منصوبوں کی بہار مگر کامیابی کتنی؟

2022 میں بلیٹ ٹرین کی آمد کو لے کر امید کرنے میںکوئی برائی نہیں ہے۔ نتیجہ پتہ ہے ، پھر بھی امید ہے، تو یہ اچھی بات ہے۔ مودی سرکار نے ہمیں بے شمار ایونٹ دیے ہیں۔ جب تک کوئی ایونٹ یاد آتا ہے کہ ارے ہاں ، وہ بھی تو تھا، اس کا کیا ہوا؟ تب تک نیا ایونٹ آجاتا ہے۔ سوال پوچھ کر مایوس ہونے کا موقع ہی نہیںملتا۔ عوام کو امید- امید کا کھو-کھوکھیلنے کے لیے پُرجوش کردیا جاتا ہے۔ تحریک کی تلاش میںوہ پُرجوش ہو بھی جاتے ہیں۔ ہونے بھی چاہئیں۔ پھر بھی ایمانداری سے دیکھیںگے کہ جتنے بھی ایونٹ لانچ ہوئے ہیں، ان میں سے زیادہ تر فیل ہوئے ہیں۔ بہتوںکی مکمل ہونے کی تاریخ 2019 کی جگہ 2022 کردی گئی ہے۔ شاید کسی نجومی نے بتایا ہوگا کہ 2022 کہنے سے مبارک ہوگا۔ کاش کوئی ان تمام ایونٹ پر ہوئے خرچ کا حساب جوڑ دیتا۔ پتہ چلتا کہ ان کی ایونٹ بازی سے ایونٹ کمپنیوں کا کاروربار کتنا بڑھا ہے؟ ٹھیک ہے کہ اپوزیشن نہیں ہے، 2019 میں مودی جیتیں گے، بہترین خواہشات ، ان دو باتوں کو چھوڑ کر تمام ایونٹ کا حساب کریں گے تولگے گا کہ مودی سرکار بہت سے ناکام منصوبوں کی کامیاب سرکار ہے۔ اس لائن کو دو بارپڑھیے۔ ایک بار میںسمجھ میں نہیں آئے گا۔
پہلی ریل یونیورسٹی کی تجویز
2016-17 کے ریل بجٹ میںوڑودرہ میںہندوستان کی پہلی ریل یونیورسٹی بنانے کی تجویز تھی۔ اس سے قبل دسمبر 2015 میں منوج سنہا نے وڑودرہ میںریل یونیورسٹی کا اعلان کیا تھا۔ اکتوبر 2016 میں خود وزیر اعظم نے وڑودرہ میں ریل یونیورسٹی کا اعلان کیا۔ سریش پربھو جیسے مبینہ قابل وزیر نے تین سال ریل وزارت چلائی لیکن آپ پتہ کر سکتے ہیں کہ ریل یونیورسٹی کو لے کر کتنی پیش رفت ہوئی ہے؟
اسی طرح 2014 میں ملک بھر سے لوہا جمع کیا گیا کہ سردار پٹیل کا مجسمہ بنے گا، سب سے اونچا۔ 2014 سے 2017 آگیا۔ 2017بھی گزر رہا ہے۔ لگتا ہے کہ اسے بھی 2022 کے کھاتے میںشفٹ کردیا گیا ہے۔ اس کے لیے تو بجٹ میںکئی سو کروڑ کی تجویز بھی کی گئی تھی۔
2007 میںگجرات میںگفٹ اور کیرل کے کوچی میںاسمارٹ سٹی کی بنیاد رکھی گئی۔ گجرات کے گفٹ کو پورا ہونے کے لیے 70-80 ہزار کروڑ کا تخمینہ بتایا گیا تھا۔ دس سال ہوگئے، دونوںمیںسے کوئی تیار نہیں ہوا۔ گفٹ میںابھی تک قریب 2000 کروڑ ہی خرچ ہوئے ہیں۔ دس سال میں اتنا ،تو باقی پورا ہونے میں بیس سال لگ جائیں گے۔
اب اسمارٹ سٹی کا مطلب بدل گیاہے۔ اسے ڈسٹ بن لگانے، بجلی کا کھمبا لگانے، وائی فائی لگانے تک محدود کردیا گیا ۔ جن شہروںکو لاکھوںکروڑوں سے اسمارٹ ہونا تھا، وہ تو ہوئے نہیں، اب 100-200 کروڑ سے اسمارٹ ہوں گے۔ گنگا نہیں نہا سکے تو جل ہی چھڑک لیجئے ججمان۔

 

 

 

 

 

گفٹ سٹی کی بنیاد رکھتے ہوئے بتایا جاتا تھا کہ دس لاکھ روزگار پیدا ہوںگے مگر کتنے ہوئے، کسی کو پتہ نہیں۔ کچھ بھی بول دو۔ گفٹ سٹی تب ایک بڑا ایونٹ تھا، اب یہ ایونٹ کباڑ میںبدل چکا ہے۔ ایک دو ٹاور بنے ہیں، جس میں سے ایک انٹرنیشنل ایکسچینج کا افتتاح ہوا ہے۔ آپ کوئی بھی بزنس چینل کھول کر دیکھ لیجئے کہ اس ایکسچینج کا کوئی نام بھی لیتا ہے یانہیں۔ کوئی 20-25 کمپنیوں نے اپنا دفتر کھولا ہے، جس میں دو ڈھائی سو لوگ کام کرتے ہوں گے۔ ہیرا نندانی کے بنائے ٹاور میں زیادہ تر دفتر خالی ہیں۔
سانسد آدرش گرام یوجنا
لال قلعہ سے ’سانسد آدرش گرام یوجنا‘ کا اعلان ہوا تھا۔ چند استثناء کے لیے ایک گنجائش چھوڑ دیں تو اس اسکیم کی دھجیاں اڑ چکی ہیں۔ آدرش گرام کو لے کر باتیںبڑی بڑی ہوئیں ، امید کا سنچار ہوا، مگر کوئی گرم آدرش نہیںبنا۔ لال قلعہ کے اعلان کا بھی کوئی مول نہیںرہا۔
جیا پور اور ناگے پور کو وزیر اعظم نے آدرش گرام کے طور پر چنا ہے۔ یہاںپر پلاسٹک کے ٹوائلٹ لگائے گئے۔ کیوںلگائے گئے؟ جب سارے ملک میںاینٹ کے ٹوائلٹ بن رہے ہیں تو آلودگی کے عنصر پلاسٹک کے ٹوائلٹ کیوں لگائے گئے؟ کیا اس کے پیچھے کوئی کھیل رہا ہوگا؟ بنارس میںکیوٹو کے نام پر ہیریٹج پول لگایا جارہا ہے۔ یہ ہیریٹج پول کیا ہوتا ہے؟ نقاشی دار مہنگے بجلی کے پول ہیریٹج پول ہوگئے ؟ ای- نوکا کو کتنے زور شور سے لانچ کیا گیا تھا، اب بند ہوچکا ہے۔ وہ بھی ایک ایونٹ تھا۔ آشا کا سنچار ہوا تھا۔ شنزو آبے جب بنارس گئے تھے تب شہر کے کئی مقامات پر پلاسٹـک کے ٹوائلٹ رکھ دیے گئے۔ گندگی کی نکاسی کا کوئی انتظام نہیں ہوا۔ جب بدبو پھیلی تو نگر نگم نے پلاسٹک کے ٹوائلٹس کو اٹھاکر ڈمپ کردیا۔
جس سال سوچھتا ابھیان لانچ ہوا تھا، اس وقت کئی جگہوں پر سوچھتا کے نورتن اُگ آئے۔ سب نورتن چنتے تھے۔ بنارس میںہی سوچھتا کے نورتن چنے گئے۔ کیا آپ جانتے ہیںکہ یہ نورتن آج کا سوچھتا کو لے کر کیا کر رہے ہیں؟ بنارس میںجسے دیکھئے کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی کا بجٹ لے کر چلا آتا ہے اور اپنی مرضی کا کچھ کرجاتا ہے، جو دکھائی دے اور لگے کہ ترقی ہے۔ گھاٹ پر پتھر کی بینچ بنا دی گئی، جبکہ لکڑی کی چوکی رکھے جانے کا رواج ہے۔ سیلاب کے وقت میںچوکیاں ہٹالی جاتی تھیں۔ پتھر کی بینچ نے گھاٹ کی سیڑھیوں کا چہرہ بدل دیا ہے۔ سفید روشنی کی فلڈ لائٹ لگی، تو لوگوں نے مخالفت کی۔ اب جاکر اس پر پیلی پنّی جیسی کوئی چیز لگادی گئی ہے تاکہ پیلی روشنی میں گھاٹ خوبصورت دکھائی دے۔
وزیر اعظم کی وجہ سے بنارس کو بہت کچھ ملا بھی ہے۔ بنارس کے کئی محلوں میںبجلی کے تاز زمین کے اندر بچھا دیے گئے ہیں۔ فوج کی زمین لے کر پلوریا کا راستہ چوڑا ہورہا ہے، جس سے شہر کو فائدہ ہوگا۔یہاں ٹاٹا میموریل کینسر اسپتال بن رہا ہے۔ لال پور میںایک ٹریڈ سینٹر بھی ہے۔
کیا آپ کو جل مارگ وکاس پروجیکٹ یاد ہے؟ آپ جولائی 2014کے اخبار اٹھاکر دیکھئے، جب مودی سرکارنے اپنے پہلے بجٹ میں جل مارگ کے لیے 4200 کروڑ کا پروویژن کیا تھا، تب اسے لے کر اخباروں میں کس کس طرح کے سبز باغ دکھائے گئے تھے۔ کہا گیا تھا کہ ریلوے اور سڑ ک کے مقابلے میں مال ڈھلائی کی لاگت 21سے 42 فیصد کم ہو جائے گی۔ ہنسی نہیںآتی آپ کو ایسے اعداد و شمار پر؟

 

 

 

 

 

جل مارگ وکاس
جل مارگ وکاس کو لے کر گوگل سرچ میںدو پریس ریلیز ملی ہیں۔ ایک 10 جون 2016 کو پی آئی بی نے جاری کی ہے اور ایک 16 مارچ 2017 کو۔ 10 جون 2016 کی پریس ریلیز میںکہا گیا ہے کہ پہلے مرحلہ میں الہ آباد سے لے کر ہلدیا کے بیچ ڈیولپمنٹ چل رہا ہے۔ 16 مارچ 2017 کی پریس ریلیز میں کہاگیا ہے کہ وارانسی سے ہلدیا کے بیچ جل مارگ بن رہا ہے۔ الہ آباد کب اور کیسے غائب ہوگیا؟ پتہ نہیں۔
2016 کی پریس ریلزمیں لکھا ہے کہ الہ آباد سے وارانسی کے بیچ مسافروںکو لے جانے کی سروس چلے گی تاکہ ان شہروں میںجام کا مسئلہ کم ہو۔ ا س کے لیے 100 کروڑ کی سرمایہ کاری کی اطلاع دی گئی ہے۔ نہ کسی کو بنارس میںپتہ ہے اور نہ ہی الہ آباد میں کہ دونوںشہروںکے بیچ 100 کروڑ کی سرمایہ کاری سے کیا ہوا ہے؟ یہی نہیں 10 جون 2016 کی پریس ریلیز میںپٹنہ سے وارانسی کے بیچ کروز سروس شروع ہونے کا ذکر ہے۔ کیا کسی نے اس سال پٹنہ سے وارانسی کے بیچ کروز چلتے دیکھا ہے؟ ایک بار کروز آیا تھا۔ ویسے بغیر کسی تشہیر کے کولکاتا میںکروز سروس ہے، کافی مہنگی ہے۔ جولائی 2014 کے بجٹ میں 4200 کروڑ کا پروویژن ہے۔ کوئی نتیجہ نظر آتا ہے؟ وارانسی کے رام نگر میںٹرمنل بن رہا ہے۔ 16 مارچ 2017 کی پریس ریلیز میںکہا گیا ہے کہ اس منصوبہ پر 5369 کروڑ خرچ ہوگا اور چھ سال میںمنصوبہ پورا ہوگا۔ 2014 سے چھ سال یا مارچ 2017سے چھ سال؟ پریس ریلیز میںکہا گیا ہے کہ نیشنل واٹر وے کا نظریہ 1986 میںکیا گیا تھا۔ اس پر مارچ 2016 تک 1871 کروڑ خرچ ہوچکے ہیں۔ اب یہ صاف نہیں کہ 1986سے مارچ 2016 تک یا جولائی 2014سے مارچ 2016 کے بیچ 1871 کروڑ خرچ ہوئے ہیں۔ منسٹر آف واٹر ٹرانسپورٹ نے لوک سبھا میںتحریری طور پر یہ جواب دیا تھا۔
نمامی گنگے کو لے کر کتنے ایونٹ رچے گئے، گنگا صاف ہی نہیںہوئی۔ وزیر بدل کر نئے آگئے ہیں۔ اس پر کیا لکھا جائے۔ آپ کو بھی پتہ ہے کہ این جی ٹی نے نمامی گنگے کے بارے میںکیا کیا کہا ہے؟ 13 جولائی 2017 کے انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق نیشنل گرین ٹریبونل نے کہا ہے کہ دو سال میں گنگا کی صفائی پر 7000 کروڑ خرچ ہوگئے اور گنگا صاف نہیںہوئی۔ یہ 7000 کروڑ کہاں خرچ ہوئے؟ کوئی سیویج ٹریٹمنٹ پلانٹ لگا تھا کیا؟ یا سارا پیسہ’ جاگروکتا ابھیان‘ میں ہی پھونک دیا گیا؟ آپ اس آرڈر کو پڑھیں گے تو شرم آئے گی۔ گنگا سے بھی کوئی فریب کرسکتا ہے؟
اس لیے یہ ایونٹ سرکار ہے۔ آپ کو ایونٹ چاہیے، ایونٹ ملے گا۔ کسی بھی چیز کو میک انڈیا سے جوڑ دینے کا فن سب میںآگیا، جبکہ میک ان انڈیا کے بعد بھی مینو فیکچرنگ کا اب تک کا ریکارڈ سب سے خراب ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *