دو برسوں میں کھلے میں ٹوائلٹ سے نجات ہدف سے کوسوں دور

2019کے 2اکتوبر تک پورے ہندوستان کو کھلے میں ٹوائلٹ سے نجات دلانے کا ہدف سرکار نے رکھا ہے۔ 2 اکتوبر 2019 تک تقریباً 8کروڑ ٹوائلٹ بنانے کی ضرورت ہے، تاکہ ہندوستان کو کھلے میں ٹوائلٹ سے نجات یافتہ ملک قرار دیا جا سکے۔ مرکزی سرکار اس ہدف کو حاصل کر کے مہاتما گاندھی کو 2019 میں خراج عقیدت پیش کرنا چاہتی ہے۔ ظاہر ہے اس سمت میں گزشتہ دو سال سے کافی بیداری بھی آئی ہے لیکن مالی سال 2015-16 تک کے کچھ ایسے اعدادو شمار بھی ہیں جو بتاتے ہیں کہ سرکار شاید ہی 2019 تک اس ہدف کو حاصل کر پائے۔یہ ڈیٹا سینٹر فار سائنس اینڈ انوائرنمنٹ کا ہے جو کہ 2015-16 تک 22 اہم نیشنل لیڈروں (ارکان پارلیمنٹ ؍ وزرائ) کے پارلیمانی حلقے میں ٹوائلٹ تعمیر کا جائزہ لیتا ہے۔
اس رپور ٹ کے مطابق ان حلقوں میں ٹوائلٹ تعمیر کا جو اوسط ہے (خیال رہے کہ یہ اعدادو شمار 2015-16 تک کے حساب سے ہے)، اسی حساب سے آگے بھی کام ہوتا رہا تو خود وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیمانی حلقے وارانسی میں اس ہدف کو حاصل کرتے کرتے 32 سال مزید لگ جائیں گے، یعنی 2048 تک جاکر سب کو ٹوائلٹ کا ہدف پورا ہو سکے گا۔ اسی طرح مرکزی وزیر رادھا موہن سنگھ کے پارلیمانی حلقے مشرقی چمپارن میں ٹوائلٹ تعمیر کا جو اوسط ہے (2015-16تک ) ،اس کے مطابق یہ ہدف 2090 تک پورا ہو سکے گا۔

 

 

 

 

 

15اگست 2016 تک کے اعدادو شمار (منسٹری آف ڈرنکنگ واٹر اینڈ سینی ٹیشن کے اعدادو شمار) بتاتے ہیں کہ 2019 تک اس ہدف کو حاصل کرنے کے لئے تقریباً 8 کروڑ ٹوائلٹ بنائے جانے کی ضرورت ہے۔ اس اعدادو شمار کو تھوڑا اور توڑ کر دیکھیں ۔ اگر سرکاری مشینری 24گھنٹے لگاتار کام کرے، تب جاکر یہ کام پورا ہو سکے گا۔ یعنی اگست 2016 سے اکتوبر 2019 تک سرکار کو فی گھنٹہ 3179 ٹوائلٹ یا فی سیکنڈ ایک ٹوائلٹ کی تعمیر کرنی ہوگی۔ تب کہیں جاکر یہ ہدف حاصل کیا جاسکتا ہے۔
اب یہ دیکھتے ہیں کہ مالی سال 2015-16 کے دوران کتنے ٹوائلٹ بنے؟اس مالی سال میں ’’سوچھ بھارت مشن ‘‘ کے تحت ہندوستان میں 1.26کروڑ ٹوائلٹ کی تعمیر کی گئی، یعنی ہدف کو حاصل کرنے کے لئے جو تعمیری اوسط چاہئے تھا ( فی سیکنڈ ایک ٹوائلٹ ) اس سے کافی کم ہے یہ عدد۔ اگر اس حساب سے کام ہوا تو یہ ہدف 2022 تک پورا ہو سکتاہے لیکن اسی کے ساتھ ہم آپ کو 20 مرکزی وزراء کے پارلیمانی حلقوں کا بھی بیورا بتا رہے ہیں (دیکھیں باکس، اعداد شمار کے ذرائع: سی ایس ای ) جس کے حساب سے کئی علاقوں میں یہ کام 2019 تک بھی پورا ہو جائے تو غنیمت ہے۔
اس کے علاوہ بہار ، جھارکھنڈ، اڑیسہ، تیلنگانہ، جموں و کشمیر، آندھرا پردیش اور اترپردیش ایسی ریاستیں ہیں ،جہاں کھلے میں ٹوائلٹ کا مسئلہ ابھی بھی بڑے پیمانے پر ہے۔ ملک بھر میں کھلے میں ٹوائلٹ کرنے والی آبادی کا بڑا حصہ انہی ریاستوں میں ہے۔ اترپردیش میں تقریباً 273 لاکھ دیہی خاندانوں میں تقریباً 54فیصد لوگ ابھی بھی کھلے میں ٹوائلٹ کرتے ہیں۔ سینٹرل ڈرنکنگ واٹر اینڈسوچھتا منسٹری کے اعدادو شمار کے مطابق (جون 2017 کے اعدادوشمار )،ہندوستان میں 2اکتوبر 2019 تک 6.4کروڑ گھروں میں ٹوائلٹ بنانے کی ضرورت ہے۔ ان خاندانوں میں اترپردیش کی حصہ داری 23 فیصد، بہار کی 22فیصد، اڑیسہ کی 8 اور جھارکھنڈ کی 4فیصد ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور بھی مسئلہ ہے۔ وہ یہ کہ سرکار کے مطابق ابھی جتنے ٹوائلٹ ہیں، ان میں سے زیادہ تر ایسی حالت میں ہیں جن کا استعمال نہیں کیا جاسکتاہے۔پورے ملک میں 79لاکھ ٹوائلٹ بیکار پڑے ہوئے ہیں، جبکہ بہار میں 8.2 لاکھ، جھارکھنڈ میں 6.8لاکھ ۔اسی طرح 2.1 لاکھ اڑیسہ میں اور 16 لاکھ اترپردیش میں ایسے ٹوائلٹ ہیں جو کہ بیکار ہیں،یعنی استعمال میں نہیں آرہے ہیں۔ انہیں پھر سے بنانا ہوگا۔

 

 

 

 

اس کے علاوہ تشویش کی ایک بات یہ بھی ہے کہ ہدف حاصل کرنے کی ہوڑ میں سرکاری مشینری جیسے تیسے ٹوائلٹ بنا رہی ہے۔ اس کی تصویر لے کر وزارت کو بھیج رہی ہے اور کسی طرح اعدادو شمار بڑھانے کی جگاڑ میں لگی ہوئی ہے۔بغیر دروازہ ،بغیر پانی کے انتظام کے ایسے ٹوائلٹ بھی بنائے جارہے ہیں جو بارش کے دنوں میں شاید استعمال کے لائق بھی نہ رہیں۔ ایسے میں کھلے میں ٹوائلٹ سے نجات کا اس وقت کا سیاسی جملہ تو اچھالا جا سکتا ہے لیکن بالآخر لوگ پھر سے کھلے میں ٹوائلٹ کے لئے مجبور ہوجائیں گے۔
ایک بڑا مسئلہ ان لوگوں کا بھی ہے جن کے پاس رہنے کے لائق بھی زمین نہیں ہے۔ایسے لوگ بھلا کہاں سے اپنے لئے ٹوائلٹ بنوا سکتے ہیں۔ سرکار کو اس سمت میں بھی سوچنا چاہئے اور ایسے لوگوں کے گھر اور ٹوائلٹ کے لئے زمین فراہم کرانا چاہئے ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *