مدارس آرٹی ای کے دائرے میں مدارس بدل سکتا ہے طلباء کا مستقبل

سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق ملک کے طول عرض میں پھیلے مدارس میں اقلیتی طبقہ کے چار فیصد بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ اقلیتی طبقہ کے بچوں کی اچھی خاصی تعداد ان مدرسوں میں زیرتعلیم ہے جن کو نظر انداز کرنا کسی بھی طرح سے مناسب نہیں ہے۔ ماضی میں یہ بات اٹھتی رہی ہے کہ اس چار فیصد کے روشن مستقبل کے تئیں کوئی ٹھوس لائحہ عمل تیار ہو۔کیونکہ مدارس سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد طلبا ء کے سامنے روزگار کے مواقع نہ کے برابر ہوتے ہیں ۔ نتیجتاً ان کی زندگی مساجد و مدارس تک سمٹ کر رہ جاتی ہے جبکہ ان میں سے بہت سے ایسے ذہین طلبا ہوتے ہیں جو دینی علوم کے ساتھ عصری علوم اور ٹکنالوجی میں کمال حاصل کرکے ملک و قوم کی بہترین خدمات انجام دے سکتے ہیں۔مگر جدید سائنسی سہولیات دستیاب نہ ہونے کے سبب نہ تو ان کا داخلہ کسی یونیورسٹی میں ہوپاتا ہے اور نہ ہی یہ ڈاکٹر اور انجینئر بن پاتے ہیں۔
چونکہ مدارس کوآر ٹی ای کے دائرے سے باہر رکھا گیا ہے ، لہٰذا ان کے نصاب میں کسی طرح کی تبدیلی پر انہیں مجبور نہیں کیا جاسکتا ہے ۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یہاں کے بچے عصری تعلیم سے ناواقف رہ جاتیہیں۔وہ نہ تو یونیورسٹیوں میں جاکر عصری تعلیم حاصل کرپاتے ہیں اور نہ ہی تیکنیک میںمہارت ۔ اس طرح سے ان کا مستقبل غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہوجاتا ہے۔ اس لئے اب اس بات کی کوشش ہورہی ہے کہ مدارس کو بھی آر ٹی ای کے دائرے میں لایا جائے تاکہ وہاں کے بچوں کو بھی آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرائے جاسکیں۔
اس سلسلے میں جنوب دہلی سے بی جے پی ممبر پارلیمنٹ مہیش گری نے ایک خط وزیر اعظم نریندر مودی کو لکھا ہے اور اس میں انہوں نے کہا ہے کہ مدارس سمیت اقلیت کے جتنے بھی تعلیمی ادارے ہیں،انہیں آر ٹی ای کے دائرے میں لایا جائے ۔ان کا کہنا ہے کہ جب تک ان اداروں کو آر ٹی ای کے تحت نہیں لایاجاتا ہے ،اس وقت تک پسماندگی کے شکار طلباء ریسرچ کے مواقع سے محروم رہیں گے۔ان کا کہنا ہے کہ مینڈیٹ ایکٹ کے سیکشن 12(1)میں ذکر ہے کہ ریاستی حکومت پرائمری سطح کی کلاس میں کمزوراور پسماندہ طلباء کے لئے 25فیصد ریزرویشن شامل کرنے کا اختیار رکھتی ہے لیکن یہ سہولت اقلیت کے تعلیمی اداروں ، مدرسوں ،مذہبی پاٹھ شالہ،کو نہیں مل پاتی ہیں۔اگر مدارس کو آر ٹی ای کے تحت لے آیا جائے تو وہاں بھی 25فیصد ریزرویشن پسماندہ کے لئے لاگو ہوگا اور غریب بچے بھی ریسرچ میں حصہ لے پائیں گے۔
قابل ذکر ہے کہ جولائی کے مہینے میں انہوں نے آرٹیکل 15 کے شق 5 میں پرائیویٹ ترمیمی بل پیش کیا تھا۔انہوں نے مزید یہ بات کہی کہ 2006 کی ترمیمی بل میں ریاستی حکومتوں کو یہ اختیار دیا گیاہے کہ وہ تعلیمی اور سماجی ترقی کے لئے شیڈولڈ کاسٹ اور شیڈولڈ ٹرائبس کے لئے خصوصی احکامات جاری کرے۔ ان احکامات میں اقلیتی ادارے بھی شامل ہونا چاہئے۔البتہ 2014 میں سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ تھا کہ مائنارٹی تعلیمی ادارے چاہے امداد یافتہ ہوں یا غیر امداد یافتہ، وہاں 25 فیصد پسماندہ کا ریزرویشن لاگو نہیں ہوگا۔ گری چاہتے ہیں کہ اس ریزرویشن میں یہ ادارے بھی شامل ہوں اور وہاں بھی ریزرویشن شامل رہے۔کیونکہ یہ معاملہ کسی طبقہ یا مذہب سے جڑا ہوا نہیں ہے۔بلکہ تعلیم کا حق سب کا ہے اور سب پر اس قانون کا نفاذ برابر ہونا چاہئے اور اس میں نہ صرف مدارس بلکہ تمام اقلیتی اداروں کو شامل ہونا چاہئے۔

 

 

 

 

بہر کیف اب مدارس کے طلبا کو یونیورسٹی تک پہنچانے کی کوشش این ڈی اے حکومت میں زورو شور سے کی جارہی ہے۔خیال رہے کہ ان طلبا کو یونیورسٹیوں تک پہنچانے کے لئے ماضی میںکانگریس سرکار میں بھی تجویز آئی تھی ۔مگر یہ تجویز عملدرآمد ہونے سے پہلے دم توڑ گئی اور اب یہی لے کر موجودہ سرکار آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مدارس کے باصلاحیت بچوں کو انجینئرنگ اور میڈیکل داخلہ امتحانات کی تیاری کرنے کی راہ نکالی جائے گی۔مدرسہ ایجوکیشن کو اہم دھارے سے جوڑنے کے لئے مرکزی سرکار کی جانب سے تشکیل شدہ ایک خصوصی کمیٹی نے اقلیتی امور کی وزارت کے زیر اہتمام ادارہ مولانا آزاد ایجوکیشن فیڈریشن (ایم اے ای ایف ) کے سامنے تجویز پیش کی ہے۔ کمیٹی نے اپنی تجویز میں کہا ہے کہ مدارس کے بچوں کو انجینئرنگ و میڈیکل داخلہ امتحانات کی تیاری کے لئے الگ الگ ریاستوں میں مرکز بنائے جائیں۔
وزارت نے گزشتہ سال دسمبر میں 7 رکنی ماہرین کی ایک کمیٹی قائم کی تھی۔ اس کمیٹی نے مارچ کے مہینے میں سرکار کو رپورٹ سونپی تھی،ماہرین کی اس کمیٹی کے کنوینر سید بابر اشرف تھے ۔اس رپورٹ میں یہ کہا گیا کہ ہر ریاست میں کم از کم ایک یادو مرکز بنائے جائیں۔ جہاں مدرسوں میںپڑھنے والے ہونہار بچوں کو انجینئرنگ اور میڈکل داخلہ امتحانات کی تیاری کرائی جائے۔ نیز انفراسٹرکچر سماجی تنظیموں کا ہو اور سرکار کی سطح پر مالی امداد دی جائے اور نگرانی کا انتظام کیا جائے۔
تجویز تو بہت اچھی ہے ۔مگر کیا اس پر عمل بھی ہوگا؟سرکار نے تو اقلیتی طبقہ کے بچوں کے لئے دیگر بہت سے وعدے کررکھے ہیں ،مگر ان میں سے عمل کتنوں پر ہوا ہے ،یہ دیکھنے والی بات ہے۔مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کہتے ہیں کہ’’ سرکارنے اقلیتی طلبا کے لئے قائم کئے جانے والے نوودیہ جیسے 100 اسکولوں اور پانچ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں لڑکیوں کے لئے 40 فیصد ریزرویشن کا فیصلہ کیا ہے۔ سرکاراقلیتی آباد والے علاقوں میں 100 نوودیہ جیسے اسکول کھولنے پر غور کررہی ہے۔سرکار اقلیتوں کو وقار کے ساتھ بااختیار بنانا چاہتی ہے اور تعلیم کے شعبے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ اسکولوں اور اعلیٰ تعلیمی اداوں میں لڑکیوں کو 40 فیصد ریزرویشن دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور یہ یقینی بنانا ہے کہ لڑکیاں اپنی تعلیم مکمل کرسکیں‘‘۔

 

 

 

 

 

سرکار کی جانب سے ایم اے ای ایف کے ذریعے قائم اعلیٰ سطحی کمیٹی نے حال ہی میں اپنی رپورٹ میں اقلیتوں خاص طور پر مسلمانوں میں تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے تین کمیٹی کالج اور پانچ اعلیٰ تعلیمی ادارے کھولنے کا فیصلہ کیا تھا۔ این ڈی اے کی سرکار آئی تو سب سے پہلے پانچ اقلیتی یونیورسٹیاں بنانے کا اعلان کیا ۔تین سال پورے ہوچکے ہیں مگر ابھی تک یہ یونیورسٹیاں زیر غور ہی ہیں تو کیا یہ حکومت بھی کانگریس کی طرح محض غور کرنے تک ہی محدود رہ جائے گی۔
حالانکہ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور عوامی سطح پر بھی مطالبات ہورہے ہیں ۔لوگ چاہتے ہیں کہ دینی تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کو بھی ڈاکٹر ،انجینئر اور اسکولی بچوں کی طرح ہر شعبے میں جانے کا موقع ملے اور حکومت اس میں کچھ کرے۔یو پی ،حیدرآباد اور دیگر کئی ریاستوں میں باضابطہ مہم چلائی جارہی ہے۔
یو پی میں عالمی سطح کے کئی دینی مدارس موجود ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں چھوٹے بڑے تقریبا 19ہزار دمدارس ہیں جن میں تقریبا 600ملحق اور 1298 ایسے ہیں جو دارلعلوم اور ندوہ العلما ء کے طرز پر چلتے ہیں۔ لیکن یہاں سے فارغ طلبا کو اعلیٰ عصری تعلیمی اداروں میں داخلہ نہیں مل پاتا ہے۔ان بچوں کو یونیورسٹی تک پہنچانے کے لئے اسٹو ڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (ایس آئی او )نے مہم کا آغاز کیا ہے۔ ایس آئی او نے اقلیتی تعلیمی اداروں کا قیام ، تعلیم کی نجکاری، سر کاری اسکولوں کے گرتے معیار اور دینی مدارس کے طلبا کے یونیورسٹیوں میں داخلے کو اپنی مہم کا حصہ بنایا ہے۔ تنظیم کو اس بات کی امید ہے کہ ریاستی حکومت ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے گی اور مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء کے امپاورمنٹ کے لئے کوئی موثر قدم اٹھائے گی۔ بہر کیف آر ٹی ای سے جوڑ کر یا کسی اور طریقے سے سہی، مگر ان طلباء کے روشن مستقبل کے لئے حکومت کو سنجیدگی سے کوئی فیصلہ لینا چاہئے۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *