جے شاہ کا معاملہ گمبھیر ہے

گزشتہ دنوں بی جے پی کی ایک اور کمزوری اجاگر ہوئی۔ اب تک شرح نمو میں گراوٹ اور مانگ کی کمی کی وجہ سے معیشت کی خراب حالت بحث کا موضوع تھی۔ کئی ماہر معاشیات کا ماننا ہے کہ کساد بازاری کا دور آنے والا ہے۔ وزیر خزانہ نے شروع میںاسے تسلیم کیا لیکن بعد میںسرکار نے یہ اسٹینڈ لیا کہ آئندہ سہ ماہیوں میںمعیشت کا اچھا مظاہرہ رہے گا۔ یہ ہمیشہ چلنے والی بحث ہے۔ دیکھتے ہیںکہ آگے کیا ہوتا ہے؟
اب ایک ایسا مسئلہ سامنے آیا ہے جو بی جے پی کے ذاتی مفاد کا ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ وزیر اعظم اور بی جے پی صدر، دو شخص ہیں، جو سرکار چلا رہے ہیں۔ اپنے نجی کاروبار میںبی جے پی صدر کے بیٹے پر کچھ گڑبڑی کرنے کا الزام لگا ہے۔ سرکار کا نجی کاروبار سے کچھ لینا دینا نہیںہوتا ہے۔ عام طور پر اگر قانون کوئی کارروائی کرتا ہے تو اس کاروباری کو اپنا بچاؤ خود ہی کرنا ہوتا ہے۔ لیکن یہاںدو مسئلے ہیں۔ پہلا، جب رابرٹ واڈرا کا معاملہ اجاگر ہوا تھا ، تب بی جے پی نے آسمان سر پر اٹھالیا تھا کیونکہ وہ کانگریس صدر کے داماد تھے۔ وہیں کانگریس نے یہ اسٹینڈ لیا کہ رابرٹ واڈرا کے نجی معاملے سے کانگریس کا کوئی لینا دینا نہیںہے۔ وہ سیاست میںنہیں ہیں اور اپنااور اپنی کمپنی کا بچاؤ کر سکتے ہیں۔ قانون اپنا کام کرے۔ یہاںایک ایسی کمپنی کا معاملہ سامنے آیا ہے، جو بی جے پی صدر کے بیٹے جے امت بھائی شاہ سے متعلق ہے۔ اس پر جو ردعمل آیا ہے، وہ خاص ہے۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ جس طرح کانگریس نے واڈرا معاملے میںردعمل دیا تھا،ویسے ہی بی جے پی کو کہنا چاہیے تھا کہ جے شاہ سیاست میں نہیںہیں او روہ خود اپنی صفائی دیںگے اور اپنا بچاؤ کریںگے۔ لیکن یہاں پیوش گوئل، جوکہ ریل کے وزیر ہیں، پریس کانفرنس بلاتے ہیں اور بہت ہی غصے میںجے شاہ کے اوپر لگے الزاموںکو بے بنیاد قرار دیتے ہیں۔ یہ ایک عجیب صورت حال ہے۔ شاہ کے کاروبارسے بی جے پی کو کیا لینا دینا ہے؟ یہ جے شاہ کا نجی معاملہ ہے۔

 

 

 

 

 

 

دوسری بات جو سامنے آئی ہے ، وہ یہ ہے کہ جے شاہ کی کمپنی نے اس کمپنی سے لون لیا ہے، جو کمپنی اس وقت پیوش گویل کی وزارت کے تحت آتی تھی۔ اس سے معاملہ اور مشکوک ہوجاتا ہے۔ہر ایک چیز صاف ستھری،شفاف اور غیر جانب دار ہونی چاہیے۔ میںسمجھتا ہوںکہ وزیر اعظم کے ساڑھے تین سال کی مدت کار کی یہ پہلی گڑبڑی سامنے آئی ہے اور یہ گڑبڑی اقتدار کے کافی نزدیک ہے۔ اگر یہ گڑبڑی کسی وزیر نے کی ہوتی تو یہ الگ بات ہوتی، یہ معاملہ بی جے پی صدر کے بیٹے کا ہے۔ جے شاہ نے اس کے علاوہ کچھ نہیںکیا ہے کہ وہ آن لائن میڈیا گروپ کے خلاف 100 کروڑ کی ہتک عزت کا مقدمہ کرائیںگے، جس نے یہ اسٹوری بریک کی ہے۔ حیرت انگیز طور پر پہلی سماعت میں ہی ان کے وکیل عدالت میںحاضر نہیںہوسکے اور اگلی تاریخ کی مانگ کرڈالی۔
میںسمجھتا ہوںکہ میڈیا ہاؤسیز کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ کرنے سے جے شاہ کو کوئی فائدہ نہیںہوگا۔ اگران کی کوئی سیاسی خواہش ہے تو انھیںہتک عزت کا مقدمہ دائر کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ اگر وہ ایسا نہیںبھی کرتے ہیں اور امت شاہ بی جے پی صدر بنے رہتے ہیں، تب بھی انھیںاس کا کوئی فائدہ نہیںہوگا۔ یہ باتیںبہت ہی اہم نکتے کی طرف لے کر جاتی ہیں۔ اس مدعے کے بارے میںوزیر اعظم کو کتنی جانکاری تھی۔ میںاس نتیجے پر پہنچا ہوںکہ انھیںکوئی جانکاری نہیںتھی۔ اس کو لے کر وزیر اعظم بھی اتنے ہی حیرت زدہ ہیں جتنے ہم جیسے لوگ۔ میںموجودہ وزیر اعظم کو جتنا سمجھ سکا ہوں،مجھے نہیں لگتا کہ وہ اس طرح کی چیزیںبرداشت کریںگے اور میںیہ بھی سمجھتا ہوںکہ وہ اس مسئلے پر سخت رخ اپنائیںگے۔ وہ کارروائی کتنی سخت ہوگی، یہ نہیںکہہ سکتا۔ کیونکہ ان کے پاس بہت زیادہ متبادل نہیںہیں۔ امت شاہ ان کے بہت ہی معتمد خاص ہیں۔ وہ پارٹی کو چلارہے ہیں۔ پارٹی کے لیے پیسہ اکٹھا کررہے ہیں۔ وہ سب کچھ جانتے ہیں ۔ انھیںہٹانا آسان نہیں ہوگا۔ پیوش گوئل کو ہٹایا جاسکتا ہے۔ وہ بہت اہم وزیر نہیںہیں۔ حالانکہ وہ ان گنے چنے فعال نوجوان وزیروں میںسے ہیں، جنھوںنے اچھا کام کیا ہے۔
بہرحال میںوزیر اعظم کو جتنا سمجھ سکا ہوں،مجھے نہیںلگتا کہ وہ اپنی کسی کابینہ وزیر کے ذریعہ امت شاہ کے بیٹے کا بچاؤ کیا جانا برداشت نہیںکریں گے۔ اب وزیر اعظم کیا کرتے ہیں؟ یہ دیکھنے کے لیے ہمیںانتظار کرنا ہوگا۔ لیکن جیسا کہ کسی نے کہا ہے کہ اگر بی جے پی ، جیسا کہ مبینہ طور پر کانگریس کو بدعنوان کہتی ہے، تو اس کے مقابلے اسے اپنے لیے اعلیٰ اخلاقی معیار قائم کرنا چاہیے۔ اس کے لیے اسے کم سے کم اس معاملے سے خود کو الگ کرلینا چاہیے۔ کیبنٹ وزیر کا اس معاملے کو ڈفینڈ کرنا اور ایڈیشنل سالسٹر جنرل کا ملزم کی طرف سے پیروی کرنا، اس سرکار کی ساکھ اور ایمانداری کے لیے اچھی بات نہیں ہے۔ جتنی جلدی وزیر اعظم اس معاملے کو سلجھا لیںگے ، اتنا ہی یہ بی جے پی اور سرکار کے لیے بہتر ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *