ناقابل فہم ہے 11 ارب روپے سے زائد تشہیر پر خرچ کرنا

ہندوستانی سرکار ایک مقررہ طریقے سے کام کررہی ہے۔ اس کا مانناہے کہ اس کا یہ طریقہ ہی صحیح ہے،یعنی اسکیم بنائی ، اسکیم کی شروعات ہوئی ، پھر کتنا کام ہوا، یہ نہیں بتاتے ہیں۔ سبھی اسکیم کے پورا ہونے میں کیا نتیجہ نکلا، اس کے پرچار میں زیادہ وقت لگاتے ہیں۔ اب ملک میں میڈیا پر پرچار خریدنے کے لئے 200 کروڑ روپے نہیں ، بلکہ پورے 11 ارب سے زیادہ روپے خرچ کیے گئے۔ میڈیا کو بکائو کہنے والی ایک مخصوص پارٹی کے حامیوں کے لئے یہ خبر پریشان کرنے والی ہو سکتی ہے لیکن جو جانکاری آئی ہے، وہ بالکل سچ ہے۔ یہ جانکاری سرکاری کاغذوں سے نکل کر سامنے آئی ہے۔ نوٹ بندی کو لے کر اپوزیشن کے کٹہرے میں کھڑی مرکزی سرکار اس خلاصے کے بعد شاید اور گھر سکتی ہے۔ حالانکہ یہ نہیں ماننا چاہئے کہ اپوزیشن، جس نے نوٹ بندی کو لے کر کامیاب مہم نہیں چلایا ،وہ اب نوٹ بندی کے تضاد کو لے کر کون سی مہم چلائے گا۔اس کا کسی کو بھروسہ نہیں ہے لیکن ہم ضرور اس چھپی سچائی کو آپ کے سامنے رکھ رہے ہیں کہ مودی سرکار نے پچھلے سال اپنی تشہیری مہم پر 11 ارب روپے سے زیادہ خرچ کئے ہیں۔ ایک انفارمیشن کمپین کے سپاہی رام بیر تنور نے 29اگست 2016 سے اس بات کی تلاش شروع کی۔ ان کا مقصد یہ جاننا تھا کہ وزیر اعظم مودی نے سرکار بننے سے لے کر اگست 2016 تک اشتہارات پر کتنا سرکاری پیسہ خرچ کیا ہے؟جب وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ڈھائی سال میں مرکزی سرکار نے اشتہارات پر 11ارب روپے سے زیادہ خرچ کئے ہیں تو وہ چونک گئے اور انہوں نے یہ جانکاری ہمارے پاس بھیجی ۔ ہم نے اس جانکاری کی توثیق کی، تب آپ کے سامنے رکھ رہے ہیں۔
اب ہم آپ کو اس اشتہار یا تشہیری مہم کے کچھ اور حقائق سے واقف کراتے ہیں۔ براڈ کاسٹ کمیونٹی ریڈیو ، انٹرنیٹ ، دور درشن ، ڈیجیٹل سنیما ، پروڈکشن ، ٹیلی کاسٹ ، ایس ایم ایس کے علاوہ کچھ دیگر رقم بھی اس پوری رقم میں شامل ہیں۔ اب آپ دیکھئے، ایس ایم ایس پر 2014 میں 9.07 کروڑ خرچ کئے گئے۔ 2015 میں 5.15 کروڑ روپے خرچ کئے گئے ۔ اگست 2016 تک 3.86 کروڑ روپے ایس ایم ایس پر خرچ کئے گئے۔ انٹر نیٹ پر 2014 میں 6.6 کروڑ اور 2015 میں 14.13 کروڑ روپے خرچ کئے گئے۔ اگست 2016 تک کل 1.99کروڑ روپے خرچ کئے گئے۔ براڈ کاسٹ میں 2014 میں 64.39 کروڑ ، 2015 میں 94.54 کروڑ اور اس کے بعد اگست 2016 تک 40.63 کروڑ روپے خرچ کئے گئے۔ کمیونٹی ریڈیو پر 2014 میں 88.4 لاکھ، 2015 میں 2.27 کروڑ اور اگست 2016 تک 81.45 لاکھ خرچ ہوئے۔ ڈیجیٹل سنیما پر 2014 میں 77کروڑ ، 2015 میں ایک ارب ، اگست 2016 تک 6.23 کروڑ روپے خرچ کئے گئے۔ ٹیلی کاسٹ میں 2014 میں 2.36 ارب، 2015 میں 2.45 ارب اور اگست 2016 تک 38.71 کروڑ روپے خرچ کئے گئے۔ پروڈکشن میں 2014 میں 8.20 کروڑ، 2015 میں 13.90 کروڑ اور اگست 2016 تک 1.29 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔

 

 

 

 

 

تین سال میں ہر سال کتنا خرچ کیا گیا ۔ یکم جون 2014 سے 31مارچ 2015 تک تقریبا 4.48 ارب روپے خرچ کئے گئے۔ یکم اپریل 2015 سے 31 مارچ 2016 تک 5.42 ارب روپے ۔یکم اپریل 2016 سے 11 اگست 2016 تک 1.20 ارب روپے۔
اب سوال یہ ہے کہ ہماری ہندوستانی سرکار کہتی ہے کہ ہماری سرکار کے سب سے سینئر لوگ اپنے چائے کے پیسے بھی خود دیا کرتے ہیں۔ اب سوال یہ آیا کہ اگر یہ جانکاری صحیح ہے جو کہ ہمارا کہنا ہے کہ صحیح ہے تو 5 سے 10کروڑ روپے خرچ کیا ہوگا، یہ موٹا اندازہ ہوتا ہے لیکن ڈھائی سال میں 1100 کروڑ روپے خرچ کرنے کا پتہ لگنے پر جو دل میں مایوسی پیدا ہوتی ہے، وہ کہتی ہے کہ کم سے کم اس کا بھی تو آڈٹ ہونا چاہئے کہ جن چیزوں کے پرچار پر اتنا پیسہ لگا ہے، ان چیزوں پر آخر کام کتنا ہوا؟لیکن اس کی آڈٹ نہ کوئی میڈیا کر رہا ہے یعنی نہ ٹیلی ویژن کررہا ہے ،نہ اخبار کررہے ہیں۔جب ڈھائی سال میں صرف اشتہار پر 1100 کروڑ کا خرچ آیا ہے تو پورے پانچ سال میں سرکار پر اور سرکار کے چیف کے اشتہارات پر تین ہزار کروڑ کا متوقع خرچ آسکتا ہے ۔

 

 

 

 

 

اب اگر اس کا موازنہ امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے بھی کیا جائے تو کہا جاسکتاہے کہ وہاں کی سرکار نے انتخابی تشہیر میں 800 کروڑ روپے خرچ کئے ہیں۔ ہمارے ملک میں ایک مرکزی سرکار اتنا پیسہ خرچ کر دے، تو یہ فکرمندی کی بات تو ہے ہی۔ اب یہ سچائی میں آپ کے سامنے اس لئے رکھ رہا ہوں کیونکہ یہ سچائی ان کی سمجھ میں نہیں آئے گی جو اندھی تقلید کرتے ہیں۔لیکن جو محب وطن ہیں، انہیں یہ ضرور سمجھ میں آئے گا کیونکہ یہ سچائی فکر مندی کی بات ہے۔چونکہ وزیر اعظم نے خود کہہ دیا ہے کہ جو تنقید کرتے ہیں ،وہ مایوسی پھیلانے والے لوگ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ مہنگائی ہر سال بڑھتی ہے، کیا پہلے مہنگائی نہیں بڑھی۔ ترقی کی شرح کااوسط گرتا ہے تو گرا کرے، کیا پہلے ترقی کی شرح کااوسط نہیں گرا۔ انہوں نے کہہ بھی دیا کہ پانچ بار ترقی کا اوسط گرا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آپ پھر دوسروں سے بہتر اپنے کو کیسے کہہ سکتے ہیں؟آپ کی اسکیموں کے جو نتائج لوگوں کے سامنے آنے چاہئے، وہ نتائج تو سامنے نہیں آرہے ہیں۔ یہی فکر مندی کی بات ہے۔ ہمارا صرف یہ کہنا ہے کہ مایوسی پھیلانے والے لوگ جنہیں آپ نشان زد کررہے ہیں، وہ لوگ مایوسی نہیں پھیلا رہے ہیں۔وہ آپ کے سامنے وہ سچائی رکھ رہے ہیں ،جن سچائیوں کو ہندوستان کی سرکار اندیکھی کرتی رہی ہے۔
ہمارے وزیر اعظم اور وزیر خزانہ نے ابھی تھوڑے دن پہلے ہی بہت فخر سے کہا تھا کہ لوگ جھوٹ بول رہے ہیں کہ ہماری معیشت کی رفتار کمزور ہوئی ہے یا ہم مندی کے دروازے پر کھڑے ہیں، ترقی کا اوسط کم ہوا ہے ۔ دونوں نے یہ کہا تھا کہ ہماری ترقی کا اوسط بڑھا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ اس وقت بھی ہم نے لکھا تھا اور کہا تھا کہ ساری دنیا ہمارے اقتصادی اعدادو شمار کے تجزیہ کو دیکھ کر یہ کہہ رہی ہے کہ ہم ترقی نہیں کررہے ہیں۔ بلکہ ہماری ترقی کا اوسط گر سکتا ہے۔ لیکن سرکار نے تیز تیز بول کر یہ کہا کہ ترقی کا اوسط بالکل نہیں گرے گا۔ ترقی کا اوسط بڑھا ہے، لوگ جھوٹ بول رہے ہیں۔ اب وزیر اعظم خود یہ قبول کررہے ہیں کہ ترقی کے اوسط میں رکاوٹ ہوئی ہے ،گری ہے۔لیکن اسے یہ مایوس لوگوں کی دل کی خلش کہہ کر اپنے کو صحیح ثابت کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ کیا ہوا اگر ترقی کا اوسط گرا؟ترقی کا اوسط گرتا نہیں ہے کیا؟گرتا ہے، بالکل گرتا ہے لیکن آپ پھر ایک بار یہ تجزیہ کریں، ورنہ ایسا نہ ہو کہ آپ کو کبھی یہ کہنا پڑے کہ کیا مندی کے دور آتے نہیں ہیں؟کیا پہلے کبھی مندی کے دور نہیں آئے؟کیا دنیا مندی کے دور میں نہیں گئی؟اگر ایسا ہے تو مندی کے دور میں دنیا گئی اور ہم یہی دلیل لیں کہ ہم بھی اسی لئے مندی کے دور میںہیں۔لیکن ملک چلانے والے سیاسی لوگ نہیں، ملک چلانے والے جو آفیسر ہیں ، ان پر یہ سوال اٹھے گا کہ اس سرکار کے جانے کے بعد، یہ آفیسر ملک کو کس بھنور میں چھوڑ جائیں گے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *