ہماری آخری امید ابھی عدلیہ ہی ہے

کچھ سوال ایسے ہیں، جن کا جواب کبھی نہیں ملتا ہے۔ ہر دیوالی پر، دیوالی سے قبل آلودگی کی سطح کی بات ہوتی ہے۔ بچے پٹاخے نہ جلائیں، اس کے لیے اسکولوں میںتعلیم دی جاتی ہے۔ لیکن گھر میں ماں باپ بچوںکے لیے پٹاخے خریدتے ہیں اور اس بار تو غضب ہوگیا۔ حالانکہ ، پٹاخے کم چلے لیکن آلودگی کی سطح بڑھ گئی۔ اس کامطلب،کئی علاقوںمیںپٹاخے بہت جلے۔ لیکن، اس سے الگ ایک اور اہم اور بڑا سوال ہے۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ قومی راجدھانی خطے میں پٹاخے بیچنے پر پابندی لگائی جاتی ہے۔ دیوالی کی رات جس طرح سے ٹکڑوں ٹکڑوںمیںپٹاخے چلے، اس سے یہ لگا کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ لوگوں کے سر سے گزر گیا۔ بہت چھوٹی تعداد میںلوگوں نے اسے مانا لیکن بڑی تعداد میں لوگوںنے اسے نہیںمانا۔ سپریم کورٹ نے پٹاخے بیچنے پر پابندی لگا دی، اس کے باوجود پٹاخے بکے، کچھ اثر نہیںپڑا۔ ہر جگہ پٹاخے کھلے عام بک رہے تھے اور یہ قومی راجدھانی خطے میںہی ہو رہا تھا۔ دیوالی کے اگلے دن ٹی وی کے ذریعہ سویرے سے جو خبریںپھیلیں، اس میں قومی راجدھانی خطے کا ذکر کم لیکن راجدھانی علاقے کا ذکر زیادہ ہو رہا ہے اور وہاںپر آلودگی کی سطح بڑھ گئی اور اس کے الگ الگ حصوں کی رپورٹ دکھائی جارہی تھی۔
سوال دماغ میں یہ اٹھتا ہے کہ سپریم کورٹ کی بات لوگوں نے کیوں نہیںمانی؟ یہ سوال ہمارے من میںہے، اس سے زیادہ سپریم کورٹ کے من میںہونا چاہیے کہ آخر سپریم کورٹ کی بات لوگ مانتے کیوں نہیںہیں؟ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد کی ذمہ داری سرکاروںکی ہے، چاہے وہ مرکزی سرکار ہو یا ریاستی سرکاریں۔ ریاستی سرکاریں یا مرکزی سرکار سپریم کورٹ کے فیصلے کی تعمیل نہیںکرتیں تو سپریم کورٹ کا فیصلہ کوئی معنی نہیں رکھتا۔ سپریم کورٹ کو اس پر اس لیے دھیان دینے کی ضرورت ہے کہ کیا سپریم کورٹ کی ساکھ گھٹ رہی ہے، سپریم کورٹ کا اثر گھٹ رہا ہے یا سپریم کورٹ کے حکم کو اگر انتظامیہ ماننے سے انکار کردے یا سرکاریں اسے نظر انداز کر دیں تو سپریم کورٹ کے پاس کیا طاقت ہے کہ ان کے اوپر عمل کرا پائے۔ دراصل اس کا تھوڑا بہت قصور سپریم کورٹپر بھی ہے۔ ہم جب دیکھتے ہیں کہ پچھلے کتنے سالوں کا وقت ہم ٹیسٹ کے لیے رکھیں ، یہ آپ طے کریں لیکن مان لیجئے ہم نے 20 سال کا وقت رکھا۔ ان 20 سالوںمیں سپریم کورٹ کے جتنے فیصلے ہوئے ہیں، ان میںجن کا رشتہ مرکزی سرکار یا ریاستی سرکار سے ہے، ان فیصلوں میں سے تقریباً 40 فیصد فیصلوں کے اوپر سرکاروں نے کوئی عمل نہیںکیا۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ ایک کاغذ پر لکھی ہوئی کچھ عبارت بن کر رہ گیا۔ اس کے اوپر عمل ہوا ہی نہیں۔ اور سپریم کورٹ نے بھی اس کی مانیٹرنگ کبھی نہیں کی کہ وہ جو فیصلے دیتے ہیں، ان فیصلوں پرریاستی سرکاریں یا مرکزی سرکار کیسے عمل کرتی ہیں؟ جب ریاستی سرکاروں اور مرکزی سرکارکے اوپر اگر سپریم کورٹ کے کہنے کا اثر نہیںہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے ہمار انظام،جمہوری نظام درک رہا ہے۔ اب جب میںکہتا ہوںکی سپریم کورٹ کے اوپر بھی کچھ قصور جاتا ہے،تو اس کا سیدھا مطلب ہے کہ سپریم کورٹ کے ججز جتنا زیادہ سیاستدانوں کے ساتھ دوستی کریں گے،ان کے ساتھ دکھائی دیں گے، ان کے ساتھ پارٹیاںکریں گے یا اپنے لیے ریٹائرمنٹ کے بعد جگہ تلاش کریں گے اور انھیںمتاثر کرکے اپنے لیے فائدہ چاہیں گے تو اس کا نتیجہ یہی ہوگا جو دیوالی پر پٹاخے نہ بیچنے کے حکم کا ہوا ہے۔

 

 

 

 

 

دراصل ہمارا ملک جس جمہوری نظام کو اپنائے ہوئے ہے، اس میں تینوں آرگن کا برابر رول ہے لیکن عدلیہ کا کردار عام کردار سے تھوڑا سا زیادہ ہے۔ عدلیہ کو آئین نے یہ حق دیا ہے کہ وہ کسی بھی فیصلے کو ریویو کرسکتی ہے اور اپنا فیصلہ دے سکتی ہے، جس فیصلے کی کاٹ پوری لوک سبھا آئین میں ترمیم کرکے کرسکتی ہے۔ جب میںلوک سبھا کہتا ہوںتو اس کا مطلب پارلیمنٹ سے ہوتا ہے جس میںراجیہ سبھا بھی شامل ہے۔ اگر آئین میںترمیم نہیںہوتی ہے یا اتنی اکثریت کسی سرکار کے پاس نہیں ہے، جتنی آئین میں ترمیم کے لیے چاہئے، تب تک وہ فیصلہ مؤثر رہتا ہے۔ لیکن اگر سپریم کورٹ کے جج گزشتہ 40 سال یا 20 سال کا وقت دیکھیںتو ان میںبہت سارے ایسے ہیںجن کے اوپر الزام لگے، بدعنوانی کے الزام لگے، ان میںآپس میںجنگ ہوئی، کچھ کے اوپر مواخذے کی کارروائی بھی ہوئی اور اس سارے تضاد میںسپریم کورٹ اپنی ساکھ کہیںکھوتا چلا گیا۔ سپریم کورٹ کے کئی سارے فیصلے لوگوں کی نظر میںایسے رہے جن فیصلوں نے ملک کے تانے بانے کے اوپر یا جسے ہم کہیںآئین کے تانے بانے سے لوگوںکو فیصلے دور لے جاتے د کھائی دیے۔ اورشاید اسی لیے رفتہ رفتہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر سرکاروں نے مرکزی سرکاروں نے، انتظامیہ نے عمل کرنے کی جگہ ان کی کاٹ کرنے کے راستے تلاش کرنے شروع کردیے۔ کیونکہ انھیںمعلوم تھا کہ سپریم کورٹ کے پاس اتنا وقت ہے ہی نہیں کہ وہ اپنے دیے ہوئے فیصلوں کے اوپر عمل کرانے کے طریقوں کا تجزیہ کرسکے۔
ہندوستان کے سیاسی تانے بانے کے اوپر بڑی ذمہ داری تھی کہ انصاف کیسے سستا ہو، ا س کا وہ راستہ تلاش کرتی اور سب سے زیادہ سپریم کورٹ کے اوپر یہ ذمہ داری تھی کہ انصاف کیسے سستا ہو، وہ بھی اس کے راستے سجھائے۔ لیکن پچھلی آزادی کے بعد سے اب تک تو اس کو لے کر کوئی کوشش نہیںہوئی۔ ملک میں سب کو معلوم ہے کہ اگر سپریم کورٹ میںآپ کو مقدمہ لڑنا ہے تو اب وہاںایسے وکیل ہیں،جو جج صاحب کے سامنے جانے کے لیے پیشی کے لیے 40-40 لاکھ روپے لے لیتے ہیں۔ وہ اکاؤنٹیڈمنی ہوتی ہے یا ان اکاؤنٹیڈہوتی ہے، سوال یہ نہیںہے ۔ سوال یہ ہے کہ وہ اتنے مہنگے وکیل ہیں اور اگر وہ عدالت میں نہ کھڑے ہوں تو سپریم کورٹ کے جج صاحب ان وکیلوں کی طرف دھیان ہی نہیںدیتے تو بات تو صحیح کہتے ہیں۔ لیکن جن کا نام نہیںہوا اور جو زیادہ پیسے نہیںلے پاتے۔ لیکن اس کے باوجود سپریم کورٹ ملک کے لوگوںکی آخری امید ہے۔ لوگ اپنا گھر جائیداد، زیورات بیچ کر بھی سپریم کورٹ کے پاس انصاف کی امید میں جاتے ہیں۔ جب وہ ہار کر یا جیت کر لوٹتے ہیں تو ان کے ساتھ سچائی تو ہوتی ہے لیکن وہ اپناسب کچھ کھو چکے ہوتے ہیں۔ اور یہاں پر ان کا دکھ شروع ہوتا ہے کہ ان کے حق میں دیے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل سرکار ، سرکاریںیا انتظامیہ نہیں کراپاتیں۔

 

 

 

 

 

 

یہ تضاد اور یہ درد ہمارے نظام کا درد ہے۔ جو کام سرکاروںکو کرنا چاہیے،وہ کام بھی اب سپریم کورٹ کرنے لگا ہے۔ اور جب میںسپریم کورٹ کہتا ہوں تو آپ یہ مان لیجئے کہ ہم پورے عدلیہ نظام کے اوپر سوال اٹھاتے ہیں۔ ہائی کورٹ فیصلے دے دیتے ہیں، لوگوں کے پاس سپریم کورٹ جانے کے ذرائع نہیں ہوتے ، سیاسی لوگ عدلیہ کا استعمال اپنے حق میںکرتے ہیں جیسے ابھی گجرات کی ایک عدالت نے کہا کہ مشہور جے شاہ کیس کی رپورٹنگ میڈیا میںنہیںہوسکتی نہ الیکٹرانک میںنہ پرنٹ میں۔ کون سا وہ ایسا معاملہ ملک کی حفاظت سے جڑا ہے جس کی رپورٹنگ نہیںہوسکتی لیکن عدالت نے فیصلہ دے دیا۔ہائی کورٹ کو اسے رد کرنا چاہیے سپریم کورٹ خاموش ہے۔ تو کیا ہم یہ مانیںکہ فیصلے بھی دوستیوں کے اوپر ہوتے ہیں یا سیاسی اثر میںہوتے ہیں۔ شاید یہ سچائی نہیںہو لیکن لوگوںکو تو ایسا ہی دکھائی دیتا ہے۔
اس لیے سپریم کورٹ اگر اپنے فیصلوں کے اوپر عمل کرانا چاہتا ہے تو اسے سرکار سے اور سیاستدانوںسے 10 ہاتھ دور رہنا چاہیے۔ اور دھیان رکھنا چاہیے کہ عدلیہ کے اعلیٰ ترین شخص ہوں یعنی جج وہ لوگ غیر جانبدار رہیںاور لوگوںکے مفادات کو دھیان میںرکھ کر آئین کے مطابق فیصلے دیں۔ اس سے ان کی ساکھ بھی بڑھے گی او وہ سرکاروں سے اور انتظامیہ سے فیصلے پر عمل نہ ہونے کے سوال بھی پوچھ سکیںگے۔ ہماری آخری امید ابھی عدلیہ ہی ہے،خاص طور سے سپریم کورٹ۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *