لفٹ میں بچی کا ہاتھ کٹ گیا،پھربھی دوڑتی رہی

archna-tale
8سالہ بچی ارچناتالے کالفٹ کے دروازے میں پھنس کر ہاتھ کٹ گیا۔قابل توجہ بات یہ ہے کہ ارچناحادثہ کے بعدبھی ایک کلومیٹردوڑکرگھرپہنچی۔پریل تھانے کے کاسروڈولی علاقے میں ارچناتالے کی والدہ 10اکتوبربروزمنگل کی شام جب دروازہ کھولاتوششدررہ گئی کیونکہ دروازے پران کی بیٹی خون میں لت پت کھڑی تھی اوراس کا ایک ہاتھ غائب تھالیکن وہ رونہیں رہی تھی ۔ماں نے جب ان سے پوچھاتو8سالہ بچی ارچناتالے نے بتایاکہ وہ جس عمارت میں ٹیوشن کلاس کرنے گئی تھی ،اس کی لفٹ کے دروازے میں پھنس کراس کا ایک ہاتھ کٹ گیا۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ہاتھ کٹنے کے بعدبھی وہ ایک کلومیٹرتک دوڑکرگھرپہنچی تاکہ اسے اہل خانہ کی مددمل سکے۔اہل خانہ نے آناً فاناً اسے کنگ ایڈورڈ میموریل(کے ای ایم) اسپتال میں داخل کرایا۔ڈاکٹروں کاکہناہے کہ ارچناکی نسوں اوررگوں میں بری طرح نقصان پہنچاہے ،اس لئے آپریشن کے ذریعہ دوبارہ جوڑناممکن نہیں ہے۔ارچنا’تھانے‘ کے آدرش ودیامندرمیں چوتھی جماعت کی طالبہ ہے۔بچی کے مطابق اس کی چپل لفٹ اورفرش کے درمیان پھنس گئی تھی اورجب وہ چپل نکالنے کی کوشش کررہی تھی، تبھی اچانک لفٹ شروع ہوگئی جس کی وجہ سے اس کا بایاں ہاتھ اس میں پھنس گیاتھا۔کے ای ایم اسپتال کے ڈاکٹرکے مطابق اس کے بائیں ہاتھ کی کہنی کے اوپرکے حصہ کا علاج جاری ہے ،بچی کی حالت مستحکم ہے اوربچوں کے وارڈ میں اس کاعلاج جاری ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *