نجیب احمدکاسراغ لگانے میں جانچ ایجنسیاں ہنوزناکام

missing-jnu-student-najeeb
جواہرلال نہرویونیورسٹی(جے این یو) کے طالب علم نجیب احمدکوغائب ہوئے ایک سال ہونے جارہاہے۔ اب تک بیٹے کا سراغ نہیں مل پانے کی وجہ سے نجیب کی والدہ فاطمہ نفیس نے معاملے میں صدرجمہوریہ سے مددکرنے کی درخواست کی ہے۔ساتھ ہی ساتھ نجیب کے رشتہ داروں اورجے این یوکے طلبانے 13اکتوبرکومعاملہ کولیکرسی بی آئی ہیڈکوارٹرپرمظاہرہ بھی کیا۔مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ نجیب احمدکوتلاش کی کارروائی جاری رکھی جائے۔نجیب کی والدہ فاطمہ نفیسہ نے صدرجمہوریہ کوایک مکتوب بھیجاہے۔مکتوب میں انہو ں نے مطالبہ کیاہے کہ جانچ ایجنسیوں کوحکم دیں کہ سرکاری اورسیاسی اندازی سے اوپرجاکراس معاملے کی جانچ کی جائے۔
پچھلے سال 15 اکتوبر سے لاپتہ نجیب کا اب تک کوئی سراغ نہیں لگا ہے۔ نجیب جے این یو میں ایم ایس سی سال اول کا طالب علم تھا۔ گزشتہ سال 14۔15 اکتوبر کی رات کو لاپتہ ہونے سے پہلے نجیب کا اے بی وی پی کے کچھ ارکان سے تنازعہ ہوا تھا۔دہلی پولس نے نجیب کی اطلاع دینے والے کو 10 لاکھ کا انعام بھی دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔ لیکن اب تک نجیب کا کوئی سراغ نہیں لگا ہے۔
جے این یوکے طالب علم نجیب احمد15اکتوبر2016سے لاپتہ ہیں۔فاطمہ نے مکتوب میں لکھاہے کہ وہ ایک سال سے بھٹک رہی ہیں لیکن اب تک نجیب کا کوئی سراغ نہیں مل پایا۔افسوس کی بات ہے کہ جے این یوجیسے یونیورسٹی سے ایک طالب علم غائب ہوگیااورجانچ ایجنسیاں اسے ڈھونڈنے میں ناکام ہیں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *