مسوڑوں سے خون بہنے کوروکنے کیلئے ماہرین کا نسخہ

teeth
مسوڑوں سے خون بہناایک خاص قسم کا دائمی انفکشن ہے جودانتوں پربیکٹیریاکے حملے کے باعث لاحق ہوجاتاہے۔ماہرین کے مطابق اس بیکٹیریاکے حملے کی وجہ کوذیابیطش ،دل سے متعلق مسائل یاجوڑوں کے دردجیسے امراض سے جوڑاجاسکتاہے،جبکہ سگریٹ نوشی بھی اس مرض کی ایک وجہ ہوسکتی ہے۔تاہم اس سے چھٹکاراپانے کیلئے ماہرین نے ایک آسان ساحل پیش کیاہے اوروہ ہے اس مرض کا سبب بننے والے بیکٹیریاسے جان چھڑانا۔اس صورتحال سے بچنے کیلئے ڈاکٹرکئی طریقے استعمال کرتے ہیں۔ماہرین کے مطابق کوشش کریں کہ دانتوں پربیکٹیرکے باعث جمنے والی موٹی تہہ کی صفائی کریں تاکہ مسوڑوں کی سوزش کوکم کیاجاسکے۔ساتھ ساتھ دن میں دوباردانتوں کوبرش کرنے اورمتعددبارکلی کرنے سے اس انفیکشن کے شروع ہونے کا امکان بہت حدتک کم کیاجاسکتاہے۔
دانت قدرت کی بنائی ہوئی سفیدرنگ کی ایک خوبصورت ڈھانچہ ہے ۔دانت کے بغیرکھانابھی بے ذائقہ لگتاہے۔صحت منددانت نہ صرف استعمال ہوتے ہیں بلکہ یہ توانسان کی شکل میں چارچاندلگادیتے ہیں اوروہ ہضم کرنے میں بھی مددکرتے ہیں۔دانت کسی چیزکی چیرپھاڑکیلئے اورکھانے بچانے کے کام آتے ہیں۔دانت منہ میں مسوڑوں میں ہوتے ہیں،انسان کی زندگی میں دانت دوبارآتے ہیں،جن میں سب سے پہلے دودھ کے دانت ہوتے ہیں،بچوں کے دودھ کے 20دانت ہوتے ہیں جوبچے کے جنم کے بعدسات آٹھ مہینے میں آنے شروع ہوجاتے ہیں اورجب بچہ چھ یاسات سال کاہوجاتاہے یہ دودھیادانت نکلنے شروع ہوجاتے ہیں۔
اس کے بعدمستقل دانت آنے لگتے ہیں ۔مستقل دانت ایک جیسے نہیں ہوتے ہیں، ان میں سے کچھ دانت کھانے کوکاٹنے کاکام کرتے ہیں جنہیں ’سیکنٹ دانت‘بھی کہاجاتاہے جودانت کھانے کو کاٹنے اورپھاڑنے کا کام کرتے ہیں جبکہ باقی بچے دانتیں کھانے کوپیسنے اورچبانے کاکام کرتے ہیں۔
دانت سفیدنہ ہوں توچہرہ برالگتاہے۔دوسرے یہ کہ دانتوں کی گندگی ہماری خوراک کے ساتھ معدے میں جاکرخرابی پیداکرتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دانتوں کی صفائی کرنے کیلئے مسواک پربہت زیادہ زوردیاہے۔دانت صاف ہوں گے توصحت بھی اچھی ہوگی ۔پہلے زمانے میں اتنے ٹوتھ پیسٹ نہیں ملتے تھے جتنے کہ آج کے دورمیں دستیاب ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ بے شماردانتوں کی تکالیف بھی بچوں اوربڑوں میں شدت کے ساتھ نظرآرہی ہیں۔دانت چمکداربنانے کیلئے ایک چائے کاچمچہ کھانے کا، میٹھاسوڈاایک چمچہ،پساہوانمک ، پساہواسہاگہ لیکرشیشی میں رکھ لیں ۔روزانہ اس سے دانت صاف کریں دانت چمک جائیں گے اوراگرنمک صرف تیل سرسوں میں ملاکردانتوں پرملاجائے تودانتوں کی پیلاہٹ دورہوجائے گی اورآپ کے دانت خوبصورت اورچمکدارہوجائیں گے۔
دانتوں کی صحت مندرکھنے کیلئے ان کی ورزش بھی ازحدضروری ہے۔اپنی غذاؤں میں تازہ اورسخت پھلوں کوشامل کرلیں اورانہیں بغیرچھیلے اورکاٹے دانتوں کی مددسے کھائیں،گنڈیریاں چوسنابھی۔دانتوں کی بقااورانہیں گرنے سے روکنے کیلئے برش کرنا بے حدضروری ہے۔برش کرنے کے علاوہ خلال سے دانتوں کے ان حصوں کوصاف کریں جہاں برش نہیں پہنچ سکتا۔دانتوں کوسب سے زیادہ نقصان میٹھی اشیاء سے پہنچتاہے اگرمیٹھاکھانے کے بعددانت صاف نہ کئے جائیں تومٹھاس کی تہہ دانتوں پرجم کرتیزابیت پیداکرتی ہے اوردانتوں کی حفاظتی جھلی کوتباہ کردیتی ہے اس لئے میٹھاکھانے کے بعدپانی سے کلی ضرورکریں۔اپنے دانتوں پرزردیاسیاہ رنگ کا میل کبھی نہ جمنے دیں اورنہ وہ پائیوریاکاپیش خیمہ ثابت ہوگا۔
دانتوں کوسفیداورچمکداربنانے کیلئے نمک اورکھانے کا سوڈاملاکردانتوں پرملنے سے دانتوں سے خون آنے کی شکایت جاتی رہتی ہے۔اگردانتوں سے خون آرہاہوتوشہداورروغن زیتون ملاکردانتوں پرملنے سے دانتوں سے خون آنے کی شکایت ختم ہوجاتی ہے۔مسوڑھوں سے خون بہنے اوردانت کے اردگردکی جھلی کی سوزش سے بچنے کیلئے دن میں دوباردانتوں پربرش اورکئی بارکلی کرنے کی ضرورت ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *