مولاناارشدمدنی نے نفرت کی سیاست کوملک کیلئے مضربتایا

maulana-arshad-madani
مغربی اترپردیش کی شاملی عیدگاہ کے اسلامی مدرسہ کے وسیع و عریض میدان میں جمعیۃ علماء کی یک روزہ قومی یکجہتی کانفرنس 26اکتوبرکومنعقد ہوئی جس میں بلا لحاظ مذہب ہندو ومسلمانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔اس کاآغاز قاری محمد ارشد کی تلاوت اور مولانا ایوب کی نعت سے ہوا ۔صدارت مولانا محمد اقبال اور نظامت مفتی ہارون نے کی۔اس کانفرنس میں خانقاہ امدادیہ اشرفیہ تھانہ بھون کے ترجمان مولانا حذیفہ نجم تھانوی اورجامعہ عربیہ قاسم العلوم کاندھلہ کے مہتمم و ضلع جمعےۃ نائب صدرمولانا سید بدر الہدیٰ قاسمی سمیت ہزاروں فرزندان توحید نے شرکت کی۔
جمعیۃ علماء کے قومی صدر امیر العلماء مولانا سید ارشدمدنی نے کہا کہ تمام مذاہب کے لوگ اس عقیدہ کے قائل ہیں کہ تمام دنیا کے لوگ ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہیں ۔انھوں نے کہا ہمارے رہنے کے طریقہ کار جداگانہ ہیں ،ہمارے مذاہب الگ الگ ہوسکتے ہیں ،لیکن ہیں سب ایک ہی ماں باپ کی اولاد،انھوں نے کہا ہندوستان تو اس بارے میں عالمی سطح پر مشہور ہے کہ یہاں تمام مذاہب کے لوگ مل جل کر رہتے ہیں ۔انھوں نے کہا ہماری شہری ودیہی زندگی میں بہت سے طریقے یکساں ہیں،انھوں نے کہا دستور ہند کے مطابق اس ملک میں مذہب کی بنیاد پر کوئی بھید بھاؤ نہیں ہے ۔انھوں نے کہا آج بھی بہت سے خانوادہ ایسے ہیں جن میں ایک کی اولاد ہندواور دوسرے کی اولاد مسلم ہے۔انھوں نے کہا سوئے قسمت کہ سیاسی مفاد کے لیے کچھ لوگ ہمیں آپس میں بانٹ رہے ہیں ،انھوں نے کہا اگر نفرت کی سیاست کرنے والے کچھ دن اور حکومت میں رہ گئے تو ملک انارکی کی طرف بڑھے گا۔انھوں نے کہا یہ لوگ بڑوں کی پگڑیاں اچھال رہے ہیں ۔انھوں نے کہا آج نہیں تو کل ہمیں اسی راہ پر آنا ہے جہاں سے ہم شروع ہوئے تھے،انھوں نے کہا ملک کے بر سر قتدار طبقہ کو 5 برس بھی پورے نہیں ہوئے ہیں کہ لوگوں کاکاروبار ٹھپ ہونے لگے ہیں ،کاروباری لوگ سڑکوں پر آگئے ہیں ،انھوں نے کہا ملک کی معیشت ڈوب رہی ہے ۔
مولاناارشد مدنی نے صاف کہا کہ ایک پارٹی کھل کر نفرت کی سیاست کررہی ہے ۔یہ پارٹی لوگوں کو سماجی اور مذہبی بنیادوں پر بانٹ رہی ہے ۔انھوں نے کہا اس ملک کی بنیاد سیکولاز م پر ہے ۔انھوں نے کہا اس ملک کو ہندو مسلم مل کر ہی بچاسکتے ہیں ،کسی ایک طبقہ کا یہ کام نہیں ہے ۔انھوں نے کہا آزادی کی جہد مسلسل کے وقت مہاتما گاندھی ،شیخ الاسلام مولانا حسین احمدمدنی اور مولانا ابو الکلام آزاد جیسے اکابر نے اس ملک کے دستور کو سیکولر بنانے کا عہد کیا تھا۔مولانا ارشد مدنی نے بی جے پی کے2019میں 380سیٹوں کے نعرہ کا تمسخر اڑایااور کہا کہ سیکولر پارٹیاں اس سے زیادہ سیٹیں لائیں گی ۔اس موقع پر سابق ایم ایل اے پنکج ملک نے کہا ایکتا آج کی سب سے بڑی ضرورت ہے ،انھوں نے کہا جمعیۃ علماء نے آج سب کو ملانے کا جوکام کیا ہے ،وہ قابل تعریف ہے۔گلوکار پاٹھک نے کہا ہندو مسلم اس ملک کی ۲ آنکھیں ہیں ،ایک کو نقصان پہنچے گا تو دوسری بھی ناکارہ ہوجائے گی۔
مولاناازہر مدنی نے کہا شرپسند عناصر اس ملک کے پُر امن ماحول کو مسموم کرنے پر تُلے ہیں ،ہمیں ان باتوں کا جواب محبت اور امن سے دینا ہے ،انھوں نے کہا اسلام ایک امن وشانتی کا حامل مذہب ہے ۔مولاناازہر مدنی نے فتح مکہ کے واقعہ کی روشنی میں کہا اگر اسلام میں تشدد یا یوں ہی قتل جائز ہوتا تو فتح مکہ والے دن تو کوئی چیم بھی حائل نہیں تھی اور یہ سب وہی لوگ تھے جنھوں نے برسوں تک مسلمانوں کو ستایا تھا۔مولاناسید مظہر الہدیٰ اور مولانا سیدبدر الہدیٰ قاسمی نے کہا یہ ملک ہم سب کا ہے ،فرقہ پرست طاقتیں آج نہیں تو کل شکست سے دوچار ہونی ہی ہیں ۔کیرانہ حلقہ کے ممبر اسمبلی ناہید حسن نے کہا ہندو مسلم ایکتا ہی آج کے تمام مسائل کا واحد حل ہے ،انھوں نے کہا یہ مٹھی بھر لوگ ہیں جو نفرت کا ماحول پیدا کرتے رہتے ہیں ،ممبر اسمبلی نے کیرانہ کی مثال پیش کی جہاں لوگ ماحول بگاڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر بھی وہاں ہندومسلم مل کر رہتے ہیں۔جمعیۃ علماء کے ریاستی نائب صدر مولانا نذر محمد قاسمی نے کہا جمعیۃ علماء ہر آڑے وقت میں بلا لحاظ مذہب ملک وقوم اور ملت کی خدمات انجام دیتی ہے ارو قدرتی آفات میں بھی کام کرتی ہے۔انھوں نے کہا شاملی ومظفرنگر حساس علاقے مانے جاتے ہیں ،یہ کانفرنس انشاء اللہ دور رس نتائج کی حامل ہوگی ۔مفتی عبد اللہ سونتوی مولانا شوقین نے کہا ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے جہاں کے خمیر میں میں بقائے باہمی شامل ہے ۔
مفتی عارف نے جمعیۃ کے اغراض ومقاصد پر روشنی ڈالی ۔ضلع نائب صدر مصطفیٰ ایڈووکیٹ نے امن کی تجویز پیش کی ۔قاری مسعود قاسمی ،ماسٹر سمیع اللہ،آصف قریشی بڑھانوی ،محمدسید وسیم الہدیٰ ،سیدکاشف بدر،قاری شمیم،حاجی ظہور حسن،قاری وکیل ،حافظ اسرائیل،مولانا شعیب ،مولانایعقوب ،قاری الطاف ،مولانا الیاس ،اسلم پرمکھ ،راشد وکیل ،محبوب رانا،قاری عبد الواجد،حافظ سفیان کیرانوی ،حافظ ساجد خان،طاہر حسن ،الیاس سیفی ،محمد شاہ نواز ،توحید قریشی ،گلزار انصاری،حافظ قمر الزماں،غالب بیگ ،مولانا مہردین،ڈاکٹر شریف الحق ،مولانا سلطان،حافظ انتظار انصاری وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *