مضبوط جمہوریت کیلئے منتشرنہیں،متحدملت کی ضرورت

2011کی مردم شماری کے مطابق ہندوستان میں 172ملین مسلمان ہیں۔اس کا سیدھامطلب یہ ہواکہ یہ ملک کی آبادی کا 14.2فیصد ہیں اوردوسری سب سے بڑی مذہبی کمیونٹی ہیں۔اس تلخ حقیقت کے باوجودکہ یہ تعلیمی ، معیشتی ، معاشرتی اورسیاسی میدانوں میں اپنی آبادی کے تناسب سے کافی پیچھے اورکمزورہیں،اس بات سے انکارنہیں کیاجاسکتاہے کہ انہوں نے ملک کی آزادی اوراسکے بعداس کے تعمیرنومیں کلیدی کرداراداکیاہے۔آج بھی اس ملک کومضبوط جمہوریت کیلئے ان کی ضرورت ہے مگرمنتشرنہیں، متحدملت کی شکل میں۔ کسی بھی ملت میں مختلف ملکوں ، مختلف مکاتب فکراورمختلف الخیال افرادکا پایاجانازندگی کی علامت ہوتاہے لیکن اختلاف سے انتشارمیں بدل جانے کی صورت میں یہ جہاں اس ملت کیلئے خطرناک بن جاتاہے وہیں ملک کیلئے بھی نقصاندہ ثابت ہوتاہے ۔اس حقیقت سے کون انکارکرسکتاہے کہ اتحادکی جتنی ضرورت ملت کوہے ، اتنی ہی ضرورت وطن عزیزکوہے، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کوہے۔
شایدیہی وہ احساس ہے کہ جوکہ ان دنوں مسلم ملت کے اندرپایاجارہاہے اوراس کا اندازہ مختلف تنظیموں کے ذمہ داروں اوراکابرین کے موقف ،آراء اورخیالات کوسن کراورپڑھ کرہوتاہے۔گزشتہ دنوں 20ستمبرکوقومی راجدھانی میں آل انڈیامسلم مجلس مشاورت کے مرکزی دفترمیں یہی رجحانات دیکھنے کوملے۔اس میں مختلف مکاتب فکراورتنظیموں اوراداروں کے اکابرین اورنمائندے نیزماہرین موجودتھے۔تعدادکے لحاظ سے تویہ دودرجن سے بھی کم تھے مگرحلقۂ اثرکے لحاظ سے یہ قابل ذکرتھے۔خاص بات تویہ تھی کہ اس چھوٹی سی مگراہم وغیرمعمولی نشست میں مشاورت میں شامل تنظیموں ، اداروں اورشخصیات کے علاوہ دیگرگروپوں اورتنظیموں کے سرکردہ افرادبھی اپنی الگ الگ رائے سے اس کی زینت بڑھارہے تھے۔اس کی بہترین مثال صدرمشاورت نویدحامد اورسکریٹری جنرل فاروق مجتبیٰ کے علاوہ دونوں جمعیۃ علماء ہندکے اکابرین مولاناسیدارشدمدنی اورمولانامحمودمدنی، جماعت اسلامی ہندکے امیرمولاناجلال الدین عمری اورنائب امیرنصرت علی، مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکے موجودہ امیرمولانااصغرعلی امام مہدی سلفی مدنی، بریلوی مکتب فکرکے معروف عالم دین اوراتحادملت کونسل کے سربراہ مولاناتوقیررضاخاں، اسلامک فقہ اکیڈمی کے سکریٹری مولاناعتیق بستوی ، انڈین نیشنل لیگ کے صدرمحمدسلیمان، ویلفیئرپارٹی آف انڈیاکے صدرڈاکٹرقاسم رسول الیاس، تمل ناڈومسلم منتراکشرھگم(ٹی ایم ایم کے )کے صدراورسابق رکن تمل ناڈواسمبلی ایم ایچ جواہراللہ، سابق رکن راجیہ سبھا(سی پی آئی)سیدعزیزپاشا، آل انڈیایونائیٹڈ مسلم مورچہ ا ورمشاورت کے جنرل سکریٹری مولاناعبدالحمیدنعمانی، معروف دانشوراورسہ ماہی رسالہ’مطالعات‘کے ایڈیٹرمحسن عثمانی، قومی کمیشن برائے اقلیتی تعلیمی ادارہ جات (این سی ایم ای آئی)کے سابق چیئرمین جسٹس محمدسہیل اعجازصدیقی، جامعہ ہمدردکے سابق وائس چانسلرسراج حسین اورقوئیل فاؤنڈیشن کے سربراہ کے کے سہیل کی اس میں فعال شرکت ہے۔البتہ آل انڈیاملی کونسل کے جنرل سکریٹری اورتھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز(آئی اوایس )کے چیئرمین ڈاکٹرمحمدمنظورعالم انہی دنوں بنگلورومیں ملی کونسل کی مجلس عاملہ کی میٹنگ کے سبب اس میں موجودنہیں رہے ۔ویسے شیعہ اوربوہراگروپوں کی اس میں عدم نمائندگی ضرورکھل رہی تھی۔

 

 

 

 

 

 

شرکاء میں سے ہرایک کوملک وملت کودرپیش مختلف مسائل کے تعلق سے الگ الگ سوچ رکھنے کے باوجودجن نکات پراتفاق تھا، وہ یہ تھے کہ آزادی کی تحریک اورآزادی کے بعدگزشتہ 70برسوں میں ملک کی تعمیرنومیں برابرشریک ہونے کے باوجودمسلمان آج مختلف شعبوں میں جس طرح پسماندگی کے شکارہیں اوراپنے تشخص پرخطرے کے علاوہ خوف وہراس کے جس نفسیاتی بحران سے گذررہے ہیں، ان سب کی ذمہ دارملک کی کوئی ایک سیاسی پارٹی نہیں بلکہ تمام پارٹیاں ہیں جوکہ اقتدارمیں رہی ہیں۔لہٰذا ان سب سے اپنے ایجنڈے کے ساتھ مسلمانوں کے نمائندہ وفدکوملکربات چیت کرنی چاہئے۔نیزاپنی صفوں میں اتحادبرقراررکھتے ہوئے برادران وطن سے ربط رکھ کرفرقہ وارانہ ہم آہنگی، رواداری اورتنوع کومضبوط ومستحکم بناناچاہئے۔لہٰذاوسیع ترنمائندگی کے ساتھ ایک سواہم شخصیات پرمبنی آئندہ ماہ نمائندہ اجلاس کا فیصلہ کیاگیا جس میں اتفاق رائے سے لائحہ عمل طے کیاجائے گا اورحکمت عملی بنائی جائے گی۔
آئیے ،اب ذراجائزہ لیں کہ یہ اکابرین ملک کے موجودہ حالات کے بارے میں کیا اورکیسے سوچتے ہیں؟اس سلسلے میں صدرمشاورت نویدحامدنے بات چیت کا آغازکرتے ہوئے کہاکہ ملک اندرونی طورپربڑے ہی نازک دورسے گذررہاہے۔لہٰذااس سلسلے میں انہوںنے پی ایم مودی کو27جون 2017کوایک مکتو ب لکھ کران کی توجہ ملک وملت کودرپیش مسائل کی جانب مبذول کرائی گئی مگرکوئی خاطرخواہ نتیجہ نہیں نکلا۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ آج نئی نسل سخت بے چین ہے۔نوجوانوں کی قابل ذکرتعدادنوکریاں چھوڑکرملک سے باہرجارہی ہے۔
جسٹس محمدسہیل اعجازصدیقی کا کہناتھاکہ آزادی کے بعدہوش کے بجائے جوش سے زیادہ کام لیاگیا، دل کی بات کی گئی، دماغ سے کام نہیں لیاگیا۔انہوں نے کہاکہ انتشارکوروکنے کی ضرورت ہے۔انتخابات کے دوران اس کا مظاہرہ ہوتاہے ۔مسلمانوں میں اتحادکے ساتھ ساتھ برادران وطن سے بھی اتحادکی سخت ضرورت ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ آج سماج دشمن عناصر کوشش کرتے ہیں کہ مسلمانوں کوچھیڑوتاکہ یہ مشتعل ہوں تاکہ ہندوؤں میں پولرائزیشن ہو۔لہذاملت میں صحت مندقیادت کوابھارناچاہئے۔حیدرآبادسے سی پی آئی کے سابق رکن راجیہ سبھاسیدعزیزپاشانے کہاکہ لنچنگ کے واقعات کے بعدحالات کی سنگینی کا اندازہ اس سے لگایاجاسکتاہے کہ چندماہ قبل علی گڑھ میں ایک شخص کوبرقعہ پہن کرسفرکرتے ہوئے پایاگیا۔ان کا یہ بھی کہناتھاکہ ان سب باتوں کے باوجودیہ اچھی بات ہے کہ اینٹی انکمبینسی رجحان عوام میں بڑھ رہے ہیں۔تبھی توچھوٹے بڑے انتخابات میں برسراقتداربی جے پی حتی کہ مختلف یونیورسٹیوں میں طلبایونینوں کے انتخابات میں اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کاگراف تیزی سے نیچے جارہاہے۔ان کے خیال میں یہی وجہ ہے کہ اپنی ناکامی کوچھپانے کیلئے چندمتنازعہ ایشوزبشمول روہنگیائیوں کوڈپورٹ کرنے کی بات کی جاتی ہے۔
انڈین نیشنل لیگ کے پروفیسرمحمدسلیمان کا کہناہے کہ ہمیں لوپروفائل میں تورہناچاہئے مگرمناسب اقدامات بھی کرتے رہناچاہئے۔انہو ںنے کہاکہ کبھی آرایس ایس نے کلچرل نیشنلرم کی کال دی تھی ،آج اسی پرعمل ہورہاہے۔ان کا یہ بھی کہناتھاکہ ماضی میں فاسشزم کا ملک پرقبضہ نہیں تھامگرنام نہادسیکولرگروپ برسراقتدارتھاجس کے دورمیں مکہ، مالیگاؤں ، اجمیراوربٹلہ ہاؤس جیسے سانحات ہوئے۔معروف دانشورپروفیسرمحسن عثمانی نے اظہارخیال کیاکہ ہندوستان میں آج وہی غلطی دوہرائی جارہی ہے جوکبھی اسپین میں کی گئی تھی۔وہاں اس وقت فاتح اورمفتوح کے درمیان کمیونی کیشن گیپ ہوگیاتھا اورآج یہی یہاں حکمراں اورعوام کے بیچ ہورہاہے۔انہوں نے کہاکہ دینی اداروں اورمدارس کے ذمہ داروں کوفارغین میں برادران وطن کی زبان میں بات کرنے کی صلاحیت پیداکرناچاہئے تاکہ وہ اپنی بات ملک کے سامنے ٹھیک سے پیش کرسکیں اورمین اسٹریم کا حصہ بن سکیں۔انہوں نے کہاکہ ماضی میں مولانامحمدقاسم نانوتوی ؒ اورمولانامحمدعلی مونگیریؒ جیسے علماء نے ملک وملت کیلئے جس اندازمیں کام کیاہے، اسے پھرسے اسی اندازمیں کرنے کی ضرورت ہے، تبھی معاشرہ میں تبدیلی آسکتی ہے۔
ویلفیئرپارٹی آف انڈیاکے صدراورماہنامہ’افکارملی‘کے مدیراعلیٰ ڈاکٹرسیدقاسم رسول الیاس نے کہاکہ مسلمانوں کوایسی صورتحال میں لاکرکھڑاکردیاگیاہے کہ انہیں اب کوئی نہ کوئی لائحہ عمل طے کرنا ہی ہے۔ان کے خیال میں مسلمانوں کوصرف سیاسی صورتحال پرغورکرنے کے بجائے مجموعی طورپرجائزہ لینے کی ضرورت ہے۔اس وقت مسائل میں معاشی صورتحال اورعورت کا تحفظ چھایاہواہے۔لہٰذاہمیں اسلام کاتعارف کراتے ہوئے صرف توحیدپرفوکس کرنے کے بجائے بنیادی مسائل کوحل کرنے کیلئے لائحہ عمل بناکراسے ملک کے سامنے پیش کرناچاہئے۔ماضی میں ہم لوگوں نے مسلمانوں کے مخصوص مسائل پرہی اکتفاکیا اورعمومی مسائل سے پہلوتہی کی۔انہوں نے کہاکہ ہندوسماج سے کمیونی کیشن نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے عمومی مسائل بشمول غربت ، بے روزگاری ودیگربنیادی مسائل پرتوجہ نہیں دی۔یہاں دلت ہیں، اوبی سی ہیں، مختلف قبائل ہیں،ان سبھوں سے ہمیں بات چیت کرناچاہئے جبکہ ہم نے اب تک صرف سیکولرپارٹیوں سے ربط رکھا اوراپنی سیاسی پارٹیاں بنائیں۔ان کے مطابق ، کوشش یہ ہونی چاہئے کہ مسلمانوں کی جانب سے ایسی سیاسی پارٹی ہو جوسبھوں کے مسائل پرغورکرے اورآگے بڑھے، تبھی عدل قائم ہوسکتاہے۔
مشہورعالم دین مولاناعتیق بستوی نے اظہارخیال کیاکہ مسلمانوں کے پاس مختلف مسائل کا ایجنڈابھی نہیں ہے کیونکہ ہم نے ابھی یہ کام کیاہی نہیں ہے۔لہٰذامنصوبہ بناکرکام کرنے کی ضرورت ہے۔ان کا کہناتھاکہ 2019کے آئندہ پارلیمانی انتخابات کولیکرمسلمانوں کے مؤقف پربات ہونی چاہئے تاکہ ان کا ووٹ مجموعی طورپرمنتشرنہ ہو۔ضرورت عوامی جلسوں اورمیٹنگوں کی نہیں بلکہ قیادت کوایک جگہ بیٹھ کربات کرنے اورملت میں مختلف میدانوں میں کی جارہی کوششوں کومجتمع کرنے کی ہے۔انہوں نے یہ بھی اظہارخیال کیاکہ برادران وطن کی صورتحال کا مجموعی جائزہ بھی لیاجاناچاہئے۔

 

 

 

 

 

جماعت کے نائب امیرنصرت علی نے اس بات پرزورڈالاکہ جہاں تک موجودہ حالات میں مسلمانوں کے لائحہ عمل طے کرنے کی بات ہے، اس ضمن میں ہماراپہلاٹارگیٹ یہ ہوناچاہئے کہ انصاف پسنداورغیرفرقہ وارانہ سیکولرقوتیں مضبوط ہوں، دوسرے یہ کہ مسلم نوجوانوں کوملک وملت کے صحیح ایشوزسے واقف کرایاجائے اورپھرانہیں آگے بڑھایاجائے تاکہ وہ مستقبل میں صحیح اورمعتدل قیادت دے سکیں۔نیزسماج کے مذہبی عناصر میں اتحادکی راہیں بھی ہموارکی جانی چاہئے۔
جمعیۃ علماء ہندسے ایک عرصہ تک منسلک رہے اورچینلوں پراسلامی ومسلم ایشوز کودانشورانہ اندازمیں پیش کرنے کیلئے معروف مولاناعبدالحمیدنعمانی نے کہاکہ عام تاثریہ ہے کہ مسلم ایشوزکوزیادہ اٹھانے سے ہندوتوقوتوں کوزیادہ مضبوط ملتی ہے،لہٰذا ہمیں یہ دکھانا چاہئے کہ ہندوستان ہمارے لئے مدرلینڈ اورفادرلینڈ دونوں ہے۔روہنگیائیوں کے معاملوں میں بھی ہمیں اجڑے ہوئے ستائے ہوئے لوگوں کوپناہ دینے کی بات کرنی چاہئے نہ کہ اسلامی ومسلم تناظرمیں۔ان کے خیال میں ہمارافوکس 2019یا2024نہ ہوکربحیثیت مجموعی حکمت عملی بنانے پرہوناچاہئے۔انہو ںنے یہ بھی کہاکہ ہمیں گفتگوکرتے وقت تمام مکاتب فکرکے لوگوں کے افکاراورمؤقف واندازکوسمجھناہوگا۔نیزبرادران وطن کے نقطہ نظرسے بھی واقف ہوناہوگا۔انہوں نے کہاکہ حال میںسنگھ پریوارکے حلقہ سے ’مسلمانوں کے داخلی مسائل‘پرایک کتاب آئی ہے۔لہٰذااس طرح کی مطبوعات کوبھی ہمیں دیکھتے رہناہوگا کیونکہ اس سے ہم دوسروں کی سوچ سے واقف ہوسکیں گے۔
حقوق انسانی کے ایشوزپرکام کررہی تنظیم ’قوئیل فاؤنڈیشن‘کے کے کے سہیل جوکہ ابھی حال میں جرمنی میں’حقوق انسانی کی خلاف ورزی‘کے موضوع پرمنعقد کانفرنس سے واپس لوٹے ہیں،نے انکشاف کیاکہ وہاں یہ سوچ سامنے آئی کہ ہندوستان میں جوکچھ ہورہاہے وہ مسلمانوں کے خلاف نہیں بلکہ سسٹم کے خلاف ہے۔تبھی تویہاں حقوق انسانی کی خلاف ورزی میں کل 300معاملوں میں صرف گیارہ مسلم معاملے ہیں۔حقوق انسانی خلاف ورزی میں زیادہ معاملے ہونے سے لیبیا(2011)کی طرح ہندوستان کواقوام متحدہ سے نکالاجاسکتاہے۔لہٰذاہمیں جمہوری طریقوں کواختیارکرتے ہوئے لنچنگ ودیگرحقوق انسانی ایشوزکوڈیل کرنے کیلئے لائحہ عمل بناناچاہئے۔کے کے سہیل نے کہاکہ قوئیل فاؤنڈیشن نے ابھی حال میں مشاورت کے تعاون سے ڈوٹوبنایاجس کا مقصدہے تمام اوپریسڈ لوگوں کے معاملوں کواٹھانا۔اس ضمن میں ایک ماہ میں ایک ہزارکیسزجمع کرلئے گئے ہیں۔مثال کے طورپرصرف میوات میں 22لنچنگ ہوئی لیکن محض 3 معاملے ہی رپورٹ کئے گئے۔انہوں نے کہاکہ مسلم ٹیررکے معاملے صرف 0.93فیصدہیں۔
جمعیۃ علماء ہند(محمود)کے جنرل سکریٹری مولانامحمودمدنی نے جسٹس ایم ایس اے صدیقی کے اس خیال سے اتفاق کیاکہ ہم لوگ ردعمل کا شکاربعض دفعہ ہوجاتے ہیں۔انہوں نے یاددلایاکہ تحریک آزادی کے دوران بھی کم وبیش یہی کیفیت تھی۔اس دوران دوقومی نظریہ کے خلاف جاکرمسلمانوں کے ایک طبقہ نے الگ مؤقف اختیارکیا۔اس سمت میں مدارس اسلامیہ ودیگرتنظیموں نے قدم بڑھایا۔انہوں نے کہاکہ یہ ستم ظریفی ہے کہ ہم لوگ مثبت کاموں کا ذکرنہیں کرتے ہیں۔ ان کا مشورہ تھاکہ اندرونی حالات پرغورکرتے وقت مدارس اسلامیہ اورمسلمانوں کے مسائل کوایجنڈامیں رکھناچاہئے اورسیاست کواس سے الگ رکھناچاہئے۔
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکے موجودہ امیرمولانااصغرعلی امام مہدی سلفی مدنی نے اس سے اتفاق کیاکہ بحیثیت مجموعی حکمت علمی بناتے ہوئے لائحہ عمل طے کرناچاہئے۔ان کا مشورہ تھاکہ 2019پرکوئی بات کریں یانہ کریں ،اس میں ابھی نہ الجھیں ۔قبل کے شرکاء کے خیال سے اتفاق کرتے ہوئے حکومت ہندکے سابق سکریٹری اورجامعہ ہمدردکے سابق وائس چانسلرسراج حسین نے کہاکہ یہ ساری باتیں ایسی ہیں جوکہ ہوسکتی ہیں۔انہوں نے اظہارخیال کیاکہ سچرکمیٹی صرف4فیصدمدرسہ کے طلباء کی بات کرتی ہے جبکہ اس سروے میں کمی محسوس ہوتی ہے۔ان کا کہناہے کہ ان طلباء کواوپین اسکول کے ذریعہ ڈیل کیاجائے اوراین آئی اوایس (نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ)سے فائدہ اٹھایاجائے۔انہوں نے کہاکہ تعصب کا ماحول اس سے قبل کبھی نہیں دکھائی پڑا۔سراج حسین جوکہ یوپی اے اوراین ڈی اے دونوں حکومتوں میں ٹاپ بیوروکریٹ رہ چکے ہیں،نے کہاکہ ہمیں اس امکان پرغورکرناچاہئے کہ بڑے شہروں میں جمعہ کی نمازدوبارکرلیں تاکہ سڑکوں پرنمازپڑھنے کا مسئلہ ہی پیدانہ ہو۔
امیرجماعت اسلامی ہنداورجیدعالم دین ومصنف مولاناسیدجلال الدین عمری نے اس سے اتفاق کیاکہ ردعمل سے بچناچاہئے۔انہوں نے کہاکہ عام تاثرہے کہ مسلمان اقلیت میں ہیں، اس لئے اکثریت کواعتمادمیں لئے بغیروہ کچھ نہیں کرسکتے ہیں۔نیزیہ بھی کہاجاتاہے کہ ملت کا اتحادہوناچاہئے۔ان کاا س بات پرزورتھاکہ یہ تاثرختم ہوناچاہئے کہ مسلمان صرف اپنے مسائل میں دلچسپی رکھتاہے اوراس کیلئے عمومی مسائل اوردوسروں پرہونے والے ظلم وستم کے خلاف بھی آوازاٹھانی چاہئے۔نیزہمیں اپنے ایجنڈے اوراپروچ میں تبدیلی لانی ہوگی۔انہوں نے اتحادملت کے ساتھ ساتھ برادران وطن سے اتحادپربھی زوردیا۔
معروف بریلوی عالم دین مولاناتوقیررضاخاں نے کہاکہ اس پراتفاق ہے کہ بی جے پی مسلم دشمن پارٹی ہے مگرسوال یہ ہے کہ پھرکون مسلم دوست تنظیم ہے ؟نتیش کماربھی ادھرجاکربیٹھ گئے۔لہٰذا2019آنے سے پہلے دوست کی تلاش کریں۔کانگریس بی جے پی سے بڑی دشمن پارٹی ہے۔ ہم نے تمام پارٹیوں کودیکھاہے، کوئی بھی ہمیں بچانے کی کوشش نہیں کرتاہے، کوئی ہماری بات نہیں کرتاہے۔سبھی پارٹیوں نے ’یوزاینڈتھرو‘یعنی استعمال کرواورپھینک دوپالیسی پرعمل کیا جبکہ بی جے پی نے ہمیں یوزکیابھی نہیں ۔پی ایم مودی نے نوٹ بندی اورجی ایس ٹی پرفیصلے کئے ہیں، اس سے مسلمانوں کوکیافائدہ نقصان ہوا،یہ آپ خودفیصلہ کرسکتے ہیں۔انہوں نے اس بات پرزوردیاکہ ہمیں ایمانداری سے غورکرناچاہئے کہ ہم کس کی حمایت ، کس کی مخالفت کریں۔انہوں نے کہاکہ ہمارااصل مسئلہ آرایس ایس ہے، بی جے پی یاکانگریس نہیں ہے۔انہوں نے اپنے تاریخی دیوبندسفرکاتذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ میں وہاں اس لئے گیاتھاکہ بی جے پی سینئرلیڈرڈاکٹرسبرامنین سوامی کے اس مؤقف کاجواب دوں کہ ہندو-مسلم فسادکے بجائے مسلم درمسلم فسادکوآگے بڑھایاجائے۔انہوں نے مشورہ دیاکہ نفرتوں کوکم کرنے کیلئے مذہبی رواداری کا ماحول بنایاجائے۔انہوں نے کہاکہ روہنگیائیوں کے مسئلہ کومسلم ایشوکے طورپرنہیں دیکھناچاہئے ورنہ اندیشہ ہے کہ روہنگیائی مسلمانوں کی طرح کہیں کل ہندوستانی مسلمانوں پرمظالم کی بات کہہ کراسے دنیابھرمیں نہ اٹھایاجائے۔
آخرمیں مولاناسیدارشدمدنی نے کہاکہ مسائل توہیں اوراس سلسلے میں سوچنے کے اپنے اپنے اندازہیں۔انہوں نے مولاناتوقیررضاکے اس اندیشے سے اتفاق کیاکہ روہنگیائی مسلمانوں کی طرح ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں کوئی سوچ سکتاہے۔ان کے خیال میں اس طرح کی مثال آسام کی 48لاکھ عورتوں کی شہریت کے معاملے میں دیکھنے کوملتی ہے۔ایساہونے کی صورت میں اس میں 25لاکھ ہرحالت میں متاثرہوں گی۔انہوں نے بتایاکہ انہوں نے صدرکانگریس سونیاگاندھی کومکتوب لکھاتھاکہ آپ کے وزیرداخلہ شیوراج پاٹل نے نقصان پہنچایاہے۔نیلی (آسام)کے سانحہ میں 5ہزارمسلمان ہلاک ہوئے مگرآج کی صورتحال بالکل الگ ہے۔انہوں نے صاف طورپرکہاکہ بی جے پی کا یہ کہناکہ 2019میں 350سیٹ لیناہے، کاواضح مطلب ہے کہ اسے ہندواسٹیٹ بناناہے۔لہٰذاہندواسٹیٹ بنانے کا مقصدرکھنے والی پارٹی کوروکنے کیلئے دیگرپارٹیوں میں اتحادپیداکرناہی پڑے گا۔انہوں نے اس سے بھی اتفاق کیاکہ ہمیں اپناایجنڈاتوطے کرناہی چاہئے۔
آل انڈیاملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمدمنظورعالم نے ’چوتھی دنیا‘ اردوسے اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ ہندوستانی مسلمان چاہے وہ کسی بھی مکتبہ فکرسے تعلق رکھتاہو، ہرایک خواہش ہے کہ انتشارختم ہواوراتحادکی راہ ہموارہومگرسوال یہ ہے کہ کیسے؟اس کے لئے کئی سطحوں پرکام کرنے اورحکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔ایک سطح ہے مختلف مسالک کے درمیان ایک دوسرے کے خیالات کا احترام کرنا، اختلافی پہلوکوتشددکی شکل نہ دینااوردوسری سطح ہے نوجوانوں سے مختلف مسالک کے اچھے پہلوؤں کوبیان کرنااورمختلف مسالل کے اکابرین کے درمیان افہام وتفہیم کوبڑھانااورایک دوسرے سے ملنے جلنے اورتبادلہ خیال کی کوشش کرنا۔انہوں نے یہ بھی کہاکہ ملک میں امن وآشتی قائم کرنے کیلئے وہ علماء کرام جومسلمانوں میں عزت ووقاراوراحترام رکھتے ہیں ، ان میں سے چارپانچ افرادکھلے طورسے شنکراچاریاؤں یامعروف سوامیوں سے ملاقات کرکے بات چیت کریں۔ان کے خیال میں یہ کام آل انڈیامسلم پرسنل لاء بورڈ کے ذریعہ شروع کرایاجاسکتاہے۔ان کا یہ بھی خیال ہے کہ چونکہ جمہوری نظام کی روح ہرپانچ برس پرہونے والے الیکشن چاہے وہ پارلیمانی ہویاریاستی یاپنچایتی، میں ہے،لہذااس میں مسلمان اور دیگراقلیت وکمزورطبقات کیسے کلیدی کرداراداکرسکتے ہیں، اس پرغوروفکرکیاجائے۔ان کے خیال میں اس کا ایک طریقہ یہ ہوسکتاہے کہ مسلمانوں کا ایک سیاسی فورم ہوجو ایک کوشش یہ کرے کہ ملک میںمختلف سطحوں پرمسلمانوں کی جو سیاسی پارٹیاں ہیں، ان سے ربط قائم کرے ، دوم ووٹ کے انتشارروکنے کے طریقہ کاربنائے اورسوم سیاسی امیدواروں کے جیتنے کے امکانات پرغورکرے اوراسے مسلم سیاسی پارٹیوں کوبتائے، چہارم یہ فورم یہ کوشش بھی کرے کہ سیکولرپارٹیوں سے رابطہ قائم کرے اوربتائے کہ کون سے اچھے امیدوارہوں گے اورباہرسے اچھے امیدواروں کی بھی کوشش کرے کہ انہیں ٹکٹ دیاجائے، پنجم،اسی طرح سے دیگراقلیتوں کی پارٹیوں سے بھی ربط بنایاجائے تاکہ وہاں بھی ووٹ کے انتشارکوبچایاجاسکے۔انہوں نے یہ بھی اظہارخیال کیاکہ مجوزہ مسلم سیاسی فورم کے اہم عہدیدارمثلاً صدر، جنرل سکریٹری انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے اورنہ کوئی سیاسی عہدے کے خواہش مندہوں گے۔
ان تمام آراء سے یہ بات توکھل کرسامنے آہی جاتی ہے کہ مسلم اکابرین کویقین ہے کہ ہندوستاان جیسی دنیاکی سب سے بڑی جمہوریت کومضبوط ومستحکم کرنے کیلئے ملت کواپنی صف میں انتشارختم کرکے اتحادپریکسوہوناپڑے گا اورملک میں برادران وطن کے ساتھ بھی اتحاداورہم آہنگی کوبڑھاناہوگا۔اسی میں ملک وملت دونو ںکا بھلاہے۔

 

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *