بہت ہی مشکل دور سے گزر رہی ہے ہندوستانی معیشت

یہ تو اب ظاہر ہے کہ معیشت مشکل دورسے گزر رہی ہے۔ اعدادو شمار اور اقتصادی ماہرین کچھ بھی بولتے رہیں،کئی باتیں سب جانتے ہیں۔نمبر ایک مہنگائی کم نہیں ہوئی ہے۔لیکن پٹرول کے دام سرکار برابر بڑھاتی جارہی ہے۔نوکریاں دستیاب نہیں ہیں، وزیراعظم کہتے ہیں کہ میں چاہتا ہوں کہ لوگ نوکریاں مانگیں نہیں ،نوکریاں دیں۔یہ سب جملے تو اچھے لگتے ہیں لیکن نوکریاں دینے کا مطلب ہے کہ وہ خود اکائیاں کھولیں جن میں لوگوں کو نوکری پر رکھیں۔اس کا مطلب ان کو لون لینا پڑے گا بینکوں سے یا دوسرے اداروں سے ۔لیکن آج یہ کوئی لون لیتا نہیں ہے کیونکہ لون کارڈ کا جو ریٹ ہے وہ ہے 14فیصد ، 15فیصد،16فیصد۔اس پر وہ بھی نہیں پڑتا کہ اس لون کے ریٹ پر لون لے لیا توواپس نہیں چکا پائیں گے۔اگر معیشت کو پُش کرنا ہے تو کم سے کم تین چیزیں بہت ضروری ہیں۔ چونکہ اب الیکشن میں دو سال سے کم بچا ہے اور اگر ایک سال بعد تک گروتھ کے یہ اعدادو شمار اگر ٹھیک نہیں ہوئے تو نہ صرف مودی سرکار کو الیکشن میں دشواری آئے گی بلکہ پورے ملک کی معیشت چرمرا جائے گی۔ دو کام تو بہت جلد ہوسکتے ہیں ۔ ایک سود کا ریٹ کم کرنا۔یہ مسئلہ ایک اور مرتبہ آیا تھا یو پی اے کے آخری دو سالوں میں۔تبھی یہ سجھائو دیئے تھے ہم لوگوں نے کہ ریزرو بینک اپنی جگہ ہے،لیکن ریزرو بینک کو آپ سمجھتے ہیں کہ اتنا خود مختار ہے کہ ریٹ وہی طے کرے گا۔ یہ کسی ملک میں نہیں ہوتا۔
امریکہ میں فیڈ ہے،جو بہت پاور فل ہے لیکن اسے سرکار سے ہم آہنگ ہوکر چلنا پڑتا ہے۔اس اتحاد بنا کر چلنا پڑتا ہے۔یہاں پر بد قسمتی سے رگھو رام راجن ہیں،وہ بھی امریکہ کی معیشت کے آدمی تھے۔ارجیت پٹیل بھی وہی ہیں،ان کی سوچ ایک ہی ہے،وہ کیا کہ انفلیشن کم رکھو،ڈالر ، روپے کے ریٹ ایک طرح سے رکھو، کیونکہ نوکریاںدینا ان کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے۔وہ سرکار کا کام ہے،تو وزیر خزانہ کو چاہئے کہ یہ معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیں۔جو بھی تھوڑی سی بحث ہو، ہو،لیکن کم سے کم دو فیصد انٹریسٹ اوسط آج بھی کم ہوسکتا ہے۔یہ کوئی بھی ماہر معیشت نیوٹرل ہوگا تو مانے گا حالانکہ دو فیصد تھوڑا زیادہ تیز رفتار سے گھٹانے کی بات ہے،لیکن جس مشکل میں ہم لوگ پڑ گئے ہیں ،یہ اس وقت کی ضرورت ہے ،یہ وقت کی مانگ ہے۔دو فیصد آپ ریٹ کا اوسط گھٹائیے اور جوڈالر 64روپے کا ہوتا ہے وہ 67-68روپے کا ہوجائے گا توایکسپورٹر کو بڑھاوا ملے گا۔یہ باتیں سیاسی طور پر آپ چھاتی ٹھونک کر کہنا چاہتے ہیں کہ ہمارے روپے اسٹرانگ ہوگئے۔تو بھئی اکھاڑے میں لڑائی تو نہیں ہورہی ہے کہ روپیہ اسٹرانگ ہوگیا یا کون کمزور ہوگیا۔یہ تو اقتصادی نظام کی بات ہے۔اب کیا ہورہا ہے اس وقت ۔عام آدمی سمجھ جائے گا کہ آج جو بیرونی سرمایہ کاری آتی ہے ہندوستان میں ایف ڈی آئی ( فارن ڈائریکٹ انوسٹمنٹ ) یعنی اکائیاں لگانے کے لئے روپیہ ، جتنا ہندوستان میں آرہا ہے ،اس سے زیادہ ہندوستان کے صنعتکار دوسرے ملکوں میں لگارہے ہیں۔بڑی بڑی کمپنیاںچین میں جاکر مال بنواتی ہیں، مطلب ایفڈی آئی، اپوزٹ ایف ڈی آئی ہے۔یہی حال رہا تو پانچ سال بعد اچانک آپ کو احساس ہوگا کہ ہندوستان کی صنعت بہت کم ہو گئی ہے۔ ’میک ان انڈیا‘ وزیر اعظم کی سوچ بہت بڑی ہے۔سوال یہ ہے کہ اس سوچ کو عملدرآمد کون کرے گا؟ اگر کوئی سمجھدار آدمی نہیں ہے آپ کے پاس ،جو مالیات اور معاشیات کی باریکی کو سمجھے، تو یہ معاملہ ہوگا کیسے؟ چیف اکانومک ایڈوائزر ہیںاروند سبرامنیم ، ان سے بھی زیادہ صلاح یہ نہیں کرتے ، وہ بھی امریکی سوچ کے ہیں۔ہندوستان میں ہندوستان کی سوچ کے لوگ چاہئے۔جو ہندوستان کی معیشت کو سمجھتے ہوں۔یہ سب چیز آپس میں جڑی ہوئی ہے۔
انفلیشنریٹ ، ا یکسچنج ریٹ ، نوکریوں کو پید ا کرنا، ایک اور نقصان ہوا ہے۔ مودی جی کی غلطی نہیں ہے۔ان کو تین سال ہو ئے ہیں۔جو دو بینک تھے ،خاص کر آئی ڈی بی آئی اور انڈسٹریل ڈیولپمنٹ بینک آف انڈیا ، نئے صنعتکاروں کو لون دینے کے لئے مجموعی طور پر یہ ریٹ کمرشیل بینک سے کم ہوتا تھا۔دھیرے دھیرے لبرلائزیشن کے ماحول میں اس کو کمرشیل بینک بنا دیا آپ نے،تو آئی ڈی بی آئی سے آئی ڈی بی آئی بینک ہوگیا،دوسرے بینکوںکی طرح ۔آج کسی کو صنعت لگانا ہے تو اس کو لون کون دے گا؟اگر کمرشیل بینک سے لون لینا ہے تو کوئی صنعت لگائے گا ہی نہیں۔ اسلئے میں مودی جی کو سجھائو دیتا ہوں کہ ایک نیا بینک نیشنل ڈیولپمنٹ بینک آف انڈیا کا آپ اعلان کردیجئے۔تین سالوں میں کچھ ہو نہیں پایا لیکن ایک نئے ادارے کی ضرورت ہے جو زورو شور سے صنعتکاری میں لگے۔صرف میک ان انڈیا بولنے سے نہیں ہوگا۔ اب میک ان انڈیا ہوگا کیسے؟ آپ نے کہہ دیا کہ ڈیفرنٹ اکیوپمنٹ نجی سیکٹر میں بنے گاتو جو41 آرڈیننس فیکٹری ہیں ،ان کا نجی کرن کیجئے۔یہ ملک کے مسائل کا حل نہیں ہے۔
آج تین سب سے ضروری باتیں ہیں،دو فیصد انٹریسٹ ریٹ کم کیجئے، ڈالرکو سلائڈ ہونے دیجئے،روپے کو مضبوط رکھنے سے پبلک کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔اور تیسرا ایک بڑے انسٹی ٹیوشن کا اعلان کیجئے جو دس سال تک صنعت کاری کرے جاب اورینٹیڈ۔ آج جو اعدادو شمار آرہے ہیں کہ بیرون سے اتنے روپے آگئے، اتنے ملین روپے آگئے تو اس پر سرکار خوب خوش ہے ،وزیر خزانہ بھی خوش ہیں۔اس میں خوش ہونے کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ روپیہ آتا ہے شیئر مارکیٹ میں ، وہاں انٹریسٹ کے ریٹ کم ہیں ، یہاں بیاز کے ریٹ زیادہ ہیں،اربیٹرائز بولتے ہیں اس کو انگریزی میں۔تو اس فرق کا جو فائدہ ہوتا ہے ،اس کے لئے روپیہ یہاں آتا ہے۔وہ کما کر لے جاتے ہیں۔ اس سے کوئی فائدہ ملک کا نہیں ہوتا۔ اس سے ایک نوکری نہیں ملتی۔ایک فیکٹری نہیں لگتی اور اعدادو شمار ضرور آجاتے ہیں کہ اتنا بلین ا نوسٹمنٹ ہوا۔ ایسا ہے تو ذرا آنکڑوں کو الگ الگ کرکے بتا دیجئے وزیرخزانہ جی کہ ڈائرکیٹ انوسٹمنٹ کتنا آیا اور پورٹ فولیو انوسٹمنٹ کتنا ہوا؟اگر ڈائریکٹ انوسٹمنٹ نہیں آیا تو ہمارے یہاںکچھ نہیں آیا۔ساتھ میں یہ فیگر بھی دیں کہ کتنی صنعت ہندوستانی صنعتکاروںنے چین اور دوسرے ملکوں میں لگایا ۔ان اعدادو شمار کو دیکھیں گے تو مودی جی پائیں گے کہ ان تین سالوں میں کافی نقصان ہوا ہے۔

 

 

 

 

 

میں ان کی خواہشات کا احترام کرتا ہوں کہ نوکریاں بڑھیں،ہندوستان خود انحصار ملک ہوجائے، دفاع کا سامان تیار کرے،اس میںکوئی دقت نہیں ہے۔ آپ ٹکنالوجی لائیے جو انہوں نے ریسرچ ڈیولپ کیا ہے ،لیکن کوئی اپنی ٹکنالوجی میں شیئر نہیں کرتا۔چاہے امریکہ ہو ،فرانس ہو ،وہ آپ کی اتنی ہی مدد کرے گا جتنی انہیں ضرورت ہے۔تو یہ جتنے مسائل ہیں،ایک دن میں حل نہیں ہوںگے مگر کوشش کریں۔مودی جی نے اس میں جلد بازی کردی۔ ایک تو ڈیمو نٹائزیشن کردیا۔ انہوں نے یہ کام اچھی نیت سے کیا، اس میں بحث کئے جانے کی ضرورت نہیں لیکن وہ چلا نہیں۔دوسرا جی ایس ٹی ،یہ بھی جلد بازی میں کیا گیا فیصلہ ہے۔یہ ایک انتہائی سائنسی ٹیکس کریکشن کا سسٹم ہے لیکن 30اسٹیٹ ہیں وہ بھی دھیرے دھیرے ارون جیٹلی جی محنت کرکے ایک ٹیبل پر لے آئے لیکن عمل درآمد جلدی میں کردی۔پہلے اپریل 2018 سے کرتے ،تمام قواعد پہلے پوری کرتے ،تو چھوٹے کاروباریوں کو اتنی پریشانی نہیں ہوتی۔اس سے بڑی کمپنیوںاور کارپوریٹ کو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔لیکن دکاندار وغیرہ کو پریشانی ہے۔ میں راجستھان گیا ، وہاں ایک دکاندار سے پوچھا کہ بھئی یہ تو اچھا ہوگیا، اس میں آپ لوگوں کو کیا دشواری ہے؟کہا دشواری ہے ۔پہلے ایک ریٹرن ہم وقت پر نہیں بھر پاتے تھے اور اب 37 بھرنے ہیں۔ آپ ہم کو کہیں گے کہ کمپیوٹر سے سب ہوجاتا ہے، لیکن 10 ہزار دے کر کیسے کمپیوٹر آپریٹر رکھا جائے۔کاروبار اتنا چھوٹا ہے ،دس ہزار کا خرچہ بڑھ جائے گا،ہم کو کچھ ملا نہیں ۔تو ابھی ارون جیٹلی کا بیان آیا ہے ،وہ شاید حد بڑھا رہے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ ایک کروڑ کا جو ٹرن اُور رکھتا ہے ،اس سے کم والے پر تو یہ فارم وغیرہ کا چکر رکھنا نہیں چاہئے۔تھوڑا آسان تجارت کا ماحول پیدا کیجئے ورنہ اگلے ایک سال میںمسائل اتنے بڑھ جائیں گے کہ پچھلے 6 سہ ماہی سے گروتھ ریٹ کم ہوا ہے۔میں اس بحث میں تو پڑتا ہی نہیں کہ5.7 ہے تو پہلے والے کے ٹیبل سے کتنا فرق ہے ،یہ چھوڑیئے ۔نئے ٹیبل سے بھی 6 سہ ماہیوں کے برابر گرتے جارہے ہیں اور اگلے تین چار سہ ماہئیوں تک گرے گا۔ یہ بہت سنگین صورت حال ہے۔اس میں سیاست کی ضرورت نہیں ہے۔اصل میں کیا ہوگا ، ملک میں جمہوریت ہے ،الیکشن ہوگا،ایک ہارے گا ، ایک جیتے گا،اس سے ملک کے مسائل کا حل نہیں نکلے گا۔ملک کے مسائل حل ہوںگے یہ سب کرنے سے اورمیں مانتا ہوں کہ ترجیحات ہوتی ہیں۔ڈیمونیٹا ئزیشن ہوگیا، کیش لیس وغیرہ، لیکن اس سے جو بنیادی مسائل ہیں،ان پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
ابھی ان کو چاہئے کہ انٹریسٹ ریٹ کم کریں، ا یکسچنج ریٹ کو تھوڑا سلائڈ ہونے دیںتاکہ ایکسپورٹ میں بڑھاوا ہواور ایک ایک بڑے بینک کا اعلان کریں،جن کا کا م ہو صنعت لگوانا، صنعت کے لئے قرض دینا اور کم ریٹ پر قرض دینا۔ جب آئی ڈی بی آئی بینک بنا تھا 60 کی دہائی میںتو یہ ایک پاتھ بریکنگ تھا ہندوستان میں ، اتنا بڑا انسٹی ٹیوشن اور ساری کمپنیاں اس زمانے میںچاہے ٹکسٹائل مل ہو، شوگر میل ہو،سب نے لون آئی ڈی بی آئی سے لیا۔آج ایک نئے آئی ڈی بی آئی کی ضرورت ہے۔ کچھ بھی نام رکھئے اس کا۔ یہ مسائل ماہرین معیشت زیادہ سمجھتے ہیں لیکن سرکار میں کوئی ان مسائل کو سمجھنے والا نہیں ہے۔ ان کے وزیروں میںسمجھنے والا نہیں ہے۔ سب کی نیت اچھی ہے۔کسی کی نیت پر شک نہیں ہے ۔آپ نے سرکار بنایا ہے،ہم چاہیں گے کہ آپ سرکار دوبارہ بنائیں لیکن جو کام کرنا ہے ،اس کے لئے ایکسپرٹ کو سامنے لانے کی ضرورت ہے ۔ دو تین ماہرین اقتصادیات کو بلائیے، جو صورت حال کو سمجھیں ،لیکن امریکہ پرست اور امیر پرست آپ کا بھلا نہیں کرسکیں گے۔یہ غریبوں کا ملک ہے، دیہی علاقوںپر مشتمل ملک ہے،امریکی فارمولہ یہاں لگانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔اسٹاک مارکیٹ ضرور بڑھے گا جو کہ بڑھ رہا ہے،سب لوگ پیسہ بنارہے ہیں، نوکری نہیں ملے گی۔سماجی مسائل بڑھیںگے اور یہ کسی کے ہاتھ میں نہیں ہے،پھرکوئی وزیر اعلیٰ ہو، یا کچھ ہو،کیا کرلیں گے کوئی بھی۔ لہٰذا اگر آپ کو رواداری قائم کرنا ہے سماج میں تو واپس اعتماد بحال کرنا ہوگاکہ ہم سنجیدگی سے لون دیں گے اور نئی صنعتکاری کو بڑھاوا دیں گے ۔نئی نوکریاں پیدا کریںگے، اگر یہ نہیں کریں گے تو میں سمجھتا ہوں کہ وقت بہت کم ہے آپ کے پاس۔ایک بجٹ اور ہے آپ کے پاس ،ایک بجٹ میں کیا کیاکرلیں گے۔اب توجی ایس ٹی کا ایسا مسئلہ آگیا ہے کہ روز اس میں کچھ نہ کچھ کرنا پڑ رہا ہے۔میںسمجھتا ہوں کہ وزیر اعظم کو مسئلے کو خود اپنے ہاتھ میں لینا چاہئے اور اپنے ساتھیوں میںڈسکس چاہئے جو امریکہ پرست نہ ہوں۔ ہم ہندوستانی ہیں ،لفٹسٹ کو مت لیجئے ، آپ فیصلہ لیجئے ،مگر کم سے کم جو آبجکٹیو آپ لیں گے ان کو جو صرف آر ایس ایس سے جڑے ہوئے ہیں ان پرمنحصر مت کیجئے ،اس میںدائرہ تنگ ہوجاتا ہے،اس میں بھی بہت اچھے لوگ ہیں مگر ،ایسے لوگوں کو لیجئے جو اس میں ایکسپرٹ ہیں۔یہ سوچ کہ جو ہمارے ساتھ نہیں ہے ،وہ ہمارے خلاف ہے ،اس سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔اس سے سماج بھی بکھرے گا اور سیاسی صورت حال بھی بکھرے گی۔میں سمجھتا ہوں کہ وزیراعظم جس گڈ ویل سے وزیر اعظم بنے ہیں،282 سیٹ ملی 1985 کے بعد پہلی بار۔اس سے ان کو یہ موقع ملا ہے، تین سال میں انہوں نے جو نقصان کرلیا ہے،انہیں اور نقصان نہیں کرنا چاہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *