مسلم پرسنل لاء بورڈ کی ہنگامی میٹنگ طفل تسلی کے سوا کچھ نہیں

سپریم کورٹ میں طلاق ثلاثہ کو غیر قانونی قرار دیئے جانے کے بعد یہ بات کہی جانے لگی کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ نے عدالت میں اپنا موقف مضبوطی کے ساتھ نہیںرکھا۔بورڈ کے وکلاء عدالت کو یہ یقین دلانے میں ناکام رہے کہ بورڈ کا موقف خواتین کے مفاد میں ہے۔وکلاء کے کمزور دلائل کی وجہ سے عدالت کو یہ پیغام گیا کہ بورڈ طلاق ثلاثہ کے معاملے میں خواتین کے خلاف طلاق دینے والوں کے ساتھ ہے۔نتیجہ یہ نکلا کہ فیصلہ بورڈ کی منشا کے خلاف گردانا گیا۔ فیصلہ آجانے کے بعد ملت کا بورڈ پر جو بھروسہ تھا ،اسے چوٹ پہنچی ۔اب اس چوٹ کے اثر کو کم کرنے کے لئے بورڈ نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے ۔تاکہ یہ کمیٹی پورے معاملے کاجائزہ لے اور پھر اس کی رپورٹ بورڈ کو دے اور بورڈ اس رپورٹ کی بنیاد پرمستقبل میں کوئی لائحہ عمل تیار کرسکے۔
اس کمیٹی میں جسٹس سید شاہ محمد قادری ، مولانا سعود عالم قاسمی، ڈاکٹر منظور عالم ، مفتی حبیب الرحمن خیرآبادی صدر مفتی دارالعلوم دیوبند ، ظفر یاب جیلانی، مولاناعبد الحمید نعمانی، مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی (کنوینر)ایم آر شمشاد ایڈوکیٹ، طاہر حکیم ایڈوکیٹ، محمود پراچہ ایڈوکیٹ، مولان فضل الرحیم مجددی اور مفتی اعجاز ارشد قاسمی شامل ہیں۔
کمیٹی کی طرف سے یکم اکتوبر کودن بھر کی ایک ہنگامی میٹنگہوئی ۔اس میں جو باتیں ہوئیں اس پر تو ہم بعد میں بات کریں گے ۔پہلے یہ بتا دیں کہ جن بارہ ارکان کو کمیٹی کا ممبر بنایا گیا تھا ،ان میں سے مفتی حبیب الرحمن خیر آبادی میٹنگ میں نہیں آئے۔یعنی اس میٹنگ میں دارالعلوم دیوبند کی کوئی نمائندگی نہیں ہوئی۔اس کے علاوہ یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ اس اہم کمیٹی میں جمعیت اہل حدیث کے کوئی نمائندہ شامل نہیں ہیں جبکہ اسی تنظیم کے موقف کے مطابق عدالت کا فیصلہ آیا ہے ،اس کے باوجود جمعیت کے امیر مولانا اصغر سلفی مہدی اس بات کا اعادہ کرتے رہے ہیں کہ مسلکی نظریہ سے ہٹ کر ہم پرسنل لاء میں سرکاری مداخلت کو پسند نہیں کرتے ہیں۔اسی طرح جماعت اسلامی ہند کا کوئی نمائندہ بھی اس کمیٹی میں نہیںتھا۔حالانکہ یہ تنظیم ہندوستان کی بڑی اور معتمد تنظیم ہے اور ہر طرح کی ملی ،قومی اور سماجی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ جمعیت علماء ہند جو کہ اس مقدمہ میں ایک فریق کے طور پر تھی،کا بھی کوئی نمائندہ اس میں شریک نہیں ہوا۔ نہ تو جمعیت علماء ہند (محمود ) اور نہ ہی جمعیت علماء ہند (ارشد) جو کہ انتہائی حیرت کی بات ہے۔

 

 

 

 

بہر کیف کمیٹی میں یہ بات رکھی گئی کہ ایک نشست میں تین طلاق دینے والے کو سزا دینے کا التزام کیا جائے جس میں قید اور جرمانہ بھی شامل ہے۔میٹنگ میں ایک یہ تاثر ابھر کر آیا کہ ایک ساتھ تین طلاق کے مجرمانہ عمل سے روکنے کے لئے فیصلہ صحیح ہے مگر اس طلاق کو تسلیم کرتے ہوئے سزا کا تعین کیا جائے۔ اس کے لئے قانون سازی بھی شریعت کے مطابق ہو۔ آئین اس کی اجازت دیتاہے۔ایسا کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اگر ایک نشست میں تین طلاق کو تین ماننے سے انکار کیا گیا تو ایسی صورت میں شرعی اعتبار سے یہ معاملہ حلال و حرام کا ہوجاتا ہے اور گناہگار کو سزا آخرت میں ملے گی جس سے بچانے کے لئے تین طلاق کو روکنے کے لئے ٹھوس اور سخت اقدام کی ضرورت ہے۔
چونکہ یہ معاملہ حلال و حرام سے جڑا ہوا ہے اس لئے یہ بات کہی جارہی تھی کہ عدالت میں ریویو پیٹیشن داخل کی جائے تاکہ اس فیصلے پر نظر ثانی ہو لیکن پھر اس سے گریز کرنے کا فیصلہ ہوا ۔کیونکہ نظر ثانی کے بعد بورڈ کے سامنے تمام راستے بند ہوسکتے ہیں۔
اس میٹنگ میں تین طلاق دینے والوں کو جو سزا کی سفارش کی گئی ہے ، اس کے بارے میں دارالعلوم دیوبند سے پہلے ہی یہ تجویز آئی تھی کہ بورڈ عدالت میں اپنا موقف واضح کرتے ہوئے یہ بتائے کہ طلاق ثلاثہ کو شریعت میں قبیح سمجھا گیا ہے اور ایسے عمل کرنے والوںکے لئے سزا مقرر کی جائے۔یہ سزا جانی اور مالی دونوں طرح سے طے کی جاسکتی ہے۔مگر تب بورڈ نے اس پر خاص توجہ نہیں دی اور اب جبکہ فیصلہ اس کے خلاف آچکا ہے تو اسی موقف کو لاگو کرنے کے امکانات پر غور کیاجارہا ہے ۔کاش کہ یہ باتیں فیصلہ آنے سے پہلے ہوجاتیں تو شاید موجودہ صورت حال وہ نہ ہوتی جو اب ہے۔نیز بورڈ نے میڈیا کی افواہوں کا بھی کوئی کارگر جواب تلاش نہیں کیا۔

 

 

 

 

 

میڈیا میں طلاق کو اتنا اہم مسئلہ بنا دیا گیا تھا گویا کہ مسلم طبقے کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے جبکہ رپورٹ کے مطابق دیگر مذاہب کی بہ نسبت مسلمانوں میں طلاق کا اوسط سب سے کم ہے۔ اگر اس کی تشہیر پہلے کی جاتی تو اتنی بدگمانی اور غلط فہمی پیدا نہ ہوتی اور شاید وہ فیصلہ نہ آتا جو آیا۔ کیونکہ جو فیصلہ آیا ہے ،اس میں اگرچہ پانچ میں سے تین ججوں کی اکثریت کی بنیاد پر یہ فیصلہ سنایا گیا ہے ۔یعنی جسٹس نریمن، جسٹس للت ، جسٹس کورین نے طلاق بدعت کو غیر قانونی قرار دیا تھا جبکہ چیف جسٹس کیہر اور جسٹس عبدالنذیر نے اس معاملے کو پارلیمنٹ کے حوالے کرنے کی بات کہی تھی۔مطلب یہ ہے کہ دو ججوں کے مقابلے تین ججوں کی اکثریت سے یہ فیصلہ لاگو ہوا ہے ۔اگر بورڈ اپنی بات مضبوطی سے رکھتا تو ممکن تھا کہ اکثریت بورڈ کی حمایت میں ہوتی۔ مگر اب جبکہ عدالت کا فیصلہ ہوچکا ہے تو سوائے مغز ماری کے کچھ نہیں ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *