786 ہے جبکہ کل 126860 ووٹ ڈالے گئے جن میں سے 1731 ووٹ مسترد ہوئے۔اس ضمنی انتخاب میں 32 آزاد اور مختلف سیاسی جماعتوں کے 12 امیدواروں نے حصہ لیا۔
حلقہ 120 کو نواز شریف کا گڑھ سمجھا جاتا ہے ۔وہ ہمیشہ اسی حلقہ انتخاب سے جیت کے پاکستان کے پارلیمنٹ تک پہنچے ہیں۔ لیکن اس حلقہ کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہاں ڈاکٹر یاسمین کلثوم راشد ہمیشہ ہی نواز شریف اور ان کے خاندان کے لئے انتخابی میدان میں خطرہ بنی رہی ہیں ۔ اس مرتبہ بھی انہوں نے زبردست ٹکر دیا مگر پھر بھی دوسرے نمبر پر رہیں۔ڈاکٹر یاسمین راشد 2013 میں ہونے والے عام انتخابات میں بھی اسی حلقے سے امیدوار تھیں اور انھوں نے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے 91666 سے زیادہ ووٹوں کے مقابلے میں 52321 ووٹ حاصل کیے تھے۔

 

 

 

 

 

 

شدت پسند تنظیمیں سرگرم
بہر کیف کسی بھی انتخاب میں امیدواروں کی ہار جیت کا سلسلہ تو جاری رہتا ہے اور رہے گا مگر اس مرتبہ جو خاص بات ہوئی ہے ،وہ یہ کہ حالیہ انتخاب پاکستان کے سیاسی مستقبل کے نئے خط و خال کی طرف اشارہ دے رہا ہے۔ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ شدت پسند تنظیمیں بھی میدان انتخاب میں سرگرم رہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ان تنظیموں کو عوام کی طرف سے پذیرائی بھی ملی۔ شدت پسند تنظیم کی حمایت یافتہ امیدوار نے پی پی پی اور جماعت اسلامی جیسی تنظیموں سے زیادہ ووٹ حاصل کرکے پوری دنیا کو حیرانی میں ڈال دیا ہے جبکہ ابھی حال ہی میں برکس کانفرنس میں پاکستان میں دہشت گردوں کی بڑھتی قوت پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا ۔اب وہ تشویش حقیقت بن کر سامنے آنے لگی ہے ۔ یہ بڑی خوفناک بات ہے کہ اِنہوں نے اپنی جڑیں پکڑی ہیں اور اِنہوں نے جماعت اسلامی طرز کی جماعتوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یہ سول سوسائٹی اور معاشرے کے لیے خطرناک پیش رفت ہے۔
دراصل پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا یہ منصوبہ تھا کہ شدت پسند جماعتوں کو انتہا پسندی سے باز رکھنے کے لیے سیاسی راستہ دیا جائے اور آئندہ عام انتخابات میں یہ جماعتیں ایک اتحاد کی صورت میں تیسری یا چوتھی بڑی قوت کے طور پر سامنے آئیں گی ۔حالیہ ضمنی انتخاب دراصل اسی کی تیاری تھی۔
اس انتخاب میں ایک سزا یافتہ شخص کے نام پر اور اس کی تصاویر مہم کے دوران دکھا کر ووٹ مانگا گیا اور کسی نے اس کو روکا نہیں یہ ریاستِ پاکستان کی دہری پالیسی کو ظاہر کرتا ہے۔ لاہور میں ہی مقیم ایک سینیئر صحافی اور شدت پسندی پر کئی مضامین لکھنے والے عامر میر کا کہنا ہے کہ آئندہ انتخابات میں ان جماعتوں کا اتحاد قائم ہوگا اور پاکستان تحریکِ انصاف کے ساتھ ملایا جائے گا۔ ان کے مطابق ایسا کرنے پر کوئی اعتراض نہیں کرے گا کیونکہ تحریکِ انصاف کی مقبولیت خاصی ہو چکی ہے۔
ادھر آزادامیدوار شیخ اظہر کی حمایت کرنے والی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان کے مرکزی ناظم نشرو اشاعت پیر محمد اعجاز اشرفی کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم اپنا امیدوار کھڑا کرنا چاہتی تھی لیکن الیکشن کمیشن نے انہیں انتخابی نشان نہیں دیا اور کسی آزاد امیدوار کی حمایت کرنے کی صلاح دی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ حکومت ہماری مقبولیت سے خائف ہے اور ہمارے علما اور مشائخ کو فورتھ شیڈول میں ڈالا گیا اور مقدمات درج کیے گئے۔
اس کے علاوہ پاکستان کا ایک اور مسئلہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے اور وہ مسئلہ ہے فوج کا ہر معاملے میں دخل دینا۔ فوج کے بغیر وہاں کی حکومت نہ کرکٹ میچ کرا سکتی ہے نہ انتخاب، چنانچہ کئی سیاسی پارٹیوں کے کیمپوں میں پاک فوج کے نعرے لگتے ہوئے سنے گئے ۔ایک آزاد امیدوار یعقوب شیخ کی حمایت کرنے والی جماعت ملی مسلم لیگ کے امیدوار یعقوب شیخ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں فخر ہے اِس بات پر۔فوج ہمارے نظام کا ایک اہم حصہ ہے لہٰذا ہم اسے نظر نہیں کرسکتے ہیں۔ یعقوب نے مزید کہا کہ اگر نواز شریف نریندرہ مودی کو گھر بلا سکتے ہیں اور جندال کو مری میں سیر کرا سکتے ہیں تو پھر وہ تو اپنے ملک کی فوج کو سراہ رہے ہیں۔
شدت پسندوں کا عروج
بہر کیف پاکستانی انتخابات میں شدت پسندوں کو شامل ہونے پر کسی کو حیرانی نہیں ہونی چاہئے کیونکہ ان کی تنظیمیں پاکستان میں ایک قدآور درخت کی شکل اختیار کرچکی ہیں جس کی جڑیں کسی بھی خطہ تک پہنچ جاتی ہیں۔اس کا اعتراف پاکستان کے سیاست داں بھی کرتے ہیں۔ابھی حال ہی میں پاکستان کی پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں پاکستان پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ ’گزشتہ دو تین دہائیوں سے ریاست نے جہاد کو پرائیویٹائز کیا اور جنگوں میں مذہب کو استعمال کیا اور انہی سب چیزوں کے نتائج آج سامنے آرہے ہیں۔یہ بات گزشتہ دنوں سینیٹ کے اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت متبادل بل پیش کرنے میں ناکامی پر بحث کے دوران پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہی۔
دراصل سینیٹر فرحت اللہ بابر نے قراداد پیش کی تھی جس میں درخواست کی گی تھی کہ ایوان بالا میں انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے متبادل بل بنانے کے عمل پر بحث کی جائے۔سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ریاست نے انتہا پسندی سے نمٹنے کے لیے فوجی سازوسامان پر تو زور دیا مگر متبادل بل پر کسی نے توجہ نہیں دی۔گزشتہ دو تین دہائیوں میں ریاست نے جہاد کو پرائیویٹائز کیا۔ جنگوں میں مذہب کو استعمال کیا اور انہی سب چیزوں کے نتائج آج سامنے آرہے ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ نیشنل ایکشن پلان میں پیش کردہ تصور کے مطابق بل پر کام نہیں کیا گیا۔بحث میں حصہ لیتے ہوئے ایم کیو ایم کے سینیٹر میاں عتیق نے قومی ایکشن پلان کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ فوج نے اپنی ذمہ داری پوری کی اب حکومت بھی اپنیذمہ داریاں پوری کرے۔اس پر حکمراں جماعت مسلم لیگ نواز کے سینیٹرجاوید عباسی نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنے میں مدد ملی ہے۔مگر بڑے تعلیمی اداروں کے بچے انتہاپسند تنظیموں میں شامل ہو رہے ہیں۔ وقت کا تقاضہ ہے تمام فریقین مل کر متفقہ قومی بل تشکیل دیں۔اس سلسلہ میں ایک بیان سینیٹر حمدا للہ کا بھی آیا ہے کہ سابق وزیر داخلہ کے تعلقات سیاسی لوگوں سے کم اور دہشت گردوں سے زیادہ تھے۔
سینیٹ اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ بیان ہمارے اسکولوں اور درسگاہوں میں پروان چڑھتا ہے۔ جنگجوؤں نے ہمارے مذہب کا استعمال کیا ہے۔سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ پرویزمشرف ملک میں دہشت گردی کے ذمہ دار ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ 80 فیصد چینلز، اینکرز اور مالکان انتہا پسندی اور دہشت گردی کو ہوا دے رہے ہیں۔ اجلاس کے دوران سینیٹر حمد اللہ نے کہا کہ نائن الیون کے بعد نام نہاد دہشت گردی کی جنگ میں ملک کو کس نے دھکیلا؟ اس ریاست کو دلدل میں پھینکے والا ایک شخص تھا۔ آج ملک کو اس نہج پر پہنچانے والوں میں مولوی، سیاستدان، پارلیمینٹ عدلیہ سب شامل ہیں۔
بہر کیف پاکستان کی حکومت کی کوتاہیوں کی وجہ سے آج یہ حالت ہے کہ آج شدت پسند تنظیمیں انتخابات میں کسی امیدوار کی حمایت کرتی ہیں اور پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی جیسی تنظیموں سے وہ امیدوار زیادہ ووٹ حاصل کرلیتا ہے۔ یہ صورت حال پاکستان کے لئے غور کرنے کی ہے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ آج برکس تو کل پوری دنیا میںپاکستان میں پنپ رہی دہشت گردی کا چرچا ہونے لگے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *