کیا کرد ریفرنڈم سازش ہے؟

حال ہی میں عراقی کردستان میں کردوں کی خود مختار ریاست کے قیام کے لیے ہونے والے ریفرنڈم میں عوام کی بھاری اکثریت نے آزادی کے حق میں ووٹ ڈالا ہیلیکن عراقی حکومت اربیل کی علاحدگی کی کوششوں کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔کرد پارلیمنٹ نے عراقی حکومت کے اقدامات کے رد عمل میں کہا ہے کہ اگر بغداد کی حکومت کرد صوبے کے خلاف اعلان کردہ اقدامات پرعمل درآمد کرتی ہے تو ان اقدامات کو کسی صورت میں قبول نہیں کیا جائے گا۔خیال رہے کہ عراقی حکومت نے کردستان کی صوبائی حکومت کواربیل اور سلیمانیہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں سمیت تمام اہم راہ داریوں کا کنٹرول مرکزی حکومت کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا مگر کرد رہنمائوں کا کہنا ہے کہ صوبے کی گذرگاہوں اور ہوائی اڈوں کا کنٹرول اپنے پاس رکھنا مرکز کے اختیارات میں شامل نہیں۔ صوبے کی تمام اندرونی اور بیرونی راہ داریوں کا کنٹرول صوبائی حکومت کا اختیار ہے۔
عراق کے صوبہ کردستان کی جانب سے آزادی کے لئے کرائے گئے عوامی ریفرنڈم کے بعد ترکی، ایران اور عراق کی کردستان کے خلاف مشترکہ فوجی مہم جوئی کا امکان ہے۔ ترکی کے ایک اخبار نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ انقرہ کردستان کے خلاف کارروائی کے لئے شمالی عراق میں اپنے 12 ہزار فوجی تعینات کرسکتا ہے۔ اخبار ’’ترکش‘‘ کی رپورٹ کے مطابق ترک فوج کی روانگی کے ساتھ ہی عراقی فوج بھی شمالی عراق میں کردستان کی طرف پیش قدمی شروع کرے گا۔
ادھر ا یرانی فوج کے سربراہ جنرل محمد باقری نے اپنے ترک ہم منصب جنرل خلوصی آکار کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ترکی اور ایران مشترکہ چیلنجز اور خطرات سے نمٹنے کے لئے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ عراق کی وحدت کو توڑنے کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ایرانی خبر رساں ادارے ’’اِرنا ‘‘ کے مطابق آرمی چیف محمد باقری نے عراق کے صوبہ کردستان میں آزادی کے لئے کرائے گئے ریفرنڈم کو مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی اور ترک فوج مشترکہ فوجی مشقوں کے ساتھ جنگی مہارتوں کا تبادلہ کریں گے اور فوجی تربیت میں ایک دوسرے کی بھرپور مدد کی جائے گی

 

 

 

 

 

کردستان میں الیکشن کا اعلان
اسی دوران عراقی کردستان میں صدارتی اور پارلیمانی انتخابات نومبر کے پہلے ہفتہ میںہونے کا اعلان کردیا گیا ہے ۔صوبائی حکومت نے ریفرنڈم پر عراق میںبڑھتی ہوئی بے چینی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے الیکشن کا اعلان کیا ہے۔ ادھر عراقی رکن پارلیمنٹ صلاح مزاحم الجیوری نے عراقی حکومت اور کردستان کے درمیان بحران کے حل کے لئے ایک منصوبہ پیش کیا۔ منصوبے میں تمام فریقوں کو مذاکرات میں شریک کرنے اور ریفرنڈم کے نتائج منسوخ کرنے کے علاوہ تمام متنازع علاقوں،سرحدی گزرگاہوں ،ہوائی اڈوں اور تیل کے سیکٹر اور اس کی برآمدات پر عراقی حکومت کے مکمل کنٹرول کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ کردستان میں انتخابات کے بائر کمیشن نے ریفرنڈم کے کامیاب ہونے کا اعلان کیا جہاں 92 فیصد نے علاحدگی کے حق میں ووٹ ڈالا جبکہ تقریباً7 فیصد کی رائے نہیں کی صورت میں سامنے آئی۔ ریفرنڈم میں شرکت کا تناسب 72 فیصد رہا۔
کردوں کو دھمکی
ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کا کہنا ہے کہ علاحدگی کے ریفرنڈم کے بعد انقرہ حکومت شمالی عراق پر نئی پا بندی عائد کرے گی۔ ترکی میں حکمراں جماعت جسٹس اینڈ پیس پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے اردگان نے کہا کہ ہم شمالی عراق میں ابھی پابندی عائد کررہے ہیں تاہم اگر یہ لوگ سیدھے راستے پر نہیں لوٹے تو پابندیوں میں اضافہ ہوگا۔ ترکی میں اس اندیشے کا اظہار کیا جارہا ہے کہ عراق کردستان کی خود مختاری سے متعلق ریفرنڈم ترکی کی سرزمین پر موجود کردوں میں علاحدگی پسندی کا شعلہ بھڑکا دے گا۔
کردوں کا ماضی
کردوں کی تاریخ تقریباً 2 ہزار سال پرانی ہے۔ کرد دراصل مشرق وسطیٰ کے شمال میں رہتے ہیں۔ کردوں کی کل تعداد30 سے 45 ملین کے لگ بھگ ہے، جن میں سے 25 فیصد کرد ترکی، 16 فیصد ایران، 15فیصد عراق اور 6 فیصد شام میں رہتے ہیں جبکہ لبنان، آرمینیا، اسرائیل، کویت اور یورپ سمیت دنیا بھر کے30 مختلف ممالک میں بھی کردوں کی کثیر تعداد رہائش پذیرہے۔ کرد اکثریت سنی مسلم ہیں، جب کہ شیعہ کردوں کی بھی ایک بڑی تعداد ہے جن کی اکثریت اسلامی جمہوری ایران میں رہائش پذیر ہے۔
کردستان کے نام سے اب تک دنیا میں کوئی علیحدہ ملک موجود نہیں ہے۔ خلافت عثمانیہ کے سقوط تک کردعلاقہ جات خلافت عثمانیہ کے ماتحت تھے۔ خلافت عثمانیہ کی بندر بانٹ کے بعد کرد علاقہ جات ترکی، شام، عراق وغیرہ میں تقسیم کردیے گئے۔ عراق میں کردستان ریجن کے نام سے 1970 میں اس علاقے کو خودمختار صوبہ کا درجہ ملا، امریکہ عراق جنگ کے بعد 2005 میں عراقی دستور میں تبدیلی کی گئی اور کردستان صوبے کو خودمختار ریجنل حکومت بنانے کا اختیار دی دیا گیا جس کے سربراہ مسعود بارزانی ہیں۔اب اسی خودمختار حکومت کے ماتحت علاقوں میں آزاد کردستان کے لیے بارزانی 25 ستمبر کوریفرنڈم کرائے ہیں۔
عراقی کردستان کا کل رقبہ 78736 اسکوائر کلومیٹر ہے جہاں ساڑھے پانچ ملین کے قریب لوگ آباد ہیں۔ کردستان کا یہ خطہ قدرتی وسائل سے مالامال ہے جہاں دریا، جھیلیں، پہاڑ، تیل اور معدنیات کے بے شمار ذخائر ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق یہاں 45بلین بیرل سے زائد تیل کے ذخائر موجود ہیں۔ اس کے علاوہ کرد گورنمنٹ کے مطابق یہاں گیس کے ذخائر بھی بے شمار ہیں۔

 

 

 

 

 

سامراجی طاقتوں کی سازشیں
جہاں تک بات ہے استعماری طاقتوں کی سازشوں کی تو انہوں نے 1923 میں کنگڈم آف کردستان کے نام سے عراق، ایران، شام اور ترکی کی سرحدوں کے ساتھ علیحدہ ریاست کا نقشہ پیش کردیا تھا، جسے اب تک ان ممالک کے احتجاج اور مزاحمت کی وجہ سے عملی جامہ نہ پہنایا جاسکا۔ گریٹر کردستان کی اصطلاح بھی عالمی استعمار گروں نے رکھی جس کی وجہ سے اب تک کئی خون ریز جنگیں اور جھڑپیں ہوچکی ہیں۔چنانچہ عراق کے خلاف کرد باغیوں کی پیش قدمی کے بعد زبردست جنگ ہوئی جس میں لگ بھگ دو لاکھ کے قریب لوگ مارے گئے۔ یہی حال ترکی میں پی کے کے کی شورشوں سے ہوا۔در حقیقت پی۔ کے۔ کے کا گریٹر کردستان منصوبہ گریٹر اسرائیل منصوبے کی ایک کڑی ہے جس کے لیے پلاننگ سوسال پہلے کرلی گئی تھی۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ عراقی کردستان ریجن کے سربراہ مسعود بارزانی کی جانب سے 25 ستمبر کو ریفرنڈم کرائے جانے پر عراقی حکومت اور ملک کی سیاسی جماعتوں نیز ایران اور ترکی کی حکومتوں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔عراقی نائب صدرنوری المالکی نے بیان دیا ہے کہ کردستان کو دوسرا اسرائیل نہیں بننے دیں گے۔ البدر کے جنرل سیکریٹری ہادی العامری کا کہنا ہے کہ کردستان ریجن میں علیحدگی کے ریفرنڈم کے نتیجے میں ملک خانہ جنگی کا شکار ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کردستان ریجن کے عہدیداروں پر زور دیا کہ وہ ریفرنڈم کے بجائے معاملات کو حل کرنے کے لیے مرکزی حکومت کے ساتھ ٹھوس مذاکرات کا آغاز کریں۔ ہادی العامری نے یہ بھی کہا کہ بغداد حکومت ملک کی تقسیم کے حق میں نہیں ہے اور اگر نیک نیتی کے ساتھ بات چیت کی جائے تو معاملات حل ہوسکتے ہیں۔ترک صدر رجب طیب اردگان نے بھی عراقی کردوں سے ریفرنڈم سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کیا ہے نیز عراقی پارلیمان نے بھی اس علیحدگی ریفرنڈم کی تجویز کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کیا ہے۔
2007 میں امریکی صحافی اور ایشیا ٹائمز کے کالم نگار ڈیوڈ گولڈ مین نے اپنے ایک مضمون میں عراق کی تقسیم کے امریکی منصوبے کا انکشاف کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’امریکی سینٹ نے اکثریت سے عراق کی تین حصوں میں تقسیم کی حمایت کی ہے۔ سینٹ کے تقریباً تمام ڈیموکریٹ ارکان اور نصف ری پبلیکن ارکان امریکی فوجوں کے عراق سے انخلاء کی اسٹریٹجی کے طور پر عراق کی تقسیم کے حامی ہیں۔ تقسیم عراق کا نتیجہ ایک آزاد کرد ریاست کا قیام ہوگا جس کا دارالحکومت کرکوک یا ’’کردش یروشلم ہوگا اور جہاں تیل کے وافر وسائل ہوں گے‘‘۔اس نے مزید لکھا تھا کہ’’آزاد کرد ریاست کو زیادہ عرصہ روکا نہیں جا سکتا۔ عراقی کردستان ہر لحاظ سے آزاد ہے سوائے نام کے اور اب عراق کی (تین حصوں میں) تقسیم صرف تعین وقت کی دیر ہے‘‘۔گویا عراق کو دو حصہ کرنے اور کردستان کی علیحدگی کی سازش کا جال امریکی سینٹ میں منظوری کی صورت میں آج سے دس سال پہلے ہی بنا جا چکا تھا۔غالباً اسی منصوبہ کے تحت عراق میں پہلے القاعدہ اور پھر داعش کے نام پر خلفشار پیدا کرکے ملک کو کمزور کیا گیا اور اب عوام کو بانٹ کر عراق کو توڑنے کا ماحول پیدا کرلیا گیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *