مولانا آزاد بنے ٹام الٹر کو فراموش نہیں کیا جاسکتا

1950 میں ہندوستان کے شہر مسوری میں پیدا ہونے والے اداکار ٹام الٹر کا 67 سال کی عمر میں 29ستمبرکو انتقال ہو گیا ہے۔وہ کینسر کے مرض میں مبتلا تھے اور ممبئی کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے۔انہوںنے ’شطرنج کے کھلاڑی،‘ ’کرانتی‘ اور ’رام تیری گنگا میلی‘ جیسی فلموں کے علاوہ کئی ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔
2008 میں پدم شری ایوارڈ حاصل کرنے والے ٹام الٹر کئی عرصے سے جلد کی کینسر میں مبتلا تھے اور ان کا علاج جاری تھا۔ ٹام الٹر کی موت ان کی ممبئی میں موجود رہائش گاہ پر ہوئی۔ اداکار کی موت پر بھارتی صدر رام ناتھ کووند سمیت دیگر سیاسی، سماجی و فلمی شخصیات نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراج تحسین بھی پیش کیا۔
ٹام الٹر اسٹیج کی دنیا کا بھی ایک معروف نام ہے۔ہیں تو انگریز لیکن اردو بالکل اہلِ زبان کی طرح بولتے ہیں۔ گزشتہ بارہ سالوں سے ٹام “آزاد کا خواب” نامی پلے میں مولانا آزاد کا کردار ادا کررہے ہیں۔ ا نکے بارے میں عام تاثر بن گیا تھا کہ اسٹیج پر مولانا آزاد کے کردار کو ٹام الٹر سے بہتر اور کوئی نہیں ادا کرسکتا۔
الٹر نے سب سے لمبی دوڑ،ریالٹو میںریارٹو اور دی بیسٹ اِن دی ورلڈ سمیت کتابیںلکھی ہیں وہ کرکٹ میںخاص دلچسپی کی وجہ سے ایک کھیل صحافی بھی تھے، انھوںنے اسپورٹس ویک، آؤٹ لک،کرکٹ ٹاک،رویوار پریویکشک اور ڈیبونیر جیسے اہم پبلی کیشنوں میںلکھا ہے۔ انھوںنے ایک فلم ادیوگ ٹیم ایم سی سی (میچ کٹ کلب) کے لیے کرکٹ کھیلا، جس میں نصیرالدین شاہ،ستیش شاہ، وشال بھاردواج، عامر خان، نانا پاٹیکر، بھوپندر سنگھ اور امرندر سنگھ شامل ہیں۔ انھوںنے ہندوستانی پبلی کیشنوںمیںکرکٹ پر بھی لکھا تھا۔ 1998 میںانھیں دوست سراج سید نے ہندوستانی شائقین کے لیے کھیل کے ٹی وی چینل ای ایس پی این پر ہندی میںکمنٹری کرنے کے لیے سنگاپو مدعو کیا۔
ٹام نے دس سال تک اخباروں اور میگزینوں کے لیے کالم لکھے اور ایک صحافی کے طور پر کام کیا۔ 1988 میں انھوںنے مشہور کرکٹر سچن تندولکر کا انٹرویو لیا۔

 

 

 

 

 

الٹر انٹر نیشنل فلم اینڈ ٹیلی ویژن کلب اینڈ انٹر نیشنل فلم اینڈ ٹیلی ویژن ریسرچ سینٹر آف ایشیائی اکیڈمی آف فلم اینڈ ٹیلی ویژن کے لائف ممبرہیں۔ الٹر کا چچیر ا بھائی تپین، جو ہندوستان میںپیدا ہوااور پلا بڑھا، ایک قلم کار ہے۔ دونوںووڈ اسٹاک اسکول مسوری کے گریجویٹ ہیں۔ایف ٹی آئی آئی سے گریجویٹ ہونے کے بعد الٹر کوچیتن آنند کی ہدایت کردہ فلم صاحب بہادر (1977)میں پہلا بریک ملا۔حالانکہ رامانند ساگر کی فلم پہلے ریلیز ہوئی۔ اس کے بعدفلم رام بھروسے، پرورش امر اکبر انتھونی وغیری فلموں میںانھوں نے کردار نبھایا۔
الٹر ہندی اور اردو روانی کے ساتھ بولتے تھے اور ہندوستانی ثقافت سے پوری طرح واقف تھے۔ وہ اردو سے اچھی طرح واقف تھے اور شاعری کے شوقین تھے۔ انھوںنے شطرنج کے کھلاڑی میںستیہ جیت رائے جیسے مشہور فلم سازوں کے لیے کام کیااور فلم کرانتی میںبرٹش افسر کے طور پر رول اداکیا۔ 1978 میںرشی کیش مکھرجی کی ہدایت کردہ فلم نوکری میںاور بعد میںچیتن آنند کی فلم کڑت میںراجیش کھنہ کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ فلم سردار میں ہندوستانی لیڈر سردار پٹیل کی حیات پر مبنی فلم میں کام کیا۔ الٹر نے مولانا آزادپر مبنی ڈرامہ میںبھی کام کیا، جس میںان کے کردار کی زبردست پزیرائی ہوئی۔ دہلی کی آخری شمع نام کے ڈرامہ میںالٹر نے بہادر شاہ ظفر کا رول نبھایا۔ اس رول کے تعلق سے آلٹر کی بہت تعریف ہوئی۔
یاد رہے کہ ٹام الٹر نے 300 کے قریب فلموں اور ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ ان کی پہلی فلم ’چرس‘ 1976 جب کہ آخری فلم ’سرگوشیاں‘ رواں برس ریلیز ہوئی۔ فلم ’کرانتی‘ سے شہرت حاصل کرنے والے اداکار نے ’شطرنج کے کھلاڑی‘، ’دیس پردیس،’گاندھی‘، ’رام تیرا گنگا میلی‘، ’کرما‘، ’سونے پہ سہاگا‘، ’ویر زارا‘ اور ’اوتار‘ سمیت دیگر فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔
ٹام الٹر نے 1977 میں امریکی نژاد خاتون کیرول ایونز کے ساتھ شادی کی ان کے 2 بچے ہیں۔ ٹام آلٹر کا بیٹا جیمی آلٹر اسپورٹس صحافی ہے جب کہ ان کی بیٹی افشاں آلٹر بھی پروفیشنل خاتون ہیں۔
ٹام الٹر کو عام طور پر انگریز اداکار کہا جاتا تھا لیکن انگریز نہیں بلکہ امریکی نژاد ہندوستانی تھے۔ ان کا ایک مسیحی مشنری خاندان سے تعلق تھا اور ان کے والد کی پیدائش سیالکوٹ میں ہوئی تھی۔
ٹام الٹر بتاتے تھے کہ ان کی ‘پدری زبان انگریزی ہو سکتی ہے لیکن مادری زبان اردو ہی ہے، اور ان کے گھر میں مذہبی تعلیم بھی اردو میں ہی ہوا کرتی تھی۔ انہوںنے بتایا تھا کہ ان کے ‘والد انجیل مقدس کی تعلیم اردو میں دیا کرتے تھے اور انجیل کی قرات بھی اردو میں ہی ہوتی تھی۔اداکاری میں آنے سے قبل انہوں نے درس و تدریس کا پیشہ اختیار کیا تھا اور کھیل بطور خاص کرکٹ میں ان کی خاصی دلچسپی رہی ہے۔

 

 

 

 

 

انہوں نے دھرمیندر کی فلم ‘چرس سے اپنے فلمی کریئر کا آغاز کیا تھا اور پھر ستیہ جیت رے کی فلم ‘شطرنج کا کھلاڑی میں نظر آئے۔ انہوں نے تقریبا تین سو ہندی فلموں میں کام کیا۔
میں انہوںنے اپنی پہچان قائم کی اور ان کا ڈراما ‘لال قلعے کا آخری مشاعرہ جس میں انہوںنے بہادرشاہ ظفر کا کردار ادا کیا، خاصا مشہور ہوا۔ یہ مرزا غالب کا کردار ادا کرنے کے لیے بھی جانے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ انہوںنے مولانا ابوالکلام آزاد پر مبنی ڈراما ‘آزاد کا خواب میں موالانا آزاد کا کردار ادا کیا تھا۔ان کا اصلی نام ٹامس بیٹ الٹر ہے۔ ان کے دادا دادی 1916 میں امریکہ سے ہندوستان آئے تھے۔ سمندر کے راستے وہ پہلے پہل مدراس پہنچے پھر وہاں سے لاہور آئے۔
تقسیم ہند میں ان کا خاندان بھی منقسم ہو گیا۔ ان کے دادا دادی تو پاکستان میں رہ گئے جبکہ ان کے والدین انڈیا آ گئے جہاں وہ پیدا ہو‏ئے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوںنے چار پانچ فیصد فلموں میں ہی انگریز کا کردار ادا کیا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ ‘شطرنج کے کھلاڑی میں میں انگریز ضرور تھا لیکن ایسا انگریز جو شاعری کرتا تھا اور جو واجد علی شاہ کا مرید تھا اور انگریز کے سامنے واجد علی شاہ کی طرفداری کرتا تھا۔ فلم ‘کرانتی میں انھوں نے انگریز کا کردار ادا کیا ہے لیکن اس میں بھی ان کی زبان اردو رہی ہے۔
انہوںنے ایک بار کہا تھا کہ ان کے خاندان میں لوگ یاتو شاعر ہیں یا پھر پادری اور ٹیچر۔انہوں نے بتایا تھا کہ ‘میرے بڑے بھائی انگریزی میں شاعری کرتے تھے۔ سب سے بڑے چچازاد بھائی بھی شاعر اور ناول نگار ہیں میری چچازاد بہن سو ملر معروف ناول نگار ہیں جبکہ بہن اور ماں کو بھی لکھنے کا شوق رہا۔ ‘میرے والد پادری، دادا نانا پادری، چچا بھی پادری اور میرے سسر بھی پادری ہیں۔ جن علاقوں میں وہ تھے وہاں اردو میں عبادت ہوتی تھی لیکن اب ہندی میں ہونے لگی ہے۔
300سے زائد فلموں ار تھیٹروں میں داکاری کا لوہا منوانے والے ٹام الٹر اپنے چاہنے والوں کے درمیان ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ جن افراد نے انہیں ’مولانا آزاد‘ کے روپ میں دیکھا ہے، وہ انہیں کبھی نہیں بھول پائیں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *