نارتھ کوریا- امریکہ تنازعہ تیسری ممکنہ عالمی جنگ میں برصغیر بھی محفوظ نہیں

میں شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان جھگڑے کو لے کر شمالی کوریا، جنوبی کوریا، جاپان، سنگاپور اور چین کے لوگوں کے دل کی بات جاننے کی کوشش کررہا تھا۔ میں یہ ساری باتیں جنوبی بحر چین (سائوتھ چائنا سی )سے لکھ رہا ہوں، کیونکہ مجھے شمالی کوریا جانے کی اجازت نہیں ملی۔اس دوران میری ان ملکوں کے شہریوں سے کئی موقعوں پر بات چیت ہوئی۔ ان لوگوں نے مجھے جو بتایا، وہ باتیں میرے لئے کافی حیرت انگیز تھیں۔ میری شمالی کوریا ، جنوبی کوریا ،چین ،سنگاپور اور جاپان کے لوگوں اور دفاعی ماہرین سے بھی بات چیت ہوئی۔میں جنوبی چین سی تک گیا۔اسی بات چیت اور دورے کی بنیاد پر یہ رپورٹ تیار کی گئی ہے۔
جنوبی کوریا کے لوگوں نے کہا کہ وہ امن چاہتے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے ہیں کہ جنگ ہو۔ یہ بات انہوں نے اپنا نام ظاہر نہیں ہونے کی شرط پر بتائی۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم اپنی زندگی کے ان پلوںکو، ان لمحوں کو جینا چاہتے ہیں۔ ہم نہیں چاہتے ہیں کہ کسی بھی طرح کے سیاسی تنازع میں پڑیں۔ وہاں کے آدمیوں اور عورتوں دونوں کی ایک ہی ذہنیت ہے کہ وہ امن چاہتے ہیں، جنگ نہیں چاہتے۔حالانکہ وہ امریکہ کے صدرسے ناراض ہیں، برہم ہیں، لیکن وہ اس پر کچھ کہنا نہیں چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک زندگی ہے، تب تک کھل کر اور خوش ہوکر جیو۔ جب میں نے پوچھا کہ شمالی کوریا کے لوگ آپ کے بارے میں کیا سوچتے ہوں گے تو انہوں نے کہا کہ 60 سال پہلے ہم ایک دوسرے کے رابطے میں تھے، لیکن اب 60برسوں سے ہم الگ ہیں۔ ہمارے نوجوان، بچے جب کبھی بیرون ملک جاتے ہیں،تو آپس میں ان کی ملاقات ہو جاتی ہے، لیکن ان کا اب کوئی بہت قلبی لگائو نہیں ہے۔ لیکن وہ یہ نہیں مانتے کہ شمالی کوریا کے تاناشاہ کم جونگ اون کوئی بہت جنونی آدمی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ انہیں بہت پریشان کیا جارہا ہے اور جاپان انہیں بہت پریشان کر رہا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

جنوبی بحر چین بنے گا جنگ کا اکھاڑا
جاپان کے لوگوں سے بھی بات چیت ہوئی۔ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ شمالی کوریا ان کے ملک کے لئے ایک بڑا خطرہ بن کر کھڑا ہے۔اگر شمالی کوریا کو کنٹرول نہیں کیا گیا تو ان کا ملک کبھی بھی تباہی میں جاسکتا ہے ۔چین کے لوگ اس مسئلے پر سرف مسکراتے ہیں۔ حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ جب جنگ ہوئی تو جاپان اور جنوبی کوریا ، شمالی کوریا کے ساتھ ساتھ وہ بھی لڑائی کے دائرے میں آسکتے ہیں۔اگر بم چلے، جنگ ہوئی تو جسے ہم انڈین اوسین کہتے ہیں، جس کو جنوبی چین سی کہتے ہیں، یہ جنگ کے بڑے اکھاڑے ہوں گے۔یہاں پر میزائیل بھی داغی جائیںگی،جنگی توپیں بھی آئیںگی لیکن کوئی بھی جنگ نہیں چاہتا ہے۔
آگ کون بھڑکا رہا ہے؟
شمالی کوریا کے صرف ایک آدمی سے بڑی مشکل سے بات ہو پائی۔ اس نے بات کی، لیکن پہلے کہا کہ آپ کاغذ اور قلم ہاتھ میں نہیں لیجئے گا۔ اس نے کہا کہ ہم لڑائی نہیں چاہتے ہیں لیکن کوئی ہے جو آگ بھڑکا رہا ہے۔ آگ کون بھڑکا رہا ہے؟ یہ پوچھے جانے پر اس نے صاف کہا کہ امریکہ ۔سب سے بڑی بات ،جو اس نے کہی کہ ہمارے یہاں لوگ جنوبی کوریا کے لوگوں کی طرح خوشحال نہیں ہیں لیکن ہم بھوکے نہیں مررہے ہیں۔ ہمارے یہاں پریشانیاں ہیں، لیکن ہم فاقہ کشی سے دوچار نہیں ہیں۔ہمارے قومی ہیرو کم جونگ اون کھوج میں لگے سائنس دانوں کی خوب مدد کرتے ہیں۔ ملک کی سیکورٹی کے لئے ہتھیاروں کی کھوج میں لگے سائنس دانوں کے لئے یہاں سبھی وسائل دستیاب ہیں لیکن ان کے دل میں یہ بات ضرور ہے کہ کسی بھی طرح ان کے ملک کی گزر بسر کا اوسط تھوڑا اونچا ہو سکے۔ یہاں کے لوگوں کو یہ بھی نہیں لگتا کہ جنگ ہوگی۔ انہیں یہ بھی لگتا ہے کہ جنگ ہوگی ،تو ہم کیسے روک سکتے ہیں؟ہم تو عام شہری ہیں۔ جنگ اگر روکنا ہے تو وہ امریکہ اور کم جونگ اون کے ہاتھ میں ہے، جنوبی کوریا کے ہاتھ میں بھی نہیں ہے۔ حالانکہ جنوبی کوریا اور جاپان اس کے پہلے شکار ہونے والے ہیں۔
جب جنگ ہوگی تب دیکھا جائے گا
صدرٹرمپ کا کوئی بھروسہ نہیں ہے کہ وہ کب ،کیا کر بیٹھیں گے؟ہو سکتاہے کہ فیصلہ بھی لے لیں کہ شمالی کوریا کے اوپر بمباری نہیں کرنی ہے۔لیکن مجھے لگتا ہے کہ شمالی کوریا کو کہیں نہ کہیں امریکہ سے جانکاری مل رہی ہے کہ امریکہ یہ کرے گا اور اس کے پہلے ہی ایک بم جاپان کے اوپر اور ایک بم جنوبی کوریا کے اوپر ڈال دے گا۔ میں ذرائع نہیں بتا سکتا ۔لیکن میرے اوپر کی بات چیت سے یہ چھاپ پڑی ہے۔ اس خطہ کے لوگ، جو اب دھمکیوں سے اکتا چکے ہیں، کا کہنا ہے کہ جب جنگ ہوگی تب دیکھا جائے گا۔ ابھی تو جیو، کھائو اور جم کر شمپین پیو ۔میرا خیال ہے کہ یہ پورا نان ویج علاقہ ہے اور سی فوڈ ان کا پسندیدہ کھانا ہے۔یہ لوگ اس وقت کھانے پینے اور جینے میں لگے ہوئے ہیں۔
جنوبی کوریا فوج کی کمانڈ امریکی ہاتھوں میں
ایک نئی چیز پتہ چلی کہ جنوبی کوریا کی پوری فوجوں کا کمانڈ امریکہ کے پاس ہے۔ جنوبی کوریا میں بہت ہلچل مچ رہی ہے کہ یہ کمانڈ ان کے پاس کیوں ہے؟سانگ مو یانگ وہاں کے وزیر دفاع ہیں۔انہوں نے یہ کہا ہے کہ آپ مطمئن رہئے۔ ہم یونیفائڈ کمانڈ، جس کے تحت جنوبی کوریا کی فوجیں ہیں، جسے او پی سی او این کہتے ہیں، ان سے وار ٹائم آپریشن کنٹرول جلد لینے والے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمارے صدر مون جو اِن لگاتار کوشش کررہے ہیں اور جلد ہی کنٹرول ہمارے پاس آجائے گا۔ اب یہ جو نئی چیز معلوم ہوئی کہ جنوبی کوریا اور شمالی کوریا کے جو رشتے ہیں، اس میں امریکہ نے جنوبی کوریا سے ڈپلومیٹک سولیوشن کا آپشن چھین لیاہے۔ ڈپلومیٹک آپشن چھین لئے جانے سے اب یہ لڑائی شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے بیچ نہ ہوکر، امریکہ اور شمالی کوریا کے بیچ ہو گئی ہے۔
میری ایک نارتھ ایسٹرن ایشین ڈیفنس ایکسپرٹ سے بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ امریکہ کی سیکورٹی کا مسئلہ بن گیاہے۔ اس لئے امریکہ نے سارا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔ موجودہ صدر ٹرمپ ان چیزوں کو ہاتھ میں لے کر اپنے دماغ سے اس کا حل نکالنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن جنوبی کوریا کے عوام لڑائی نہیں چاہتے ہیں اور اس کے لئے وہاں دبائو بنائے ہوئے ہیں۔ اسی لئے شاید صدر مون جو ن کوشش کررہے ہیں کہ ان کے کمانڈ کی فوج ان کے ہاتھ آجائے۔ دوسری طرف شمالی کوریا کے پاس بیلسٹک میزائیل اور طاقتور بم ہیں لیکن ابھی تک امریکہ اور جنوبی کوریا کو یہ پتہ نہیں ہے کہ انہوں نے جو بیلسٹک میزائیل بنائی ہے، وہ جنگی بم یا ہائیڈرو جن بم کو امریکہ تک لے جانے میں کامیاب ہیں یا نہیں۔ امریکہ کو یہ ڈر ہے کہ شمالی کوریا نے اگر کسی دن ان پر حملہ شروع کردیا، تب کیا کریں گے؟دوسری طرف ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ چونکہ صدر ٹرمپ امریکہ کے ٹاپ ٹوینٹی بزنس مین میں سے رہ چکے ہیں، تو وہ کبھی بھی اس حد تک نہیں جائیں گے کہ دونوں میں جنگ ہو جائے۔
اس کے لئے انہوں نے مجھے ایک مثال بھی دی۔ ان کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا کی دو بڑی کمپنیاں ایل جی اور سیم سنگ ہیں۔ ان کا امریکی آپریشن بہت بڑا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ امریکہ میں ان کا آپریشن اور بڑھے۔ اسی لئے انہوں نے دبائو ڈالا ہے کہ ہوم اپلائنس اور صفائی کی مشینوں پر ایل جی 250 ملین اور سیم سنگ 300 ملین ڈالر وہاں انوسٹ کرے۔ اس کے تحت سیم سنگ اتنا پیسہ خرچ کر کے امریکہ میں تقریباً 950 نوکریاں اور ایل جی 600 نئے جاب پیدا کرے گا۔ صدر ٹرمپ یہ دبائو ڈال رہے ہیں کہ دونوں کمپنیاں اپنے ملک جنوبی کوریا پر دبائو ڈالیں کہ وہ شمالی کوریا مسئلے کو لے کر امریکی پالیسی کے اوپر چلیں۔
ماک ڈریل کی مانیٹرنگ کررہے ہیںٹرمپ
امریکہ نے ایک اور خطرناک کام کیا ۔ بی 1بی دنیا کے سب سے خطرناک بامبرس ہیں۔ بی 1بی بامبرس کئی بار رات میں اڑے اور ایک بار تو کھلے عام تعینات کئے گئے۔ جب یہ بامبرس رات میں اڑے، تب وہائٹ ہائوس میں بیٹھ کر ان کی مانیٹرنگ خود صدر ٹرمپ کررہے تھے کہ وہ کیسے اڑتے ہیں، کہاں جاتے ہیں اور کیسے بم گرائیں گے؟شمالی کوریا کی سرحد کو ٹچ کرکے وہ بامبرس لوٹ گئے۔ اس بیچ انہوں نے دوری کا اندازہ کر لیا۔ یہ چیزیں اس علاقے کے لوگوں اور خاص طور پر نارتھ ایسٹرن ایشیا ڈیفنس ایکسپرٹس کو خطرناک لگ رہی ہیں۔ وہ اندازہ کررہے ہیں کہ پاکستان میں اسامہ بن لادن آپریشن کے پہلے جو ماک ڈریل ہوا تھا، اس کی نگرانی وہائٹ ہائوس میں بیٹھ کر خود اس وقت کے صدر اوبامہ کررہے تھے۔ جب وہ خود مطمئن ہو گئے ،تب جاکر انہوں نے گرین سنگل دیا تھا۔ اس کے بعد نیوی سیلس بھیجے گئے، جو پاکستان میں لادن کو مار کر ڈیڈ باڈی کے ساتھ واپس آگئے تھے۔ ٹھیک ویسا ہی کام اب صدر ٹرمپ کررہے ہیں۔ وہ وہائٹ ہائوس میں بیٹھ کر بی 1بی بامبرس کے ایکسرسائز کو دیکھ رہے ہیں۔ ایک سیکنڈ میں یہ بامبرس کتنی دوری پر اور کتنا بم گراتے ہیں، اسے کلکولیٹ کررہے ہیں۔یہ ابھی تک بہت کھلا ہو انہیں ہے، لیکن ایسا ہو رہا ہے۔
ہندوستان بھی محفوظ نہیں
عوام تو اپنے انداز میں مست ہیں،لیکن جو دفاعی ماہرین اور امن کے چاہنے والے ہیں، وہ بہت فکر مند ہیں۔ ان کا یہ کہنا ہے کہ اگر لڑائی ہوئی تو سمندرمیں رہنے والی مخلوق ختم ہو جائیںگی، زندگیاں ختم ہو جائیںگی،ملک ختم ہو جائیںگے۔اس کا اثر صرف چین، شمالی کوریا، جنوبی کوریا یا جاپان تک ہی نہیں رہے گابلکہ اس کا اثر چین کے پڑوسی ملکوں میانمار ، ہندوستان ، پاکستان اور بنگلہ دیش پر بھی پڑے گا۔ اگر ان کے اوپر اثر پڑتا ہے تو ہم ہندوستانیوں کے پاس تو کوئی ڈیفنس سسٹم بھی نہیں ہے۔ ہمارے لوگوں کو تو یہ تک پتہ نہیں ہے کہ آلودہ ہوا کو ہم اندر جانے سے کیسے روک سکتے ہیں؟یہاں تو جوہری ہتھیار سے نکلنے والے زہریلے اثرات کو روکنے کی بات ہے۔ یہ انسانیت کے اوپر سب سے سخت حملہ ہوگا، اس کے باوجود کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ چونکہ خود ٹرمپ بزنس مین ہیں، اس لئے وہ اتنی دور تک نہیں جائیںگے۔ لیکن امریکہ میں صدر کی کرسی پر بیٹھا آدمی، چاہے وہ نکسن ہو یا ٹرمپ، صرف امریکی مفاد کو دیکھتا ہے۔ جو طاقتور ہوتا ہے، ذمہ داری تو اسی کی ہوتی ہے ۔ جو کمزور ہے، اس کی ذمہ داری نہیں ہوتی ہے۔ کمزور کو تو لوگ کہتے ہیں کہ یہ ہم کو اکسا رہا ہے، لیکن سچ مچ وہ کتنا اکسا یا جارہا ہے ،کون جانتا ہے۔ چونکہ الزام آپ کو لگانا ہے تو آپ کسی کے اوپر لگا دیں۔ جیسے آپ نے صدام کے اوپر الزام لگا دیا تھا، لیکن وہاں تو کوئی جوہری اسلحہ یا ماس ڈسٹرکشن ہتھیار نہیں ملے۔
اب تو لوگ کہہ رہے ہیں کہ جنوبی کوریا کے ہاتھ سے سیاسی حل نکالنے کا مسئلہ دور چلا گیا ہے۔ اب تو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ اقوام متحدہ کے، جو سب سے اچھے اور سمجھدار سکریٹری جنرل بان کی مون تھے، اگر ان کے ہاتھ میں بھی یہ مسئلہ دے دیا جاتا، تو وہ کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ اب صرف اورصرف ٹرمپ کے ہاتھ میںہے۔ اگر ٹرمپ انسانیت کے بارے میں کچھ سوچیں گے، تبھی شاید صورت حال نارمل ہو سکتی ہے، ورنہ جنوبی کوریا اور جاپان کے لوگ کافی فکر مند ہیں۔ جنوبی کوریا کے لوگ، جن کے رشتہ دار شمالی کوریا میں ہیں، ان کو تو دونوں طرف سے مرنا ہے۔ اسی لئے صدر مون جو اِن پوری کوشش کررہے ہیں کہ جنوبی کوریا کی فوج کی کمان وہ امریکہ کے ہاتھوں سے اپنے ہاتھ میں لے لیں،دیکھیں یہ ہوپاتا ہے یا نہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

شمالی کوریا کے اکسائو کا جواب ہے جنگی مشق
جنوبی کوریا کے صدر مون جو ن ویتنام اور انڈونیشیا کے دورے پر جارہے ہیں۔ وہ شاید شمالی کوریا کے سوال پر ان سربراہان ممالک کی اپنے لئے حمایت حاصل کرنے جارہے ہیں۔ دوسری طرف امریکہ کے صدر ٹرمپ جاپان اور جنوبی کوریا آرہے ہیں۔ وہ جنوبی کوریا اس لئے آرہے ہیں تاکہ فائنل ویو لے سکیں کہ کیا کرنا ہے؟لیکن ان کے آنے سے پہلے بہت کچھ شروع ہو گیا ہے۔ جوہری ہتھیار سے لیس وارشپ یو ایس ایس رونالڈ ریگن جنوبی کوریا کی سمندری سرحد میں پہنچ گیا ہے۔ یہ پانچ دنوں کے لئے ہونے والی جنگی مشق میں حصہ لے گا۔ امریکہ اور جنوبی کوریا مل کر پانچ دنوں کی جنگی مشق ایسٹ اور ییلو سی میں کررہے ہیں۔شمالی کوریا کے اکسائو کا جواب دینے کے لئے وہ مشق ہورہی ہے، لیکن یہ مشق نہیں ہے۔یہ دراصل شمالی کوریا کے خلاف سمندری لڑائی کا پریکٹیکل یا ریہرسل ہے ۔شمالی کوریا کو اگر دبانا ہو یا اس پر حملہ کرنا ہو، تو کیسے کیا جائے، اس کی پالیسی اس مشق میں بنے گی۔
یو ایس ایس رونالڈ ریگن جنوبی کوریا کی سمندری سرحد میں پہنچ گیا ہے۔ اس ڈریل کا نام ہے میریٹائم کائونٹر اسپیشل آپریشن فورس یا ایم سی ایس او ایف ۔ رونالڈ ریگن 1092 فٹ لمبا ہے۔ اس کی واٹر لائن بیم 134 فٹ ہے اور فلائی ڈیک 252فٹ چوڑی ہے۔یہ 60فائٹرس ہوائی جہاز کو اٹھا سکتا ہے اور اس یو ایس ایس رونالڈ ریگن پر پانچ ہزار کرو ممبرس بھی موجود ہیں۔ یو ایس ایس میشی گن ایک پن ڈبی ہے، جو اوہیو کلاس گائڈیڈ میزائیل سے لیس ہے۔ یہ بھی ایم سی ایس او ایف ڈریل میں حصہ لینے پہنچ چکی ہے ۔یہ بھی 170.6 میٹر لمبی اور 12.8 میٹر چوڑی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ 560 فٹ لمبی اور 42فٹ چوڑی ہے۔ اس پر 150 ٹام ہاک کروز میزائیل لدے ہوئے ہیں جو 1240 میل تک مار کرسکتے ہیں۔ جنوبی امریکہ کے دفاعی وزیر نے اس پن ڈبی کی سیر کی اور یہ بھی کہا کہ شمالی کوریا کی راجدھانی پیونگ یونگ کو یہ ان کا جواب ہے۔ شمالی کوریا اس ڈریل کی مخالفت کررہا ہے۔ شمالی کوریا کہہ رہا ہے کہ امریکہ اور جنوبی کوریا کی کارروائی اس لئے ہو رہی ہے، تاکہ وہ ان عناصر کو بڑھاوا دے سکیں جو شمالی کوریا میں اقتدار پلٹنا چاہتے ہیں۔ کم جونگ اون کو ڈر ہے کہ اس ایکسرسائز سے ان لوگوں کو طاقت ملے گی جو ان کے خلاف ہیں۔یہ اسے اپنے اقتدار سے ہٹانے کی مہم مانتے ہیں۔یہ بھی پتہ چلا ہے کہ شمالی کوریا نے اپنے سبھی کیریئر جہازوں کو میزائیل لانچر میں تبدیل کردیاہے۔
ٹرمپ کی دھمکی
شاید شمالی کوریا پھر میزائیل ٹیسٹ کرے۔وہ اس لئے کہ چین کی پیپلس پارٹی کی 10ویں پارٹی کانگریس میں صدر جن پنگ کو اگلے پانچ سال کے لئے پھر صدر چن لیا جائے گا۔ اس لئے اندازہ ہے کہ شاید اسی دن شمالی کوریا پھر سے اپنی بیلسٹک مئزائیل کا ٹیسٹ کرے گا۔ اس ٹیسٹ کو امریکا اکسائو کی کارروائی مانے گا اور اس کے بعد شاید شمالی کوریا کے اوپر وہ اور کارروائی کرے۔ ٹرمپ نے ایک بات کہی کہ جب ہم کسی سے سمجھوتہ کی بات کرتے ہیں تو اس کا کوئی نہ کوئی نتیجہ ضرور نکلتا ہے اور اگر وہ نتیجہ نہ نکلے تو ہم پھر وہ کرتے ہیں، جو کبھی ہوا ہی نہیں ہے۔ یہ ٹرمپ کے لفظ یاد رکھئے۔ اس کا مطلب آپ نکال سکتے ہیں۔ پہلے اندازہ تھا کہ 10اکتوبر کو یہ ٹیسٹ ہوگا،کیونکہ اس دن پیونگ یونگ میں ورکرس پارٹی کا 72واں یوم تاسیس منایا گیا تھا۔ حکومت کرنے والی ورکرس پارٹی کم جونگ اون کے والد کی پارٹی ہے۔ 10اکتوبر کو تو کچھ نہیں ہوا، لیکن امید تھی کہ چین کی دسویں کانگریس کی شروعات میں شمالی کوریا بیلسٹک میزائیل کا تجربہ یا اس کا ٹیسٹ کرے گا۔ اب یہ پانچ یا دس دن میں ٹارگٹ اٹیک راڈار سسٹم پر ہوگا۔ شمالی کوریا کے راڈار سسٹم کو ٹارگٹ کرکے یہ مہم شروع ہوگی۔ یو ایس آرمی اور ایئر فورس کا یہ جوائنٹ پروجیکٹ ہے۔ شمالی کوریا کے ٹوٹل کمیونیکیشن سسٹم خاص طور سے راڈار کو کیسے جام کرنا ہے،کیسے ختم کرنا ہے۔ اب وہاں پر کیا کیا پہنچ گیا ہے، وہ بھی آپ کو بتا دیں۔ ایف 202 راپلیٹ، اے 10 تھرڈ بولٹ ٹو، سی 17 گلوب ماسٹر تھرڈ ، سی 130 جے ہرکلیس، بی 1 بی لینسر ، کے سی 135 اسٹیٹو ٹینکر، ای 3 سینٹرو ، یو 2 ڈریگن لیڈی، آر کیو 4 گروول ہاک، اس مہم میں حصہ لیںگے۔ کس کو ،کون ،کہاں سے،کیسے حملے کرے گا اور شمالی کوریا کو کیسے جام کرنا ہے، کیسے گھسنا ہے، اس کی پالیسی بنے گی۔ ایئرفورس کا ففتھ جنریشن فائٹر ایف 35 اے لائٹ ٹو بھی اس میں شامل ہے، جو نیو کلیئر ویپن لے جانے والے میزائل سے لیس ہے۔
امریکہ دے گا نیو کلیئر امبریلا کا پروٹیکشن
دراصل صدر ٹرمپ جاپان اور جنوبی کوریا کو یہ یقین دلانے آرہے ہیں کہ لڑائی کی حالت میں وہ دونوں ملکوں کو نیوکلیئر امبریلا کا پروٹیکشن دیںگے۔ جاپان بہت ڈرا ہوا ہے۔ جاپان کے پاس اپنی فوج نہیں ہے، جو لڑائی کر سکے۔ جنوبی کوریا کے پاس بھی شمالی کوریا کا سختی سے مقابلہ کرنے کے لئے فوج نہیں ہے۔ شمالی کوریا نے اپنی طاقت بہت بڑھا لی ہے۔ جیسا میں نے بتایا تھا کہ جنوبی کوریا کے صدر مون جون نہیں چاہتے ہیں کہ لڑائی ہو۔ اس لئے وہ اپنی فوج کا کمانڈ اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے ہیں، لیکن وہ ایسا کر نہیں پارہے ہیں۔ ان کے وزیر دفاع اس دبائو کو جھیل نہیں پارہے ہیں ۔ وہ یونائٹیڈ اسٹیٹ آرمی کے ساتھ اور خاص طور پر ان کی جو میزائیلیوں سے لیس نئی پن ڈبی آئی ہے،جو 1240 میل تک کی مار کرسکتی ہے، کو دیکھ کر آئے ہیں۔ اب یہ ساری صورت حال دنوں دن بگڑتی جارہی ہے۔ یہ صورت حال لوگوں کیخواہشات کے برعکس ہیں کیونکہ لوگوں کی خواہش ایک ہوتی ہے اور اقتدار کی مرضی بالکل دوسری ہوتی ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

شمالی کوریا سے بوکھلایا امریکہ
جو امریکہ کے صدر ، جنوبی کوریاکے صدر ہیں، یا ان کے اتحادی ہیں، وہ سبھی پوری دنیا میں اپنی دھمک دکھانا چاہتے ہیں۔ ایک چھوٹا سا ملک شمالی کوریا ان کے سامنے تن کر کھڑا ہے۔ ہو سکتا ہے شمالی کوریا کی ساری غلطی ہو، اس نے اتنی توڑ مروڑ کی ہو کہ امریکہ کو لگ رہا ہوگا کہ اسے ابھی دبانا ضروری ہے لیکن یہ نفسیات ٹھیک ویسی ہی ہے کہ گائوں یا شہر کے کسی طاقتور لیڈر کو کسی عام ورکر کا اجلاس میں اچھا بھاشن دینا بھی پسند نہیں آتا ہے۔ یہ عام نفسیات ہے۔ اگر کسی پارٹی کے صدر کو یہ لگے کہ ان کی پارٹی میں یہ لیڈر دھیرے دھیرے ابھر رہا ہے، تو وہ سب سے پہلے اس کا سیاسی قتل کرتا ہے۔اسی طرح عالمی طاقت کا توازن ہے۔ وہ ملک جو ساری دنیا میں اپنا دبدبہ قائم کرنا چاہتا ہے اور ٹرمپ اس موقع پر اپنے طاقتور ہونے کا احساس ساری دنیا کو دلانا چاہتے ہیں کہ وہ طاقتور بھی ہیں اور جلد فیصلے بھی لے سکتے ہیں۔ اب بھی بہتوں کو یقین ہے کہ چونکہ ٹرمپ بزنس مین ہیں، اس لئے ایسا کوئی فیصلہ شاید نہ لیں۔ لیکن جو ٹرمپ کی نفسیات کو جانتے ہیں، جو ان کے بیانوں کو دیکھتے ہیں، جس طرح سے ٹرمپ لوگوں کی عزت یا بے عزتی کرتے ہیں، وہ ساری چیزیں بتاتی تھیں کہ ٹرمپ یہ سب کر سکتے ہیں۔ ٹرمپ ،براک اوبامہ یا امریکہ کے کسی بھی صدر سے بہتر ہیں یا نہیں،یہ تو تاریخ بتائے گی لیکن ابھی تو ایسا لگ رہا ہے کہ ٹرمپ اپنے کو تاریخ کا سب سے طاقتور ، سب سے سمجھدار اور سب سے ہوشیار صدر ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
شمالی کوریا ، جنوبی کوریا اور امریکہ کے درمیان کا تنائو انتہا پر ہے اور شاید کچھ بھی ہو سکتاہے۔ شمالی کوریا نے کہا ہے کہ نیو کلیئر وار میں بریک آئوٹ اَیٹ اینی موومنٹ ہو سکتا ہے اور یہ دنیا میں اس وقت تشویش کا موضوع بنا ہو اہے۔ لیکن میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ شمالی کوریا جلد نئی بیلسٹک میزائیل کا اکسپلوزن کر سکتا ہے یا ٹیسٹ کر سکتاہے۔ اس وقت یو ایس ایس رونالڈ ریگن بھی سمندر میں ہے ،لیکن اس سے پہلے ابھی کی بات چیت سن لیجئے۔ امریکہ کے سیکورٹی ایڈوائزر جنرل ایچ آر میک ماسٹر نے کہا ہے کہ ہم وار کے آپشن پر سنجیدگی سے غور کررہے ہیں۔
اسٹریلیا کو شمالی کوریا کی دھمکی
امریکہ کے سکریٹری آف اسٹیٹ ریکس ٹیلرسن نے کہا ہے کہ پہلا بم گرنے تک ہم بات چیت کرتے رہیں گے اور پالٹیکل سولیوشن تلاش کرتے رہیںگے لیکن پورے جملے کا کنسٹرکشن دیکھئے۔ پہلا بم گرنے تک یہ خطرناک سوچ امریکہ کی ہے۔ اسٹریلیا نے ٹرمپ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسے لے کر شمالی کوریا نے اسٹریلیا کو بہت دھمکایا ہے کہ آپ اگر یہ کرتے ہیں تو آپ بھی ہمارے دشمن مانے جائیں گے۔ ایک اور بہت اہم یہ ہے کہ ٹرمپ ہینری کیسنجر سے ملے اور لمبی بات چیت کی۔ جنوبی کوریا کے صدر مون جو ن بھی ہینری کیسنجر سے ملنا چاہتے ہیں۔ اس بیچ شمالی کوریائی ہیکرس نے جنوبی کوریا کی سب سے بڑی آن لائن کرنسی ایکسچنج کمپنی ویتونب کے 30ہزار یوزرس ریکارڈ ہیک کر لئے ہیں۔ جنوبی کوریا کے صدر مون جو ن نے 1994 میں سی ایٹل میں جنوبی- شمالی کوریا تنازع کے امریکی چیف نیگو شیئٹر گیلیوری جے چیف سے بھی ملاقات کی ہے۔ چین کی کمیونسٹ پارٹی کی کانگریس شروع ہوئی، اسی وقت جنوبی کوریا اور یو ایس کے میری ٹائم ڈریل بھی شروع ہوئی۔ یو ایس ایس رونالڈ ریگن اور یو ایس ایس کے بہت سارے خطرناک جہاز اس میں حصہ لے رہے ہیں جوا ن کے راڈار سسٹم کو ڈیمیج کرنا چاہتے ہیں۔ ایف 202 ، اے 10 تھنڈر وولٹ 2، یہ سب ہوائی جہاز کے نام ہیں،۔ سی 17گروپ ماسٹرس تھرڈ ، سی 130 جے ہرکولیس ، بی 1بی لینسر ، کے سی 135 اسٹیٹو ٹینکر، ای تھری سینٹری، یو 2 ڈریگن لیڈی ، آر کیو فار گلوبل ہاک، اس میں حصہ لے رہے ہیں۔ سب سے بڑی چیز یہ کہ جو سب میرین ہے، جس کے اوپر لگ بھگ یو ایس ایس مشین گن پن ڈبی ہے،جو اوہیو کلاس گائیڈیڈ میزائیل لئے ہوئے ہے، یہ بھی اس ڈریل میں حصہ لے رہے ہیں۔ یہ 170.6میٹر لمبی اور 12.8 میٹر چوڑی ہے۔ اس میں لگ بھگ 150 ٹاک ہاک کروز میزائیل ہیں اور 60ہوائی جہاز ہیں، جو 1240میل تک مار کرسکتے ہیں۔ اس بیچ سیول میں دنیا بھر کے 39 شہروں کے میئروں کی ماحولیاتی آلودگی کو لے کر بات چیت ہوئی ۔
اپنے ملک پر قبضہ کرنے کی سازش مان رہا ہے شمالی کوریا
ہمیں پہلے لگ رہاتھاکہ امریکہ جنگ کے لئے تیار نہیں ہے لیکن امریکہ نے اندر ہی اندر پوری تیاری کررکھی ہے ۔اس نے اپنی ساری تباہ کار طاقت ییلو سی میں اکھٹی کر لی ہے۔ شمالی کوریا کے ہر اسٹریٹجک پوائنٹ اس وقت ان کی زد میں ہیں۔ دوسری طرف شمالی کوریا کہہ رہا ہے کہ ہم اسے اپنے ملک پر قبضہ کرنے کی سازش مانیںگے اور اس کا جواب دیں گے۔ امریکہ ایک اور نیا کام کررہا ہے۔ امریکہ ایران کے ساتھ بھی ٹینشن لے رہا ہے۔ اس وقت چین ،ایران اور شمالی کوریا ایک نیا محور بنتا جارہا ہے اور شاید روس بھی ان کے ساتھ شامل ہو جائے۔ کیونکہ ابھی تک روس کا آفیشیل اسٹینڈ ، نیوٹرل اسٹینڈ تو ہے لیکن بہت نیوٹرل نہیں ہے۔یہ دنیا کے لئے ایک ایسا تنائو بھرا ماحول ہوگا جس میں چین کے ساتھ ساتھ ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش بھی اس کی زد میں آجائیں گے ۔ اگر ایران کے ساتھ امریکہ نے زیادہ ٹینشن لیا، تو ایران بھی اس میں شامل ہو سکتاہے ۔ایسا لگتا ہے کہ سچ مچ تیسری عالمی جنگ کا وقت آرہا ہے۔ ہم یہی دعا کریں گے کہ تیسری عالمی جنگ نہ ہو۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *