ہوسبولے قابل تعریف ہیں سنگھ کا چہرہ ملک کے سامنے لانے کے لئے

بی جے پی کے صدر کے ساتھ بہت سبق آموز واقعہ ہوا اور یہ بہت بڑا سبق دیتا ہے ۔سبق یہ دیتا ہے کہ آپ جب ایک انگلی دوسرے کی طرف اٹھاتے ہیں تو چار انگلیاں آپ کی طرف بھی اٹھتی ہیں اور ایسے سوال کھڑے ہو جاتے ہیں جنہیں آپ کتنا بھی ٹالنے کی کوشش کریں لیکن وہ شبہ پیدا کر دیتی ہیں۔ جب سارے ملک کا کاروباری طبقہ رو رہا ہے، سارے ملک کا کاروباری طبقہ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کو لے کر پریشان ہے ، ترقی کی شرح کم ہوگئی ہے۔ ترقی کی شرح کو لے کر خود سرکار کے سینئر لیڈر اور وزیر خزانہ اب تک الگ طرح کے بیان دے رہے تھے، اب یہ بیان دے رہے ہیں کہ کیا ترقی کی شرح کم نہیں ہوتی۔ اتنا ہی نہیں ،غیر ملکی ماہرین اقتصادیات کے حساب سے ہماری ترقی کی شرح 5.7 یا 5.3 نہیں ، بلکہ 4.3 تک پہنچ جائے گی۔اس کا مطلب ملک کو ڈیڑھ لاکھ کروڑ کا سیدھا نقصان اور اس غریب کے پیسے کا نقصان ، جس نے لائن میں کھڑے ہوکر نوٹ بدلے ، جس نے وزیر اعظم کی بات پر اپنے کو ملک کی سیکورٹی میں لگا ہوا آدمی سمجھ لیا۔آج پورا کاروباری طبقہ ، خاص طور پر گجرات کا 28-28 دنوں تک سورت بند رکھتا ہے۔ کاروباری طبقہ رسیدوں پر نئے نئے طرح کے نعرے لکھتا ہے۔اب ایسی صورت حال میں اگرسبق نہ لیں، تو کیسے لیں؟
بی جے پی اور خاص طور پر ان کے صدر ملک کے تمام لوگوں کو اب تک چور سمجھتے رہے۔ انہوں نے یہ مان لیا کہ کانگریس یا اپوزیشن پارٹی چور نہیں ہیں۔ چور ہیں اس ملک میں کاروبار کرنے والے، چور ہیں انہیں ووٹ دینے والے، چور ہیں ٹیکس دینے والے، چور ہیں جو نوکری پیشہ ہیں۔ جس طرح کے قواعد و قانون بنائے گئے ، اس سے سرکار کو کیا فائدہ ہوا ،پتہ نہیں، لیکن سرکار کے ان محکموں کو ضرور فائدہ ہوا، جن محکموں میں ٹیکس کی شکل میں آیا ہوا 90فیصد پیسہ ان کی تنخواہوں میں چلا جاتا ہے۔ فائدہ ہوا سرکار کے ان وزیروں کو، جنہوں نے اپنے دوستوں کے پیسوں کو آسانی کے ساتھ رائج کردیا۔ فائدہ ہوا ان لوگوں کو، جن کے پاس کالادھن تھا، جن کے پاس نقلی نوٹ تھے، جن کے پاس بے شمار املا ک تھے ۔ان لوگوں نے بڑی آسانی سے اپنے نقلی نوٹ، جسے فیک کرنسی کہتے ہیں، کو سفید کر لیا۔ اب سرکار جب یہ کہتی ہے کہ ہم اتنی کمپنیاں بند کریں گے، کیونکہ ان کمپنیوں میں کالادھن لگا ہے، تو ہنسی آتی ہے۔ اس لئے ہنسی آتی ہے کیونکہ وہی معیار اگر امیت شاہ کے بیٹے کے مسئلے میں لاگو نہیں ہوتا ہے تو ماننا چاہئے کہ سرکار ،سرکار کے اصول ،قاعدے قانون اور اس کے سبھی محکمے ملک کے لوگوں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

سب سے بڑا سوال کیوں، اور وہ سوال لوگ اٹھا چکے ہیں۔ کیوں ریلوے کے وزیر پیوش گوئل نے جے شاہ کی وکالت میں پریس کانفرنس کی؟کیا جے شاہ ہندوستانی سرکار سے جڑے ہوئے ہیں یا وہ ایک آزاد کاروباری ہیں، جنہوں نے کسی جادوئی کرشمے سے 16ہزار گنا اپنی جائیداد بڑھا لی۔ وہ فارمولہ ملک کا کاروباری جاننا چاہتا ہے لیکن جے شاہ خاموش ہیں۔ امیت شاہ بی جے پی کے صدر ہیں۔ اگر ان کے اوپر کوئی الزام ہوتا تو پیوش گوئل ضرور سامنے آتے۔ وہ جے شاہ کے لئے کیوں سامنے آئے، یہ راز سمجھ میں نہیں آیا؟راجناتھ سنگھ وزیر داخلہ ہیں۔وزیر داخلہ ایک پل میں یہ فیصلہ دے دیتے ہیں کہ یہ مسئلہ جانچ کے لائق نہیں ہے ،تو پھر کون سا مسئلہ جانچ کے لائق ہے راجناتھ جی؟آپ نے ملک کے لوگوں کو ایک طریقے سے چوروں کے درجے میں رکھ دیا، سارے کاروبار کو آپ کی سرکا ر نے مندا کردیا ۔ملک مندی کے دور میں جارہاہے اور پھر بھی آپ کہہ رہے ہیں کہ مندی نہیں آنے والی ہے۔ آپ جھوٹ بول کر اور کتنی صفائیاں دیں گے؟آپ کو یہ نہیں کہنا چاہئے تھا کہ اس مسئلے میں جانچ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ مسئلہ وزیر خزانہ کہتے تو سمجھ میں آتا، وزیر داخلہ کیسے کہہ رہے ہیں۔ایسا لگ رہاہے کہ جیسے امیت شاہ کو بچانے کے لئے پوری ہندوستانی سرکار کھڑی ہو گئی۔
امیت شاہ اگر پریس کانفرنس میں یہ کہتے کہ میرا بیٹا کبھی غلط کر ہی نہیں سکتا، تو اس سے بڑا دعویٰ اس ملک میں آج تک تو کسی نے کیا نہیں۔میں راجیہ سبھا کا ممبر، میں بی جے پی کا صدر اور میرے بیٹے کے اوپر کوئی الزام لگائے، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟یہ جو ترّم شاہی ہے، یہ جو آمریت ہے ،یہ جو ناپسندیدہ لالچ ہے، اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ بی جے پی جمہوریت کے عام متن کو بھی بھول گئی ہے۔ جب ہم عوام کے سامنے ہوتے ہیں تو ہمارا لباس، ہماری زبان اور ہماری سرگرمی جمہوریت کے مطابق ہونے چاہئے یا ہم ملک کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہم جمہوریت کا نام لیتے ہیں، لیکن ہم جمہوری ہیں نہیں۔اب ہم جس جمہوریت کی تشریح لکھ رہے ہیں، وہ دراصل جمہوریت نہیں ہے ،وہ تاناشاہی کی شکل میں ایک نئی جمہوریت ہے۔ اگر ایسا ہے تو اس کا بھی اعلان کردیجئے۔ مجھے افسوس اس بات کا ہے کہ آپ میں تو یہ بھی ہمت نہیں ہے کہ آپ یہ کہہ دیں کہ یہ جمہوریت اس ملک کے لئے لازمی نہیں ہے۔ اس ملک کے لئے تاناشاہی ہی لازمی ہے اور تاناشاہی بھی جمہوری تاناشاہی نہیں، تاناشاہی بھی امیت شاہ کی تشریح والی تاناشاہی ۔اس بات کو کہنے کی ہمت اگر آپ میں ہے تو کہہ دیجئے۔
لیکن اتنا ضرور ہے کہ آپ نے جب سارے ملک کی طرف انگلیاں اٹھائیں، اسی وقت ایشور کہیں نہ کہیں ہنس رہاہوگا۔ اسی لئے ایک صحافی روہینی سنگھ کے ہاتھ جب یہ کرشمائی حقیقت لگی کہ 16ہزار گنا جائیداد بڑھ گئی، تب کاروبار میں وہ کون سا فارمولہ ہے ؟اب اخلاقیات کا تقاضہ تو یہی ہے کہ آپ ملک کے لوگوں کو اس فارمولے کو بتانے کی اجازت اپنے بیٹے کو دے دیجئے اور آپ کے بیٹے کو بھی چاہئے کہ وہ سارے ملک کو بتائے کہ وہ فارمولہ کیا ہے؟ملک کے لوگوں کی اتنی چھوٹی سی امید پوری ہوگی، مجھے نہیں پتہ ۔شاید کبھی پوری نہیں ہوگی۔ بی جے پی کے صدر جب خود اس نہج میں بات کریں کہ میں اور میرا بیٹا کبھی غلط ہو ہی نہیں سکتے اور میرا بیٹا تو کبھی غلط ہو ہی نہیں سکتا، تو پھر آگے بات کرنے کے لئے کچھ رہ ہی نہیں جاتا۔لیکن یہی انصاف ہے ایشور کا کہ آپ کتنا بھی شور مچائیں، ملک کے لوگوں کے دل میں یہ شبہ آگیا ہے کہ کس طریقے سے جائیداد بڑھانے کے لئے قوانین کا بے جا استعمال ہوتا ہے اور سرکار کس طریقے سے بے جا استعمال کرنے والوں کو بچانے کے لئے بے شرمی کے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہے۔

 

 

 

 

 

دتا ترے ہوسبولے راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کے اس وقت سب سے سینئر لیڈروں میں ہیں۔ وہ شاید سنگھ کے اگلے ہیڈ آفس ہونے والے ہیں۔ ان کا یہ کہنا کہ جے شاہ کے اوپر لگے ہوئے الزامات کی جانچ ہونی چاہئے، بالکل قابل خیر مقدم بیان ہے۔ اس بیان کے بعد بھی اگر امیت شاہ ہٹ دھرمی کرتے ہیں یا ہندوستان کی سرکار ہٹ دھرمی کرتی ہے تو یہ ماننا چاہئے کہ سنگھ تو انصاف میں یقین رکھتا ہے لیکن سرکار انصاف میں یقین نہیں کررہی ہے۔ رام راجیہ میں بھروسہ کرنے والے لوگ رام کے آدرش کے ہزارواں حصے کی تعمیل کریں تو ان کے اوپر اعتماد جمنے کی زمین تیار ہو سکتی ہے لیکن جن رام نے بے قصور ہوتے ہوئے بھی ایک دھوبی کے کہنے پر اپنی اہلیہ کا تیاگ کر دیا، اسی رام راجیہ کے تصور کا نام لینے والے، رام کا مندر بنانے کی اپیل کرنے والے اور رام کے نام کی جے بولنے والے لوگ جب اپنی صفائی دینے کی جگہ ، اگنی پرکشا تو بہت دور ، ایک معمولی جانچ کا بھی سامنا کرنے سے ڈریں،تو پھر ماننا چاہئے کہ کہیں کچھ زیادہ گڑبڑ ہے۔میں دتاترے ہوسبولے کی تعریف کروں گا اور ان کی ہمت کی داد دوں گا کہ انہوں نے پہلی بار سنگھ کا انصاف پسند چہرہ ملک کے لوگوں کے سامنے رکھا ۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *