ملی کونسل-تعاون ٹرسٹ بہارسیلاب زدگان کے درمیان ریلیف کام میں مصروف

TAWAUN-TRSUT
بہار کے سیلاب زدہ علاقوں میں تعاون ٹرسٹ کے اشتراک سے آل انڈیا ملی کونسل کے زیر اہتمام ریلیف اور راحت رسانی کاکام جاری ہے ،اب تک تین قسطوں میں ایک ہزارسے زائد فیملی کے درمیان فوڈ پیکس تقسیم کئے جاچکے ہیں،آل انڈیا ملی کونسل کے انچار ج وسیم احمد نے بتایاکہ بہار کا سیمانچل سیلاب سے شدید متاثر ہے اور سیلاب نے جو تباہی ہے چھوڑی ہے اس کی تلافی میں کئی سال لگ جائیں گے ،انہوں نے کہاکہ آل انڈیا ملی کونسل کی ٹیم نے مختلف علاقوں کا دورہ کیا ہے جس میں یہ پایاگیا کہ یہاں جنگی پیمانے اور بہت بڑی سطح پرر یلیف ورک کرنے کی ضرورت ہے اور مختلف تنظیمیں کام کربھی رہی ہیں ۔وسیم احمدجوکہ خوددورہ پرتھے،واپس لوٹنے پر کہاکہ کشن گنج اور ارریا میں سب سے زیادہ تباہی ہوئی ہے ،پورنیہ کی تباہی بھی ناقابل بیان ہے ،سیمانچل کے علاوہ متھلانچل کے علاقے بھی سیلاب سے بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
وسیم نے بتایاکہ آل انڈیا ملی کونسل کی ٹیم نے پورنیہ ضلع میں ریلیف کا کام کیاہے ،بڑی عیدگاہ ،چاند پارہ او ردیگر کئی مقام کو مرکز بناکر وہاں کے آس پاس علاقوں میں ضرورت مندوں کے درمیان فوڈ پیک کے کٹس تقسیم کئے گئے ہیں،کٹس میں چاول ،آنٹا ،دال ،نمک ،چینی ،چورا سمیت ضروری اشیاء شامل ہیں،اب تک ایک ہزار سے زائدفیملی کے درمیان تقسیم کیا گیا ہے اور یہ سلسلہ ابھی جاری رہے گا ،انہوں نے بتایاکہ مسلمانوں کے ساتھ ہندؤوں کے درمیان بھی بغیر مذہبی تفریق کے تقسیم کیاگیا ہے اور مسلمانوں کے ساتھ غیر مسلموں نے بھی بڑی تعداد میں اس ریلیف سے استفادہ کیا ہے ،انہوں نے بتایاکہ ایک غیر مسلم بوڑھی خاتون کئی دنوں سے بھوکی تھیں،ملی کونسل کی جانب سے ریلیف ملنے کے بعد کہنے لگی بھگوان بھلاکرے بیٹا ،تم لوگ بھگوان بن کر آئے ہو،اتنے دن ہوگئے اب تک کوئی پرسا کرنے نہیں آیاہے ،زندگی میں ایسا سیلاب کبھی نہیں دیکھاتھا۔
حالیہ دنوں میں تعاون ٹرسٹ کی ٹیم مزید متعدد اضلاع کا دورہ کرکے حالات کا جائزہ لیا ہے جس میں دربھنگہ ،مدھوبنی ،جھنجھارپور،سمستی پور ،ارریا،پورینہ ،کشن گنج قابل ذکر ہیں ۔ٹیم نے جائزہ لینے کے بعد کہاکہ سیلاب نے جو تباہی چھوڑی ہے اس کی تلافی میں برسوں لگ جائیں گے ،گھر منہدم ہوجانے کے بعد لوگ خیموں میں رہنے پر مبجور ہیں ،کچھ لوگ درختوں کے سایے میں شب وروز بسر کررہے ہیں،کھانے کیلئے ان کے پاس کچھ میسر نہیں ہے ،چورا اور معمولی چیزوں پراکتفاکررہے ہیں،پانی کیلئے صاف پانی بھی ان کے پاس مہیا نہیں ہے اور بڑی تعداد میں ٹیوب لگانے کی ضرورت ہے ۔جائزہ ٹیم نے یہ بھی بتایاکہ حکومت کی طرف سے ان کی کوئی خاص امداد نہیں کی جارہی ہے ،حکومت کی طرف سے صرف چھ ہزار روپے ہر فیملی کو دینے کا اعلان کیا گیاہے ،جبکہ مرنے والے کے اہل خانہ اور جن کا گھر منہدم ہوگیاہے ان کیلئے حکومت کی جانب سے کوئی بھی اعلان نہیں کیا گیا ہے ،مذکورہ چھ ہزار کی رقم بھی اب تک عوام کو نہیں مل سکی ہے۔جائزہ کمیٹی میں مولانا یاسین،مظفر حسین ،زبیر عالم،خالد محمود مولانا معزالدین،مولانا عثمان ،مولانا محمد ادریس اور مولانا محمد کامل وغیرہ شامل تھے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *