70 برسوں میں17مسلم خاتون ارکان پارلیمنٹ کوٹادر کوٹا ناگزیر

اسے جمہوری ہندوستان کی 14.2 فیصد مسلم آبادی کا سیاسی ڈِس امپاورمنٹ نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے کہ آزادی کے بعد سے لے کر اب تک 70برسوں میںمحض 477 مسلمان 16 لوک سبھاؤںکے لیے منتخب ہوئے ہیں، جن میں مسلم خواتین کی تعداد صرف 17 ہے۔ اس انتہائی کم تعداد کا اعتراف 2006 میںآئی سچر کمیٹی کی رپورٹ نے بھی کیا ہے اور مسلم سیاسی ڈس امپاورمنٹ کو ایک حقیقت مانا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ ایک تلخ حقیقت ہے جو کہ ہمیںہمیشہ منہ چڑھاتی ہے۔
ایک ایسے وقت جب صدر کانگریس سونیاگاندھی نے اواخر ستمبر میںپی ایم مودی کو مکتوب لکھ کر پارلیمنٹ کے آئندہ سرمائی اجلاس کے دوران خواتین کو ملک کے مرکزی و ریاستی لیجسلیچرز میںایک تہائی ریزویشن فراہم کرتا ہوا بل پاس کرانے کا مطالبہ کیا ہے اور خود برسر اقتدار بی جے پی – این ڈی اے کے نزدیک بھی یہ ایشو زیر بحث ہے، مسلم خواتین کا انتہائی سیاسی ڈس امپاورمنٹ بروقت موضوع بن جاتا ہے۔
کوئی شخص بھی یہ سن کر چونک جاتا ہے کہ 1952 میںمنتخب پہلی لوک سبھا سے لے کر 2014 میں16 ویںلوک سبھا تک صرف اور صرف 17 مسلم خواتین پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میںپہنچ پائی ہیں۔ یعنی 16 لوک سبھاؤںمیںمنتخب ہوے کل 8ہزار 449ارکان میںمسلم خواتین محض 0.2فیصد ہیں۔
مسلم خواتین کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں انتہائی کم تعداد یا انتہائی ناقابل ذکر فیصد کی ذمہ دار کوئی اور نہیں بلکہ ملک کی سیاسی پارٹیاں ہیںجو کہ مسلم خواتین کو انتخابات کے دوران اپنا اپنا امیدوار بنانے میںہچکچاتی ہیں یا انھیںنظرانداز کرتی ہیں۔ تبھی تو 1952 سے لے کر 2014 تک کل 603 منتخب خاتون ارکان لوک سبھا میںمسلم خواتین محض 2.9 فیصد ہیں۔
گہرائی سے جائزہ لینے پر پتہ چلتا ہے کہ آزادی کے بعد اقتدار میں سب سے لمبے عرصے تک براجمان رہنے والی کانگریس نے صرف دس مسلم خواتین کو لوک سبھا میںبھیجا ہے جبکہ دیگر سیاسی پارٹیوںمیںبہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) ، نیشنل کانفرنس(این سی)اور ترنمول کانگریس کی دو دو اور سماجوادی پارٹی نیز پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی ایک ایک رکن پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میںاپنی انٹری درج کراپائی ہیں۔ وہیںیہ امر بھی بہت کھَلنے والا ہے کہ ہندوستان جیسے جمہوری اور فیڈرل ڈھانچے کے ملک میںمسلم خواتین کی 70 برسوں میں مذکورہ نمائندگی صرف 6 ریاستوں اترپردیش، مدھیہ پردیش،آسام، مغربی بنگال، جموںوکشمیر اور گجرات سے ہو پائی ہے۔ ذرا غور کیجئے اتنی ساری سیاسی پارٹیوں اور 29 ریاستوں نیز 7 یونین ٹیری ٹوریز کے درمیان محض 6 ریاستیں ہی مسلم خواتین کو لوک سبھا میںبھیج پائیں جبکہ دیگر 23 ریاستوں اور 7 یونین ٹیری ٹوریز میںمسلم خواتین کی آبادی ناقابل شمار ہرگز نہیںہے۔

 

 

 

 

 

 

70 برسوں میں16 لوک سبھاؤں میں پہنچنے والی 17 نمائندہ خواتین یہ ہیں:
-1مفیدہ احمد، کانگریس، جورہٹ (آسام)، 1957
-2رشیدہ حق چودھری، کانگریس، سلچر (آسام)1977
-3نازنین فاروق، کانگریس، نوگاؤں (آسام)، 1996
-4میمونہ سلطان، کانگریس، بھوپال (مدھیہ پردیش)، 1957اور 1962
-5زہرہ بہن اکبر بھائی چاؤڈا، کانگریس، بنس کانٹھا (گجرات)، 1962
-6اکبر جہاں بیگم ، نیشنل کانفرنس، سری نگر (جموںو کشمیر)، 1977اور 1984
-7محبوبہ بیگم، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اننت ناگ (جموں و کشمیر)2004
-8محسنہ قدوائی، کانگریس، اعظم گڑھ اور میرٹھ 1978،1980 اور 1984
-9 بیگم عابدہ احمد، کانگریس، بریلی (اترپردیش)، 1981 اور 1984
-10 بیگم نوربانو، کانگریس، رامپور (اترپردیش)، 1996 اور 1999
-11رباب سیدہ، سماجوادی پارٹی، بہرائچ (اترپردیش)، 2004
-12تبسم بیگم، بہوجن سماج پارٹی، کیرانہ(اترپردیش)، 2009
-13قیصر جہاں، بہوجن سماج پارٹی، سیتاپور (اترپردیش)، 2009
-14موسم بے نظیر نور، کانگریس، مالدہ نارتھ ( بنگال)، 2009اور 2014
-15 ڈاکٹر ممتاز سنگھامیتا، ترنمول کانگریس، بردوان ( بنگال) ، 2014
-16آفرین علی (اپورباپودّار)، ترنمول کانگریس،آرام باغ ، بنگال، 2014
-17محبوبہ مفتی،پی ڈی پی، اننت ناگ (جموں و کشمیر)، 2014(مستعفی)
( محبوبہ مفتی اپنے والد مفتی سعید احمد کی وفات کے بعد جموں و کشمیر کی وزیر اعلیٰ بننے کی صورت میںپارلیمنٹ کی رکنیت سے مستعفی ہوچکی ہیں۔)

 

 

 

 

جہاںتک 16لوک سبھاؤں میںکل مسلم نمائندگی بشمول مسلم خواتین کا سوال ہے، پہلی لوک سبھا میں22، دوسری میں 19، تیسری میں 26، چوتھی میں 28، پانچویں میں32، چھٹی میں 33، ساتویں میں 51، آٹھویں میں48، نویں میں31، دسویں میں21، گیارہویں میں 24، بارہویں میں27، تیرہویں میں 30، چودہویں میں 32، پندرہویں میں 30 اور سولہویں لوک سبھا میں 23 مسلمان منتخب ہوکر آئے۔
اب آئیے،ذرا دیکھتے ہیں کہ قانون ساز اداروںمیںخواتین ریزرویشن کا ایشو آخر ہے کیا؟ دراصل خواتین کو لیجسلیچرز میں 33 فیصد یعنی ایک تہائی ریزرویشن دینے کے خیال سے 12 ستمبر 1996 کو ایچ ڈی دیوے گوڑا کی سربراہی والی یونائٹیڈ فرنٹ حکومت نے ویمن ریزرویشن بل (81واں آئینی ترمیمی بل) لوک سبھا میں پیش کیاتو اس کی زبردست مخالفت ہوئی۔ اوائل 1997 میں کانسٹی ٹیوشن کلب، نئی دہلی میں21 رکنی کمیٹی فار امپاورمنٹ آف مسلم ویمن، جس میںدس مسلم خواتین بھی شامل تھیں، کی ہنگامی احتجاجی میٹنگ ہوئی، جس کا افتتاح مشہور و معروف گاندھیائی سماجی کارکن اور رکن پارلیمنٹ کماری نرملا دیش پانڈے نے کیا۔ اس میںمتعدد اہم مسلم و غیر مسلم شخصیات نے شرکت کی، جن میں مرحوم سید شہاب الدین ، مرحوم سید حامد، سابق ایم پی مرحوم کے ایم خاں اور مرحوم مولانا محمد شفیع مونس کے علاوہ ممتاز و معروف خواتین زینب خسرو(اہلیہ پروفیسر ایم خسرو، بیگم رامپور، شہزادی نکہت عابدی، ٹی وی اسٹار سلمیٰ سلطانہ، مسلم پرسنل لاء بورڈ رکن و جامعہ اسلامیہ کی پروفیسر حسینہ ہاشیہ، معروف دانشور پروفیسر صغریٰ مہدی، صحافی مرحومہ نور جہاںثروت اور حکیمہ ام الرزاق قابل ذکر ہیں۔ سابق مرکزی وزیر چندر جیت یادو نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم یافتہ مسلم خواتین کی اتنی بڑی تعداد میںشرکت خواتین کی اس خواہش کو ظاہر کرتی ہے کہ وہ اپناسیاسی امپاورمنٹ چاہتی ہیں۔ اس ہنگامی میٹنگ کے بعد سات ریاستوں میںبھی ایسے ہی مسلم خواتین کنونشن ہوئے۔مذکورہ بالا کمیٹی کے سکریٹری نوید حامد ، جواب آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر ہیں، کا دعویٰ ہے کہ81ویںآئینی ترمیمی بل کی مخالفت میں مسلمانوںبشمول خواتین کا یہ پہلا عوامی احتجاج تھا۔ پھر 1998 میں اٹل بہاری واجپئی کے دور میں مسلم خواتین کا پارلیمنٹ تک مارچ ہوا او روہاں لوک سبھا کے اسپیکر بال یوگی کو میمورنڈم پیش کیا گیا۔
بعد ازاں ان دنوںکینسر کے موذی مرض میںگرفتار معروف فقیہ و مسلم رہنمااور آل انڈیا ملی کونسل کے بانی سکریٹری جنرل مرحوم قاضی مجاہد الاسلام قاسمی کی سرپرستی میں26 جولائی 1998 کو نئی دہلی کے حضرت نظام الدین ایسٹ میںمنعقد ملی کونسل کی مرکزی مجلس عاملہ کی ہنگامی نشست میںایک اہم و غیر معمولی قرار داد پاس کی گئی، جس میںیہ کہا گیا کہ ’’جہاں تک ویمن ریزرویشن بل کا تعلق ہے، ملی کونسل کا یہ احساس ہے کہ موجودہ بل پارلیمنٹ میں لانے کی وجہ خواتین کی فلاح نہیں ہے بلکہ یہ شاید ہندوستان کے لوگوںکی ایک بڑی تعداد کو اپنے مظالم کے ساتھ ٹارگیٹ کرنے میں مصروف چالاک اور تنگ نظر گروپ کی ایک نئی چال ہے جو کہ اب اپنے سیاسی اثر کی مدت کو معصوم خواتین کے کاندھوں کے سہارے توسیع کرنا چاہتا ہے او روہ بھی ایک ایسے وقت جب اس کی نسلی برتری کا جادو روبہ زوال ہے۔ ایک نکتہ جو کہ خواتین کے ریزرویشن کے حق میںپیش کیا جاتا ہے ، وہ یہ ہے کہ یہ ملک میںبہت بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود اپنے جائز شیئر سے محروم ہیں۔ لہٰذا ملی کونسل اس بات کو واضح کردینا چاہتی ہے کہ اس وقت سماج کا جو طبقہ سب سے زیادہ دبا ہوا ہے او ر محروم ہے، وہ مسلمانوں کا ہے او راسے ملک کی گورننس میںمعقول اور مناسب نمائندگی نہیںملی ہے۔ اس لیے خواتین کے ریزرویشن کے مطالبے کے پیچھے ذمہ دار عوامل کا منطقی او ر فطری نتیجہ یہی ہے کہ قانون ساز اداروںمیںمسلمانوںکی مناسب اورمعقول نمائندگی کا کچھ پروویژن ہو۔‘‘

 

 

 

 

 

اسی قرارداد میںیہ بھی کہا گیا تھا کہ ’’خواتین کے ریزرویشن کا بل دراصل خواتین کے ووٹ بٹورنے کے لیے ہے۔ ا س لیے چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے بھی تمام سیاسی پارٹیاں اس معاملے میںدوہری پالیسی اختیار کررہی ہیں اور وہ اپنے سروںکے اوپراسے نہ پاس کرکے اس کی ذمہ داری نہیں لینا چاہتی ہیں۔ دوسری جانب وہ یہ بھی نہیں چاہتی ہیںکہ وہ ا س کے خراب اثرات کوجھیلیں۔لہٰذا اس صورت میںملی کونسل اپنے اس موقف کا اظہار ضروری سمجھتی ہے کہ اس قسم کا ریزرویشن ہندوستانی لوگوں کی صحیح او ر مناسب نمائندگی کا مظہر ہونا چاہیے۔ یہ صحیح ہے کہ ووٹ حاصل کرنے کے لیے اس طرح کے نعروں کا استعمال کرتے ہوئے ذات برادری اور نسل کی بنیاد پر لوگوںکی تقسیم نہیںہونی چاہیے۔ہمیںاندیشہ ہے کہ اس بل کو موجودہ حالت میںپاس کیے جانے سے ہمارے سماج میںمزید انتشار ہوگا۔ ملی کونسل محسوس کرتی ہے کہ بل میںکچھ ایسی ترمیمات کی جائیںجو کہ اقلیتوں،دلتوں او رپسماندہ طبقات کو ان کی آبادی کے تناسب میںنمائندگی کو یقینی بنا سکے۔‘‘اس کے بعد 9 جون کو ملی کونسل کی مرکزی مجلس عاملہ نے ایک اور قرارداد میںاپنے موقف کا اعادہ کیا۔ نیز 27 جو ن 2009 کو نئی دہلی کی غالب اکادمی میںہوئے نیشنل کنونشن میں پھر چار نکاتی قرارداد پاس کی گئی اور آئین ہند کی دفعات 14،15اور 16 کے تحت برابری کے اصول پر عمل کرتے ہوئے اس مطالبے کو دوہرایا گیا ۔ یہ مطالبات 31 جنوری 2010 کو کولکاتا میںمنعقد آل انڈیا کانفرنس میںبھی کیے گئے۔ اسی سلسلے کے احتجاجی مارچ کا اہتمام مارچ – اپریل میں قومی راجدھانی و دیگر ریاستوںمیںبھی کیا گیا اور متعلقہ ذمہ داروںکو الگ الگ میمورنڈم پیش کیے گئے۔یہ احتجاجی مارچ دہلی کے ساتھ ساتھ پنجاب، مدھیہ پردیش، راجستھان، اترپردیش، اتراکھنڈ، بہار، جھارکھنڈ، اڑیسہ، مغربی بنگال،آسام، مہاراشٹر، کرناٹک، تمل ناڈواورکیرل کی راجدھانیوںمیںنکالے گئے اور وہاںمیمورنڈم وہاںکے گورنروں او روزرائے اعلیٰ کو پیش کیے گئے۔ علاوہ ازیںمختلف مقامات پر پریس کانفرنسیں بھی کی گئیں۔ خاص بات یہ ہے کہ اس طرح کی تمام کوششوںمیں سبھی مسلم تنظیمیں ، ادارے اور اہم شخصیات شامل رہے۔ ان تمام تفصیلات سے یہ اندازہ تو ہوہی جاتا ہے کہ ملک کے مسلمانوں کو مسلم خواتین کے سیاسی امپاورمنٹ کی اہمیت کا پورا احساس ہے اور وہ اس سلسلے میں وزیر اعظم دیوے گوڑا کے وقت سے لے کر وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دور تک متحرک رہے۔
عیاں رہے کہ 1996 میںدیوے گوڑا کے وقت میں مذکورہ ترمیمی بل سے جو بحث شروع ہوئی، وہ واجپئی کے ادوار میں 1998،1999،2002اور 2003 میںلوک سبھا میں جاری رہی۔ پھر 2008 میںڈاکٹر منموہن سنگھ کے دور میں اسے راجیہ سبھا میں پیش کیا گیا تاکہ یہ دم نہ توڑدے۔ 9 مارچ 2010 کو یہ راجیہ سبھا کے ذریعہ سخت مخالفت کے ماحول میں پاس کیا گیا۔ تب مارشل کا بھی نامساعد حالت میں استعمال کرنا پڑا۔ اس وقت یہ 108واں آئینی ترمیمی بل کہلایا۔ اس طرح پارلیمنٹ کے ایوان بالا سے پاس ہونے میںاسے پورے 14 برس لگ گئے۔
اب جب 2017 میں پارلیمنٹ کے آئندہ سرما ئی اجلاس میں خواتین کے ریزرویشن بل کو لوک سبھا میں ایک بار پھر پیش کیا جائے گا تب وہ ایشوز جو کہ 21 برسوںسے مسلم خواتین کے ریزرویشن کو لے کر اٹھتے رہے ہیں اور جنھیں مختلف سیاسی پارٹیوںکی حمایت ملتی رہی ، پھر سے موضوع بحث بنیں گے۔ انصاف کا تقاضہ ہے کہ مسلم خواتین کی مجموعی دیگرگوں صورت حال کے پیش نظر ان کے سیاسی امپاورمنٹ کے لیے اس بل میںضروری ترمیمات کی جائیں اور مسلم خواتین کو خواتین کے 33 فیصد کوٹے کے اندر ذیلی کوٹا ان کی آبادی کے تناسب میں دیا جائے، تبھی مسلم خواتین کی عمومی صورت حال میں معنوی و صوری تبدیلی آسکے گی۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *